🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2913. جماع أبواب الخطبة -- باب: التعريض بالخطبة
یہ جامع ابواب ہیں جن میں منگنی (پیغامِ نکاح) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دینے کے متعلق بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14019
أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥] " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں، میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق عن منصور»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14020
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥] ،" أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَةِ وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا: إِنَّكِ عَلَيَّ لَكَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا وَرِزْقًا وَنَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ".
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اللہ کے اس فرمان ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسی عورت سے کہے جو اپنے خاوند کی وفات کے بعد عدت گزار رہی ہو کہ تو میرے نزدیک معزز ہے، میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں اور اللہ تیری طرف بھلائی اور رزق کو لانے والا ہے، اس طرح کی بات کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14020]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1113»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" هُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَةِ فِي عِدَّتِهَا: إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ، وَإِنِّي إِنْ تَزَوَّجْتُ أَحْسَنْتُ إِلَى امْرَأَتِي".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی شخص عورت کی عدت کے اندر یہ کہے کہ میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں، اگر میں نے شادی کی تو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14021]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ:" هُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَةِ فِي عِدَّتِهَا: إِنَّكِ لَجَمِيلَةٌ وَإِنَّكِ لَتُعْجِبِينَنِي وَيُضْمِرُ خِطْبَتَهَا، فَلَا يُبْدِيهِ لَهَا هَذَا كُلُّهُ حِلٌّ مَعْرُوفٌ: {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: يَقُولُ لَهَا: لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ، فَإِنِّي نَاكِحُكِ هَذَا لَا يَحِلُّ".
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مرد کا عورت کو عدت کے اندر کہنا: آپ خوبصورت ہیں، آپ مجھے اچھی لگتی ہیں، نکاح کا پیغام پوشیدہ رکھے، ظاہر نہ کرے، یہ تمام جائز ہیں ﴿وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] پوشیدہ وعدہ نہ دو کہ کوئی شخص اس سے کہے کہ اپنا نکاح خود نہ کرنا، میں تجھ سے نکاح کروں گا، یہ حلال نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14022]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14023
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" لَا يَخْطُبُهَا فِي عِدَّتِهَا {إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥] ، يَقُولُ: إِنَّكِ لَجَمِيلَةٌ وَإِنَّكِ لَفِي مَنْصِبٍ وَإِنِّي لَمَرْغُوبٌ فِيكِ".
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] کہ عورت کو عدت کے ایام میں پیغامِ نکاح نہ دے ﴿إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ [سورة البقرة: 235] یعنی یہ کہہ دے کہ آپ بڑی خوبصورت ہیں، آپ کا ایک مقام ہے، آپ میں رغبت کی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14023]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 382»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14024
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ:" يُقَاطِعُهَا عَلَى كَذَا وَكَذَا أَنْ لَا تَزَوَّجَ غَيْرَهُ: {إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: يَقُولُ: إِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ نَجْتَمِعَ".
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ کہے کہ وہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے، ﴿إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ [سورة البقرة: 235] کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے: ”مجھے تیرے لیے رغبت ہے، میں امید کرتا ہوں کہ ہم جمع ہو جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14024]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14025
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: ذُكِرَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" لَا يَأْخُذُ مِيثَاقَهَا أَنْ لَا تَنْكِحَ غَيْرَهُ".
شعبی رحمہ اللہ نے اس آیت ﴿وَلٰكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں بیان کیا ہے کہ وہ اس سے پختہ وعدہ نہ لے کہ وہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14025]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14026
قَالَ: وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" السِّرُّ هُوَ الزِّنَا" قَالَ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْهَا الْحَسَنَ أَيْضًا، فَقَالَ:" هُوَ الزِّنَا".
ابو مجلز رحمہ اللہ ﴿وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴾ [سورة البقرة: 235] کے متعلق فرماتے ہیں: ”اس سے مراد زنا ہے،“ (راوی) کہتے ہیں: پھر میں نے حضرت حسن رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد زنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14026]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14027
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" الزِّنَا".
سدی، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] سے مراد زنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14027]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: بَلَغَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَعْنَى: {لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] " الرَّفَثُ مِنَ الْكَلَامِ أَيْ لَا يُوَاجِهُهَا الرَّجُلُ فِي تَعْرِيضِ الْجِمَاعِ مِنْ نَفْسِهِ وَيَقُولُ آخَرُونَ: هُوَ الزِّنَا وَاللهُ أَعْلَمُ"، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّعْرِيضِ: يُرْسِلُ إِلَيْهَا فِي عِدَّتِهَا يَقُولُ: إِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّي عَلَيْكِ لَحَرِيصٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْلِمَكِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ رَأَيْتُ رَأْيَكِ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: يُعَرِّضُ فَلَا يَبُوحُ، يَقُولُ: إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي فَأَنْتِ بِحَمْدِ اللهِ ⦗٢٩١⦘ نَافِقَةٌ، وَتَقُولُ هِيَ: قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِنْ وَاعَدَتْ رَجُلًا فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا.
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] سے مراد بےہودہ کلام ہے، یعنی مرد اس کے سامنے اپنی طرف سے جماع کا اشارہ نہ کرے اور دوسرے کہتے ہیں کہ زنا مراد ہے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ عدت کے اندر عورت کو نکاح کا اشارہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کی طرف پیغام بھیجے اور کہے: میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں، میں تیرے لیے حریص ہوں، میں نے چاہا کہ تجھے بتا دوں، جب تیری عدت ختم ہو جائے تو جو تیری رائے ہو۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اشارہ کرے، ظاہر نہ کرے۔ وہ کہے: مجھے بھی ضرورت ہے، تو خوش ہو جا، تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ بہت پسند کی جانے والی ہے، وہ کہہ دیتی ہے: میں نے سن لیا جو تو نے کہہ دیا، حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر اس نے کسی مرد کو عدت کے اندر وعدہ دے دیا، پھر نکاح کر لیا تو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی۔ [حسن] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14028]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں