السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2881. -- باب: ما يقال للمتزوج
-- باب: شادی کرنے والے کو کیا (دعا) کہی جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 13840
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟" قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ:" بَارَكَ اللهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: ”اے ابو محمد! یہ کیا ہے؟“ تو عبدالرحمن کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے، کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے برکت دے، ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13840]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1427»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13841
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، ⦗٢٤٠⦘ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ:" بَارَكَ اللهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ"، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقْرِئِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَزَوَّجَ رَجُلٌ فَرَفَأَهُ قَالَ: فَذَكَرَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی شادی کرنے والے شخص کو مبارک باد دیتے تو فرماتے: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ» ”اللہ تجھے برکت دے اور تیرے اوپر برکت کرے اور تم دونوں کو بھلائی میں جمع کر دے۔“
(ب) مقری کی روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص شادی کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو مبارکباد دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13841]
(ب) مقری کی روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص شادی کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو مبارکباد دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13841]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13842
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ التَّمَّارُ، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: قَدِمَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَصْرَةَ، فَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ، فَقَالُوا لَهُ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا كَذَلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ:" بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ".
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بنو جشم قبیلہ کی عورت سے بصرہ میں شادی کی تو لوگوں نے ان سے کہا: مبارک باد ہو اور بیٹے کی مبارک باد بھی دی، تو سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ایسے نہ کہو؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور ہمیں حکم دیا کہ یوں کہو: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ» ”اللہ آپ کو برکت دے اور آپ کے اوپر برکت کرے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13842]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2882. -- باب: ما تقول النسوة للعروس
-- باب: عورتیں دلہن کو کیا (دعائیہ کلمات) کہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 13843
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَوُعِكْتُ، فَتَمَرَّقَ شَعْرِي، فَأَوْفَى جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ، وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبَاتٌ لِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي، فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى وَقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفْسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ، فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح 6 برس کی عمر میں کیا اور ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے ہاں ٹھہرے۔ مجھے بخار ہو گیا، میرے بال جھڑ گئے، پھر (بڑھ کر) کندھوں تک آ گئے، میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں اور میں اپنی سہیلوں کے ساتھ جھولے میں تھی۔ انہوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پاس آئی، مجھے معلوم نہ تھا ان کا کیا ارادہ ہے، انہوں نے مجھے پکڑ کر گھر کی دہلیز پر کھڑا کر دیا اور تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھول رہا تھا۔ پھر انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے سر اور چہرے پر ملا۔ پھر مجھے گھر میں داخل کر دیا۔ اچانک گھر میں انصار کی عورتیں تھیں۔ انہوں نے کہا: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ» ”آپ پر خیر و برکت ہو اور بہترین نصیب ہو۔“ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے میری حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دکھائی دیے تو ان عورتوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا، اس وقت میری عمر نو برس کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13843]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
2883. -- باب: ما يقول الرجل إذا أراد أن يأتي أهله
-- باب: اس دعا کا بیان جو انسان اس وقت پڑھے جب وہ اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے۔
حدیث نمبر: 13844
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، أنبأ هَمَّامٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَمَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ: ⦗٢٤١⦘ بِسْمِ اللهِ اللهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا"، ثُمَّ رُزِقَ أَوْ قُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هَمَّامٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ مَنْصُورٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے مجامعت کا ارادہ کرے تو کہے: «بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے اور جو تو مجھے اولاد دے اس کو شیطان سے محفوظ رکھ۔“ پھر جو وہ اولاد دیا جائے یا جو ان کے درمیان فیصلہ ہو، شیطان اس کو نقصان نہیں دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13844]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1434»
الحكم على الحديث: صحيح
2884. جماع أبواب ما يحل من الحرائر، ولا يتسرى العبد وغير ذلك -- باب: عدد ما يحل من الحرائر والإماء
یہ جامع ابواب ہیں جن میں ان آزاد عورتوں کا بیان ہے جو حلال ہیں، اور یہ کہ غلام لونڈی نہیں رکھ سکتا، اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: آزاد عورتوں اور لونڈیوں کی اس تعداد کا بیان جو حلال ہے۔
حدیث نمبر: Q13845
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} [الأحزاب: 50] ، وَقَالَ: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 3] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَأَطْلَقَ اللهُ مَا مَلَكَتِ الْأَيْمَانُ فَلَمْ يَحُدَّ فِيهِنَّ حَدًّا يُنْتَهَى إِلَيْهِ وَانْتَهَى مَا أَحَلَّ اللهُ بِالنِّكَاحِ إِلَى أَرْبَعٍ" قَالَ الشَّيْخُ: وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ: {مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ} [النساء: 3] يَعْنِي مَثْنَى أَوْ ثُلَاثَ أَوْ رُبَاعَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَدَلَّتْ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُبَيِّنَةُ عَنِ اللهِ أَنَّ انْتِهَاءَهُ إِلَى أَرْبَعٍ تَحْرِيمًا مِنْهُ لِأَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ﴾ ”یقیناً ہم جانتے ہیں جو ہم نے ان (مومنوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی لونڈیوں کے بارے میں فرض کیا ہے۔“ [سورة الأحزاب: 50]
اور فرمایا: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ”تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔“ [سورة النساء: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں (کے معاملے) کو مطلق رکھا اور ان میں کوئی ایسی حد مقرر نہیں فرمائی جس پر رکا جائے، اور جو (عورتیں) اللہ نے نکاح کے ذریعے حلال کی ہیں ان کی انتہا چار تک رکھی۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور علی بن حسین (امام زین العابدین) رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ ”دو دو، تین تین اور چار چار۔“ [سورة النساء: 3] کے بارے میں فرمایا: یعنی دو یا تین یا چار۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے، جو اللہ تعالیٰ کی مراد کو واضح کرنے والی ہے، اس بات پر دلالت کی کہ اس (تعداد) کا چار تک محدود ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی حرمت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص چار سے زیادہ (بیویوں) کو (بیک وقت اپنے نکاح میں) جمع کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13845]
اور فرمایا: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ”تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔“ [سورة النساء: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں (کے معاملے) کو مطلق رکھا اور ان میں کوئی ایسی حد مقرر نہیں فرمائی جس پر رکا جائے، اور جو (عورتیں) اللہ نے نکاح کے ذریعے حلال کی ہیں ان کی انتہا چار تک رکھی۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور علی بن حسین (امام زین العابدین) رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ ”دو دو، تین تین اور چار چار۔“ [سورة النساء: 3] کے بارے میں فرمایا: یعنی دو یا تین یا چار۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے، جو اللہ تعالیٰ کی مراد کو واضح کرنے والی ہے، اس بات پر دلالت کی کہ اس (تعداد) کا چار تک محدود ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی حرمت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص چار سے زیادہ (بیویوں) کو (بیک وقت اپنے نکاح میں) جمع کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13845]
حدیث نمبر: 13845
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ كَانَ تَحْتَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" يَتَخَيَّرَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس کو غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا دورِ جاہلیت میں اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، جب وہ مسلمان ہوئے تو وہ عورتیں بھی مسلمان ہو گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13845]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13846
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسِ بْنِ ⦗٢٤٢⦘ عَمِيرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا"، لَفْظُ مُسَدَّدٍ وَسَائِرُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي رُوِيَتْ فِي هَذَا الْبَابِ مَذْكُورَةٌ فِي بَابِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ.
حارث بن قیس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا اور میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار کا انتخاب کرلو۔“
(ب) اس باب میں جتنی بھی احادیث مذکور ہیں اس شخص کے بارے میں ہیں جس کے پاس چار سے زائد بیویاں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13846]
(ب) اس باب میں جتنی بھی احادیث مذکور ہیں اس شخص کے بارے میں ہیں جس کے پاس چار سے زائد بیویاں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13846]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13847
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا} [النساء: ٣] فِي الْيَتَامَى قَالَ:" كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَنْكِحُونَ عَشْرًا مِنَ النِّسَاءِ الْأَيَامَى، وَكَانُوا يُعَظِّمُونَ شَأْنَ الْيَتِيمِ، فَتَفَقَّدُوا أَمْرَ دِينِهِمْ بِشَأْنِ الْيَتَامَى، وَتَرَكُوا مَا كَانُوا يَنْكِحُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى، فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ} [النساء: ٣] ، وَنَهَاهُمْ عَمَّا كَانُوا يَنْكِحُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے اس قول: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 3] ”اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم بچیوں کے بارے میں تم انصاف نہ کر پاؤ گے پھر تم نکاح کرو جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں دو دو اور تین تین اور چار چار۔ اگر تمہیں بےانصافی کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا جو تمہاری لونڈیاں ہیں۔“ وہ دور جاہلیت میں دس بیوہ عورتوں سے شادی کرلیتے تھے اور یتیم بچی کی حالت کو بڑا خیال کرتے تھے تو انہوں نے یتیم بچیوں کے بارے میں اپنے دین کے معاملے کا خیال رکھا اور انہوں نے جو جاہلیت کے اندر بھی نکاح کرتے تھے چھوڑ دیا۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ [سورة النساء: 3] اور جو جاہلیت میں نکاح کرتے تھے ان سے بھی منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13847]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13848
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللهِ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٢٤] قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَتَزَوَّجَ فَوْقَ أَرْبَعٍ، فَإِنْ فَعَلَ فَهِيَ عَلَيْهِ مِثْلُ أُمِّهِ وَأُخْتِهِ"، وَرُوِّينَا عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {كِتَابَ اللهِ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٢٤] قَالَ:" أَرْبَعُ نِسْوَةٍ"، وَكَذَلِكَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ.
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] ”اور حرام کی گئی شادی شدہ عورتیں مگر جو تمہاری لونڈیاں ہیں، اللہ نے تمہارے اوپر لکھ دیا ہے۔“ کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے، اگر کرے گا تو یہ اس کی ماں اور بہن کی طرح (حرام) ہے۔
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول: «كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چار عورتیں ہیں، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13848]
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول: «كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چار عورتیں ہیں، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13848]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح