🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2874. -- باب: الكلام الذي ينعقد به النكاح
-- باب: ان کلمات کا بیان جن سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ:" فَاذْهَبْ" قَدْ مُلِّكْتَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ دُونَ سِيَاقِهِ تَمَامَ الْمَتْنِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ضرورت نہ ہو تو میرے ساتھ نکاح کر دیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے اس قرآن کے عوض جو تیرے پاس موجود ہے (یعنی تجھے یاد ہے اسے بھی یاد کروا دینا)۔“
(ب) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے اس کے بدلے جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔“ پھر کہا: یہ حدیث ابن ابی حازم کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13821]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13822
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ:" اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا ⦗٢٣٤⦘ بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَنْ عَارِمٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حَمَّادٍ كَمَا.
ابو حازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے: ”جاؤ، میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا (یعنی نکاح کر دیا) اس کے عوض جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔“
(ب) قعنبی، ابن ابی حازم سے نقل فرماتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ ”جاؤ، میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے (یعنی نکاح کر دیا ہے)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13822]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13823
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَقَالَ: مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ الْيَوْمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُسْلِمِينَ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ:" مَاذَا عِنْدَكَ؟" قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ:" أَعْطِهَا ثَوْبًا" قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" مَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟" قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، هَذَا حَدِيثُ خَلَفٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ" فَقَدْ زَوَّجْنَاكَهَا". وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْلَكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، وَرَوَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ:" زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، فَرِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَلَى لَفْظِ التَّزْوِيجِ إِلَّا رِوَايَةَ الشَّاذِّ مِنْهَا، وَالْجَمَاعَةُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِمَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْحَجِّ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ:" فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ" قَالَ أَصْحَابُنَا: وَهِيَ كَلِمَةُ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ اللَّذَيْنِ وَرَدَ بِهِمَا الْقُرْآنُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو حازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس نے کہا کہ ایک عورت نے اپنا نفس اللہ اور رسول کے لیے ہبہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے آج کے دن عورت کی ضرورت نہیں ہے“، تو کمزور مسلمانوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا نکاح میرے ساتھ کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کپڑا ہی دے دو“۔ وہ شخص کہنے لگا: میں نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو لوہے کی انگوٹھی ہی دے دو“۔ اس شخص نے کہا: میں نہیں پاتا، یعنی میرے پاس موجود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں نے قرآن کے عوض تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ب) ابو ربیع کی روایت میں ہے کہ تحقیق ”ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ج) ابو حازم حضرت سہل سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے قرآن کے بدلے جو آپ کو یاد ہے“۔
(د) ابو غسان محمد بن مطرف سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔
(ذ) جمہور تو لفظ تزویج نقل کرتے ہیں سوائے اس روایت کے جو شاذ ہے، اور جماعت ایک راوی کے مقابلے میں یاد رکھنے کی زیادہ حق دار ہے، واللہ اعلم۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو لیا ہوا ہے، اللہ کی امانت کی وجہ سے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ (یعنی نکاح) کی وجہ سے حلال کیا ہے“۔ لفظ نکاح اور تزوج دونوں قرآن میں آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13823]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2875. -- باب: لا نكاح لمن لم يولد
-- باب: اس بیان میں کہ جو ابھی پیدا نہیں ہوا اس کا کوئی نکاح نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13824
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَبَّةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، وَأَنَا مَعَ أَبِي، وَبِيَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا مِنْهُ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ وَأَقَرَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَمَا نَسِيتُ طُولَ أُصْبُعِ قَدَمِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى سَائِرِ أَصَابِعِهِ قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنِّي شَهِدْتُ جَيْشَ عَثْرَانَ قَالَتْ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ قَالَ: أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ ابْنَةٍ تَكُونُ لِي قَالَ: فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي، ثُمَّ تَرَكْتُهُ حَتَّى وُلِدَ لَهُ ابْنَةٌ وَبَلَغَتْ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: جَهِّزْ إِلِيَّ أَهْلِي، قَالَ: لَا وَاللهِ لَا أُجَهِّزُهَا حَتَّى تُحْدِثَ صَدَاقًا غَيْرَ ذَلِكَ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَبِقَرْنِ أِيِّ النِّسَاءِ هِيَ؟" قُلْتُ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ قَالَ: فَنَظَرَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" دَعْهَا لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا" قَالَ: فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرَ إِلِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَأْثَمُ وَلَا يَأْثَمُ"، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ".
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں اپنی اونٹنی پر سوار دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں مکتب کے استاد کے درے جیسا ایک درہ تھا۔ میں نے دیہاتیوں اور لوگوں کو سنا وہ کہہ رہے تھے: قدموں کی چاپ، قدموں کی چاپ۔ میرے والد نے قریب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم پکڑ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے دیا۔ میمونہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی سبابہ انگلی، جو پاؤں کی تمام انگلیوں سے زیادہ لمبی تھی، اس کو نہ بھولی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں جیشِ عثران میں تھا۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لشکر کو پہچانتے تھے تو طارق بن مرقع نے کہا: کون مجھے اچھے بدلے کے عوض نیزہ دے گا۔ میں نے کہا: اس کا بدلہ کیا ہوگا؟ اس نے کہا: جو میری پہلی بیٹی ہوگی اس کا نکاح دے دوں گا۔ کردم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اپنا نیزہ دے دیا، اس کے ہاں بیٹی پیدا ہو کر بالغ ہوگئی۔ میں نے آکر کہہ دیا کہ میری گھر والی کو میرے لیے تیار کرو تو طارق کہنے لگے: اس کے علاوہ حق مہر دو تو تیار کر دیتا ہوں وگرنہ اللہ کی قسم! ایسا نہ کروں گا۔ میں نے بھی قسم اٹھا کر کہا: ایسا نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ عورتوں میں سے کس کے مماثل ہے؟“ میں نے عرض کیا: اس نے بڑھاپے کی ابتدا کو دیکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو، آپ کے لیے اس میں بھلائی نہیں ہے“۔ کہتے ہیں: اس نے مجھے ڈرایا اور میری طرف دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ آپ گناہ گار ہوں گے اور نہ وہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13824]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ، أَخْبَرَتْهُ عَنِ امْرَأَةٍ قَالَ: هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ قَالَتْ:" بَيْنَا أَنَا فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحَهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ، فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ ذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ وَالْقَتِيرُ الشَّيْبُ.
ابراہیم بن میسرہ اپنی خالہ سے، جو ایک سچی عورت سے نقل کرتی ہیں، کہتی ہیں: ہم دورِ جاہلیت میں سخت گرمی میں ایک غزوہ میں تھے تو ایک شخص نے کہا: جو مجھے اپنے جوتے دے میں اس کو اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح دوں گا، تو میرے والد نے اپنے جوتے اتار کر دے دیے۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہو کر بلوغت کی عمر کو پہنچی۔ اس طرح انہوں نے ذکر کیا لیکن «قَتِير» یعنی ”بڑھاپے“ کا تذکرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13825]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2876. -- باب: ما جاء في خطبة النكاح
-- باب: خطبہ نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13826
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٢٣٦⦘ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَقْرَأُ الثَّلَاثَ آيَاتٍ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا} [النساء: ١] ، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} [آل عمران: ١٠٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ تَقْرَأُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ} [الأحزاب: ٧١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ تَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِكَ"، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ هَذِهِ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ أَوْ فِي غَيْرِهَا؟ قَالَ: فِي كُلِّ حَاجَةٍ.
عبیدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اسی سے مدد و بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ رب العزت ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تین آیات تلاوت کرتے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اس سے اس کی بیوی بھی پیدا کی ہے۔“ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔“ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 70-71] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہو، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا۔۔۔“ ”اس کے بعد اپنی حاجت کا تذکرہ کرے۔“ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ نکاح کے خطبہ کے بارے میں ہے یا اس کے علاوہ بھی؟ انہوں نے کہا: ہر حاجت میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13826]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13827
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو بِسْطَامٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: وَأَرَاهُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: فِي تَشَهُّدِ الْحَاجَةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ شُعْبَةَ لِأَبِي إِسْحَاقَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاجت کے خطبہ میں کہا کرتے تھے، اس کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن شعبہ نے جو ابی اسحاق سے کہا اس کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13827]
تخریج الحدیث: «تقدم قبله»

الحكم على الحديث: تقدم قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13828
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: ١] ، ثُمَّ ذَكَرَ الْآيَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَمْ يَقُلْ: ثُمَّ تَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِكَ" وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْقُوفًا.
اسرائیل رحمہ اللہ نے بھی اسی کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی بیوی بھی پیدا کی اور اس سے بہت سارے مرد اور عورتیں پیدا کیے اور اس اللہ سے ڈر جاؤ جس کو رشتے داریوں کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہو، بیشک اللہ تمہارا نگہبان ہے۔“ اس کے بعد دوسری دو آیات ذکر کیں، لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ اپنی حاجت کے بارے میں کلام کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13828]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13829
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ابوعبید حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خطبہٴ حاجت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں“، اس کی مثل ذکر کیا ہے؛ لیکن مرفوع بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13829]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصَمُّ ⦗٢٣٧⦘ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ، وَلَا يَضُرُّ اللهَ شَيْئًا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو کہتے: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس سے مدد و بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ کو قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا ہے اور جس نے اللہ و رسول کی اطاعت کی وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے نافرمانی کی وہ اپنا نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں