🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2696. -- باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع
-- باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْحُرُّ بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ:" اقْسِمْ بَيْتَ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، اقْسِمْ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً"، ثُمَّ قَالَ:" اقْسِمْ بَيْتَ الْمَالِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَبْقَيْتَ فِي مَالِ الْمُسْلِمِينَ بَقِيَّةً تَعُدُّهَا لِنَائِبَةٍ أَوْ صَوْتٍ، يَعْنِي خَارِجَةً، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلرَّجُلِ الَّذِي كَلَّمَهُ:" جَرَى الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكِ، لَقَّنَنِي اللهُ حُجَّتَهَا وَوَقَانِي شَرَّهَا، أَعُدُّ لَهَا مَا أَعَدَّ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاعَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ مسلمانوں کے بیت المال کو ہر مہینہ میں ایک مرتبہ تقسیم کرو، ہر جمعہ کو ایک دفعہ تقسیم کرو، ہر روز ایک دفعہ تقسیم کرو۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ مسلمانوں کے مال میں سے کچھ باقی رکھ لیں جسے حوادثات وغیرہ کے لیے تیار رکھا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنے والے سے کہا: شیطان اس کی زبان پر چلا، اللہ نے مجھے اس کو روکنے کی تلقین کی ہے اور اس کے شر سے مجھے بچایا ہے، میں اس کے لیے وہی تیار رکھوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار رکھا، یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13032]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13033
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمْ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا أُصِيبَ مِنَ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ: أَنَا أُدْخِلُهُ بَيْتَ الْمَالِ، قَالَ:" لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، لَا يُؤْوَى تَحْتَ سَقْفِ بَيْتٍ حَتَّى أَقْسِمَهُ"، فَأَمَرَ بِهِ فَوُضِعَ فِي الْمَسْجِدِ، وَوُضِعَتْ عَلَيْهَا الْأَنْطَاعُ، وَحَرَسَهُ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا مَعَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، أَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، أَوْ أَحَدُهُمَا أَخَذَ يَدَهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ كَشَطُوا الْأَنْطَاعَ عَنِ الْأَمْوَالِ، فَرَأَى مَنْظَرًا لَمْ يَرَ مِثْلَهُ، رَأَى الذَّهَبَ فِيهِ وَالْيَاقُوتَ وَالزَّبَرْجَدَ وَاللُّؤْلُؤَ يَتَلَأْلَأُ، فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمَا: إِنَّهُ وَاللهِ مَا هُوَ بِيَوْمِ بُكَاءٍ، وَلَكِنَّهُ يَوْمُ شُكْرٍ وَسُرُورٍ، فَقَالَ:" إِنِّي وَاللهِ مَا ذَهَبْتُ حَيْثُ ذَهَبْتُ، وَلَكِنَّهُ وَاللهِ مَا كَثُرَ هَذَا فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا وَقَعَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَكُونَ مُسْتَدْرَجًا؛ فَإِنِّي أَسْمَعُكَ تَقُولُ {سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ} [الأعراف: ١٨٢] "، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ؟" فَأُتِيَ بِهِ أَشْعَرَ الذِّرَاعَيْنِ دَقِيقَهُمَا، فَأَعْطَاهُ سِوَارَيْ كِسْرَى فَقَالَ:" الْبَسْهُمَا"، فَفَعَلَ، فَقَالَ:" قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ"، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، قَالَ:" قُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَبَهُمَا مِنْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَأَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ"، وَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَعْضَ ذَلِكَ بَعْضًا، فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَدَّى هَذَا لَأَمِينٌ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَنَا أُخْبِرُكَ، أَنْتَ أَمِينُ اللهِ، وَهُمْ يُؤَدُّونَ إِلَيْكَ مَا أَدَّيْتَ إِلَى اللهِ، فَإِذَا رَتَعْتَ رَتَعُوا، قَالَ:" صَدَقْتَ"، ثُمَّ فَرَّقَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا أَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسُرَاقَةَ وَنَظَرَ إِلَى ذِرَاعَيْهِ:" كَأَنِّي بِكَ قَدْ لَبِسْتَ سُوَارَيْ كِسْرَى" قَالَ: وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ إِلَّا سِوَارَيْنِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: أَنْفَقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٥٨٢⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَهْلِ الرَّمَادَةِ حَتَّى وَقَعَ مَطَرٌ، فَتَرَحَّلُوا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَاكِبًا فَرَسًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَرَحَّلُونَ بِظَعَائِنِهِمْ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ خَصْفَةَ: أَشْهَدُ أَنَّهَا انْحَسَرَتْ عَنْكَ، وَلَسْتَ بِابْنِ أَمَةٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَيْلَكَ ذَلِكَ لَوْ كُنْتُ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِي أَوْ مِنْ مَالِ الْخَطَّابِ، إِنَّمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے مال لایا گیا تو بیت المال کے نگران نے کہا: میں اسے بیت المال میں داخل کر دوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رب کعبہ کی قسم! اسے بیت المال کی چھت کے نیچے پناہ نہ دی جائے گی حتیٰ کہ میں اسے تقسیم کر دوں۔ حکم دیا کہ وہ مال مسجد میں لایا جائے اور چمڑے مسجد میں رکھے گئے، مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے ان پر پہرہ دیا۔ جب صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عباس بن عبدالمطلب اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے آئے۔ انھوں نے مال سے چمڑوں کو ہٹایا، پس بے مثال منظر دیکھا، اس میں سونا، یاقوت، جواہرات اور موتی دیکھے اور رونے لگ گئے۔ ایک نے کہا: آج رونے کی کیا وجہ ہے؟ آج تو شکر اور خوشی کا دن ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو میں نے سوچا ہے تو نے وہ نہیں سوچا۔ اللہ کی قسم! یہ کسی قوم میں جب بھی زیادہ ہوا تو ان کی لڑائی آپس میں ہی ہونے لگی۔ پھر قبلہ رخ ہوئے، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہا: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں تجھے سنتا ہوں تو کہتا ہے: ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الأعراف: 182] ”ہم ان کو ایسے پکڑیں گے کہ ان کو علم بھی نہ ہوگا“، پھر کہا: سراقہ بن جعشم کہاں ہیں؟ ان کو لایا گیا، ان کو کسریٰ کے دو کنگن دیے اور کہا: انہیں پہن لو۔ پھر کہا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو۔ پھر کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ کہو، جس نے ان کو کسریٰ بن ہرمز سے لیا اور سراقہ بن جعشم کو پہنایا، وہ بنی مدلج کے دیہاتی تھے۔ وہ ان کو پھیرنے لگے۔ پس کہا: جس نے یہ دیے ہیں وہ امین ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: میں تجھے خبر دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے امین ہو اور وہ آپ کو دیتے ہیں، جو تم اللہ کی طرف دیتے ہو۔ جب تو خوش حال ہوگا تو وہ بھی خوش حال ہوں گے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا۔ پھر اسے تقسیم کر دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ نے سراقہ کو پہنائے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ سے کہا تھا اور اس کی کلائیوں کی طرف دیکھا: ”گویا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے کسریٰ کے کنگن پہنے ہیں“ اور ان کے لیے صرف وہی دو کنگن تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے خبر دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قحط والوں پر خرچ کیا، حتیٰ کہ بارش ہوئی تو وہ واپس گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف گئے، ان کی طرف دیکھا کہ وہ کوچ کر رہے ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بنی محارب کے ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ (قحط) آپ سے چھٹ گیا ہے اور آپ لونڈی کے بیٹے نہیں ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میں نے اپنے مال سے یا خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا، تو میں نے تو ان پر اللہ کے مال سے خرچ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13033]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَجَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَنَائِمَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَادِسِيَّةِ، فَجَعَلَ يَتَصَفَّحُهَا وَيَنْظُرُ إِلَيْهَا وَهُوَ يَبْكِي، وَمَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا يَوْمُ فَرَحٍ، وَهَذَا يَوْمُ سُرُورٍ، قَالَ: فَقَالَ:"" أَجَلْ، وَلَكِنْ لَمْ يُؤْتَ هَذَا قَوْمٌ قَطُّ إِلَّا أَوْرَثَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ"".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس قادسیہ کی غنیمت آئی تو اسے دیکھ کر رونے لگے، ساتھ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ یہ دن خوشی کا دن ہے۔ کہا: ہاں، لیکن یہ کبھی بھی نہیں لایا گیا مگر دشمنی اور بغض ان میں ڈال دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13034]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13035
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: لَمَّا أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِكُنُوزِ كِسْرَى قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَرْقَمَ الزُّهْرِيُّ: أَلَا تَجْعَلُهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ يَعْنِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا نَجْعَلُهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ حَتَّى نَقْسِمَهَا"، وَبَكَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللهِ إِنَّ هَذَا لَيَوْمُ شُكْرٍ، وَيَوْمُ سُرُورٍ، وَيَوْمُ فَرِحٍ؟ فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّ هَذَا لَمْ يُعْطِهِ اللهُ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا أَلْقَى اللهُ بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ".
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کے خزانے لائے گئے تو سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسے بیت المال میں رکھ دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیت المال میں نہ رکھنا، ہم اسے تقسیم کر دیں گے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رونا شروع کر دیا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیوں رو رہے ہو؟ یہ دن تو شکر اور خوشی کا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ یہ جس قوم کو بھی دیتا ہے تو ان میں دشمنی اور بغض آ جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13035]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13036
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّ يَدِي، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِفَرْوَةِ كِسْرَى فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَفِي الْقَوْمِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: فَأَلْقَى إِلَيْهِ سِوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فَجَعَلَهُمَا فِي يَدِهِ، فَبَلَغَا مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُمَا فِي يَدَيْ سُرَاقَةَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، سُوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فِي يَدِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيٍّ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ"، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، وَزَوَيْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا"، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، فَزَويْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يَكُونَ هَذَا مَكْرًا ⦗٥٨٣⦘ مِنْكَ بِعُمَرَ". ثُمَّ قَالَ: تَلَا {أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ} [المؤمنون: ٥٦] .
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کی پوستین لائی گئی، وہ ان کے سامنے رکھی گئی۔ قوم میں سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ پس ان کو کسریٰ بن ہرمز کے کنگن ڈال دیے تو ان دونوں کو اس کے ہاتھ میں ڈال دیا، وہ کندھوں تک پہنچ گئے۔ جب دونوں کو سراقہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیکھا تو کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کسریٰ بن ہرمز کے کنگن سراقہ بن مالک بنی مدلج کے دیہاتی کے ہاتھوں میں ہیں۔ پھر کہا: اے اللہ! میں جانتا ہوں، تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں اور تیرے بندوں پر اور تو نے ان کو اس سے ہٹا دیا اور بہتری کی، اے اللہ! میں جانتا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں، پس تو نے ان کو بھی ہٹا دیا اور بہتری کی۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ تیری طرف سے عمر کے ساتھ کوئی آزمائش نہ ہو۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ * نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 55-56] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13036]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13037
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: قَسَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا مَالًا، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا أَحْمَقَكُمْ لَوْ كَانَ هَذَا لِي مَا أَعْطَيْتُكُمْ دِرْهَمًا وَاحِدًا".
سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن مال تقسیم کیا، وہ (لوگ) اس کی تعریف کرنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کتنے احمق ہو، اگر یہ میرا ہوتا تو میں تم کو ایک درہم بھی نہ دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13037]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ، وَمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ دَخَلَ، فَصَلَّى ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَجْلِسْ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ، بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكْوَى؟ قَالَ:" لَا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ"، قَالَ: فَجَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَسَ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَرْفَأُ فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ صَبْرَةٌ مِنَ الْمَالِ، عَلَى كُلِّ صَبْرَةٍ مِنْهَا كَثْفٌ، فَقَالَ:" إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَوَجَدْتُكُمَا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْتَسِمَاهُ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرُدَّاهُ". فَأَمَّا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَثَا، وَأَمَّا أَنَا فَقُلْتُ: وَإِنْ نَقَصَ شَيْءٌ أَتْمَمْتَهُ لَنَا؟ قَالَ:" شِنْشِنَةٌ مِنْ أَخْزَمَ، أَمَا تَرَى هَذَا كَانَ عِنْدَ اللهِ، وَمُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى وَاللهِ لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللهِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ، وَلَوْ فُتِحَ هَذَا عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ فَزِعَ مِنْهُ، فَقَالَ:" وَمَا كَانَ يَصْنَعُ؟" قُلْتُ: لَأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، قَالَ: فَنَشَجَ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ وَقَالَ:" لَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا، لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھاتے تو بیٹھ جاتے، جس کسی کو کوئی ضرورت ہوتی وہ آپ سے بات کرتا اور جس کی کوئی ضرورت نہ ہوتی تو آپ اندر چلے جاتے، پس ایک دن آپ نے نماز پڑھائی اور نہ بیٹھے، میں گیا میں نے کہا: اے یرفاء! کیا امیر المؤمنین بیمار تو نہیں ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے وہ بھی بیٹھ گئے، تھوڑی ہی دیر بعد یرفاء آگیا اس نے کہا: اے ابن عفان اور اے ابن عباس (رضی اللہ عنہما)! کھڑے ہوجاؤ۔ پس ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور آپ کے پاس مال کا ڈھیر تھا، ہر ڈھیر میں سہارا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے اہل مدینہ میں اکثر خاندان والا تم دونوں کو پایا ہے۔ پس یہ مال لے جاؤ اور تقسیم کر دو، اگر کوئی چیز بچ جائے تو اسے لوٹا دینا، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تو لپ بھر کر لے لیا، اور میں نے کہا: اگر کوئی چیز کم ہوئی تو دیں گے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عادت ہے برے اخلاق سے۔ کیا تم خیال کرتے ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے اور اگر یہ (مال) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا تو وہ ایسا نہ کرتے جیسا تم کر رہے ہو، گویا وہ اس سے ڈر گئے اور کہا: وہ کیا کرتے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے اور ہمیں کھلاتے۔ وہ رونے لگ گئے، حتیٰ کہ ہچکی بندھ گئی اور کہا: میں چاہتا ہوں میں اس سے ایسے برابر سرابر نکل جاؤں کہ نہ میرے اوپر کوئی چیز ہو اور نہ میرے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13038]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13039
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ:" يَا أَبَا مُوسَى، أَيَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِهَادَنَا مَعَهُ، وَعَمَلَنَا مَعَهُ، كُلَّهُ بَرَدَ لَنَا، وَإِنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ، كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟" قَالَ: فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي:" وَاللهِ لَقَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا، وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا أُنَاسٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا نَرْجُو بِذَلِكَ"، قَالَ أَبِي:" ⦗٥٨٤⦘ وَلَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ"، فَقُلْتُ: وَاللهِ إِنَّ أَبَاكَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے تمہارے باپ سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تجھے پسند ہے کہ ہمارا اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہمارا جہاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہمارا ہر عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور آپ کے بعد ہم جو بھی عمل کریں، ہم بس نجات پا جائیں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہارے باپ نے میرے باپ سے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاد کیا اور ہم نے نماز پڑھی اور ہم نے روزہ رکھا اور ہم نے بہت زیادہ اچھے اعمال کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت زیادہ لوگ اسلام لائے اور ہم اس کی امید کرتے ہیں۔ میرے باپ نے کہا: لیکن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا معاملہ آسان کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو ہم نے عمل کیا ہم بس اس کے ذریعے سے نجات پا جائیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے والد میرے والد سے بہتر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13039]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3915»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2697. -- باب: من كره الإفراض عند تغير السلاطين، وصرفه عن المستحقين
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے حکمرانوں کے بدلنے پر وظائف مقرر کرنے اور انہیں مستحقین کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کو ناپسند کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، ثنا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ:" بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفِيَتِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ" قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قَبْلُ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟ قَالَ:" خُذْهُ؛ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَهُوَ فِي الْعَطَاءِ مَوْقُوفٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.
سیدنا احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں قریش کی جماعت میں تھا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ گزرے اور وہ کہہ رہے تھے: ”خوشخبری دے دو خزانہ جمع کرنے والوں کو داغ کی، جو ان کی پیٹھوں پر لگائے جائیں گے تو ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان کی گدیوں پر لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے“، پھر وہ ایک کنارے پر بیٹھ گئے، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، میں ان کے پاس کھڑا ہوا اور ان سے کہا: یہ کیا تھا جو میں نے ابھی آپ سے سنا جو آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: میں وہی کہہ رہا تھا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، میں نے کہا: آپ اس عطا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو لیتے رہو اس میں مدد ہے، پھر جب یہ تمہارے دین کی قیمت ہو جائے تو اسے چھوڑ دینا۔
عطا والا حصہ موقوف ہے، اور ایک دوسری سند سے مرفوع بھی روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13040]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 992»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13041
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي مُطَيْرٌ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالسُّوَيْدَاءِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ قَدْ جَاءَ كَأَنَّهُ يَطْلُبُ دَوَاءً أَوْ حُضَضًا، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَعِظُ النَّاسَ وَيَأْمُرُهُمْ وَيَنْهَاهُمْ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا الْعَطَاءَ مَا كَانَ عَطَاءً، فَإِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ، وَكَانَ عَنْ دِينِ أَحَدِكُمْ، فَدَعُوهُ".
مطیر حج کرنے کے لیے گئے، جب وہ سویداء مقام پر تھے تو ایک شخص دوائی تلاش کرتا ہوا آیا یا رسوت تلاش کرتا ہوا اور کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں فرماتے تھے اور لوگوں کو وصیت کرتے تھے اور نیکی کا حکم کرتے تھے اور برائی سے منع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! امام یا حاکم کی عطاء کو لے لیا کرو، جب تک وہ عطاء رہے، پھر جب قریش ایک دوسرے سے لڑیں بادشاہی پر اور عطاء تم میں سے کسی کے دین کے بدلے میں ہو تو اسے چھوڑ دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13041]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ابوداود 2958»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں