🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2773. -- باب: ما أبيح له من تزويج المرأة من غير استئمارها وإذا جاز ذلك جاز من غير استئمار وليها وجعله الله عز وجل أولى بالمؤمنين من أنفسهم
-- باب: آپ ﷺ کے لیے عورت کی اجازت کے بغیر اس سے نکاح کے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو اس کے ولی کی اجازت کے بغیر بھی جائز ہو گیا، اور اللہ عزوجل نے آپ کو مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حقدار بنا دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13363
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا لِي بِالنِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا قَالَ:" مَا عِنْدَكَ؟" قَالَ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ قَالَ:" مَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟" قَالَ: كَذَا وَكَذَا قَالَ:" قَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ:" لَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" وَكَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ وَغَيْرُهُ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ.
ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے عورتوں سے کوئی غرض نہیں۔“ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کو میرے نکاح میں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن آتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی، فلاں فلاں سورت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری اس سے شادی قرآن کی وجہ سے کر دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5141۔ مسلم 1425»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13364
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} [الأحزاب: ٦] ، فَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِمَوَالِيهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلَأً أَوْ ضِيَاعًا فَأَنَا وَلِيُّهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر مومن کی خیر خواہی کا دنیا اور آخرت میں زیادہ حق دار ہوں، اگر تم چاہو تو یہ پڑھو: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ، جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جس نے کوئی بوجھ وغیرہ چھوڑا تو میں اس کی طرف سے ادا کرنے والا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13364]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6745۔ مسلم 1619»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2774. -- باب: ما أبيح له من النكاح في الإحرام
-- باب: آپ ﷺ کے لیے حالتِ احرام میں نکاح کے مباح ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13365
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ ابْنَ شِهَابٍ حَدِيثَ أَبِي الشَّعْثَاءِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ سُفْيَانَ دُونَ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ سُفْيَانَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَيْ حَدِيثَ ابْنِ شِهَابٍ. وَيَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، قَدْ رَوَاهُ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ ⦗٩٣⦘ حَلَالٌ، فَالرِّوَايَةُ مُخْتَلِفَةٌ فِي نِكَاحِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَإِنْ صَحَّ أَنَّهُ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَقَدْ قَالَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ فَحِينَئِذٍ يُتَصَوَّرُ التَّخْصِيصُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب کو ابو الشعثاء کی یہ حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے یزید بن اصم نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کے بغیر نکاح کیا۔ یزید بن اصم نے یہ سیدتنا میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے بھی روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی حلال (احرام کے بغیر) ہونے کی حالت میں کی تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالتِ احرام میں نکاح کرنے کے متعلق روایات مختلف ہیں، اگر یہ صحیح ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں نکاح کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”محرم نہ اپنا نکاح کرے گا نہ کسی کا پڑھائے گا“ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخصیص سمجھی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13365]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1837۔ مسلم 1410»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2775. -- باب: ما روي من أنه تزوج صفية وجعل عتقها صداقها
-- باب: اس روایت کا بیان کہ آپ ﷺ نے سیدہ صفیہ سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ہی ان کا حق مہر مقرر کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13366
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور حق مہر اس کی آزادی کو بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13366]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 1365»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13367
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا، فَسَأَلْتُ ثَابِتًا مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: نَفْسَهَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے شادی کی۔ میں نے ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حق مہر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس کا نفس۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13367]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2776. -- باب: ما أبيح له من سهم الصفي
-- باب: آپ ﷺ کے لیے صفی (مالِ غنیمت میں سے چنے ہوئے خاص حصے) کے مباح ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُرَّةُ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الشِّخِّيرِ قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ، فَجَاءَ رَجُلٌ أَشْعَثُ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَحْمَرَ، فَقُلْنَا: كَأَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ: أَجَلْ قُلْنَا: نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الْأَدِيمَ، فَنَاوَلَنَاهَا فَقَرَأْنَا مَا فِيهَا، فَإِذَا فِيهَا" مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى بَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَأَدَّيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَهْمَ الصَّفِيِّ أَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَرَسُولِهِ"، قُلْنَا: مَنْ كَتَبَ هَذَا لَكَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مربد نامی جگہ پر تھے کہ ایک آدمی آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کے ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ٹکڑا تھا، ہم نے اس سے کہا کہ لگتا ہے تو دیہات سے آیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں! ہم نے اس سے کہا کہ یہ چمڑے کا ٹکڑا ہمیں دو تو اس نے ہمیں دے دیا۔ ہم نے اس میں جو کچھ تھا وہ پڑھا، اس میں یہ لکھا تھا: ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے بنی زہیر بن اقیش کی طرف، اگر تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرتے رہو اور زکات ادا کرتے رہو اور مالِ غنیمت میں خمس دیتے رہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اور وہ حصہ جو حاکم کے لیے خاص ہے دیتے رہو تو تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے امن میں ہو۔“ ہم نے اس آدمی سے پوچھا کہ یہ کس نے لکھا ہے؟ تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13368]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 5/ 77»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2777. -- باب: ما أبيح له من أربعة أخماس الفيء وخمس خمس الفيء والغنيمة
-- باب: آپ ﷺ کے لیے مالِ فے کے بقیہ چار حصوں اور مالِ فے و مالِ غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مباح ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَانِي، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى رِمَالٍ، فَقَالَ: يَا مَالِكُ إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ عَلَيْنَا ⦗٩٤⦘ دَوَافٌّ مِنْ قَوْمِكَ، فَخُذْ هَذَا الْمَالَ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِذَلِكَ غَيْرِي؟ فَقَالَ: خُذْهَا عَنْكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ فَجَلَسْتُ، فَجَاءَ يَرْفَأُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ؟ قَالَ: قُلْ لَهُمْ فَلْيَدْخُلُوا، فَدَخَلُوا، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ قَالَ: قُلْ لَهُمَا فَلْيَدْخُلَا، فَدَخَلَا وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ، فَلَمَّا جَلَسُوا، قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَارْحَمْهُمَا قَالَ: أَنْشُدُكُمَا اللهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ هَلْ عَلِمْتُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا لَا نُوَرَّثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ"؟ يَعْنِي، فَقَالَا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ لِلْآخَرِينَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: نَعَمْ قَالَ: وَقَالَ: إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ،" فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عِدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ هِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا.
مالک بن اوس سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف ایک آدمی بھیجا، میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کھجور کے پتوں کی ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: ”اے مالک! تیری قوم کے لوگ میرے پاس دوڑتے ہوئے آئے ہیں، آپ یہ مال لے جائیے اور ان میں تقسیم کر دیں“، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے علاوہ کسی دوسرے کو امیر بنا دیں، انہوں نے کہا: ”اے شخص! تو لے لے“، میں بیٹھ گیا تو ان کا غلام یرفاء آیا اور کہا: عبدالرحمن، طلحہ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم آئے ہیں، کیا انہیں اجازت ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان سے کہو کہ اندر آ جائیں“، وہ اندر آئے۔ پھر یرفاء آیا اور کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما بھی ہیں، کیا انہیں بھی اجازت ہے؟ کہا: ”انہیں کہو، اندر آ جائیں“، وہ دونوں اندر آئے اور ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے متعلق بات کر رہا تھا، جب وہ بیٹھ گئے تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کیجیے اور ان پر ترس کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس کے حکم کے ساتھ آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“، تو انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر دوسرے لوگوں سے پوچھا، انہوں نے بھی ہاں میں جواب دیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بنو نضیر کے اموال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیے ان میں مسلمانوں نے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائیں اور وہ حصہ خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا جسے آپ اپنے اہل و عیال پر ایک سال کے خرچ کے طور پر خرچ کرتے تھے اور جو اس سے باقی بچ جاتا اسے گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ پر لگا دیتے جو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری تھی، پھر وہ حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13369]
تخریج الحدیث: «مسلم 1757»

الحكم على الحديث: مسلم 1757
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ فِيمَا احْتَجَّ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ قَالَ:" كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ صَفَايَا بَنُو النَّضِيرِ وَخَيْبَرُ وَفَدَكُ، فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ، فَكَانَتْ حُبُسًا لِنَوَائِبِهِ، وَأَمَّا فَدَكُ، فَكَانَتْ حُبُسًا لِابْنِ السَّبِيلِ وَأَمَّا خَيْبَرُ، فَجَزَّأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ جُزْئَيْنِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَجُزْءًا لِنَفَقَةِ أَهْلِهِ فَمَا فَضَلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهِ جَعَلَهُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الْخُمُسُ، فَالْآيَةُ نَاطِقَةٌ بِهِ مَعَ مَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب فیصلہ کیا تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین قسم کے اموال تھے: بنو نضیر، خیبر اور فدک کا مال؛ بنو نضیر والا مال آفات میں استعمال کے لیے، فدک کا مال مسافروں کے لیے اور خیبر والے مال کے تین حصے کیے، دو حصے مسلمانوں کے لیے، تیسرا حصہ اپنے اہل و عیال کے خرچ کے لیے، اگر ان کی ضرورت سے زائد ہوتا تو اسے مسلمان فقراء میں تقسیم کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13370]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه السجستاني 2967»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2778. -- باب: الحمى له خاصة في أحد القولين
-- باب: دو اقوال میں سے ایک کے مطابق چراگاہ کو خاص آپ ﷺ کے لیے محفوظ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ" ⦗٩٥⦘ قَالَ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ، وَأَنَّ عُمَرَ حَمَى الشُّرَفَ وَالرَّبَذَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا حِمَىٰ إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» چراگاہ، صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے،“ یعنی وہی محفوظ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نقیع کی چراگاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوائی اور ربذہ اور شرف کی چراگاہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنوائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13371]
تخریج الحدیث: «بخاري 2379۔ مسلم 1745»

الحكم على الحديث: بخاري 2379
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2779. -- باب: دخول الحرم بغير إحرام والقتل فيه
-- باب: بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونے اور اس میں قتال کرنے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13372
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ الدُّهْنِيُّ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، بِالْكُوفَةِ ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ الدُّهْنِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقُتَيْبَةَ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا اور بغیر احرام کے داخل ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1358»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں