🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2884. جماع أبواب ما يحل من الحرائر، ولا يتسرى العبد وغير ذلك -- باب: عدد ما يحل من الحرائر والإماء
یہ جامع ابواب ہیں جن میں ان آزاد عورتوں کا بیان ہے جو حلال ہیں، اور یہ کہ غلام لونڈی نہیں رکھ سکتا، اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: آزاد عورتوں اور لونڈیوں کی اس تعداد کا بیان جو حلال ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13849
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ زَيْنَبَ، أَنَّ أُمَّ سَعِيدٍ أُمَّ وَلَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عنه حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَصُبُّ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَاءَ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ سَعِيدٍ" قَدِ اشْتَقْتُ أَنْ أَكُونَ عَرُوسًا" قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَيْحَكَ مَا يَمْنَعُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ:" أَبَعْدَ أَرْبَعٍ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: تُطَلِّقُ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ وَتَزَوَّجْ أُخْرَى قَالَ:" إِنَّ الطَّلَاقَ قَبِيحٌ أَكْرَهُهُ".
ام سعید رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، وہ فرماتی ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کروا رہی تھی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ام سعید کہتی ہیں: میں نے کہا: اے امیر المومنین! کس چیز نے آپ کو روک رکھا ہے؟ فرمانے لگے: کیا چار کے بعد بھی؟ کہتی ہیں: میں نے کہا: ایک کو طلاق دیں اور کسی دوسری سے شادی کر لیں۔ فرمانے لگے: طلاق بری چیز ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13849]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2885. -- باب: الرجل يطلق أربع نسوة له طلاقا بائنا حل له أن ينكح مكانهن أربعا
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی چار بیویوں کو طلاقِ بائن دے دے تو اس کے لیے حلال ہے کہ ان کی جگہ مزید چار عورتوں سے نکاح کر لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q13850
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهُ لَا زَوْجَ لَهُ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهِ وَاحْتَجَّ عَلَى انْقِطَاعِ الزَّوْجِيَّةِ بِانْقِطَاعِ أَحْكَامِهَا مِنَ الْإِيلَاءِ وَالظِّهَارِ وَاللِّعَانِ وَالْمِيرَاثِ وَغَيْرِ ذَلِكَ قَالَ: وَهُوَ قَوْلُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعُرْوَةَ وَأَكْثَرِ أَهْلِ دَارِ السُّنَّةِ وَحَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ اب اس کی کوئی بیوی نہیں اور نہ اس پر کوئی عدت ہے۔“
اور انہوں نے زوجیت کے ختم ہو جانے پر اس بات سے استدلال کیا کہ اس کے احکام، یعنی ایلاء، ظہار، لعان اور میراث وغیرہ، ختم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: ”اور یہی قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، عروہ (رحمہم اللہ) اور دار السنہ (مدینہ منورہ) کے اکثر اہلِ علم کا قول ہے، اور اللہ عزوجل نے حرام فرمایا...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13850]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13850
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَا يَقُولَانِ" فِي الرَّجُلِ تَكُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ، أَنَّهُ يَتَزَوَّجُ إِذَا شَاءَ، وَلَا يَنْتَظِرُ حَتَّى تَمْضِيَ عِدَّتُهَا".
عروہ بن زبیر اور قاسم بن محمد رحمہما اللہ دونوں اس شخص کے بارے میں بیان کرتے ہیں جس کے پاس چار بیویاں ہوں کہ اگر وہ ان میں سے ایک کو طلاقِ بائنہ دے دے، تو وہ جب چاہے شادی کر سکتا ہے اور وہ اس کی عدت گزرنے کا انتظار بھی نہ کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13850]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13851
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،" فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَطَلَّقَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ تَزَوَّجَ الْخَامِسَةَ فِي الْعِدَّةِ قَالَ: وَكَذَلِكَ قَالَ فِي الْأُخْتَيْنِ" وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، فِيمَنْ بُتَّ طَلَاقُهَا بِنَحْوِهِ، وَرُوِّينَاهُ عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَبَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، وَخِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو.
قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں روایت فرماتے ہیں جس کے نکاح میں چار بیویاں تھیں، اس نے ایک کو طلاق دے دی، فرماتے ہیں: ”اگر وہ چاہے تو اس کی عدت کے اندر پانچویں سے شادی کر لے۔“ اسی طرح وہ دو بہنوں کے متعلق بھی فرماتے ہیں۔
(ب) قتادہ رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کو طلاقِ بائنہ ہو چکی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13851]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2886. -- باب: الرجل يتزوج بجارية أمه أو بجارية أبيه وأنها لا تحل بالإحلال
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی ماں کی لونڈی یا اپنے باپ کی لونڈی سے نکاح کرے، اور اس بات کا بیان کہ وہ لونڈی محض ان کے حلال کر دینے سے حلال نہیں ہو جاتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13852
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي أَحَلَّتْ لِي جَارِيَتَهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَكَ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: هِبَةٍ بَتَّةٍ، أَوْ شَرْيٍ، أَوْ نِكَاحٍ".
حضرت سعید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: میری والدہ نے اپنی لونڈی میرے لیے حلال قرار دے دی ہے، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ تیرے لیے حلال نہیں ہے، لیکن تین طریقوں سے: 1 ہبہ کر دے، 2 فروخت کر دے، 3 نکاح کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13852]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2887. -- باب: ما جاء في تسري العبد
-- باب: غلام کے لونڈی رکھنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13853
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبِيدُ ابْنِ عُمَرَ يَتَسَرُّونَ فَلَا يَعِيبُ عَلَيْهِمْ.
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام لونڈیوں سے شادی کرتے تھے اور وہ ان پر عیب نہ لگاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13853]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13854
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ:" لَا يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً، إِلَّا وَلِيدَةً إِنْ شَاءَ بَاعَهَا، وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ مَنَعَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ الْعَبْدَ مِنَ التَّسَرِّي فِي الْجَدِيدِ وَعَارَضَ الْأَثَرَ الْأَوَّلَ بِهَذَا، وَهَذَا إِنَّمَا قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحُرِّ، إِذَا اشْتَرَى وَلِيدَةً، بِشَرْطٍ فَاسِدٍ.
حضرت نافع رحمہ اللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی مرد لونڈی سے مجامعت نہ کرے، سوائے اس لونڈی کے جسے وہ چاہے تو فروخت کر دے، چاہے تو ہبہ کر دے اور چاہے تو اس کے ساتھ جو سلوک چاہے کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے جدید قول میں غلام کی لونڈی سے شادی کی ممانعت ہے اور انہوں نے پہلے اثر کا اس اثر سے معارضہ کیا ہے، حالانکہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آزاد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو لونڈی فاسد شرط کے ذریعے خریدتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13854]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبل الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13855
فَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَطَأَ فَرْجًا إِلَّا فَرْجًا، إِنْ شَاءَ وَهَبَهُ، وَإِنْ شَاءَ بَاعَهُ وَإِنْ شَاءَ أَعْتَقَهُ، لَيْسَ فِيهِ شَرْطٌ"، أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فَذَكَرَهُ.
سیدنا نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”کوئی شخص لونڈی سے مجامعت نہ کرے لیکن اس کو فروخت کر دے یا ہبہ کر دے، یا آزاد کر دے، اس میں شرط نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13855]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13856
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ قَالَ: زَوَّجَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَبْدًا لَهُ وَلِيدَةً لَهُ، فَطَلَّقَهَا، فَقَالَ:" ارْجِعْ فَأَبَى" قَالَ: فَقَالَ:" هِيَ لَكَ طَأْهَا بِمِلْكِ يَمِينِكَ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْجَدِيدِ: وَابْنُ عَبَّاسٍ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِعَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ طَلَاقٌ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا، فَأَبَى، فَقَالَ: فَهِيَ لَكَ فَاسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ، يُرِيدُ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ بِالنِّكَاحِ وَلَا طَلَاقَ لَهُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ كَمَا قَالَ.
ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کی شادی لونڈی سے کردی تو اس نے طلاق دے دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رجوع کرو“، اس نے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ تیری ملکیت ہے تو اس سے مجامعت کر“، ان کی مراد یہ تھی کہ یہ نکاح کی وجہ سے حلال ہوگئی ہے اور طلاق کا اختیار نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ اپنے جدید قول میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے کہا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ ”تیری طلاق نہیں، اپنی بیوی کو روکے رکھ۔“ تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیرے لیے نکاح کی وجہ سے حلال ہے، اس پر طلاق نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بات ویسے ہی ہے جیسے انہوں نے فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13856]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13857
فَقَدْ رَوَى عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" الْأَمْرُ إِلَى الْمَوْلَى أُذِنَ لَهُ، أَوْ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: {ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: ٧٥] "، ⦗٢٤٦⦘ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ.
عطاء، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”معاملہ مالک کے اختیار میں ہے، خواہ غلام کو اجازت دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو۔“ پھر اس آیت کی تلاوت کی: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] ”اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔“
ابو معبد کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں بھی ایسی بات منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13857]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 800»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں