السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3063. -- باب: المختلعة لا يلحقها الطلاق
-- باب: اس بیان میں کہ خلع لینے والی عورت کو (بعد میں) طلاق لاحق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 14866
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمَا قَالَا: فِي الْمُخْتَلِعَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا قَالَا:" لَا يَلْزَمُهَا طَلَاقٌ لِأَنَّهُ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ.
حضرت عطاء رحمہ اللہ، عبداللہ بن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ دونوں نے اس خلع کرنے والی عورت کے بارے میں فرمایا جسے اس کا خاوند (خلع کے بعد) طلاق دے دے: اس پر طلاق لازم نہیں ہوتی؛ کیونکہ اس نے اسے طلاق دی جس کا وہ مالک ہی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14866]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ ⦗٥١٩⦘ رَحِمَهُ اللهُ: فَسَأَلْتُهُ يَعْنِي بَعْضَ مَنْ يُخَالِفُهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ هَلْ يَرْوِي فِي قَوْلِهِ خَبَرًا قَالَ: فَذَكَرَ حَدِيثًا لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ عِنْدَنَا وَلَا عِنْدَهُ فَقُلْتُ: هَذَا عِنْدَنَا وَعِنْدَكَ غَيْرُ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْ قَالَ بِهِ بَعْضُ التَّابِعِينَ سَمَّاهُمَا فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ لَهُ وَقَوْلُ بَعْضِ التَّابِعِينَ عِنْدَكَ لَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ لَوْ لَمْ يُخَالِفْهُمْ غَيْرُهُمْ، قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْخَبَرُ الَّذِي ذُكِرَ لَهُ فَلَمْ يَقَعْ لَنَا إِسْنَادُهُ بَعْدُ لِنَنْظُرَ فِيهِ، وَقَدْ طَلَبْتُهُ مِنْ كُتُبٍ كَثِيرَةٍ صُنِّفَتْ فِي الْحَدِيثِ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَلَعَلَّهُ أَرَادَ مَا رُوِيَ عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مِنْ قَوْلِهِ، وَفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ أَوْ مَا رُوِيَ عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے، یعنی اس مسئلہ میں ان سے اختلاف کرنے والے ایک شخص سے، پوچھا کہ کیا وہ اپنے قول کی تائید میں کوئی روایت بیان کرتا ہے؟ تو اس نے ایک ایسی حدیث ذکر کی جس جیسی روایت سے نہ ہمارے نزدیک دلیل قائم ہوتی ہے نہ اس کے نزدیک۔ میں نے کہا: یہ روایت ہمارے اور تمہارے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ اس نے کہا: بعض تابعین نے یہی کہا ہے، (امام شافعی رحمہ اللہ نے) کتاب القضاء بالیمین مع الشاہد میں ان دونوں کے نام لیے ہیں: شعبی اور ابراہیم نخعی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: بعض تابعین کے قول سے تو تمہارے نزدیک بھی دلیل قائم نہیں ہوتی، اگرچہ دوسرے ان کی مخالفت نہ بھی کریں۔
شیخ (بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: جو روایت اس کے سامنے ذکر کی گئی اس کی سند ابھی تک ہمیں نہیں ملی کہ ہم اس پر غور کریں، میں نے اسے حدیث کی بہت سی کتابوں میں تلاش کیا لیکن نہیں پایا۔ شاید اس کی مراد وہ روایت ہو جو فرج بن فضالہ سے ان کی سند کے ساتھ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور فرج بن فضالہ حدیث میں ضعیف ہیں، یا وہ روایت جو ایک مجہول شخص سے، ضحاک بن مزاحم سے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور وہ منقطع اور ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14867]
شیخ (بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: جو روایت اس کے سامنے ذکر کی گئی اس کی سند ابھی تک ہمیں نہیں ملی کہ ہم اس پر غور کریں، میں نے اسے حدیث کی بہت سی کتابوں میں تلاش کیا لیکن نہیں پایا۔ شاید اس کی مراد وہ روایت ہو جو فرج بن فضالہ سے ان کی سند کے ساتھ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور فرج بن فضالہ حدیث میں ضعیف ہیں، یا وہ روایت جو ایک مجہول شخص سے، ضحاک بن مزاحم سے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر مروی ہے، اور وہ منقطع اور ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14867]
3064. -- باب: ما يقع وما لا يقع على امرأته من طلاقه
-- باب: اس بیان میں کہ شوہر کی دی گئی طلاق میں سے عورت پر کیا واقع ہوتا ہے اور کیا واقع نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 14868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ رَمَضَانَ سِتَّةُ أَشْهُرٍ فَنَدِمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" يُطَلِّقُ وَاحِدَةً فَتَقْضِي عِدَّتَهَا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ رَمَضَانُ فَإِذَا مَضَى خَطَبَهَا إِنْ شَاءَ" وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِيمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ كَلَّمَ أَخَاهُ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَإِذَا بَانَتْ كَلَّمَ أَخَاهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا بَعْدُ إِنْ شَاءَ.
سیدنا مقسم رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا: جب رمضان آ گیا تو تجھے تین طلاقیں، اور رمضان کی آمد میں ابھی چھ ماہ باقی تھے، وہ پریشان ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ اپنی بیوی کو رمضان آنے سے پہلے ایک طلاق دے دے اور اس کی عدت گزر جائے اور رمضان گزر جانے کے بعد اگر چاہے تو نکاح کر لے
(ب) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی عورت سے کہا: اگر اس نے اپنے بھائی سے بات کی تو اس کو تین طلاقیں، اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کی عدت گزر جائے اور جب وہ جدا ہو جائے تو اپنے بھائی سے بات کر لے، اس کے بعد چاہے تو اپنی بیوی سے نکاح کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14868]
(ب) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی عورت سے کہا: اگر اس نے اپنے بھائی سے بات کی تو اس کو تین طلاقیں، اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کی عدت گزر جائے اور جب وہ جدا ہو جائے تو اپنے بھائی سے بات کر لے، اس کے بعد چاہے تو اپنی بیوی سے نکاح کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3065. -- باب: الطلاق قبل النكاح
-- باب: نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ⦗٥٢٠⦘ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ".
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14869]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ مَطَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ نا مُسْلِمٌ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ نا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ نا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا طَلَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقَ إِلَّا فِيمَا يَمْلِكُ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ: لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملکیت کے بغیر طلاق نہیں اور نہ ہی آزادی ہے۔“
(ب) ابن ابی عروبہ (رحمہ اللہ) کی روایت میں ہے کہ ”انسان جس کا مالک نہیں اس کو طلاق نہیں دے سکتا اور جو چیز اس کی ملکیت میں نہیں اسے فروخت نہیں کر سکتا اور ملکیت کے بغیر غلام آزاد نہیں کر سکتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14870]
(ب) ابن ابی عروبہ (رحمہ اللہ) کی روایت میں ہے کہ ”انسان جس کا مالک نہیں اس کو طلاق نہیں دے سکتا اور جو چیز اس کی ملکیت میں نہیں اسے فروخت نہیں کر سکتا اور ملکیت کے بغیر غلام آزاد نہیں کر سکتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14870]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14871
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"" لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ وَلَا عِتْقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ"" رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ بَعْضُهُمُ قَالَ: عَنْ جَدِّهِ كَمَا قَالَ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ وَبَعْضُهُمْ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو كَمَا قَالَ حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ⦗٥٢٢⦘.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق نکاح کے بعد ہے اور آزادی ملکیت کے بعد۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14871]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الطلسيالسي 2379»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14872
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ثِقَةٌ.
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14872]
حدیث نمبر: 14873
سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ، يَقُولُ: إِذَا كَانَ الرَّاوِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ثِقَةٌ فَهُوَ كَأَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو تو وہ (سند) ایسی ہی ہے جیسے ایوب عن نافع عن ابن عمر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14873]
حدیث نمبر: 14874
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَبُو إِبْرَاهِيمَ السَّهْمِيُّ الْقُرَشِيُّ سَمِعَ أَبَاهُ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَطَاوُسًا رَوَى عَنْهُ أَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَالزُّهْرِيُّ وَالْحَكَمُ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ مُعْتَمِرًا يَقُولُ: قَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ: كَانَ قَتَادَةُ وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ لَا يُعَابُ عَلَيْهِمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَسْمِعَانِ شَيْئًا إِلَّا حَدَّثَا بِهِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَأَيْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَعَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَالْحُمَيْدِيَّ وَإِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عاص، ابو ابراہیم سہمی قرشی، نے اپنے والد، سعید بن مسیب اور طاؤس سے سماع کیا ہے، اور ان سے ایوب، ابن جریج، عطاء بن ابی رباح، زہری، حکم، یحییٰ بن سعید اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احمد بن سلیمان نے کہا: میں نے معتمر کو کہتے سنا کہ ابو عمرو بن علاء نے کہا: قتادہ اور عمرو بن شعیب پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا، سوائے اس کے کہ وہ جو کچھ سنتے اسے بیان کر دیتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل، علی بن عبداللہ، حمیدی اور اسحاق بن ابراہیم کو دیکھا کہ وہ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی حدیث سے دلیل پکڑتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14874]
حدیث نمبر: 14875
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيَّ يَقُولُ: قَدْ صَحَّ سَمَاعُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مِنْ أَبِيهِ شُعَيْبٍ وَسَمَاعُ شُعَيْبٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ فِي بَابِ وَطْءِ الْمُحْرِمِ وَفِي كِتَابِ الْبُيُوعِ فِي كِتَابِ الْخِيَارِ مَا دَلَّ عَلَى سَمَاعِ شُعَيْبٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ إِذَا قِيلَ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، فَإِنَّهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أُرِيدَ عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ فَيَكُونُ الْخَبَرُ مُرْسَلًا، وَإِذَا قَالَ الرَّاوِي عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو زَالَ الْإِشْكَالُ وَصَارَ الْحَدِيثُ مَوْصُولًا وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ.
ابوبکر نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب کا اپنے والد شعیب سے سماع اور شعیب کا اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع صحیح ثابت ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب الحج کے باب وطء المحرم میں اور کتاب البیوع کی کتاب الخیار میں وہ بات گزر چکی ہے جو شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع پر دلالت کرتی ہے، البتہ جب یہ کہا جائے: عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ، تو ممکن ہے کہ اس سے مراد ان کے دادا محمد بن عبداللہ بن عمرو ہوں، اور محمد بن عبداللہ کو صحبت حاصل نہیں، تو روایت مرسل ہو گی، اور جب راوی کہے: عن جدہ عبداللہ بن عمرو، تو اشکال ختم ہو جاتا ہے اور حدیث موصول ہو جاتی ہے، واللہ اعلم۔ یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14875]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب الحج کے باب وطء المحرم میں اور کتاب البیوع کی کتاب الخیار میں وہ بات گزر چکی ہے جو شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع پر دلالت کرتی ہے، البتہ جب یہ کہا جائے: عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ، تو ممکن ہے کہ اس سے مراد ان کے دادا محمد بن عبداللہ بن عمرو ہوں، اور محمد بن عبداللہ کو صحبت حاصل نہیں، تو روایت مرسل ہو گی، اور جب راوی کہے: عن جدہ عبداللہ بن عمرو، تو اشکال ختم ہو جاتا ہے اور حدیث موصول ہو جاتی ہے، واللہ اعلم۔ یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14875]