السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2911. -- باب: العبد ينكح الحرة على الأمة
-- باب: اس بیان میں کہ غلام اپنی لونڈی بیوی کی موجودگی میں کسی آزاد عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14011
وَرَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" لَا يَنْكِحُ الْأَمَةَ عَلَى الْحُرَّةِ، إِلَّا الْمَمْلُوكُ"، أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ.
مسروق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لونڈی سے آزاد عورت کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، لیکن غلام کر سکتا ہے، ابو عبداللہ نے ابو ولید سے اس کی اجازت نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14011]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2912. -- باب: لا يحل نكاح أمة كتابية لمسلم بحال
-- باب: اس بیان میں کہ کسی بھی صورت میں مسلمان کے لیے کتابیہ (اہلِ کتاب کی) لونڈی سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: Q14012
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِأَنَّهَا دَاخِلَةٌ فِي مَعْنَى مَنْ حُرِّمَ مِنَ الْمُشْرِكَاتِ وَغَيْرِ حَلَالٍ مَنْصُوصَةٍ بِالْإِحْلَالِ كَمَا نَصَّ حَرَائِرَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِي النِّكَاحِ، وَاللهُ تَعَالَى إِنَّمَا أَحَلَّ ⦗287⦘ نِكَاحَ إِمَاءِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ بِمَعْنَيَيْنِ وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى تَحْرِيمِ مَنْ خَالَفَهُنَّ مِنْ إِمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، لِأَنَّ الْإِسْلَامَ شَرْطٌ ثَالِثٌ.
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ (مشرک لونڈی) ان مشرک عورتوں کے مفہوم میں داخل ہے جنہیں حرام کیا گیا ہے، اور وہ حلال نہیں ہے اور نہ ہی اس کی حلت پر نص وارد ہوئی ہے، جیسا کہ نکاح کے بارے میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں (کی حلت) پر نص وارد ہوئی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اہلِ اسلام کی لونڈیوں سے نکاح کو صرف دو شرطوں کے ساتھ حلال فرمایا ہے، اور اس میں ان کے برعکس مشرکین کی لونڈیوں کی حرمت کی دلیل ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کیونکہ اسلام (یہاں) تیسری شرط ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14012]
حدیث نمبر: 14012
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" لَا يَصْلُحُ نِكَاحُ إِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے نکاح درست نہیں؛ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿مِنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ﴾ [سورة النساء: 25] ”یعنی مومنہ لونڈیوں سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 619»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14013
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا} [النساء: ٢٥] إِلَى قَوْلِهِ: {مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ} [النساء: ٢٥] قَالَ:" فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي إِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا﴾ [سورة النساء: 25] ”اور جو تم میں سے نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو۔“ اور ﴿مِنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ﴾ [سورة النساء: 25] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہمیں اہل کتاب کی لونڈیوں میں اجازت نہیں دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14013]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14014
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ فُقَهَائِهِمُ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ" لَا يَصْلُحُ لِلْمُسْلِمِ نِكَاحُ الْأَمَةِ الْيَهُودِيَّةِ، وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ، إِنَّمَا أَحَلَّ اللهُ الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الذِّينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَلَيْسَتِ الْأَمَةُ بِمُحْصَنَةٍ".
فقہاء فرماتے ہیں کہ یہودی و عیسائی کی لونڈی سے مسلمان کے لیے نکاح جائز نہیں ہے، صرف اہل کتاب کی آزاد عورت سے نکاح جائز ہے اور لونڈی پاک دامن نہیں ہوتی۔ یہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ، خارجہ بن زید رحمہ اللہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14014]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2913. جماع أبواب الخطبة -- باب: التعريض بالخطبة
یہ جامع ابواب ہیں جن میں منگنی (پیغامِ نکاح) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دینے کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: Q14015
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: 235] الْآيَةَ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ ”اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (عدت والی) عورتوں کو اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو۔“ [سورة البقرة: 235] (الآیة) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14015]
حدیث نمبر: 14015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ" أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَالَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ" وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ" فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتُبِطْتُ بِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: لَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ.
سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ غائب تھے۔ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے وکیل نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو کچھ جو دیے جن کی وجہ سے وہ ناراض ہو گئیں تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے ذمہ تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے“ اور فرمایا: ”تو ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر عدت گزار لے۔“ پھر فرمایا: ”وہاں میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس عورت کے پاس آنا جانا رہتا ہے، آپ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لیں، وہ نابینا صحابی ہیں، کبھی آپ کا کپڑا اتر بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، جب عدت گزر جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ جب عدت گزر گئی تو میں نے بتایا کہ مجھے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں رکھتا اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، آپ اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیں۔“ کہتی ہیں: میں نے اس کو ناپسند کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ کہتی ہیں: میں نے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈال دی اور میں رشک کی جانے لگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14015]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1480»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14016
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَجْمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَذَكَرَ فِيهِ اللَّفْظَتَيْنِ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پیغام دیا کہ ”اپنے نفس کے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا۔“
(ب) حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے نفس کے بارے میں ہم سے سبقت نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14016]
(ب) حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے نفس کے بارے میں ہم سے سبقت نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14016]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَنْظَلَةَ الْغَسِيلُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي سَكِينَةُ بِنْتُ حَنْظَلَةَ، وَكَانَتْ بِقِبَا تَحْتَ ابْنِ عَمٍّ لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَنَا فِي عِدَّتِي، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتِ يَا بِنْتَ حَنْظَلَةَ؟ فَقُلْتُ: بِخَيْرٍ وَجَعَلَكَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَقَالَ: أَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتِ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَابَتِي مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحَقِّي فِي ⦗٢٨٩⦘ الْإِسْلَامِ وَشَرَفِي فِي الْعَرَبِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا جَعْفَرٍ، أَنْتَ رَجُلٌ يُؤْخَذُ مِنْكَ وَيُرْوَى عَنْكَ تَخْطُبُنِي فِي عِدَّتِي؟ فَقَالَ: مَا فَعَلْنَا إِنَّمَا أَخْبَرْتُكِ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ، وَتَأَيَّمَتْ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّهَا، فَلَمْ يَزَلْ يُذَكِّرُهَا بِمَنْزِلَتِهِ مِنَ اللهِ تَعَالَى حَتَّى أَثَّرَ الْحَصِيرُ فِي كَفِّهِ مِنْ شِدَّةِ مَا كَانَ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ، فَمَا كَانَتْ تِلْكَ خِطْبَةً".
عبدالرحمن بن حنظلہ رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سکینہ بنت حنظلہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں جو قباء میں اپنے چچا کے بیٹے کے نکاح میں تھیں، وہ فوت ہوگئے، کہتی ہیں کہ ابو جعفر محمد بن علی رحمہ اللہ عدت کے اندر میرے پاس آئے، سلام کہا اور پوچھنے لگے: ”اے بنت حنظلہ! کیسی صبح کی؟“ میں نے کہا: ”بہتر، اللہ نے اس میں بہتری رکھی۔“ کہنے لگے: ”میری قرابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ سے ہے اور میرا حق اسلام میں ہے اور عرب میں میرا مقام ہے۔“ میں نے کہا، یعنی سکینہ بنت حنظلہ رضی اللہ عنہما نے: ”اے ابو جعفر! اللہ آپ کو معاف کرے، آپ ایسے آدمی ہیں جن سے (علم) لیا جاتا ہے اور جن سے روایت کی جاتی ہے، کیا آپ میری عدت میں مجھے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ”میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت داری کا تذکرہ کیا ہے،“ پھر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ مخزومیہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جو ان کے چچا کا بیٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ کے ہاں ان کے مرتبہ کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ چٹائی کے نشانات ان کی ہتھیلی پر ظاہر ہوگئے، ”یہ پیغامِ نکاح تو نہ تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14017]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" التَّعْرِيضُ، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: وَالتَّعْرِيضُ مَا لَمْ يُنْصَبْ لِلْخِطْبَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] ”اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے جو تم عورتوں کے نکاح کے بارے میں اشارۃً بات کہو“ اور تعریض خطبہ کے لیے ہی نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14018]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح