🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2898. -- باب: ما جاء في قول الله تعالى: وأن تجمعوا بين الأختين
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور (یہ بھی حرام کیا گیا ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13924
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي" قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي؛ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ،" فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن ابوسفیان کی بیٹی سے شادی کر لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے؟“ کہتی ہیں: ہاں، میں آپ کے لیے بخل کرنے والی نہیں ہوں اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میری بہن میری بھلائی میں شریک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں تو معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنتِ ام سلمہ؟“ کہنے لگی: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری گود میں پرورش پانے والی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ تھی؛ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے؛ کیونکہ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13924]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2899. -- باب: ما جاء في قوله تعالى: إلا ما قد سلف
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13925
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ ⦗٢٦٤⦘ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الرَّضَاعِ:" كَانَ أَكْبَرُ وَلَدِ الرَّجُلِ يُخَلَّفُ عَلَى امْرَأَةِ أَبِيهِ وَكَانَ الرَّجُلُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ، فَنَهَى اللهُ تَعَالَى عَنْ أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَجْمَعُ فِي عُمْرِهِ بَيْنَ أُخْتَيْنِ أَوْ يَنْكِحُ مَا نَكَحَ أَبُوهُ، إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ عِلْمِهِمْ بِتَحْرِيمِهِ لَيْسَ أَنَّهُ أَقَرَّ فِي أَيْدِيهِمْ مَا كَانُوا قَدْ جَمَعُوا بَيْنَهُ قَبْلَ الْإِسْلَامِ".
امام شافعی رحمہ اللہ کتاب الرضاع میں فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا بڑا بیٹا اپنے والد کی وفات کے بعد (اس کا نائب ہوتا بیوی کے لیے) یعنی اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیتا اور ایک انسان دو بہنوں کو ایک نکاح میں رکھ لیتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کر دیا کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرے یا اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے، لیکن جو جاہلیت میں ان کے حرام ہونے کے علم سے پہلے ہو چکا، لیکن اب وہ بھی دو بہنوں کو ایک جگہ جمع نہ کریں جنہوں نے اسلام سے پہلے کر لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13925]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال الشافعي في الام 5/ 26»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13926
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْهُذَيْلِ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٢] " يَعْنِي فِي نِسَاءِ الْآبَاءِ، لِأَنَّ الْعَرَبَ كَانُوا يَنْكِحُونَ نِسَاءَ الْآبَاءِ، ثُمَّ حَرَّمَ النَّسَبَ وَالصِّهْرَ، وَلَمْ يَقُلْ: إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ لِأَنَّ الْعَرَبَ، كَانَتْ لَا تَنْكِحُ النَّسَبَ وَالصِّهْرَ، وَقَالَ فِي الْأُخْتَيْنِ: {إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٢] لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَهُمَا فَحَرَّمَ جَمْعَهُمَا جَمِيعًا إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ قَبْلَ التَّحْرِيمِ {إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٢٣] لِمَا كَانَ مِنْ جِمَاعِ الْأُخْتَيْنِ قَبْلَ التَّحْرِيمِ".
مقاتل بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [سورة النساء: 22] یعنی باپوں کی عورتوں کے بارے میں ہے کہ لوگ باپوں کی عورتوں سے شادی کر لیتے تھے۔ پھر اللہ نے نسب اور سسرال کے رشتے حرام کیے اور وہاں ﴿إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ نہیں فرمایا، اس لیے کہ عرب لوگ نسب و سسرال میں نکاح نہ کرتے تھے اور دو بہنوں کے متعلق ﴿إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ فرمایا، کیونکہ وہ ان کو اپنے نکاح میں جمع کر لیتے تھے تو ان کے جمع کرنے کی حرمت بیان کی گئی۔ لیکن جو تحریم سے پہلے ہو چکا ﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ [سورة النساء: 23] ”اللہ معاف کرنے والے ہیں“ یعنی دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کو جو حرمت سے پہلے تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13926]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13927
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ:" كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَمَدَ حَمِيمُ الْمَيِّتِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا، فَيَرِثُ نِكَاحَهَا فَيَكُونُ هُوَ أَحَقُّ بِهَا، فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو قَيْسِ بْنُ الْأَسْلَتِ عَمَدَ ابْنُهُ قَيْسٌ إِلَى امْرَأَةِ أَبِيهِ، فَتَزَوَّجَهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي قَيْسٍ: {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٢] قَبْلَ التَّحْرِيمِ حَتَّى ذَكَرَ تَحْرِيمَ الْأُمَّهَاتِ وَالْبَنَاتِ حَتَّى ذَكَرَ: {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} [النساء: ٢٣] قَبْلَ التَّحْرِيمِ {إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٢٣] فِيمَا مَضَى قَبْلَ التَّحْرِيمِ".
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب جاہلیت میں کوئی آدمی فوت ہو جاتا تو میت کے ورثاء اس کی بیوی کا قصد کرتے اور اس پر کپڑا ڈال کر اس کے نکاح کے وارث بن جاتے اور یہ شخص اس کا زیادہ حق دار ہوتا۔ جب ابو قیس بن اسلت رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے بیٹے نے اپنے والد کی بیوی کا ارادہ کیا، اس سے نکاح تو کر لیا، لیکن ابھی مجامعت نہ کی تھی، اس بی بی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے قیس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [سورة النساء: 22] ”تم اپنے باپوں کی بیویوں سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو چکا۔“ حرمت سے پہلے پھر ماؤں اور بیٹیوں کی حرمت ذکر کی گئی: ﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [سورة النساء: 23] ”یہ کہ نہ تم جمع کرو دو بہنوں کو مگر جو ہو چکا، حرمت سے قبل۔“ ﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 23] ”یقیناً اللہ معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ جو حرمت سے پہلے ہو چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13927]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2900. -- باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين
-- باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13928
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ" كَرِهَ مِنَ الْإِمَاءِ، مَا كَرِهَ مِنَ الْحَرَائِرِ إِلَّا الْعَدَدَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي مَعْنَى الْقُرْآنِ وَبِهِ نَأْخُذُ.
ابواخضر حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ لونڈیوں کے بارے میں بھی اسی چیز کو مکروہ خیال کرتے تھے، جسے آزاد عورتوں کے بارے میں ناپسند کرتے تھے (یعنی رشتہ قائم کرنے میں) سوائے مخصوص تعداد کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ عمار رضی اللہ عنہ کا قول قرآن کے موافق ہے اور ہم بھی اسی پر عمل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13928]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13929
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ سَوَّارٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٢٦٥⦘ عُتْبَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" يُحَرَّمُ مِنَ الْإِمَاءِ، مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْحَرَائِرِ إِلَّا الْعَدَدَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لونڈیوں سے بھی وہ رشتے حرام ہیں جو آزاد سے حرام ہیں، سوائے تعداد کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13929]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13930
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ هَذَا قَالَ: فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ كَانَ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ لَجَعَلْتُهُ نَكَالًا" قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَالِكٌ: وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِكَ.
قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا دو بہنیں جو لونڈی ہوں، ان کو ایک جگہ جمع کیا جاسکتا ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آیت حلت اور دوسری آیت حرمت پر دلالت کرتی ہے، لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: وہ شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی سے ملا، انہوں نے فرمایا: اگر میرے اختیار میں کوئی چیز ہو، پھر میں کسی کو پا لوں کہ اس نے ایسا کیا ہے تو میں اسے لوگوں کے لیے عبرت بنا دوں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13930]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1144»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13931
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ فِيمَا مَلَكَتِ الْيَمِينُ قَالَ: أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ أَنَّ نِيَارًا الْأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأُخْتَيْنِ، فِيمَا مَلَكَتِ الْيَمِينُ، فَقَالَ لَهُ:" أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ وَلَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ قَالَ: فَخَرَجَ نِيَارٌ مِنْ عِنْدِ ذَاكَ الرَّجُلِ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَفْتَاكَ بِهِ صَاحِبُكَ الَّذِي اسْتَفْتَيْتَهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَنْهَاكَ عَنْهُمَا، وَلَوْ جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا وَلِي عَلَيْكَ سُلْطَانٌ عَاقَبْتُكَ عُقُوبَةً مُنَكِّلَةً".
یونس ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے دو لونڈیاں جو آپس میں بہنیں ہوں ان کو ایک جگہ جمع کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ نیار اسلمی رحمہ اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے سوال کیا کہ کیا دو بہنیں جو لونڈیاں ہوں ان کو ایک ملکیت میں جمع کیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”ایک آیت دونوں کو حلال قرار دیتی ہے جبکہ دوسری حرام قرار دیتی ہے، لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔“ تو نیار اسلمی رحمہ اللہ اس آدمی کے پاس سے نکلے تو دوسرے صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، انہوں نے پوچھا: ”جس سے آپ نے فتویٰ طلب کیا تھا اس نے کیا فتویٰ دیا ہے؟“ انہوں نے خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”میں ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ اگر تو دونوں کو جمع کرے گا اور میرے لیے حکومت ہو تو میں تجھے ایسی سزا دوں جو دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13931]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13932
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ ⦗٢٦٦⦘ هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا" وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَنْ أُجِيزَهُمَا.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ماں اور بیٹی جو کسی ایک کی ملکیت میں ہوں، کیا ان میں سے ایک کے ساتھ مجامعت کے بعد دوسری سے مجامعت کی جائے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں ان دونوں کو اکٹھے جائز خیال نہیں کرتا۔ احمد کی روایت میں ہے کہ میں ان کو جائز خیال نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13932]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1143»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13933
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُمِّ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، فَقَالَ:" مَا أُحِبُّ أَنْ يُجِيزَهُمَا جَمِيعًا" قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: فَوَدِدْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ أَشَدَّ فِي ذَلِكَ مِمَّا هُوَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ غَلِطَ الْمُزَنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَدِدْتُ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنُ عُتْبَةَ لَا شَكَّ فِيهِ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان لونڈیوں کے متعلق سوال ہوا جو آپس میں ماں بیٹی ہوں، تو وہ فرمانے لگے: میں ان دونوں کو اکٹھے جائز قرار نہیں دیتا۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا: میری خواہش تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس میں اس سے زیادہ سختی فرماتے۔
شیخ فرماتے ہیں: مزنی رحمہ اللہ سے اس میں غلطی ہوگئی، انہوں نے کہا کہ ابن عمر نے فرمایا: میری خواہش تھی، حالانکہ یہ کہنے والے ابن عتبہ ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13933]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي في الام 4/4»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں