السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2747. -- باب: ما حرم عليه وتنزه عنه من الصدقة
-- باب: آپ ﷺ پر صدقہ کے حرام ہونے اور اس سے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13276
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ بَهْزٌ: ذَكَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟ فَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا"، بَهْزٌ هُوَ ابْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ، أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ هَوَازِنَ قَالَهُ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ.
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا لایا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے تھے کہ ”صدقہ ہے یا ہدیہ؟“ اگر ہدیہ ہوتا تو اپنا ہاتھ بڑھا کر لے لیتے تھے اور اگر صدقہ ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرماتے کہ ”کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13276]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
2748. -- باب: ما حرم عليه من خائنة الأعين دون المكيدة في الحرب
-- باب: جنگ کی تدبیر کے علاوہ آنکھوں کی خیانت (کنکھیوں سے اشارہ کرنے) کے حرام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13277
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ ⦗٦٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ أَيْ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ عَبْدَ اللهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَمَا فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي قَدْ كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ؟"، قَالُوا: مَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا فِي نَفْسِكَ هَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ" لَا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ لِنَبِيٍّ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فتح کا دن آیا یعنی فتح مکہ کا دن، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب لوگوں کو امان دے دی، ان میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بھی تھا۔ پھر پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ فرمایا: رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو وہ اسے لے کر آئے یہاں تک کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبداللہ کی بیعت لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا، ہر بار انکار کرتے رہے، پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس کی بیعت لے لی۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جو اس کی طرف اٹھتا جب اس نے دیکھا کہ میں نے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ روک رکھا ہے، اور اسے قتل کر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہماری طرف اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13277]
حدیث نمبر: 13278
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْحَرْبُ خُدْعَةٌ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، وَزُهَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی دھوکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13278]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13279
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا، إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب وہ جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ کرنے کا ارادہ کرتے اس کے علاوہ کی طرف توریہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13279]
تخریج الحدیث: «بخاري، مسلم 2769»
الحكم على الحديث: بخاري، مسلم 2769
حدیث نمبر: 13280
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللهَ وَرَسُولَهُ؟" فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَأْذَنْ لِي فَأَقُولَ، قَالَ:" قَدْ أَذِنْتُ لَكَ" فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي احْتِيَالِهِ فِي قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَتَلُوهُ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَرْبُ خَدْعَةٌ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے،“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ بات آپ کو پسند ہے کہ میں اس کو قتل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اجازت دی،“ پھر انہوں نے کعب بن اشرف کے قتل کا قصہ بیان کیا کہ جب میں نے اس کو قتل کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی دھوکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13280]
2749. -- باب: لم يكن له إذا لبس لأمته أن ينزعها حتى يلقى العدو ولو بنفسه
-- باب: یہ جائز نہیں تھا کہ جب آپ اپنی زرہ پہن لیں تو دشمن سے مقابلہ کیے بغیر اسے اتاریں، خواہ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں
حدیث نمبر: 13281
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ أُحُدٍ وَإِشَارَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ بِالْمُكْثِ فِي الْمَدِينَةِ، وَأَنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ أَبَوْا إِلَّا الْخُرُوجَ إِلَى الْعَدُوِّ قَالَ: وَلَوْ تَنَاهَوْا إِلَى قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرِهِ كَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَلَكِنْ غَلَبَ الْقَضَاءُ وَالْقَدَرُ قَالَ: وَعَامَّةُ مَنْ أَشَارَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ رِجَالٌ لَمْ يَشْهَدُوا بَدْرًا وَقَدْ عَلِمُوا الَّذِي سَبَقَ لِأَهْلِ بَدْرٍ مِنَ الْفَضِيلَةِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ وَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَأَمَرَهُمْ بِالْجِدِّ وَالِاجْتِهَادِ، ثُمَّ انْصَرَفَ مِنْ خُطْبَتِهِ وَصَلَاتِهِ، فَدَعَا بِلَأْمَتِهِ فَلَبِسَهَا، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ، فَلَمَّا أَبْصَرَ ذَلِكَ رِجَالٌ مِنْ ذَوِي الرَّأْيِ، قَالُوا: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَمْكُثَ بِالْمَدِينَةِ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْنَا الْعَدُوُّ قَاتَلْنَاهُمْ فِي الْأَزِقَّةِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِاللهِ وَبِمَا يُرِيدُ وَيَأْتِيهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَشْخَصْنَاهُ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنَمْكُثُ كَمَا أَمَرْتَنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ إِذَا أَخَذَ لَامَّةَ الْحَرْبِ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ إِلَى الْعَدُوِّ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يُقَاتِلَ، وَقَدْ دَعَوْتُكُمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَأَبَيْتُمْ إِلَّا الْخُرُوجَ، فَعَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالصَّبْرِ إِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ وَانْظُرُوا مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوهُ"، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهَكَذَا ذَكَرَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ شُيُوخِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَغَازِي وَهُوَ عَامٌّ فِي أَهْلِ الْمَغَازِي وَإِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا وَكَتَبْنَاهُ مَوْصُولًا بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.
عروہ رحمہ اللہ نے احد کا واقعہ ذکر کیا، اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا تھا، مگر بہت سے لوگوں نے دشمن کی طرف نکلنے پر ہی اصرار کیا۔ فرماتے ہیں: اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اور حکم پر رک جاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، لیکن قضا و قدر غالب آگئی۔ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلنے کا مشورہ دینے والے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے اور وہ جانتے تھے کہ اہلِ بدر کو کیا فضیلت حاصل ہوئی ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو لوگوں کو وعظ کیا اور ان کو محنت اور کوشش کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز اور خطبے سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ منگوائی اور اس کو پہن لیا۔ پھر لوگوں میں اعلان کروایا کہ وہ (دشمن کی طرف) نکلیں۔ جب صاحبِ رائے لوگوں نے یہ دیکھا تو کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ہم مدینہ میں ٹھہریں، اگر دشمن ہم پر داخل ہوا تو ہم گلیوں میں ان سے لڑیں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو اور اس کے ارادے کو زیادہ جانتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے، پھر بھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم ٹھہرے رہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا تھا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب وہ جنگ کی زرہ پہن لے اور لوگوں میں دشمن کی طرف نکلنے کا اعلان کر دے تو قتال کیے بغیر واپس لوٹ آئے۔ میں نے تمہیں اس بات کی طرف بلایا تھا مگر تم نے نکلنے کے سوا ہر بات سے انکار کر دیا، لہٰذا اللہ کے تقویٰ کو لازم پکڑو اور جب دشمن سے ملو تو صبر کرو، اور دیکھو میں تمہیں جو حکم دوں اسے کر گزرو۔“ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکلے اور مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔
یہ واقعہ اہلِ مغازی کے ہاں عام مشہور ہے اگرچہ یہ (سند) منقطع ہے، اور ہم نے اسے حسن سند کے ساتھ متصل بھی لکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13281]
یہ واقعہ اہلِ مغازی کے ہاں عام مشہور ہے اگرچہ یہ (سند) منقطع ہے، اور ہم نے اسے حسن سند کے ساتھ متصل بھی لکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13281]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13282
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَهُ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ كَانَ رَأْيُهُ أَنْ يُقِيمَ بِالْمَدِينَةِ فَيُقَاتِلَهُمْ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ نَاسٌ لَمْ يَكُونُوا شَهِدُوا بَدْرًا تَخْرُجُ بِنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِلَيْهِمْ نُقَاتِلُهُمْ بِأُحُدٍ، وَرَجَوْا ⦗٦٦⦘ أَنْ يُصِيبُوا مِنَ الْفَضِيلَةِ، مَا أَصَابَ أَهْلُ بَدْرٍ، فَمَا زَالُوا بِهِ حَتَّى لَبِسَ أَدَاتَهُ، ثُمَّ نَدِمُوا، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِمْ فَالرَّأْيُ رَأْيُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَضَعَ أَدَاتَهُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ" قَالَ: وَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَلْبَسَ الْأَدَاةَ:" إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَإِنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنَّ سَيْفِي ذَا الْفَقَارِ فُلَّ، فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا فِيكُمْ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللهِ خَيْرٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن ذوالفقار نامی تلوار کو (مالِ غنیمت میں سے) زائد حصے کے طور پر لیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن خواب دیکھا، وہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے احد والے دن جب مشرکین آئے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ان سے لڑائی کی جائے تو جو لوگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ان سے باہر نکل کر قتال کریں گے، انہیں امید تھی کہ وہ بدر والوں کی فضیلت حاصل کر لیں گے، انہوں نے اصرار کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس پہن لیا، پھر ان لوگوں کو ندامت ہوئی اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! (مدینہ میں) ٹھہر جائیے، فیصلہ درحقیقت وہی ہے جو آپ کا فیصلہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کی شان نہیں کہ وہ جنگی لباس پہننے کے بعد اتار دے یہاں تک کہ اللہ اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ کر دے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگی ہتھیار پہننے سے پہلے کہا: ”میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مضبوط قلعے میں ہوں، میں نے اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ مدینہ شہر ہے، پھر میں نے دیکھا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک مینڈھا سوار کر رکھا ہے تو میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ وہ (دشمن کے) لشکر کا سردار ہے، میں نے اپنی تلوار ذوالفقار دیکھی کہ اس میں دندانے پڑ گئے ہیں تو تم میں کوئی خرابی ہوگی، بعد میں گائے ذبح ہوتے دیکھی، گائے اللہ کی بھلائی ہے“، دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13282]
تخریج الحدیث: «بخاري 3860۔ مسلم 2327»
الحكم على الحديث: بخاري 3860
2750. -- باب: لم يكن له إذا سمع المنكر، ترك النكير
-- باب: جائز نہیں کہ جب آپ کوئی برائی سنیں تو اس پر انکار (منع) کرنا چھوڑ دیں
حدیث نمبر: 13283
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ، إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ آسان کو منتخب کیا، جب کہ اس میں کوئی برائی نہ ہو۔ اگر اس میں کوئی برائی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی نسبت اس کام سے زیادہ دور ہوتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہو تو صرف اللہ کے لیے انتقام لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13283]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3560۔ مسلم 2327»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13284
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى..
ایضاً۔ علاوہ ان الفاظ کے وہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ کے لیے انتقام لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13284]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13285
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ الْمِصْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ قَالَا: ثنا جَمِيعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، بِمَكَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيِّ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُسَيْنِيُّ الْعَقِيقِيُّ، صَاحِبُ كِتَابِ النَّسَبِ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَلِي بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَخِيهِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ⦗٦٧⦘ قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ عَنْ حِيلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ وَصَّافًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: وَيَتَفَقَّدُ أَصْحَابَهُ، وَيَسْأَلُ النَّاسَ عَمَّا فِيهِ النَّاسُ، يُحَسِّنُ الْحَسَنَ وَيُصَوِّبُهُ، وَيُقَبِّحُ الْقَبِيحَ وَيُوهِنُهُ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى: وَيُقَوِّيهِ بَدَلَ وَيُصَوِّبُهُ.
حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیے کے بارے میں سوال کیا جو حلیہ بیان کرنے والے تھے، حدیث کو لمبا ذکر کیا اور اس میں ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو پرکھتے تھے اور لوگوں سے ان کی خصلتوں کے بارے میں دریافت کرتے تھے، خوبی کی تعریف اور اچھائی بیان کرتے اور برائی کی مذمت و قباحت ذکر کرتے۔ پہلی روایت میں «يُصَوِّبُهُ» کی جگہ «يُقَوِّيهِ» تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13285]