🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2593. -- باب: الاختلاف في مسألة الخرقاء
-- باب: مسئلہ خرقاء میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12449
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ثنا الشَّعْبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ أَتَى بِهِ الْحَجَّاجُ مُوثَقًا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى بَابِ الْقَصْرِ قَالَ: لَقِيَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ يَا شَعْبِيُّ لِمَا بَيْنَ دَفَّتَيْكَ مِنَ الْعِلْمِ، وَلَيْسَ بِيَوْمِ شَفَاعَةٍ بُؤْ لِلْأَمِيرِ بِالشِّرْكِ وَالنِّفَاقِ ⦗٤١٣⦘ عَلَى نَفْسِكَ، فَبِالْحَرِيِّ أَنْ تَنْجُوَ ثُمَّ لَقِيَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَةِ يَزِيدَ، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ قَالَ: وَأَنْتَ يَا شَعْبِيُّ مِمَّنْ خَرَجَ عَلَيْنَا وَكَثُرَ، فَقُلْتُ:" أَصْلَحَ اللهُ الْأَمِيرَ، أَحْزَنَ بِنَا الْمَنْزِلُ، وَأَجْدَبَ الْجَنَابُ، وَضَاقَ الْمَسْلَكُ، وَاكْتَحَلْنَا السَّهَرَ، وَاسْتَحْلَسْنَا الْخَوْفَ، وَوَقَعْنَا فِي خِزْيَةٍ، لَمْ نَكُنْ فِيهَا بَرَرَةً أَتْقِيَاءَ، وَلَا فَجَرَةً أَقْوِيَاءَ"، قَالَ: صَدَقْتَ وَاللهِ، مَا بَرُّوا بِخُرُوجِهِمْ عَلَيْنَا، وَلَا قَوَوْا عَلَيْنَا حَيْثُ فَجَرُوا، أَطْلَقْنَا عَنْهُ. ثُمَّ احْتَاجَ إِلِيَّ فِي فَرِيضَةٍ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ؟ فَقُلْتُ:" قَدِ اخْتَلَفَ فِيهَا خَمْسَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَزَيْدٌ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَا قَالَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، إِنْ كَانَ لَمُتْقِنًا؟ وَفِي رِوَايَةِ الرَّقِّيِّ: إِنْ كَانَ لَمُنَقِّبًا، قُلْتُ:" جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا، وَلَمْ يُعْطِ الْأُخْتَ شَيْئًا، وَأَعْطَى الْأُمَّ الثُّلُثَ"، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا زَيْدٌ؟ قُلْتُ:" جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ؛ أَعْطَى الْأُمَّ ثَلَاثَةً، وَأَعْطَى الْجَدَّ أَرْبَعَةً، وَأَعْطَى الْأُخْتَ سَهْمَيْنِ"، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ يَعْنِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قُلْتُ:" جَعَلَهَا أَثْلَاثًا"، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا ابْنُ مَسْعُودٍ؟ قُلْتُ:" جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ، أَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً، وَالْجَدَّ سَهْمَيْنِ، وَالْأُمَّ سَهْمًا"، قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا أَبُو تُرَابٍ؟ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قُلْتُ:" جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةِ أَسْهُمٍ، فَأَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً، وَأَعْطَى الْأُمَّ سَهْمَيْنِ، وَأَعْطَى الْجَدَّ سَهْمًا"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ..
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھیں بیڑیوں میں جکڑ کر حجاج بن یوسف کے پاس لایا گیا، جب وہ محل کے دروازے کے پاس پہنچے تو کہتے ہیں کہ مجھے یزید بن ابو مسلم ملے تو انھوں نے کہا: «إِنَّا لِلّٰہِ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں“ اے شعبی! تو علم کا پہاڑ ہے اور آج تیرا کوئی سفارشی نہیں، تو اپنے خلاف شرک اور نفاق کا اقرار کرتے ہوئے امیر سے پناہ مانگ تو تو آزادی سے ہم کنار ہوگا، پھر مجھے محمد بن حجاج ملے اور یزید بن ابو مسلم جیسی بات کی، جب میں حجاج کے پاس پہنچا تو اس نے کہا: اے شعبی! آپ ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے بڑی شد و مد کے ساتھ ہمارے خلاف خروج کیا ہے تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح فرمائے، ہمیں ناپسندیدہ جگہ پر لائے، جہاں مشکلات ہیں، راستہ تنگ ہو گیا ہے، نیند چھین لی گئی اور ہم مسلسل خوف و ہراس میں ہیں اور ہم ایسی رسوائی میں واقع ہو چکے ہیں کہ جہاں نیکوکار متقی نہیں بن سکتے اور فاجر قوی نہیں ہو سکتے تو حجاج نے کہا: تو نے سچ کہا، اللہ کی قسم! وہ ہم پر بغاوت کر کے نیکوکار نہیں بن گئے اور نہ وہ فاجر بن کر ہم پر قوی ہوئے۔ اسے چھوڑ دو۔ پھر اسے (حجاج کو) علم میراث کے مسئلے میں میری ضرورت پڑی تو میں آیا، اس نے کہا: تو ماں، بہن اور دادا کے (حصوں کے) متعلق کیا کہتا ہے؟ میں نے کہا: اس میں پانچ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اختلاف ہے اور وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، زید رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق کیا کہا؟ وہ تو بڑے پختہ کار تھے۔ میں نے کہا: انہوں نے دادا کو باپ کے قائم مقام بنایا، بہن کو کچھ نہیں دیا اور ماں کو ثلث دیا۔ اس نے کہا: زید رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق کیا کہا؟ میں نے کہا: انہوں نے نو حصے کیے، ماں کو تین، دادا کو چار اور بہن کو دو حصے دیے ہیں۔ اس نے کہا: امیرالمومنین عثمان رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: انھوں نے (تینوں کو) تین حصے دیے ہیں اس نے کہا: ابن مسعود اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: انھوں نے چھ حصے کیے بہن کو تین، دادا کو دو اور ماں کو ایک حصہ، اس نے کہا: اس مسئلہ کے متعلق ابوتراب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کیا موقف ہے؟ میں نے کہا: انھوں نے چھ حصے کیے، بہن کو تین، ماں کو دو، دادا کو ایک حصہ دیا لمبی حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12449]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وانظر الجمع 7167»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12450
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبَّادُ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ..
سابق حدیث کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12450]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12451
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ: أُمٌّ، وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَجَدٌّ، فَذَكَرَ أَقْوَالَهُمْ بِنَحْوِ مَا ذَكَرَهُ الشَّعْبِيُّ وَحْدَهُ.
ابراہیم رحمہ اللہ اور شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ماں، حقیقی بہن اور جد کے بارے میں۔۔۔ پس ان سب اقوال کو جمع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12451]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12452
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ:" لِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ، وَلِلْجَدِّ مَا بَقِيَ".
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ماں، بہن اور جد کے بارے میں یہ ہے کہ بہن کے لیے نصف، ماں کے لیے باقی ماندہ کا ثلث اور جد کے لیے باقی ماندہ حصہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12452]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12453
قَالَ: وَثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" لَا يُفَضِّلَانِ أُمًّا عَلَى جَدٍّ".
ابراہیم کہتے ہیں کہ عمر اور عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں ماں کو دادا پر فضیلت نہ دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12453]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2594. -- باب: العول في الفرائض
-- باب: فرائض (وراثت کے مسائل) میں عول (حصوں کے بڑھ جانے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12454
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعِجْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي ⦗٤١٤⦘ الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ أَعَالَ الْفَرَائِضَ، وَكَانَ أَكْثَرُ مَا أَعَالَهَا بِهِ الثُّلُثَيْنِ".
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے فرائض میں عول کیا اور زیادہ سے زیادہ جس مقدار سے انہوں نے عول کیا وہ دو تہائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12454]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12455
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ وَبِنْتَيْنِ:" صَارَ ثُمُنُهَا تُسْعًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت، والدین اور دو بیٹیاں ہوں تو اس کا آٹھواں حصہ نواں بن جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12455]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12456
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا شَرِيكٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَفِي حِكَايَةِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَسَائِلُ أَعَالِا فِيهَا الْفَرَائِضَ.
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما فرائض کے بعض مسائل میں عول کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12456]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12457
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَزُفَرُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَتَذَاكَرْنَا فَرَائِضَ الْمِيرَاثِ، فَقَالَ:"" تَرَوْنَ الَّذِي أَحْصَى رَمْلَ عَالِجٍ عَدَدًا، لَمْ يُحْصِ فِي مَالٍ نِصْفًا وَنِصْفًا وَثُلُثًا، إِذَا ذَهَبَ نِصْفٌ وَنِصْفٌ، فَأَيْنَ مَوْضِعُ الثُّلُثِ؟"" فَقَالَ لَهُ زُفَرُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَعَالَ الْفَرَائِضَ؟ قَالَ:"" عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ""، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ:"" لَمَّا تَدَافَعَتْ عَلَيْهِ، وَرَكِبَ بَعْضُهَا بَعْضًا،"" قَالَ: وَاللهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِكُمْ، وَاللهِ مَا أَدْرِي أَيُّكُمْ قَدَّمَ اللهُ، وَلَا أَيُّكُمْ أَخَّرَ، قَالَ:"" وَمَا أَجِدُ فِي هَذَا الْمَالِ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ أَنْ أقْسِمَهُ عَلَيْكُمْ بِالْحِصَصِ""، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:"" وَايْمُ اللهِ، لَوْ قَدَّمَ مَنْ قَدَّمَ اللهُ، وَأَخَّرَ مَنْ أَخَّرَ اللهُ، مَا عَالَتْ فَرِيضَةٌ""، فَقَالَ لَهُ زُفَرُ: وَأَيَّهُمْ قَدَّمَ وَأَيَّهُمْ أَخَّرَ؟ فَقَالَ:"" كُلُّ فَرِيضَةٍ لَا تَزُولُ إِلَّا إِلَى فَرِيضَةٍ فَتِلْكَ الَّتِي قَدَّمَ اللهُ، وَتِلْكَ فَرِيضَةٌ: الزَّوْجُ لَهُ النِّصْفُ، فَإِنْ زَالَ فَإِلَى الرُّبُعِ لَا يَنْقُصُ مِنْه، وَالْمَرْأَةُ لَهَا الرُّبُعُ، فَإِنْ زَالَتْ عَنْهُ صَارَتْ إِلَى الثُّمُنِ، لَا تَنْقُصُ مِنْهُ، وَالْأَخَوَاتُ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، وَالْوَاحِدَةُ لَهَا النِّصْفُ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ الْبَنَاتُ كَانَ لَهُنَّ مَا بَقِيَ، فَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَخَّرَ اللهُ، فَلَوْ أَعْطَى مَنْ قَدَّمَ اللهُ فَرِيضَةً كَامِلَةً ثُمَّ قَسَمَ مَا يَبْقَى بَيْنَ مَنْ أَخَّرَ اللهُ بِالْحِصَصِ مَا عَالَتْ فَرِيضَةٌ""، فَقَالَ لَهُ زُفَرُ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُشِيرَ بِهَذَا الرَّأْيِ عَلَى عُمَرَ؟ فَقَالَ:"" هِبْتُهُ وَاللهِ""، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَقَالَ لِيَ الزُّهْرِيُّ: وَايْمُ اللهِ، لَوْلَا أَنَّهُ تَقَدَّمَهُ إِمَامُ هُدًى كَانَ أَمْرُهُ عَلَى الْوَرَعِ مَا اخْتَلَفَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ اثْنَانِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور زفر بن اوس ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب کہ ان کی بینائی ختم ہو گئی تھی، ہم نے میراث کے حصوں کے بارے میں گفتگو کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دیکھتے ہو وہ جس نے عالج کی ریت کے ذرات کو شمار کیا ہے، کیا اس نے (حصوں کو) نہیں شمار کیا؟ مال میں نصف، نصف اور ثلث (کیسے ہو سکتے ہیں)؟ جب نصف اور نصف چلا گیا تو ثلث کہاں سے آیا؟ زفر نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! کون تھا جس نے سب سے پہلے عول کیا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔ زفر نے کہا: کس لیے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب حصے ان پر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور ایک دوسرے پر چڑھ گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تمہارے ساتھ کیا کروں؟ اور اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تم میں سے اللہ نے کس کو مقدم کیا ہے اور کس کو مؤخر کیا ہے؟ اور کہا: میں مال میں اس سے بہتر صورت نہیں پاتا کہ اس کو حصوں کے تناسب سے تقسیم کر دوں۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! اگر وہ اسے مقدم کرتے جس کو اللہ نے مقدم کیا تھا اور اسے مؤخر کرتے جس کو اللہ نے مؤخر کیا تھا تو حصوں میں عول نہ کرنا پڑتا۔ زفر نے کہا: ان میں سے کس کو مقدم کیا اور کس کو مؤخر کیا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہر وہ حصہ جو (کم ہو کر) صرف دوسرے مقرر حصے کی طرف ہی منتقل ہوتا ہے، وہی ہے جس کو اللہ نے مقدم کیا ہے، اور وہ یہ ہیں: خاوند کا حصہ نصف ہے، پس اگر وہ (نصف سے) زائل ہو جائے تو ربع ہے اور اس سے کم نہ ہو گا، اور عورت کے لیے ربع ہے، اگر (ربع) زائل ہو جائے تو ثمن ہے، اس سے کم نہ ہو گا، اور بہنوں کے لیے دو تہائی ہے اور اگر ایک ہو تو اس کے لیے نصف ہے، اگر ان کے ساتھ بیٹیاں بھی ہوں تو باقی ان کے لیے ہے، پس یہ وہ ہیں جن کو اللہ نے مؤخر کیا ہے؛ پس اگر وہ اسے پورا حصہ دے دیتے جس کو اللہ نے مقدم رکھا ہے، پھر باقی ماندہ ان میں تقسیم کر دیتے جن کو اللہ نے حصوں میں مؤخر رکھا ہے، تو عول نہ کرنا پڑتا۔ زفر نے ان سے کہا: آپ کو کس نے روکا کہ عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا اشارہ (مشورہ) دیتے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے ڈر گیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں، مجھے زہری نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ان سے پہلے ایک امامِ ہدیٰ (یہ فیصلہ) نہ کر چکے ہوتے جن کا معاملہ ورع پر تھا، تو اہل علم میں سے دو آدمی بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اختلاف نہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12457]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2595. -- باب: ميراث المرتد
-- باب: مرتد کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12458
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ ⦗٤١٥⦘ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَرِثُ الْكَافِرَ، وَأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پہنچی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہ بنے اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12458]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں