السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2895. -- باب: نسخ التبني وإباحة نكاح امرأة فارقها من تبناه أو ابنة من كان في الدين أخاه
-- باب: منہ بولا بیٹا بنانے کی رسم کے منسوخ ہونے کا بیان، اور اس عورت سے نکاح کے مباح ہونے کا بیان جسے لے پالک بیٹے نے چھوڑ دیا ہو، یا اس شخص کی بیٹی سے نکاح کے مباح ہونے کا بیان جو اس کا دینی بھائی ہو۔
حدیث نمبر: 13915
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللهُ مُبْدِيهِ} [الأحزاب: ٣٧] فِي شَأْنِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَكَانَ جَاءَ زَيْدٌ يَشْكُو وَهَمَّ بِطَلَاقِهَا جَاءَ يَسْتَأْمِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللهَ} [الأحزاب: ٣٧] ، {وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللهُ مُبْدِيهِ} [الأحزاب: ٣٧] الْآيَةَ قَالَ: {فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا}"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
سیدنا ثابت رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”اور آپ اپنے دل میں چھپائے بیٹھے تھے، اللہ اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔“ یہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے متعلق تھی کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ ان کی شکایت کر رہے تھے اور ان کا طلاق کا ارادہ تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں مشورہ طلب کر رہے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ﴾ [سورة الأحزاب: 37] “ ”آپ اپنی بیوی کو روکے رکھیں اور اللہ سے ڈریں اور آپ اپنے دل میں چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا“ ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”جب زید نے اپنی ضرورت پوری کر لی تو ہم نے ان سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر کوئی حرج نہ رہے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں، جب وہ اپنی حاجت ان سے پوری کر لیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13915]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13916
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا أَنَا أَخُوكَ؟ فَقَالَ:" إِنَّكَ أَخِي فِي دِينِ اللهِ وَكِتَابِهِ، وَهِيَ لِي حَلَالٌ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ هَكَذَا مُرْسَلًا.
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق پیغامِ نکاح دیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ میرے دینی اور کتابی بھائی ہیں اور یہ میرے لیے حلال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5081»
الحكم على الحديث: صحيح
2896. -- باب: ما جاء في قوله تعالى: ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، أنبأ هُشَيْمٌ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو قَيْسِ بْنُ الْأَسْلَتِ، خَطَبَ ابْنُهُ قَيْسٌ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا قَيْسٍ قَدْ هَلَكَ، وَإِنَّ ابْنَهُ قَيْسٌ مِنْ خِيَارِ الْحِيِّ، قَدْ خَطَبَنِي إِلَى نَفْسِي، فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتُ أَعُدُّكَ إِلَّا وَلَدًا، وَمَا أَنَا بِالَّتِي أَسْبِقُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ⦗٢٦٢⦘} [النساء: ٢٢] " هَذَا مُرْسَلٌ وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ.
عدی بن ثابت انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابو قیس بن سلت رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے بیٹے قیس نے اپنے باپ کی بیوی کو پیغامِ نکاح دیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! ابو قیس فوت ہو گئے ہیں، ان کا بیٹا قیس قبیلے کا اچھا آدمی ہے، اس نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے، میں نے اس سے کہا کہ میں تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں، میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے والی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 22] ”تم نکاح نہ کرو جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13917]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13917]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ وَآخُذُ مَالَهُ".
یزید بن براء اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا (رضی اللہ عنہ) سے ملا، انہوں نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا، میں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے: ”اس شخص کی جانب جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے کہ میں اس کی گردن اتار دوں اور اس کا مال بھی لے لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13918]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2897. -- باب: ما جاء في معنى الدخول المشروط في تحريم الربيبة، ومن لمس جاريته، فأراد ابنه أن يقربها بعد ما ملكها
-- باب: ربیبہ (سوتیلی بیٹی) کی حرمت میں شرط قرار دی گئی خلوتِ صحیحہ (دخول) کے معنی کا بیان، اور اس شخص کا بیان جس نے اپنی لونڈی کو چھوا، پھر اس کے بیٹے نے اس کی ملکیت حاصل کرنے کے بعد اس کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔
حدیث نمبر: Q13919
قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: الدُّخُولُ وَاللِّمَاسُ هُوَ الْجِمَاعُ.
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”دخول اور لماس (چھونے) سے مراد جماع ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13919]
حدیث نمبر: 13919
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ} [النساء: ٢٣] :" الدُّخُولُ النِّكَاحُ يُرِيدُ بِالنِّكَاحِ الْجِمَاعَ، وَقَالَ فِي الْمَسِّ وَاللَّمْسِ وَالْإِفْضَاءِ نَحْوَ ذَلِكَ"، وَبَلَغَنِي عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ:" الدُّخُولُ الْجِمَاعُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول ﴿مِّنْ نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ﴾ [سورة النساء: 23] کے متعلق فرماتے ہیں: تمہاری وہ عورتیں جن سے تم نے مجامعت کرلی ہے۔ «الدُّخُولُ» نکاح ہے اور نکاح سے مراد جماع ہے اور اس طرح «الْمَسُّ»، «اللَّمْسُ»، «الْإِفْضَاءُ» جماع کے معنی میں ہیں اور طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «الدُّخُولُ» کا معنی جماع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13919]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13920
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهَبَ لِابْنِهِ جَارِيَةً، فَقَالَ لَهُ:" لَا تَمَسَّهَا، فَإِنِّي قَدْ كَشَفْتُهَا".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو لونڈی ہبہ کی تو فرمایا: اسے ہاتھ نہ لگانا؛ کیونکہ میں نے اسے بے پردہ دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13920]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13921
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبِّرِ، أَنَّهُ قَالَ: وَهَبَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لِابْنِهِ جَارِيَةً وَقَالَ لَهُ:" لَا تَقْرَبْهَا، فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُهَا، فَلَمْ أَنْبَسِطْ إِلَيْهَا".
عبدالرحمن بن مجبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو لونڈی ہبہ کی تو فرمایا: اس کے قریب نہ جانا۔ میں نے اس کا قصد کیا تھا لیکن اس کی جانب ہاتھ نہ پھیلایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13921]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13922
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا نَهْشَلٍ الْأَسْوَدَ قَالَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ:" إِنِّي رَأَيْتُ جَارِيَةً لِي مُنْكَشِفًا عَنْهَا وَهِيَ فِي الْقَمَرِ، فَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَلَمْ أَمَسَّهَا، فَأَهَبُهَا لِابْنِي يَطَؤُهَا؟" فَنَهَاهُ الْقَاسِمُ عَنْ ذَلِكَ".
ابو نہشل اسود نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنی لونڈی کو دیکھا کہ اس کا کپڑا ہٹا ہوا تھا اور چاندنی رات تھی، تو میں اس کے ساتھ اس طرح بیٹھا جیسے مرد اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس نے کہا: ”میں حائضہ ہوں۔“ میں نے مجامعت نہ کی، میں نے اسے اپنے بیٹے کو ہبہ کر دی، وہ اس سے مجامعت کر سکتا ہے؟ تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے اس سے منع فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13922]
2898. -- باب: ما جاء في قول الله تعالى: وأن تجمعوا بين الأختين
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور (یہ بھی حرام کیا گیا ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13923
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ⦗٢٦٣⦘ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، وَأُمُّهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ انْكِحْ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي" قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ:" بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" وَاللهِ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ،" فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" قَالَ عُرْوَةُ: ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ، كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ فِي النَّوْمِ بِشَرِّ حِيبَةٍ، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا لَقِيتَ؟ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ رَخَاءً غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ مِنِّي بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ، وَأَشَارَ إِلَى النَّقِيرَةِ الَّتِي بَيْنَ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا مِنَ الْأَصَابِعِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت ابی سلمہ، جن کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ ہیں رضی اللہ عنہما، نے انہیں خبر دی کہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن زینب بنت ابی سفیان سے شادی کرلو۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: ہاں، میں بخل کرنے والی نہیں اور مجھے پسند ہے کہ بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہوجائے۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ کہتی ہیں کہ ہمیں تو بیان کیا گیا کہ آپ درۃ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”بنت ام سلمہ؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری گود میں پرورش پانے والی بچی نہ بھی ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے کہ ثوبیہ نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور مجھے دودھ پلایا تھا تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نہ پیش کیا کرو۔“ سیدنا عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی، ابولہب نے اس کو آزاد کردیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب فوت ہوگیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اس کو خواب میں بری حالت میں دیکھا، اس نے کہا: تجھے کیا ملا؟ تو ابولہب نے کہا: مجھے تمہارے بعد کبھی نرمی نہیں ملی سوائے اس کے کہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے مجھے اس (جگہ) سے پلایا جاتا ہے۔ اور اس نے اس نقیرہ کی طرف اشارہ کیا جو اس کے انگوٹھے اور دوسری انگلیوں کے درمیان تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13923]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1449»
الحكم على الحديث: صحيح