السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3116. -- باب: لا ظهار قبل نكاح
-- باب: اس بیان میں کہ نکاح سے پہلے ظہار نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 15252
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَةً إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا قَالَ: فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: إِنَّ رَجُلًا جَعَلَ عَلَيْهِ امْرَأَةً كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ هُوَ تَزَوَّجَهَا فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَلَا يَقْرَبُهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ" هَذَا مُنْقَطِعٌ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت کو اپنی ماں کی مانند کہہ دیا، اگر اس نے اس عورت سے شادی کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس عورت سے شادی کر لے لیکن ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔
یہ روایت منقطع ہے، قاسم بن محمد نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15252]
یہ روایت منقطع ہے، قاسم بن محمد نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15252]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3117. -- باب: الرجل يظاهر من أربع نسوة له بكلمة واحدة
-- باب: اس شخص کا بیان جو ایک ہی کلمے کے ساتھ اپنی چاروں بیویوں سے ظہار کر لے۔
حدیث نمبر: 15253
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَبُو الْأَزْهَرِ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ بِكَلِمَةٍ قَالَ:" كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ" ⦗٦٣١⦘ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی چار عورتوں سے ایک کلمہ کے ذریعے ظہار کیا، فرماتے ہیں: اس کے ذمے ایک ہی کفارہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15253]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15254
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، نا السَّاجِيُّ، نا ابْنُ الْمُثَنَّى، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، وَعَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، سَمِعَا عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنْ ثَلَاثِ نِسْوَةٍ، قَالَ:" عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ" وَبِهِ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَرَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ وَقَالَ فِي الْجَدِيدِ: عَلَيْهِ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَفَّارَةٌ وَهُوَ رِوَايَةُ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَبِهِ قَالَ الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی تین عورتوں سے ظہار کیا، وہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمے ایک ہی کفارہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15254]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3118. -- باب: المظاهر الذي تلزمه الكفارة
-- باب: اس ظہار کرنے والے کا بیان جس پر کفارہ لازم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: Q15255
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} الْآيَةَ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”اور جو لوگ تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرتے ہیں، تو ان کے ذمے ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک گردن (غلام) آزاد کرنا ہے۔“ (الآیۃ) [سورة المجادلة: 3] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: Q15255]
حدیث نمبر: 15255
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: الَّذِي حَفِظْتُ مِمَّا سَمِعْتُ فِي {يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا} [المجادلة: ٣] أَنَّ" الْمُظَاهِرَ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ بِالظِّهَارِ فَإِذَا أَتَتْ عَلَيْهِ مُدَّةٌ بَعْدَ الْقَوْلِ بِالظِّهَارِ لَمْ يُحَرِّمْهَا بِالطَّلَاقِ الَّذِي تُحَرَّمُ بِهِ وَلَا بِشَيْءٍ يَكُونُ لَهُ مَخْرَجٌ مِنْ أَنْ تُحَرَّمَ بِهِ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ كَفَّارَةُ الظِّهَارِ، كَأَنَّهُمْ يَذْهَبُونَ إِلَى أَنَّهُ إِذَا أَمْسَكَ مَا حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ حَلَالٌ فَقَدْ عَادَ لِمَا قَالَ مُخَالَفَةٌ، فَأَحَلَّ مَا حَرَّمَ" قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ لَهُ مَعْنًى أَوْلَى بِهِ مِنْ هَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا أَعْلَمُ مُخَالِفًا فِي أَنَّ عَلَيْهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ وَإِنْ لَمْ يَعُدْ بِتَظَاهُرٍ آخَرَ فَلَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ مَا لَمْ أَعْلَمْ مُخَالِفًا فِي أَنَّهُ لَيْسَ بِمَعْنَى الْآيَةِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا﴾ [سورة المجادلة: 3] کے بارے میں جو میں نے سنا اور یاد رکھا (وہ یہ ہے) کہ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کو ظہار کی بنا پر حرام کر لیتا ہے، پس جب ظہار کہنے کے بعد اس پر اتنا وقت گزر جائے کہ اس نے اسے اس طلاق کے ذریعے حرام نہ کیا جس سے وہ حرام ہو جاتی ہے، اور نہ کسی ایسی چیز کے ذریعے جو اس کے لیے اس حرمت سے نکلنے کا راستہ ہو، تو اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہو گیا۔ گویا ان کا موقف یہ ہے کہ جب اس نے اس چیز کو حلال سمجھ کر روکے رکھا جسے اس نے اپنے اوپر حرام کیا تھا، تو وہ اپنی کہی ہوئی بات کی مخالفت کرتے ہوئے اس سے پھر گیا اور جو حرام ٹھہرایا تھا اسے حلال کر لیا۔ فرماتے ہیں: مجھے اس کا اس سے زیادہ مناسب کوئی معنی معلوم نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم میں کوئی اس بات کا مخالف نہیں کہ اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہے اگرچہ وہ دوسرا ظہار نہ کرے، لہٰذا ایسی بات کہنا جائز نہیں جس کے بارے میں میرے علم میں کوئی مخالف نہیں کہ وہ آیت کا معنی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15255]
حدیث نمبر: 15256
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيُّ قَالَ: كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ دُلَيْجٍ تَحْتَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ سَيِّئَ الْخُلُقِ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَقِيرًا وَكَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ قَالَ لَهَا: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَنَازَعَتْهُ فِي بَعْضِ الشَّيْءِ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وَكَانَ لَهُ عَيِّلٌ أَوْ عَيِّلَانِ، فَلَمَّا سَمِعَتْهُ يَقُولُ مَا قَالَ احْتَمَلَتْ صِبْيَانَهَا فَانْطَلَقَتْ تَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَتْهُ عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي بَيْتِهَا وَإِذَا عَائِشَةُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَوْجِي فَقِيرٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ سَيِّئُ الْخُلُقِ وَإِنِّي نَازَعْتُهُ فِي شَيْءٍ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وَلَمْ يُرِدِ الطَّلَاقَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" مَا أَعْلَمُ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيْهِ" قَالَ: فَاسْتَكَانَتْ وَقَالَتْ: أَشْتَكِي إِلَى اللهِ مَا نَزَلَ بِي وَبِصِبْيَتِي قَالَ: وَتَحَوَّلَتْ عَائِشَةُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِهِ الْآخَرَ فَتَحَوَّلَتْ مَعَهَا فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَتْ: وَلِي مِنْهُ عَيِّلٌ أَوْ عَيِّلَانِ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ:" مَا أَعْلَمُ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيْهِ"، فَبَكَتْ وَقَالَتْ: أَشْتَكِي إِلَى اللهِ مَا ⦗٦٣٣⦘ نَزَلَ بِي وَبِصِبْيَتِي، وَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَرَاءَكِ فَتَنَحَّتْ وَمَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَيْنَ الْمَرْأَةُ؟" قَالَتْ: هَا هِيَ هَذِهِ قَالَ:" ادْعِيهَا" فَدَعَتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبِي فَجِيئِي بِزَوْجِكِ" قَالَ: فَانْطَلَقَتْ تَسْعَى فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ جَاءَتْ بِهِ فَأَدْخَلَتْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ كَمَا قَالَتْ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَقِيرٌ، سَيِّئُ الْخُلُقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْتَعِيذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللهِ} [المجادلة: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَجِدُ عِتْقَ رَقَبَةٍ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" أَفَتَسْتَطِيعُ صَوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ لَهُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِذَا لَمْ آكُلِ الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ وَالثَّلَاثَ يَكَادُ أَنْ يَغْشُوَ بَصَرِي قَالَ:" فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي فِيهَا، قَالَ: فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّرَ يَمِينَهُ هَذَا مُرْسَلٌ وَلَكِنْ لَهُ شَوَاهِدُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوالعالیہ ریاحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خولہ بنت دلیج ایک انصاری شخص کے نکاح میں تھیں جو بدخلق، نابینا اور فقیر تھا۔ دورِ جاہلیت میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جدائی چاہتا تو اس سے کہہ دیتا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ خولہ کا کسی بات پر اس سے جھگڑا ہوا تو اس نے کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، اور اس کے ایک یا دو بچے تھے۔ جب انہوں نے اس کی یہ بات سنی تو اپنے بچوں کو اٹھایا اور دوڑتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پایا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی ایک جانب دھو رہی تھیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑی ہو گئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خاوند فقیر، نابینا اور بدخلق ہے، میرا کسی بات پر اس سے جھگڑا ہوا تو اس نے کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، اور اس نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں تو یہی جانتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔“ وہ عاجز ہو گئیں اور کہنے لگیں: میں اللہ سے اس مصیبت کی شکایت کرتی ہوں جو مجھ پر اور میرے بچوں پر آن پڑی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سر مبارک کی دوسری جانب دھونے کے لیے پھریں تو وہ بھی ان کے ساتھ پھر گئیں اور ویسی ہی بات کہی، اور کہا: میرے اس سے ایک یا دو بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں تو یہی جانتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔“ وہ رو پڑیں اور کہا: میں اللہ سے اس مصیبت کی شکایت کرتی ہوں جو مجھ پر اور میرے بچوں پر آن پڑی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بدل گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پیچھے ہٹ جاؤ، تو وہ ایک طرف ہٹ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک اللہ نے چاہا اسی حالت میں رہے، پھر وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ عورت کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بلاؤ۔“ انہوں نے اسے بلایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اپنے خاوند کو لے آؤ۔“ وہ دوڑتی ہوئی گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں اسے لے آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں، تو وہ ویسا ہی تھا جیسا انہوں نے کہا تھا: نابینا، فقیر اور بدخلق۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سننے والے، جاننے والے (اللہ) کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، بسم اللہ الرحمن الرحیم: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة المجادلة: 1] “ آیت کے آخر تک۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! جب میں ایک، دو یا تین مرتبہ نہ کھاؤں تو قریب ہوتا ہے کہ میری نظر جاتی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، الا یہ کہ آپ اس میں میری مدد فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوایا اور اس نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15256]
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15256]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3119. -- باب: لا يقربها حتى يكفر
-- باب: اس بیان میں کہ جب تک وہ کفارہ ادا نہ کر دے اس (بیوی) کے قریب نہ جائے۔
حدیث نمبر: Q15257
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: 3] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِذَا كَانَتِ الْمُمَاسَّةُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ فَذَهَبَ الْوَقْتُ لَمْ تَبْطُلِ الْكَفَّارَةُ وَلَمْ نَزِدْ عَلَيْهِ فِيهَا كَمَا يُقَالُ لَهُ أَدِّ الصَّلَاةَ فِي وَقْتِ كَذَا وَقَبْلَ وَقْتِ كَذَا فَيَذْهَبُ الْوَقْتُ فَيُؤَدِّيهَا لِأَنَّهَا فَرْضٌ عَلَيْهِ، وَلَا يُقَالُ لَهُ زِدْ فِيهَا لِذَهَابِ الْوَقْتِ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔“ [سورة المجادلة: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اگر ہمبستری کفارہ سے پہلے ہو جائے اور (کفارہ کا) وقت گزر جائے تو کفارہ باطل نہیں ہوگا، اور ہم اس پر اس (کفارے) میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے، جیسے کسی سے کہا جائے کہ فلاں وقت میں اور فلاں وقت سے پہلے نماز ادا کرو، پھر وقت گزر جائے تو وہ اسے (بعد میں) ادا کرے گا، کیونکہ وہ اس پر فرض ہے، اور اس سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وقت گزر جانے کی وجہ سے اس میں اضافہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: Q15257]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اگر ہمبستری کفارہ سے پہلے ہو جائے اور (کفارہ کا) وقت گزر جائے تو کفارہ باطل نہیں ہوگا، اور ہم اس پر اس (کفارے) میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے، جیسے کسی سے کہا جائے کہ فلاں وقت میں اور فلاں وقت سے پہلے نماز ادا کرو، پھر وقت گزر جائے تو وہ اسے (بعد میں) ادا کرے گا، کیونکہ وہ اس پر فرض ہے، اور اس سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وقت گزر جانے کی وجہ سے اس میں اضافہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: Q15257]
حدیث نمبر: 15257
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لَا أَرَى رَجُلًا كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُهُ، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَكُشِفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي فَقُلْتُ لَهُمْ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ، إِذًا يَنْزِلُ فِينَا مِنَ اللهِ كِتَابٌ أَوْ يَكُونُ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلٌ فَيَبْقَى عَارُهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ بِجَرِيرَتِكَ فَاذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتَهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ بِذَلِكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَنَا بِذَلِكَ وَهَذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللهِ عَلَيَّ قَالَ:" فَأَعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَ: ⦗٦٣٤⦘ قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي هَذِهِ، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَهَلْ دَخَلَ عَلَيَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلَاءِ إِلَّا بِالصَّوْمِ؟ قَالَ:" فَتَصَدَّقْ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا مِنْ عَشَاءٍ، قَالَ:" فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا".
سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایسا آدمی تھا جو عورتوں کی بہت زیادہ خواہش رکھتا تھا، میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جو اس کام میں مبتلا ہوتا ہو جس میں میں مبتلا تھا (یعنی شہوت میں)۔ جب رمضان شروع ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا یہاں تک کہ رمضان گزر جائے۔ ایک رات وہ میرے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ اس کے جسم سے کپڑا ہٹ گیا تو میں اس کے ساتھ ہم بستر ہو گیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اپنی قوم کو بتایا، میں نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہم یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ یا تو قرآن ہمارے بارے میں نازل ہو جائے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات کہہ دیں گے جو ہمارے لیے باعثِ عار رہے گی، لیکن ہم تمہیں تمہارے حال پر چھوڑتے ہیں، تم خود جا کر اپنی حالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرو۔ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم وہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہی ہوں، اور میں اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صبر کرنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں تو صرف اپنی اس گردن کا ہی مالک ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلسل دو مہینے کے روزے رکھو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مصیبت میرے اوپر روزوں کی وجہ سے ہی تو آئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، گزشتہ رات ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بنو زریق کے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہنا کہ وہ تمہیں صدقہ دے دے، پھر تم اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا کر باقی سے خود فائدہ اٹھانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15257]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15258
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، نا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ:" كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ".
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ظہار کرنے والا کفارہ ادا کرنے سے پہلے بیوی پر واقع ہو جائے تو اسے ایک ہی کفارہ دینا پڑے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15258]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15259
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ بَكْرٍ مُحَمَّدٌ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ نا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، نا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ:" وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟" قَالَ: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ قَالَ:" فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو اپنی بیوی سے ظہار کرنے کے بعد اس پر واقع ہوگیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس پر واقع ہوگیا ہوں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ آپ پر رحم فرمائے، کس چیز نے آپ کو ابھارا؟“ اس نے کہا: ”میں نے چاندنی رات میں اس کی پازیب کو دیکھ لیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے قریب نہ جانا، جب تک اللہ کا حکم پورا نہ کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15259]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح