السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2891. -- باب: نكاح العبد وطلاقه
-- باب: غلام کے نکاح اور اس کی طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 13896
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ⦗٢٥٦⦘ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" أَتَدْرُونَ كَمْ يَنْكِحُ الْعَبْدُ؟" فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا قَالَ: كَمْ؟ قَالَ:" اثْنَتَيْنِ" زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ فَسَكَتَ عُمَرُ، وَقَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر تشریف رکھتے ہوئے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غلام کتنے نکاح کر سکتا ہے؟ تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں جانتا ہوں، پوچھا: کتنے؟ کہنے لگے: دو۔ دوسروں نے زیادہ بھی کیا ہے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ کہتے ہیں: پھر ایک انصاری کھڑا ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13896]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13897
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" يَنْكِحُ الْعَبْدُ اثْنَتَيْنِ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غلام صرف دو نکاح کر سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13897]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13898
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: اجْتَمَعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ" الْمَمْلُوكَ لَا يَجْمَعُ مِنَ النِّسَاءِ فَوْقَ اثْنَتَيْنِ".
حکم فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ کوئی غلام دو عورتوں سے زیادہ کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13898]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2892. جماع أبواب ما يحرم من نكاح الحرائر وما يحل منه ومن الإماء والجمع بينهن وغير ذلك -- باب: ما يحرم من نكاح القرابة والرضاع وغيرهما
یہ جامع ابواب ہیں جن میں آزاد عورتوں کے نکاح میں سے جو حرام ہے اور جو حلال ہے، اور لونڈیوں کے متعلق، نیز انہیں ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: نسبی قرابت، رضاعت اور دیگر وجوہات کی بنا پر حرام ہونے والے رشتوں کے نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: Q13899
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالِاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 23] وَقَالَ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 22] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ ”تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھائی کی بیٹیاں، بہن کی بیٹیاں، تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، تمہاری دودھ شریک بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں پرورش پاتی ہیں ان بیویوں سے جن سے تم ہم بستری کر چکے ہو، پھر اگر تم نے ان سے ہم بستری نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ کہ تم دو بہنوں کو (نکاح میں) جمع کرو، سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ [سورة النساء: 23]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔“ [سورة النساء: 22] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13899]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔“ [سورة النساء: 22] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13899]
حدیث نمبر: 13899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" حَرَّمَ عَلَيْكُمْ سَبْعًا نَسَبًا، وَسَبْعًا صِهْرًا حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ" إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ⦗٢٥٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تم پر سات رشتے نسب کی وجہ سے اور سات ہی سسرال کی وجہ سے حرام ہیں۔“ ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّهٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ﴾ [سورة النساء: 23] ”تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں حرام کی گئی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13899]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري في باب ما يحل من النساء»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13900
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" سَبْعٌ صِهْرٌ، وَسَبْعٌ نَسَبٌ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
حیان بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سات رشتے سسرال اور سات ہی نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13900]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13901
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے بھی وہ رشتہ حرام ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13901]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1445»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَاهُ فُلَانًا" لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمرہ بنت عبدالرحمن کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص کی آواز سنی، جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر آنے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حفصہ کے رضاعی چچا ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر فلاں شخص زندہ ہوتا جو ان کا رضاعی چچا تھا، کیا وہ میرے گھر داخل ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2646۔ 5239»
الحكم على الحديث: صحيح
2893. -- باب: ما جاء في قول الله تعالى: {وأمهات نسائكم وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن} [النساء: ٢٣] الآية
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری وہ زیرِ پرورش سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں کے بطن سے ہیں جن سے تم خلوت کر چکے ہو“ [النساء: 23] تا آخرِ آیت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13903
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شَمْخٍ مِنْ فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ رَأَى أُمَّهَا فَأَعْجَبَتْهُ، فَاسْتَفْتَى ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا وَيَتَزَوَّجَ أُمَّهَا، فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ أَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ أَنَّهَا" لَا تَحِلُّ ⦗٢٥٨⦘ لَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ قَالَ لِلرَّجُلِ:" إِنَّهَا عَلَيْكَ حَرَامٌ إِنَّهَا لَا تَنْبَغِي لَكَ فَفَارِقْهَا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فزارہ قبیلہ کی شاخ بنو شمخ کی ایک عورت سے ایک شخص نے شادی کی، پھر اس بچی کی والدہ کو دیکھا تو وہ اسے زیادہ اچھی لگی، اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا کہ بچی کو جدا کر کے اس کی والدہ سے شادی کر لو۔ اس شخص نے شادی کر لی اور اس سے اولاد بھی ہوئی، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو انہوں نے اس کے بارے میں پوچھا تو ان کو بتایا گیا کہ یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے، پھر جب وہ کوفہ آئے تو اس شخص سے کہا: یہ تجھ پر حرام ہے، تمہارے لیے مناسب نہیں ہے، اس کو الگ کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13903]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 10811»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13904
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ وَهُوَ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي شَمْخٍ، فَرَأَى بَعْدُ أُمَّهَا، فَأَعْجَبَتْهُ، فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً لَمْ أَدْخُلْ بِهَا، ثُمَّ أَعْجَبَتْنِي أُمُّهَا، فَأُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ وَأَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَ أُمَّهَا، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَا تَصْلُحُ، ثُمَّ قَدِمَ، فَأَتَى بَنِي شَمْخٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي تَزَوَّجَ أُمَّ الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَهُ؟ قَالُوا: هَاهُنَا قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا، قَالُوا: وَقَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنُهَا؟ قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّهَا حَرَامٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ"، وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
سعید بن ایاس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنو شمخ کی ایک عورت سے شادی کی، اس شخص نے اس کے بعد اس کی والدہ کو دیکھا تو وہ اس کو اچھی لگی، وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہنے لگا: ”میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے لیکن مجامعت ابھی نہیں کی، پھر اس کی والدہ مجھے زیادہ اچھی لگی، کیا میں اس عورت کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر لوں؟“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ہاں، کر لو۔“ اس نے طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر لی، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مدینہ آ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ درست نہیں ہے“، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بنو شمخ کے پاس آئے اور فرمایا: ”وہ شخص کدھر ہے جس نے اس عورت کی والدہ سے شادی کی تھی جو اس کے نکاح میں تھی؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ہے“، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”اس کو جدا کر دے“، انہوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہو چکی تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو جدا کر دے، یہ اللہ کی جانب سے حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13904]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح