السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2553. -- باب: لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم
-- باب: نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا
حدیث نمبر: 12232
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا نَرِثُ أَهْلَ الْمِلَلِ، وَلَا يَرِثُونَا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم دوسری ملتوں والوں کے وارث نہیں بنتے اور نہ وہ ہمارے وارث بنیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12232]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12233
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ بِهَا قَالَ: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: تُوُفِّيَتْ عَمَّةٌ لِلْأَشْعَثِ وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، فَأَتَى عُمَرَ، فَأَبَى أَنْ يُوَرِّثَهُ وَقَالَ:" يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا".
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ کی پھوپھی فوت ہوگئی اور وہ یہودیہ تھی، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وارث بننے سے روک دیا اور فرمایا: اس کے وارث اس کے دین والے ہیں۔ [صحیح۔ مالک ١٠٨١] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12233]
حدیث نمبر: 12234
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ:" رَأَيْتُ شَيْخًا يَمْشِي عَلَى عَصًا، فَقَالُوا: هَذَا وَارِثُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهَا لَمَّا مَاتَتْ أَسْلَمَ مِنْ أَجْلِ مِيرَاثِهَا، فَلَمْ يُوَرَّثْ".
حضرت حصین کہتے ہیں: میں نے ایک بزرگ کو دیکھا، وہ لاٹھی کے سہارے چل رہے تھے۔ انہوں نے کہا: یہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا وارث ہے، ہم باتیں کر رہے تھے کہ جب صفیہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو یہ بزرگ ان کی میراث کی وجہ سے مسلمان ہوئے لیکن وارث نہ بن سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12234]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2554. -- باب: لا يرث المملوك
-- باب: غلام وارث نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 12235
اسْتِدِلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمَّا كَانَ بَيِّنًا فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَبْدَ لَا يَمْلِكُ مَالًا، وَأَنَّ مَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ فَإِنَّمَا يَمْلِكُهُ سَيِّدُهُ، وَلَمْ يَكُنِ السَّيِّدُ بِأَبِي الْمَيِّتِ، وَلَا وَارِثٍ سُمِّيَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ، فَكُنَّا لَوْ أَعْطَيْنَا ⦗٣٦٠⦘ الْعَبْدَ بِأَنَّهُ أَبٌ إِنَّمَا أَعْطَيْنَا السَّيِّدَ الَّذِي لَا فَرِيضَةَ لَهُ، فَوَرَّثْنَا غَيْرَ مَنْ وَرَّثَ اللهُ، فَلَمْ نُوَرِّثْ عَبْدًا لِمَا وَصَفْتُ، وَلَا أَحَدًا لَمْ يَجْتَمِعْ فِيهِ الْحُرِّيَّةُ وَالْإِسْلَامُ وَالْبَرَاءَةُ مِنَ الْقَتْلِ قَالَ الشَّيْخُ: وَبِهِ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام کو بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، مگر یہ کہ خریدنے والا کوئی شرط لگائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ غلام مال کا مالک نہیں ہوتا، جس چیز کا مالک غلام ہے حقیقت میں اس کا مالک سردار ہے۔ حالانکہ سردار میت کا باپ نہیں ہوتا اور نہ ایسا وارث ہے کہ اس کا حصہ مقرر ہو، ہم اگر غلام کو دیں کیونکہ وہ باپ ہے تو ہم سردار کو دیں گے جس کا مقرر حصہ نہیں ہے، ہم نے ایسے شخص کو وارث بنا دیا جسے اللہ نے وارث نہیں بنایا۔ اس وجہ سے ہم غلام کو وارث نہیں بنائیں گے، اور نہ کسی ایسے شخص کو جس میں آزادی اور اسلام جمع نہ ہوں اور نہ اس شخص کو جو قتل سے بری نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12235]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ غلام مال کا مالک نہیں ہوتا، جس چیز کا مالک غلام ہے حقیقت میں اس کا مالک سردار ہے۔ حالانکہ سردار میت کا باپ نہیں ہوتا اور نہ ایسا وارث ہے کہ اس کا حصہ مقرر ہو، ہم اگر غلام کو دیں کیونکہ وہ باپ ہے تو ہم سردار کو دیں گے جس کا مقرر حصہ نہیں ہے، ہم نے ایسے شخص کو وارث بنا دیا جسے اللہ نے وارث نہیں بنایا۔ اس وجہ سے ہم غلام کو وارث نہیں بنائیں گے، اور نہ کسی ایسے شخص کو جس میں آزادی اور اسلام جمع نہ ہوں اور نہ اس شخص کو جو قتل سے بری نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12235]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اللام للشافعي 4/ 77»
الحكم على الحديث: صحيح
2555. -- باب: لا يرث القاتل
-- باب: قاتل وارث نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 12236
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل دیت کا وارث نہ بنے، جس نے قتل کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12236]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12237
أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ الطَّرَسُوسِيِّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي مَتْنِهِ:" لَا يَرِثُ قَاتِلُ عَمْدٍ وَلَا خَطَأٍ شَيْئًا مِنَ الدِّيَةِ" أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَا الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جان بوجھ کر قتل کرنے والا اور غلطی سے قتل کرنے والا دیت میں سے کسی بھی چیز کا وارث نہ بنے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12237]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12238
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ عَدِيًّا الْجُذَامِيَّ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَى إِحْدَاهُمَا فَمَاتَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" اعْقِلْهَا، وَلَا تَرِثْهَا".
سیدنا عدی جذامی رضی اللہ عنہ کی دو بیویاں تھیں، وہ دونوں لڑنے لگیں، ایک کو پتھر مارا وہ اس سے مر گئی، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اس کی دیت دے اور تو اس کا وارث نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12238]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُدْعَى قَتَادَةَ كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ، فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا امْرَأَةً مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى عَنْكَ حَتَّى تَرْعَى عَلَيَّ أُمُّ وَلَدِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْعَى عَلَيْهَا، فَأَبَى ابْنَاهَا ذَلِكَ، فَتَنَاوَلَ قَتَادَةُ أَحَدَ ابْنَيْهِ بِالسَّيْفِ فَمَاتَ، فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَعْدِدْ لِي بِقُدَيْدٍ، وَهِيَ أَرْضُ بَنِي مُدْلِجٍ، عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ ثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْءٌ" هَذِهِ مَرَاسِيلُ جَيِّدَةٌ يَقْوَى بَعْضُهَا بِبَعْضٍ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ أَوْجُهٍ.
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی مدلج کا ایک آدمی جس کا نام قتادہ تھا، اس کی ام ولد تھی، اس سے دو بیٹے تھے، قتادہ نے عرب کی ایک عورت سے شادی کی۔ اس عرب عورت نے کہا: میں تجھ سے اس صورت میں خوش ہوں کہ تو اپنی ام ولد سے کہہ کہ وہ میری خدمت کیا کرے۔ قتادہ نے ام ولد کو حکم دیا کہ اس کی خدمت کیا کر، لیکن اس کے بیٹوں نے انکار کر دیا، قتادہ تلوار لے کر ایک بیٹے کے درپے ہوئے وہ مر گیا۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ سارا ماجرا ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میرے لیے قدید میں، جو بنی مدلج کی زمین ہے، ایک سو بیس اونٹ تیار رکھو، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو تیس اونٹ جذعہ، تیس حقہ اور چالیس حاملہ پکڑے پھر کہا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔“
یہ عمدہ مرسل روایات ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، اور یہ کئی طرق سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12239]
یہ عمدہ مرسل روایات ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، اور یہ کئی طرق سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12239]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12240
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ ⦗٣٦١⦘ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ يَرِثُهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَلَا يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا".
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے (مقتول کی وراثت میں سے) کوئی چیز نہیں ہے، اگر (مقتول کا) کوئی وارث نہ ہو تو لوگوں میں سے قریب ترین شخص اس کا وارث ہوگا اور قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12240]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 6662»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12241
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِلْقَاتِلِ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ" رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشِ، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَالْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے میراث میں کوئی چیز نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12241]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره