السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2695. -- باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة
-- باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ اللَّاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ إِلَى الْكُوفَةِ، بَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَعَلَى الْجُيُوشِ، وَبَعَثَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَلى الْقَضَاءِ وَعَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مِسَاحَةِ الْأَرْضِ، جَعَلَ بَيْنَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، شَطْرُهَا وَسَوَاقِطُهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَالنِّصْفُ بَيْنَ هَذَيْنِ. قَالَ سَعِيدٌ: وَلَا ⦗٥٧٦⦘ أَحْفَظُ الطَّعَامَ، قَالَ:" نَزَلْتُكُمْ وَإِيَّايَ مِنْ هَذَا الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ، مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ، وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ، وَمَا أَرَى قَرْيَةً يُؤْخَذُ مِنْهَا كُلَّ يَوْمٍ شَاةً إِلَّا كَانَ ذَلِكَ سَرِيعًا فِي خَرَابِهَا".
لاحق بن حمید فرماتے ہیں: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہم کو کوفہ بھیجا تو عمار کو نماز اور لشکر پر امیر مقرر کیا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضاء اور بیت المال کا نگران بنایا اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو زمین پر نگران بنایا۔ ان کے لیے ہر روز ایک بکری کا نصف مقرر کیا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے لیے اور نصف ان دونوں کے درمیان۔ سعید نے کہا: میں نے کھانا یاد نہیں رکھا۔ پھر کہا: میں نے بیت المال سے اس درجہ پر رکھا ہے، جس پر یتیم کا والی ہوتا ہے: ﴿وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] اور میں خیال نہیں کرتا کہ کسی بستی سے ہر روز ایک بکری لی جائے مگر یہ بہت جلد اسے خراب کر دے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13012]
حدیث نمبر: 13013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ:" اسْتَعْمَلَنِي ابْنُ زِيَادٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، فَأَتَانِي رَجُلٌ مِنْهُ بَصَكٍّ فِيهِ: أَعْطِ صَاحِبَ الْمَطْبَخِ ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: مَكَانَكَ، وَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ زِيَادٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الْقَضَاءِ وَبَيْتِ الْمَالِ، وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مَا يَسْقِي الْفُرَاتُ، وَعَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَرَزَقَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، فَجَعَلَ نِصْفَهَا وَسَقَطَهَا وَأَكَارِعَهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَجَعَلَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رُبُعَهَا، وَجَعَلَ لِعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رُبُعَهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَالًا يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، إِنَّ ذَلِكَ فِيهِ لَسَرِيعٌ قَالَ ابْنُ زِيَادٍ: ضَعِ الْمِفْتَاحَ وَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ".
ابووائل کہتے ہیں: مجھے ابنِ زیاد نے بیت المال پر امیر مقرر کر دیا۔ (بیت المال کی طرف سے) ایک آدمی میرے پاس ایک تحریر لے کر آیا جس میں لکھا تھا: ( «صَاحِبُ الْمَطْبَخِ» ”باورچی خانے کے نگران“) کو آٹھ سو درہم دے دو۔ میں نے اس سے کہا: اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر میں ابنِ زیاد کے پاس گیا اور اسے بتایا۔ پھر میں نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضا اور بیت المال پر نگران بنایا اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو فرات سے سیراب ہونے والی زمین پر نگران مقرر کیا اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو نماز اور لشکروں پر مقرر کیا اور ہر روز ان کو ایک بکری دی؛ اس کا نصف، اس کی اوجھڑی اور پائے عمار رضی اللہ عنہ کو، کیونکہ وہ نماز اور لشکر پر مقرر تھے، عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس کا چوتھائی اور عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا چوتھائی دیا۔ پھر کہا: جس مال سے ہر روز ایک بکری لی جائے، وہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ ابنِ زیاد نے کہا: چابی رکھ دو اور جہاں مرضی جاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13013]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13014
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، قَالَ:" خُذْ مَا أُعْطِيتَ؛ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَمَّلَنِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ اللَّيْثِ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ.
ابن ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو انہوں نے میرے لیے اجرت کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے تو اللہ کے لیے کام کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تجھے دیا جا رہا ہے وہ لے لے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کام کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجرت دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13014]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَكَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِالْخَيْرِ، وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَا تَفْعَلْ؛ فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً ⦗٥٧٧⦘ مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت میں آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تم لوگوں کے کچھ کاموں کے والی بنتے ہو، پھر جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس سے تمہارا کیا ارادہ ہے؟“ میں نے کہا: ”میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری اجرت مسلمانوں پر صدقہ ہو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا نہ کرو، میں نے بھی یہ ارادہ کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں عرض کرتا: اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اسے لے لو اور اپنے مال میں شامل کر لو یا اسے صدقہ کر دو، اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تمہیں اس کی لالچ ہو اور نہ تم نے اس کا سوال کیا ہو تو اسے لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔‘“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13015]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 7164»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13016
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ عَامِ الرَّمَادَاتِ وَأَجْدَبَتْ بِلَادُ الْعَرَبِ، كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ:" مِنْ عَبْدِ اللهِ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: إِنَّكَ لَعَمْرِي مَا تُبَالِي إِذَا سَمُنْتَ وَمَنْ قِبَلَكَ أَنْ أَعْجَفَ أَنَا وَمَنْ قِبَلِي، وَيَا غَوْثَاهُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَخَرَجَ فِي ذَلِكَ، فَلَمَّا رَجَعَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: إِنِّي لَمْ أَعْمَلْ لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، وَلَسْتُ آخِذٌ فِي ذَلِكَ شَيْئًا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَدْ أَعْطَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاءَ بَعَثَنَا لَهَا، فَكَرِهْنَا ذَلِكَ، فَأَبَى عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْبَلْهَا أَيُّهَا الرَّجُلُ فَاسْتَعِنْ بِهَا عَلَى دِينِكَ وَدُنْيَاكَ"، فَقَبِلَهَا أَبُو عُبَيْدَةَ.
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عام الرمادہ (قحط کا سال) آیا اور عرب کے علاقے خشک سالی کا شکار ہو گئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”اللہ کے بندے امیر المومنین عمر کی طرف سے عمرو بن عاص کو: میری عمر کی قسم! جب تم اور تمہارے ساتھ والے موٹے ہو رہے ہوں تو تمہیں کوئی پروا نہیں کہ میں اور میرے ساتھ والے دبلے ہو جائیں، ہائے مدد!“ پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی اور اس میں کہا: پھر انہوں نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا، وہ اس کام کے لیے نکلے، جب وہ لوٹے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک ہزار دینار بھیجے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابن خطاب! میں نے آپ کے لیے کام نہیں کیا، میں نے تو اللہ کے لیے یہ کام کیا ہے اور میں اس میں سے کچھ نہیں لوں گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کاموں میں (اجرت) دی جن کے لیے ہمیں بھیجا، ہم نے اسے ناپسند کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا انکار قبول نہ کیا، پس اے آدمی! اسے قبول کر لو اور اس سے اپنے دین اور اپنی دنیا میں مدد حاصل کرو۔“ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13016]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13017
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجَيْبِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. وَذَكَرَ مَا تُرِكَ مِنَ الْأَوَّلِ فَقَالَ: فَكَتَبَ عَمْرٌو:" السَّلَامُ، أَمَّا بَعْدُ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، أَتَتْكَ عِيرٌ أَوَّلُهَا عِنْدَكَ وَآخِرُهَا عِنْدِي، مَعَ أَنِّي أَرْجُو أَنْ أَجِدَ سَبِيلًا أَنْ أَحْمِلَ فِي الْبَحْرِ". فَلَمَّا قَدِمَ أَوَّلُ عِيرٍ دَعَا الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" اخْرُجْ فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْعِيرِ فَاسْتَقْبِلْ بِهَا نَجْدًا، فَاحْمِلْ إِلِيَّ كُلَّ أَهْلِ بَيْتِ قَدَرْتَ أَنْ تَحْمِلَهُمْ إِلِيَّ، وَمَنْ لَمْ تَسْتَطِعْ حَمْلَهُ فَمُرْ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ بِبَعِيرٍ بِمَا عَلَيْهِ، وَمُرْهُمْ فَلْيَلْبَسُوا كِسَاءَيْنِ، وَلْيَنْحَرُوا الْبَعِيرَ فَيُجَمِّلُوا شَحْمَهُ، وَلْيُقَدِّدُوا لَحْمَهُ، وَلْيَحْتَذُوا جِلْدَهُ، ثُمَّ لِيَأْخُذُوا كُبَّةً مِنْ قَدِيدٍ وَكُبَّةً مِنْ شَحْمٍ وَجَفْنَةً مِنْ دَقِيقٍ، فَيَطْبُخُوا وَيَأْكُلُوا حَتَّى يَأْتِيَهُمُ اللهُ بِرِزْقٍ"، فَأَبَى الزُّبَيْرُ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ:" أَمَا وَاللهِ لَا تَجِدُ مِثْلَهَا حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا"، ثُمَّ دَعَا آخَرَ، أَظُنُّهُ طَلْحَةَ، فَأَبَى، ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَخَرَجَ فِي ذَلِكَ وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ.
عمرو رضی اللہ عنہ نے لکھا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”السلام علیکم“ اور «أَمَّا بَعْدُ» ”امابعد“! میں حاضر ہوں، آپ کے پاس اونٹ آ رہے ہیں، پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس اس امید کے ساتھ کہ میں سمندر میں راستہ پاؤں گا۔ جب پہلا اونٹ آیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا کہ اس پہلے اونٹ کو نجد کی طرف لے جاؤ اور تو میری طرف ہر اس گھر والے کو بھیج، جس پر تو میری طرف بھیجنے کی قوت رکھتا ہے۔ اور جسے تو بھیجنے کی طاقت نہیں رکھتا تو ہر گھر والے کے لیے ایک اونٹ اس کے سامان سمیت دینے کا حکم دے اور ان کو حکم دے کہ وہ دو لباس پہنیں اور وہ اونٹ ذبح کریں اور اس کی چربی کو پگھلا لیں، اس کے گوشت کے ٹکڑے کر کے سکھا لیں اور اس کے چمڑے کے جوتے بنا لیں۔ پھر وہ گوشت کے ٹکڑوں کا ایک کوفتہ لیں اور چربی سے بھی اور آٹے کا ایک پیالہ لیں، پھر سالن پکائیں اور کھائیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاں رزق لے آئے۔ پس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا کہ وہ نکلیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تو اس جیسی (پیشکش) نہ پائے گا، یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جائے، پھر ایک دوسرا آدمی بلایا، میرا خیال ہے کہ وہ طلحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے بھی انکار کر دیا، پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا، پس وہ اس معاملے میں نکل گئے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13017]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا الْمُعَافَى، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ⦗٥٧٨⦘ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ".
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہمارا عامل ہو، پس وہ بیوی (بیت المال کے خرچ پر) رکھ لے۔ اگر اس کے پاس خادم نہ ہو تو خادم بھی رکھ لے اور اگر اس کے پاس گھر نہ ہو تو گھر بھی رکھ لے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس کے علاوہ کچھ اور لے گا وہ خائن یا چور ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13018]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13019
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمَرَانَ فَذَكَرَهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَأُخْبِرْتُ، لَمْ يَقُلْ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ.
معافی بن عمران رحمہ اللہ نے روایت بیان کی ہے، مگر یہ الفاظ نہیں، عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر رحمہ اللہ سے، انہوں نے مستورد رضی اللہ عنہ سے، حدیث کے آخر میں «أُخْبِرْتُ» ”مجھے خبر دی گئی“ کو ذکر کیا ہے، «قَالَ أَبُو بَكْرٍ» ”ابوبکر نے کہا“ نہیں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 2560»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13020
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلَاعِبٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ وَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ".
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ہم عامل مقرر کریں ہم اسے کھانا دیں گے، (خرچہ) جو اس کے بعد اور لے پس وہ خائن ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13020]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:" رَزَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ حِينَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فِي كُلِّ سَنَةٍ" هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُسْنَدًا.
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو جب مکہ پر عامل مقرر کیا تو ہر سال چالیس اوقیہ مقرر کیا۔
یہ روایت منقطع ہے، اور ایک دوسری سند سے متصل بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13021]
یہ روایت منقطع ہے، اور ایک دوسری سند سے متصل بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13021]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف