🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3077. -- باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق
-- باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15010
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْعِرَاقِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ أَنْ يُوَافِيَنِي فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ يُجْلَبَ عَلَيْكَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ هَلْ أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ الطَّلَاقَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ مَا صَدَقْتُكَ أَرَدْتُ الْفِرَاقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" هُوَ مَا أَرَدْتَ" ⦗٥٦٣⦘.
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عراق سے ایک خط لکھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے یہ الفاظ کہے ہیں: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ اسے حکم دیں کہ وہ حج کے موقع پر مجھ سے ملاقات کرے، تو اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے طواف کرتے وقت ملاقات کی اور سلام کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں جس کو آپ نے حاضر ہونے کا کہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اس عمارت کے رب کی قسم! تیرا اس قول «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ» سے کیا ارادہ تھا؟ کیا طلاق کا قصد تھا؟ تو اس شخص نے کہا: اگر اس جگہ کے علاوہ آپ میرے اوپر قسم ڈالتے تو میں آپ کو سچ نہ بتاتا، میں نے فراق ہی کا ارادہ کیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15010]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15011
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ أنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ، نا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَافِ مَعَنَا الْمَوْسِمَ فَأَتَاهُ الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ تَرَى ذَلِكَ الْأَصْلَعَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ اذْهَبْ إِلَيْهِ فَسَلْهُ ثُمَّ ارْجِعْ فَأَخْبِرْنِي بِمَا رَجَعَ إِلَيْكَ، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ بَعَثَكَ إِلِيَّ؟ فَقَالَ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، فَقَالَ: اسْتَقْبِلِ الْبَيْتَ وَاحْلِفْ بِاللهِ مَا أَرَدْتَ طَلَاقًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا الطَّلَاقَ، فَقَالَ:" بَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ".
ابوحلال عتکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جس نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے تھے: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ» ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حج کے موقع پر ہمیں ملنا۔“ تو اس شخص نے بیت اللہ کے اندر اپنا قصہ سنایا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ اس اصلع کو دیکھتے ہیں جو بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، ان سے جا کر سوال کرو، پھر واپس آکر مجھے بتانا۔“ جب وہ شخص ان کی طرف گیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”آپ کو کس نے میری طرف بھیجا ہے؟“ تو اس شخص نے کہا: ”امیر المؤمنین نے کہ اس نے اپنی بیوی سے کہا ہے: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ» ۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اللہ کی قسم اٹھائیں کہ آپ نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا؟“ تو اس شخص نے کہا: ”میں نے تو اللہ کی قسم! طلاق کا ارادہ کیا تھا۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15011]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15012
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ ⦗٥٦٣⦘ عَلَى غَارِبِكِ قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَحْلَفَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ مَا الَّذِي أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ؟ قَالَ: أَرَدْتُ الطَّلَاقَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَحْلَفَهُ عَلَى إِرَادَةِ التَّأْكِيدِ بِالتَّكْرِيرِ دُونَ الِاسْتِئْنَافِ وَكَأَنَّهُ أَقَرَّ فَقَالَ أَرَدْتُ بِكُلِّ مَرَّةٍ إِحْدَاثَ طَلَاقٍ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: «حَبْلُكِ عَلَىٰ غَارِبِكِ» اس نے بار بار یہ الفاظ کہے تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے قسم کا مطالبہ کیا کہ تیرا اس قول سے کیا ارادہ تھا؟ اس نے کہا: میں نے طلاق کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کروا دی۔
شیخ فرماتے ہیں: قسم کا مطالبہ اس سے صرف تاکید کی غرض سے تھا کہ وہ اقرار کر لے کہ میں نے ہر مرتبہ طلاق کا ہی ارادہ کیا تھا تو پھر ان دونوں کے درمیان تفریق ڈلوا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15012]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15013
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ وَذَكَرَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: انْظُرْ بَيْنَهُمَا فَذَكَرَ مَعْنَى مَا رَوَيْنَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَأَمْضَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَلَاثًا قَالَ: وَذُكِرَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلُهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا لَا يُخَالِفُ رِوَايَةَ مَالِكٍ وَكَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا وَاحِدَةً كَمَا قَالَ فِي الْبَتَّةِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا ثَلَاثًا وَاللهُ أَعْلَمُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُمَا جَمِيعًا جَعَلَاهَا ثَلَاثًا لِتَكْرِيرِهِ اللَّفْظَ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا ثَلَاثًا، وَإِرَادَتِهِ بِكُلِّ مَرَّةٍ إِحْدَاثَ طَلَاقٍ كَمَا قُلْنَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ عَنْ عَطَاءٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا، جس نے اپنی بیوی سے «حَبْلُكِ عَلَىٰ غَارِبِكِ» کے الفاظ کہے تھے، تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کے درمیان فیصلہ کیجیے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کا فیصلہ کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ مالک کی روایت کے مخالف نہیں ہے، گویا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ایک شمار کیا تھا جیسے بتہ میں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو تین شمار کیا ہے اور ممکن ہے سب نے ان کو تین ہی قرار دیا ہو مدخول بہا کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15013]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15014
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَهَا: أَنْتِ عَلَى حَرَجٍ قَالَ: فَدَخَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" أَتَرَاهَا أَهْوَنَهُنَّ عَلَيَّ فَأَبَانَهَا مِنْهُ" قَالَ الشَّيْخُ: فَكَأَنَّهُ أَخْبَرَهُ بِنِيَّةِ الْفِرَاقِ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فِي الْبَتَّةِ أَنَّهُ يَدِينُ فِيهَا وَعَنْ عَطَاءٍ فِي قَوْلِهِ خَلِيَّةٌ وَخَلَوْتِ مِنِّي وَبَرِيَّةٌ وَبَرِئْتِ مِنِّي وَبَائِنَةٌ وَبِنْتِ مِنِّي أَنَّهُ يَدِينُ فِيهَا وَكَذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
ابوحیصین، نعیم بن دجاجہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو دو طلاقیں دیں، پھر اسے کہتا ہے: تو میرے اوپر حرام ہے۔ اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ذکر کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: کیا آپ ان عورتوں کو میرے نزدیک حقیر سمجھتے ہیں؟ پھر اس عورت کو مرد سے جدا کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: پھر اس نے اس شخص کی نیت جدا کرنے کی تھی۔
(ب) شریح اور عطاء بن ابی رباح رحمہما اللہ سے طلاقِ بتہ کے بارے میں منقول ہے کہ اس میں خاوند کی نیت کے بارے میں اس کی بات مانی جائے گی، اور حضرت عطاء رحمہ اللہ سے خاوند کے قول «خَلِيَّةٌ وَخَلَوْتِ مِنِّي وَبَرِيَّةٌ وَبَرِئْتِ مِنِّي وَبَائِنَةٌ وَبِنْتِ مِنِّي» ”تو آزاد ہے اور مجھ سے الگ ہو گئی ہے، تو بری ہے اور مجھ سے بری ہو گئی ہے، تو جدا ہے اور مجھ سے جدا ہو گئی ہے“ کے بارے میں منقول ہے کہ ان میں بھی اس کی بات مانی جائے گی، اور عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15014]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15015
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا سُفْيَانُ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" مَا أُرِيدَ بِهِ الطَّلَاقَ فَهُوَ طَلَاقٌ" وَكَذَلِكَ رُوِّينَا عَنْ مَسْرُوقٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِمَا وَإِنَّمَا أَرَادُوا بِذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ بِمَا يُشْبِهُ الطَّلَاقَ ⦗٥٦٤⦘.
ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس (لفظ) سے طلاق کا ارادہ کیا جائے وہ طلاق ہے۔ مسروق رحمہ اللہ، ابراہیم رحمہ اللہ اور دیگر سے بھی اسی طرح منقول ہے، اور ان کی مراد یہ ہے کہ جب وہ طلاق کے مشابہ الفاظ بولے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15015]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3078. -- باب: من قال في الكنايات إنها ثلاث
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کنایہ الفاظ کے بارے میں کہا کہ وہ تین (طلاقیں) ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15016
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَجْعَلُ الْخَلِيَّةَ وَالْبَرِيَّةَ وَالْبَتَّةَ وَالْحَرَامَ ثَلَاثًا.
عامر فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لفظ «الْخَلِيَّةَ» ”الخلیہ“، «الْبَرِيَّةَ» ”البریہ“ اور «الْبَتَّةَ» ”البتہ“ اور حرام کو تین طلاق شمار کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15016]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15017
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الْخَلِيَّةُ وَالْبَرِيَّةُ وَالْبَتَّةُ وَالْبَائِنُ وَالْحَرَامُ إِذَا نَوَى فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الثَّلَاثِ" قَالَ الشَّيْخُ: فَإِنَّمَا جَعَلَهَا ثَلَاثًا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ إِذَا نَوَى وَالرِّوَايَةُ الْأُولَى أَصَحُّ إِسْنَادًا.
شعبی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لفظ «الْخَلِيَّةُ وَالْبَرِيَّةُ وَالْبَتَّةُ وَالْبَائِنُ» اور حرام بوجہ نیت تین طلاقوں کے قائم مقام ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: نیت کی بنا پر یہ تین طلاقوں کے قائم مقام ہے۔
پہلی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15017]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15018
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ حَبِيبٍ السَّهْمِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ" فِي الْبَرِيَّةِ وَالْحَرَامِ وَالْبَتَّةِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
سعد بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ «بَرِيَّة»، «حَرَام» اور «الْبَتَّةَ» کے الفاظ کو تین طلاق کے قائم مقام خیال کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15018]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15019
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ" فِي الْخَلِيَّةِ، وَالْبَرِيَّةِ، وَالْبَتَّةِ ثَلَاثًا، لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ".
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ لفظ «الْخَلِيَّةِ»، «الْبَرِيَّةِ» اور «الْبَتَّةِ» کو بولنے پر عورت کو مرد کے لیے جائز قرار نہ دیتے تھے، جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1174»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں