السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2940. -- باب: من زعم أن زوج بريرة كان حرا يوم أعتقت
-- باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ سیدہ بریرہ کا شوہر اس دن آزاد تھا جب وہ آزاد کی گئیں۔
حدیث نمبر: 14282
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ لَنَا: أَيُّهُمَا تَرَوْنَ أَثْبَتُ عُرْوَةُ، أَوْ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ؟، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أَهْلُ الْحِجَازِ أَثْبَتُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُرِيدُ عَلِيٌّ رِوَايَةَ عُرْوَةَ وَأَمْثَالِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ تم عروہ یا ابراہیم کو اسود سے نقل کرنے میں کسی کو «أَثْبَتُ» ”زیادہ مستند“ جانتے ہو؟ پھر علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا کہ اہل حجاز «أَثْبَتُ» ”زیادہ مستند“ ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی کی مراد یہ ہے کہ عروہ اور ان جیسے اہل حجاز کی روایت اہل کوفہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14282]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2941. -- باب: ما جاء في وقت الخيار
-- باب: (آزاد ہونے والی لونڈی کے لیے) اختیار کے وقت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14283
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا:" إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ کو آزادی ملی جب وہ مغیث کے نکاح میں تھیں، جو آلِ ابی احمد کے غلام تھے، تو بریرہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دے دیا اور فرمایا: ”اگر مغیث نے تیرے ساتھ مجامعت کر لی تو پھر تجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14283]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14284
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٣٦٧⦘ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي لِبَرِيرَةَ:" إِنْ وَطِئَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ"، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اگر مغیث نے تجھ سے مجامعت کر لی تو تجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔“
یہ روایت صرف محمد بن ابراہیم نے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14284]
یہ روایت صرف محمد بن ابراہیم نے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14284]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14285
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ" أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ مَا لَمْ يَمَسَّهَا"، زَادَ مَالِكٌ فِي رِوَايَتِهِ: فَإِنْ مَسَّهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو لونڈی غلام کے نکاح میں ہو اس کو آزادی مل جائے تو خاوند کے مجامعت کرنے سے پہلے اس کو اپنے نفس کا اختیار ہوتا ہے۔
(ب) مالک کی روایت میں زیادتی ہے کہ اگر خاوند نے مجامعت کر لی تو پھر کوئی اختیار نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14285]
(ب) مالک کی روایت میں زیادتی ہے کہ اگر خاوند نے مجامعت کر لی تو پھر کوئی اختیار نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14285]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14286
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقَتْ قَالَ: فَأَرْسَلَتْ إِلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ:" إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ"، قَالَتْ: فَفَارَقْتُهُ ثَلَاثًا، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا جَامَعَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا"، وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنو عدی بن کعب کی لونڈی جس کو زبراء کہا جاتا تھا، اس نے انہیں بتایا کہ وہ ایک غلام کے نکاح میں تھی اور وہ نوبی لونڈی تھی، اسے آزادی مل گئی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا: میں تجھے ایک بات بتانے لگی ہوں اور مجھے پسند نہیں کہ آپ کچھ بھی کریں، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں رہے گا جب تک تیرے خاوند نے تجھ سے مجامعت نہ کر لی۔ کہتی ہیں: تو میں نے اسے تین (طلاقوں) کے ساتھ جدا کر دیا۔
(ب) ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب اس نے مجامعت کر لی تو پھر لونڈی کو اختیار نہ رہے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14286]
(ب) ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب اس نے مجامعت کر لی تو پھر لونڈی کو اختیار نہ رہے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14286]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2942. -- باب: المعتقة يصيبها زوجها فادعت الجهالة
-- باب: اس آزاد کی گئی لونڈی کا بیان جس سے اس کا شوہر ہم بستری کر لے اور وہ (لونڈی، اختیار کے مسئلے سے) لاعلمی کا دعویٰ کرے۔
حدیث نمبر: Q14287
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: فِيهَا قَوْلَانِ أَحَدُهُمَا تَحْلِفُ وَيَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا، وَالْقَوْلُ الْآخَرُ لَا خِيَارَ لَهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”اس (عورت) کے بارے میں دو قول ہیں: ان میں سے ایک یہ کہ وہ قسم کھائے گی اور اسے (نکاح فسخ کرنے کا) اختیار ہو گا، اور یہی ہمیں زیادہ پسند ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اسے کوئی اختیار نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14287]
حدیث نمبر: 14287
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ" أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ مَا لَمْ يَمَسَّهَا، فَإِنْ ⦗٣٦٨⦘ مَسَّهَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ، وَلَا تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَهَالَةِ، وَلَا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا" وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ:" إِذَا وَقَعَ عَلَيْهَا وَلَمْ تَعْلَمْ فَلَهَا الْخِيَارُ إِذَا عَلِمَتْ" وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَمَةِ تُعْتَقُ فَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُخَيَّرَ قَالَ:" تُسْتَحْلَفُ أَنَّهَا لَمْ تَعْلَمْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ ثُمَّ تُخَيَّرُ بَعْدَ ذَلِكَ"، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسی لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو، آزاد کر دی جائے تو خاوند کی مجامعت سے پہلے اس کو اختیار ہے، اگر خاوند نے مجامعت کر لی اور لونڈی نے جہالت کا دعویٰ کر دیا تو اس کو متہم کیا جائے گا اور جہالت کے دعویٰ کی تصدیق نہ کی جائے گی اور مجامعت کے بعد اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
(ب) ابن جریج کی روایت جو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے، جب غلام لونڈی پر واقع ہو گیا لیکن لونڈی کو علم نہ تھا، جب پتا چلا تب اس کو اختیار ہے۔
(ج) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لونڈی کی آزادی کے بعد غلام خاوند نے مجامعت کر لی، اختیار دیے جانے سے پہلے، تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس کو معلوم نہ تھا، پھر اختیار دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14287]
(ب) ابن جریج کی روایت جو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے، جب غلام لونڈی پر واقع ہو گیا لیکن لونڈی کو علم نہ تھا، جب پتا چلا تب اس کو اختیار ہے۔
(ج) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لونڈی کی آزادی کے بعد غلام خاوند نے مجامعت کر لی، اختیار دیے جانے سے پہلے، تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس کو معلوم نہ تھا، پھر اختیار دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14287]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2943. -- باب: المعتقة تختار الفراق ولم تمس فلا صداق لها
-- باب: اس آزاد کی گئی لونڈی کا بیان جو علیحدگی اختیار کر لے درآں حالیکہ اسے چھوا (ہم بستری) نہ گیا ہو تو اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ قَبْلَ أَنْ يُدْخَلَ بِهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا" فَلَا شَيْءَ لَهَا لَا يَجْتَمِعُ عَلَيْهِ أَنْ تَذْهَبَ نَفْسُهَا وَمَالُهُ"، وَاللهُ أَعْلَمُ وَبِهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب لونڈی کو دخول سے پہلے آزاد کر دیا جائے اور وہ (جدائی کا) اختیار کر لے تو اس کے لیے کچھ بھی (مہر) نہیں ہے، خاوند پر یہ دونوں جمع نہیں ہوں گے کہ اس کی بیوی بھی چلی جائے اور اس کا مال بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14288]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2944. -- باب: أجل العنين
-- باب: عنین (نامرد) کو دی جانے والی مہلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْعِنِّينِ:" يُؤَجَّلُ سَنَةً فَإِنْ قَدِرَ عَلَيْهَا وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَلَهَا الْمَهْرُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا عَلَى قَوْلِهِ:" إِنَّ الْخَلْوَةَ تُقَرِّرُ الْمَهْرَ وَتُوجِبُ الْعِدَّةَ"، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مُرْسَلًا" أَنَّهُ كَانَ يُؤَجِّلُ سَنَةً" وَقَالَ: فِيهِ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا مِنْ يَوْمِ يُرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نامرد آدمی کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ اگر وہ درست ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ عورت کے لیے مہر اور عدت دونوں ہوں گی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان کے اس قول کی بنا پر ہے کہ خلوت مہر کو ثابت اور عدت کو واجب کر دیتی ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت فرماتے ہیں کہ ایک سال کی مہلت کو تب شمار کریں گے جب مقدمہ بادشاہ کے سامنے پیش ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14289]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان کے اس قول کی بنا پر ہے کہ خلوت مہر کو ثابت اور عدت کو واجب کر دیتی ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت فرماتے ہیں کہ ایک سال کی مہلت کو تب شمار کریں گے جب مقدمہ بادشاہ کے سامنے پیش ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14289]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14290
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِيُّ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، وَحُصَيْنَ بْنَ قَبِيصَةَ يُحَدِّثَانِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" يُؤَجَّلُ سَنَةً، فَإِنْ أَتَاهَا وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اگر تندرست ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ ان کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14290]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف