السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3095. -- باب: ما جاء في توريث المبتوتة في مرض الموت
-- باب: مرض الموت میں طلاقِ بائن پانے والی عورت کی وراثت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15127
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ ابْنِ الزُّبَيْرِ مُتَّصِلٌ وَهُوَ يَقُولُ: وَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْعِدَّةِ، وَحَدِيثُ ابْنِ شِهَابٍ مَقْطُوعٌ، وَقَالَ فِي الْإِمْلَاءِ: وَرَّثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَقَدْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ قَالَ: وَهُوَ فِيمَا يُخَيَّلُ إِلِيَّ أَثْبَتُ الْحَدِيثَيْنِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ رِوَايَةَ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ طَلْحَةَ وَأَبِي سَلَمَةَ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث متصل ہے اور وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے عدت میں وارث بنایا، جبکہ زہری رحمہ اللہ کی حدیث مقطوع ہے اور فرماتے ہیں: املا میں ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی کو عدت گزرنے کے بعد وارث بنایا تھا جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تین طلاقیں دے دی تھیں۔ فرماتے ہیں: وہ میرے خیال میں دونوں احادیث سے زیادہ مثبت بھی ہے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اور جو چیز ابن شہاب کی طلحہ اور ابوسلمہ سے روایت کی تائید کرتی ہے وہ (اگلی) روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15127]
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اور جو چیز ابن شہاب کی طلحہ اور ابوسلمہ سے روایت کی تائید کرتی ہے وہ (اگلی) روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15127]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15128
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَصْبَغُ بْنُ فَرَجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، يُكَلِّمُ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ عَلَى عَشَائِهِ وَنَحْنُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ نَكَحَ ابْنَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ ضِرَارًا لِابْنَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ حِينَ أَبَتْ أَنْ تَبِيعَهُ مِيرَاثَهَا مِنْهُ فِي وَجَعِهِ حِينَ أَصَابَهُ الْفَالِجُ، ثُمَّ لَمْ يَنْتَهِ إِلَى ذَلِكَ حَتَّى طَلَّقَ أُمَّ كُلْثُومٍ فَحَلَّتْ فِي وَجَعِهِ وَهَذَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ حَيٌّ يَشْهَدُ عَلَى قَضَاءِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تُمَاضِرَ بِنْتِ الْأَصْبَغِ، وَرَّثَهَا مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا حَلَّتْ وَيَشْهَدُ عَلَى قَضَاءِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ قَارِظٍ وَرَّثَهَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُكْمِلٍ بَعْدَ مَا حَلَّتْ فَادْعُهُ فَسَلْهُ عَنْ شَهَادَتِهِ، قَالَ الْوَلِيدُ حِينَ قَضَى كَلَامَهُ: مَا أَظُنُّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى بِهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ إِنْ لَمْ يَشْهَدْ عَلَى ذَلِكَ السَّائِبُ فَأَنَا مُبْطِلٌ حَضَرَهُ وَعَايَنَهُ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ وَتَابَعَهُ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ معاویہ بن عبداللہ بن جعفر رحمہ اللہ نے شام کے کھانے پر ولید بن عبدالملک سے بات کی جبکہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان میں تھے۔ معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما کی بیٹی سے نکاح صرف عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی بیٹی کو پریشان کرنے کے لیے کیا ہے۔ جب اس نے فالج کی بیماری کے دوران ان سے اپنی میراث انہیں فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا، پھر ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے اپنی بیوی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دی اور وہ ان کی بیماری کے ایام میں ہی حلال ہو گئی (یعنی عدت پوری ہو گئی) اور یہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہما زندہ ہیں، جو تماضر بنت اصبغ رضی اللہ عنہا کے فیصلے کے وقت موجود تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں عدت گزرنے کے بعد عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا وارث بنایا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام حکیم بنت قارظ رضی اللہ عنہا کو عبداللہ بن مکمل رضی اللہ عنہ کا بھی عدت گزرنے کے بعد وارث بنایا تھا۔ آپ ان سے پوچھ لیں، ان کی بات مکمل ہونے کے بعد ولید نے کہا: میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ نہیں فرمایا۔ معاویہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اگر سائب رضی اللہ عنہما اس کی گواہی نہ دیں تو میں غلطی پر ہوں، وہ اس فیصلے کے وقت موجود تھے اور انہوں نے اسے دیکھا تھا۔
یہ سند متصل ہے اور ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے اس کی متابعت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15128]
یہ سند متصل ہے اور ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے اس کی متابعت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15128]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15129
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَأَلَتْهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا ⦗٥٩٥⦘ فَقَالَ لَهَا: إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمْ تَحِضْ حَتَّى مَرِضَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا طَهُرَتْ آذَنَتْهُ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ أَوْ تَطْلِيقَةً لَمْ يَكُنْ بَقِيَ لَهُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلَاقِ غَيْرُهَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَوْمَئِذٍ مَرِيضٌ" فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي أَخْتَارُهُ إِنْ وَرِثَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ أَنْ تَرِثَ مَا لَمْ تَتَزَوَّجْ فَإِذَا تَزَوَّجَتْ فَلَا تَرِثُهُ فَتَرِثُ زَوْجَيْنِ وَتَكُونُ كَالتَّارِكَةِ لِحَقِّهَا بِالتَّزْوِيجِ.
ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا تو انہوں نے فرمایا: جب تو حیض کے بعد پاک ہو جائے تو مجھے بتانا، وہ حائضہ ہی نہ ہوئی تھی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ جب وہ پاک ہوئی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تین طلاقیں دے دیں یا ایک طلاق دے دی، اس کی کوئی طلاق باقی نہ تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عدت گزرنے کے بعد بھی اسے وارث بنایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ عدت گزر جانے کے بعد وارث ہو سکتی ہے تو اگر شادی نہ کرے تو وارث ہو گی، اگر آگے شادی کر لے تو وارث نہ ہو گی، ورنہ وہ دو خاوندوں کی وارث بنے گی گویا کہ اس نے شادی کی وجہ سے اپنا حق چھوڑ دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15129]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ عدت گزر جانے کے بعد وارث ہو سکتی ہے تو اگر شادی نہ کرے تو وارث ہو گی، اگر آگے شادی کر لے تو وارث نہ ہو گی، ورنہ وہ دو خاوندوں کی وارث بنے گی گویا کہ اس نے شادی کی وجہ سے اپنا حق چھوڑ دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15129]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15130
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يُطَلِّقُ وَهُوَ مَرِيضٌ:" لَا نَزَالُ نُوَرِّثُهَا حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ تَتَزَوَّجَ وَإِنْ مَكَثَ سَنَةً" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ غَيْرُهُمْ: تَرِثُهُ مَا لَمْ تَنْقَضِ الْعِدَّةُ وَرَوَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے بیماری کی حالت میں طلاق دی کہ ہم اس کی بیوی کو اس کی تندرستی تک اس کا وارث بناتے یا وہ شادی کر لے اگرچہ ایک سال تک انتظار کرے۔
«قَالَ الشَّافِعِيُّ» ”شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:“ کہ دوسرے لوگوں نے کہا: عدت ختم نہ ہونے تک وہ وارث ہے، اور انہوں نے اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کیا ہے جس جیسی سند محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15130]
«قَالَ الشَّافِعِيُّ» ”شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:“ کہ دوسرے لوگوں نے کہا: عدت ختم نہ ہونے تک وہ وارث ہے، اور انہوں نے اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کیا ہے جس جیسی سند محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15130]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15131
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الَّذِي طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ قَالَ:" تَرِثُهُ فِي الْعِدَّةِ وَلَا يَرِثُهَا" وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مُغِيرَةُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِنَّمَا قَالَ: ذَكَرَ عُبَيْدَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَرَ، وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ ضَعِيفٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عُبَيْدَةُ إِلَى عُمَرَ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْهُ إِنَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ لَيْسَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٥٩٦⦘.
ابراہیم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے حالتِ مرض میں اپنی بیوی کو طلاق دی کہ عورت عدت میں مرد کی وارث ہو گی لیکن مرد عورت کا وارث نہ ہو گا۔
یہ روایت منقطع ہے، مغیرہ نے اسے ابراہیم سے نہیں سنا، بلکہ انہوں نے کہا: عبیدہ نے ابراہیم سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا، اور عبیدہ ضبی ضعیف ہے، اور یحییٰ قطان کی عبیدہ سے روایت میں عبیدہ نے اسے عمر تک نہیں پہنچایا، بلکہ اسے ابراہیم سے، اور شعبی سے، وہ شریح سے ذکر کیا ہے، اس میں عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15131]
یہ روایت منقطع ہے، مغیرہ نے اسے ابراہیم سے نہیں سنا، بلکہ انہوں نے کہا: عبیدہ نے ابراہیم سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا، اور عبیدہ ضبی ضعیف ہے، اور یحییٰ قطان کی عبیدہ سے روایت میں عبیدہ نے اسے عمر تک نہیں پہنچایا، بلکہ اسے ابراہیم سے، اور شعبی سے، وہ شریح سے ذکر کیا ہے، اس میں عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15131]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15132
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ قَالَ: قَالَ الرَّبِيعُ قَدِ اسْتَخَارَ اللهَ فِيهِ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ: لَا تَرِثُ الْمَبْتُوتَةُ، قَالَ الرَّبِيعُ: وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَلَّقَهَا عَلَى أَنَّهَا لَا تَرِثُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ عِنْدَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اللہ سے استخارہ کیا تو فرماتے ہیں کہ طلاقِ بتہ والی عورت وارث نہ ہوگی۔
(ب) ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی کہ وہ ان شاء اللہ اس کی وارث نہ ہوگی۔
(39) «بَابُ الشَّکِّ فِي الطَّلَاقِ وَمَنْ قَالَ لَا تَحْرُمُ إِلَّا بِيَقِينِ تَحْرِيمٍ» ”طلاق میں شک کا بیان اور جو کہتا ہے کہ عورت صرف یقین کی بنا پر حرام ہوتی ہے“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15132]
(ب) ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی کہ وہ ان شاء اللہ اس کی وارث نہ ہوگی۔
(39) «بَابُ الشَّکِّ فِي الطَّلَاقِ وَمَنْ قَالَ لَا تَحْرُمُ إِلَّا بِيَقِينِ تَحْرِيمٍ» ”طلاق میں شک کا بیان اور جو کہتا ہے کہ عورت صرف یقین کی بنا پر حرام ہوتی ہے“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15132]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15133
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ:" لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی گئی کہ آدمی کو خیال آتا ہے کہ اس نے حالت نماز میں کچھ محسوس کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نماز نہ چھوڑے یہاں تک کہ آواز یا بو کو محسوس کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15133]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15134
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي رَجُلٍ لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ ⦗٥٩٧⦘ فَطَلَّقَ إِحْدَاهُنَّ وَلَمْ يَدْرِ أَيَّتَهُنَّ طَلَّقَ، فَقَالَ:" يَنَالُهُنَّ مِنَ الطَّلَاقِ مَا يَنَالُهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أنا أَبُو بِشْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا. قَوْلُهُ: يَنَالُهُنَّ مِنَ الطَّلَاقِ مَا يَنَالُهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ يَقُولُ: لَوْ مَاتَ الرَّجُلُ وَقَدْ طَلَّقَ وَاحِدَةً لَا يَدْرِي أَيَّتَهُنَّ هِيَ فَإِنَّ الْمِيرَاثَ يَكُونُ بَيْنَهُنَّ جَمِيعًا يَعْنِي مَوْقُوفًا حَتَّى تُعْرَفَ بِعَيْنِهَا، كَذَلِكَ إِذَا طَلَّقَهَا وَلَمْ يَعْلَمْ أَيَّتَهُنَّ هِيَ فَإِنَّهُ يَعْتَزِلُهُنَّ جَمِيعًا إِذَا كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوعبید رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کی چار بیویاں تھیں، اس نے ایک کو طلاق دے دی، وہ جانتا نہ تھا کہ کس کو طلاق دی ہے تو فرماتے ہیں کہ «يَنَالُهُنَّ مِنَ الطَّلَاقِ مَا يَنَالُهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ» ”ان عورتوں کو طلاق میں وہی پہنچے گا جو انہیں وراثت میں پہنچتا ہے“ یعنی اگر آدمی فوت ہو جائے اور ایک بیوی کو طلاق دی تھی معلوم نہیں وہ کون سی تھی تو وراثت سب کو ملے گی جب تک طلاق والی بیوی متعین نہ ہو جائے، یا پھر ان تمام کو جدا کر دیا جائے گا جب تین طلاقیں ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15134]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3096. -- باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم
-- باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: Q15135
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَهْدِمُ الزَّوْجُ الْمُصِيبَهَا بَعْدَ الثَّلَاثِ وَلَا يَهْدِمُ الْوَاحِدَةَ وَلَا الثِّنْتَيْنِ وَاحْتَجَّ بِِمَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تین طلاقوں کے بعد اس سے ہمبستری کرنے والا (دوسرا) شوہر (پچھلی طلاقوں کو) ختم کر دیتا ہے، لیکن ایک یا دو طلاقوں کو ختم نہیں کرتا۔“ اور انہوں نے اس سے استدلال کیا جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q15135]
حدیث نمبر: 15135
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَنَكَحَتْ زَوْجًا ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا أَوْ طَلَّقَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى الزَّوْجِ الْأَوَّلِ، عَلَى كَمْ هِيَ عِنْدَهُ؟ قَالَ:" هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بحرین کے ایک شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دی تھیں، اس عورت نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لیا، وہ فوت ہو گیا یا اس نے طلاق دے دی۔ پھر وہ پہلے خاوند کی طرف واپس آ گئی تو اس کی کتنی طلاقیں باقی ہیں؟ فرمایا: جتنی طلاقیں پہلی مرتبہ بچی تھیں، وہی باقی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15135]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح