السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2939. -- باب: الأمة تعتق وزوجها عبد
-- باب: اس لونڈی کا بیان جو آزاد کر دی جائے اور اس کا شوہر غلام ہو۔
حدیث نمبر: 14272
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا ابْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَ لَهَا غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَعْتَقْتِهِمَا فَابْدَئِي بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ"، ابْنُ مَوْهَبٍ هُوَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ تَفَرَّدَ بِهِ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَ بِالْبِدَايَةِ بِالرَّجُلِ، لِأَنْ لَا يَكُونَ لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام اور لونڈی میاں بیوی تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں ان کو آزاد کرنا چاہتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آزاد کرنے کا ارادہ ہے تو پہلے مرد کو آزاد کرو، عورت کو بعد میں آزاد کرنا۔“
ابن موہب، جو عبیداللہ بن عبدالرحمن بن موہب ہیں، اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14272]
ابن موہب، جو عبیداللہ بن عبدالرحمن بن موہب ہیں، اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14272]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14273
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ:" إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَعَتَقَا جَمِيعًا فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِنْ عَتَقَتْ قَبْلَهُ وَسَكَتَتْ حَتَّى عَتَقَ زَوْجُهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا أَيْضًا"، وَاللهُ أَعْلَمُ.
اہلِ مدینہ کے فقہاء جن کا قول معتبر ہے فرماتے ہیں: جب لونڈی غلام کے نکاح میں ہو اور دونوں کو اکٹھے آزادی ملے تو عورت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر لونڈی کو پہلے آزادی ملی اور وہ خاموش رہی اور اس کے خاوند کو بھی آزادی مل گئی تب بھی اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14273]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2940. -- باب: من زعم أن زوج بريرة كان حرا يوم أعتقت
-- باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ سیدہ بریرہ کا شوہر اس دن آزاد تھا جب وہ آزاد کی گئیں۔
حدیث نمبر: 14274
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ فَقَالَتْ: مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَلِي كَذَا وَكَذَا"، هَكَذَا أَدْرَجَهُ الثَّوْرِيُّ فِي الْحَدِيثِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَقَوْلُهُ كَانَ زَوْجُهَا حُرًّا مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ لَا مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِدَلِيلِ مَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ کا خاوند آزاد تھا، جب بریرہ کو آزاد کیا گیا تو اسے اختیار دیا گیا، وہ کہتی ہیں کہ مجھے پسند نہیں کہ میں اس کے ساتھ رہوں، اگرچہ میرے لیے اس اس طرح ہو۔
ثوری نے اسے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں درج کر دیا ہے، حالانکہ ”اس کا خاوند آزاد تھا“ والا جملہ اسود کا قول ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں، جیسا کہ اگلی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14274]
ثوری نے اسے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں درج کر دیا ہے، حالانکہ ”اس کا خاوند آزاد تھا“ والا جملہ اسود کا قول ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں، جیسا کہ اگلی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14274]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قول،كان حرا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14275
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْحَجَبِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا، ⦗٣٦٤⦘ فَقَالَ:" أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ أَوْ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ" قَالَ: فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا قَالَ: وَخُيِّرَتْ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ. قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا..
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدا تو اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں اور اس کے مالک ولاء کی شرط رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد کر؛ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے یا قیمت کے ادا کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“، فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر آزاد کردیا، راوی کہتے ہیں کہ بریرہ کو اختیار دیا گیا تو انہوں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا، بریرہ کہنے لگی: اگر مجھے اتنا اتنا بھی دیا جائے، تب بھی میں اس کے ساتھ نہ رہوں گی، اسود کہتے ہیں: اس کا خاوند آزاد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14275]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14276
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَفِي آخِرِهِ: وَقَالَ الْأَسْوَدُ:" وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ هَكَذَا. ثُمَّ قَالَ: قَوْلُ الْأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُ عَبْدًا أَصَحُّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ تَابَعَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيِّ عَنْهُ، عَنْ مَنْصُورٍ أَبَا عَوَانَةَ عَلَى فَصْلِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ مِنَ الْحَدِيثِ وَتَمْيِيزِهَا عَنْهُ..
ابو عوانہ سے یہ روایت اسی طرح منقول ہے، اور اس کے آخر میں ہے کہ اسود نے کہا: ”اس کا خاوند آزاد تھا۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسود کا قول منقطع ہے، جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ میں نے اسے غلام دیکھا، زیادہ صحیح ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جریر بن عبدالحمید نے (اسحاق حنظلی کی روایت میں) منصور سے روایت کرتے ہوئے اس جملے کو حدیث سے الگ اور ممتاز کرنے میں ابو عوانہ کی متابعت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14276]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسود کا قول منقطع ہے، جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ میں نے اسے غلام دیکھا، زیادہ صحیح ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جریر بن عبدالحمید نے (اسحاق حنظلی کی روایت میں) منصور سے روایت کرتے ہوئے اس جملے کو حدیث سے الگ اور ممتاز کرنے میں ابو عوانہ کی متابعت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14276]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شَادِلِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ فِيهِ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ الْأَسْوَدُ:" وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا".
اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ارادہ تھا کہ وہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدیں، انہوں نے حدیث کو بیان کیا، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار دیا تو اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا، اسود کہتے ہیں: اس کا خاوند آزاد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14277]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14278
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا"، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ"، هَكَذَا أَدْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَبَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ شُعْبَةَ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ جَعَلَهُ بَعْضُهُمْ مِنْ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَعْضُهُمْ مِنْ قَوْلِ الْحَكَمِ.
اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے“ اور خاوند کے بارے میں اس کو اختیار دیا اور اس کا خاوند آزاد تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
ابوداود طیالسی اور شعبہ سے روایت کرنے والے بعض راویوں نے اسے (آزاد ہونے والے جملے کو) اسی طرح حدیث میں درج کر دیا ہے، جبکہ بعض نے اسے ابراہیم کا قول قرار دیا ہے اور بعض نے حکم کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14278]
ابوداود طیالسی اور شعبہ سے روایت کرنے والے بعض راویوں نے اسے (آزاد ہونے والے جملے کو) اسی طرح حدیث میں درج کر دیا ہے، جبکہ بعض نے اسے ابراہیم کا قول قرار دیا ہے اور بعض نے حکم کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14278]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله، كان حرا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14279
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، وَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ⦗٣٦٥⦘ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقُلْتُ: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ"، قَالَ الْحَكَمُ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ شُعْبَةَ وَفِي آخِرِهِ قَالَ الْحَكَمُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَوْلُ الْحَكَمِ مُرْسَلٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: رَأَيْتُهُ عَبْدًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كُلُّهُمْ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا".
اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے ورثاء نے ولاء کی شرط لگانے کا ارادہ کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید لو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا، فرماتی ہیں: میں نے کہا: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد تھا تو بریرہ کو خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا۔
حکم فرماتے ہیں: بریرہ کا خاوند آزاد تھا۔ (مرسل ہے)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اس کو غلام دیکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن محمد، عروہ بن زبیر، مجاہد اور عمرہ بنت عبدالرحمن تمام حضرات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14279]
حکم فرماتے ہیں: بریرہ کا خاوند آزاد تھا۔ (مرسل ہے)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اس کو غلام دیکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن محمد، عروہ بن زبیر، مجاہد اور عمرہ بنت عبدالرحمن تمام حضرات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14279]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قول، كان حرا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14280
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُحَمَّدَ بْنَ مُوسَى الْمُقْرِئَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: خَالَفَ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ النَّاسَ فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ، فَقَالَ" إِنَّهُ حُرٌّ"، وَقَالَ النَّاسُ:" إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا".
ابراہیم بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ اسود بن یزید نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کے بارے میں لوگوں سے مخالفت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ آزاد تھا اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ غلام تھا۔
(ب) اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی ملی تو اس وقت وہ غلام تھا اور دوسرے نے کہا کہ وہ آلِ ابی احمد کا غلام تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14280]
(ب) اسود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی ملی تو اس وقت وہ غلام تھا اور دوسرے نے کہا کہ وہ آلِ ابی احمد کا غلام تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14280]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14281
أَخْبَرَنَا بِالْأَوَّلِ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ بْنُ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، وَأَخْبَرَنَا بِالثَّانِي أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ صَاحِبُ أَبِي صَخْرَةَ، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ فَذَكَرَاهُ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَيْنِ الْوَجْهَيْنِ، فَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَالْأَعْمَشِ بِخِلَافِ ذَلِكَ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى مَا سَبَقَ ذِكْرُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
یہ دونوں روایتیں ابو جعفر رازی کے واسطے سے بیان ہوئی ہیں، اور ان دونوں طریقوں سے یہ کچھ بھی نہیں ہے؛ کیونکہ ثوری اور اعمش سے جماعت کی روایت اس کے خلاف ہے، اور اعتماد اسی پر ہے جو پہلے ذکر ہو چکا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14281]