السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3121. -- باب: إعتاق الخرساء إذا أشارت بالإيمان وصلت
-- باب: گونگی لونڈی کو آزاد کرنے کا بیان جب وہ ایمان کا اشارہ کرے اور نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 15269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، نا أَبُو مَعْدَانَ الْمِنْقَرِيُّ يَعْنِي عَامِرَ بْنَ مَسْعُودٍ، نا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ عَنِّي هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَبُّكِ؟" قَالَتْ: اللهُ رَبِّي قَالَ:" فَمَا دِينُكِ؟" قَالَتْ: الْإِسْلَامُ قَالَ:" فَمَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ قَالَ:" فَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ، وَتُقِرِّينَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَضَرَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهَا وقَالَ:" أَعْتِقِيهَا".
عون بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے دادا رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیاہ لونڈی لے کر آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ذمے مومنہ گردن کا آزاد کرنا ہے، کیا یہ میری جانب سے کفایت کر جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تیرا رب کون ہے؟“ کہنے لگی: میرا رب اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرا دین کیا ہے؟“ اس نے کہا: اسلام۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پانچ نمازیں پڑھتی ہے اور تو اقرار کرتی ہے جو میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر پر مارا اور فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15269]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3122. -- باب: وصف الإسلام
-- باب: اسلام کی صفت (علامات و خصوصیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 15270
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى ⦗٦٣٨⦘ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جب وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئیں تو انہوں نے اپنی جانیں مجھ سے بچا لیں مگر اسلام کے حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15270]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2946»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15271
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَأُعْتِقُ هَذِهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَعْتِقْهَا" هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ مَضَى مَوْصُولًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری اپنی سیاہ لونڈی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ذمے ایک مومنہ گردن آزاد کرنا ہے، کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا: ”کیا تو شہادت دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس لونڈی نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو شہادت دیتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ اس لونڈی نے اثبات میں جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرا مرنے کے بعد اٹھنے پر یقین ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے کچھ معنی کے ساتھ یہ موصول (متصل سند سے) پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15271]
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے کچھ معنی کے ساتھ یہ موصول (متصل سند سے) پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15271]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15272
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ الضُّبَعِيُّ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ إِلِيَّ أَنْ أَعْتِقْ عَنْهَا رَقَبَةً وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً سَوْدَاءَ نُوبِيَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُ بِهَا" فَقَالَ:" مَنْ رَبُّكِ؟" قَالَتْ: اللهُ، قَالَ:" فَمَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: رَسُولُ اللهِ قَالَ:" أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ نے اپنی جانب سے ایک گردن آزاد کرنے کی نصیحت فرمائی تھی۔ میرے پاس ایک سیاہ لونڈی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بلاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرا رب کون ہے؟“ اس لونڈی نے کہا: اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: اللہ کے رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد کر دو یہ مومنہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15272]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3123. -- باب: لا تجزي في رقبة واجبة رقبة تشترى بشرط أن تعتق
-- باب: اس بیان میں کہ واجب گردن (غلام آزاد کرنے) میں وہ غلام کفایت نہیں کرتا جسے اس شرط پر خریدا جائے کہ وہ آزاد کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15273
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ، فَقِيلَ لَهُ هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ قَالَ:" لَا".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے واجبی گردن کے آزاد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا اور ان سے کہا گیا: کیا اس شرط پر لی جائے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15273]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3124. -- باب: من له الكفارة بالصيام
-- باب: اس شخص کا بیان جس کے لیے روزے کے ذریعے کفارہ ادا کرنا ہے۔
حدیث نمبر: Q15274
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا}.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک گردن (غلام) آزاد کرنا ہے، پھر جو (غلام) نہ پائے تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا ہے۔“ [سورة المجادلة: 3-4] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: Q15274]
حدیث نمبر: 15274
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ، وَالْوَلِيدُ قَالَا: نا أَبُو مَسْعُودٍ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُوَيْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ وَكَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ فَكَلَّمَنِي بِشَيْءٍ وَهُوَ فِيهِ كَالضَّجْرِ فَرَادَدْتُهُ فَغَضِبَ، وَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نَادِي قَوْمِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ فَرَاوَدَنِي عَلَى نَفْسِي فَأَبَيْتُ فَشَادَّنِي فَشَادَدْتُهُ فَغَلَبْتُهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ الضَّعِيفَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ لَا تَصِلُ إِلِيَّ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ فِيَّ وَفِيكَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ فَقَالَ:" زَوْجُكِ وَابْنُ عَمِّكِ اتَّقِي اللهَ وَأَحْسِنِي صُحْبَتَهُ"، قَالَتْ: فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] إِلَى الْكَفَّارَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَتْ: وَاللهِ مَا عِنْدَهُ رَقَبَةٌ يَمْلِكُهَا قَالَ:" فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ:" فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُطْعِمُ، قَالَ:" بَلَى سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ" وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ يَسَعُ فِيهِ ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنَ التَّمْرِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتِ، مُرِيهِ فَلْيَتَصَدَّقْ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا، جو اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے، نے بیان کیا کہ اوس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو کچھ بات چیت ہوئی، جس کی وجہ سے وہ کبیدہ خاطر ہوئے۔ میں نے بھی جواب دیا تو انہوں نے غصہ میں کہہ دیا: ”تو میرے لیے میری ماں کی مانند ہے۔“ پھر وہ اپنی قوم کی مجلس میں گئے، جب واپس پلٹ کر آئے تو انہوں نے مجھے اپنے نفس کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تو میں نے انکار کردیا، انہوں نے میرے اوپر سختی کی تو میں نے بھی سخت مقابلہ کیا، میں جھگڑے میں ان پر غالب آگئی، جیسے عورتیں کمزور آدمی پر غلبہ پا لیتی ہیں، فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! خویلہ کا نفس اس کے قابو میں ہے، تو میرے قریب نہیں آسکتا جب تک میرے اور تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ نہ فرما دے۔“ میں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا خاوند تیرے چچا کا بیٹا ہے، اللہ سے ڈر اور اس سے اچھا سلوک کر۔“ کہتی ہیں: میں ابھی گئی نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کہو کہ گردن آزاد کرے۔“ خولہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اللہ کی قسم! وہ کسی گردن کا مالک ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بوڑھا آدمی ہے، روزوں کی طاقت کہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے پاس کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس کی ایک «عَرَق» ”ٹوکرے“ سے مدد کردیتے ہیں۔“
«عَرَق» اس ٹوکرے کو کہتے ہیں جس میں تیس صاع کھجوریں ہوں۔ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک ٹوکرے سے میں بھی اس کی مدد کردوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، اس کو کہو کہ وہ صدقہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15274]
«عَرَق» اس ٹوکرے کو کہتے ہیں جس میں تیس صاع کھجوریں ہوں۔ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک ٹوکرے سے میں بھی اس کی مدد کردوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، اس کو کہو کہ وہ صدقہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15274]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3125. -- باب: من دخل في الصوم ثم أيسر
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے روزے رکھنا شروع کر دیے اور پھر وہ مالدار (صاحبِ وسعت) ہو گیا۔
حدیث نمبر: 15275
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ:" السُّنَّةُ فِيمَنْ صَامَ مِنَ الشَّهْرَيْنِ ثُمَّ أَيْسَرَ أَنْ يُمْضِيَ وَاللهُ أَعْلَمُ".
ابن ابی ذئب، ابن شہاب رحمہما اللہ فرماتے ہیں: سنت طریقہ یہ ہے کہ جس نے روزے رکھنے شروع کر دیے وہ مکمل کرے، اگرچہ مالدار بھی ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15275]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3126. -- باب: من له الكفارة بالإطعام
-- باب: اس شخص کا بیان جس کے لیے کھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 15276
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ خُوَيْلَةَ بِنْتَ ثَعْلَبَةَ، كَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ فَتَظَاهَرَ مِنْهَا وَكَانَ بِهِ لَمَمٌ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أَوْسًا تَظَاهَرَ مِنِّي، وَذَكَرَتْ أَنَّ بِهِ لَمَمًا فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لَهُ إِنَّ لَهُ فِيَّ مَنَافِعَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا الْقُرْآنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً"، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدَهُ رَقَبَةٌ وَلَا يَمْلِكُهَا، فَقَالَ:" مُرِيهِ فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ كَلَّفْتَهُ ثَلَاثَةَ ⦗٦٤٠⦘ أَيَّامٍ مَا اسْتَطَاعَ وَكَانَ الْحَرُّ، فَقَالَ:" مُرِيهِ فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ قَالَ:" مُرِيهِ فَلْيَذْهَبْ إِلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَهُ شَطْرَ تَمْرٍ صَدَقَةٍ فَلْيَأْخُذْهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ ثُمَّ لِيَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا" هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ شَاهِدٌ لِلْمَوْصُولِ قَبْلَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا، اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اوس رضی اللہ عنہ نے ظہار کر لیا اور اوس رضی اللہ عنہ کو دیوانگی کی بیماری تھی، خویلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہنے لگیں کہ اوس نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے اور ان کی بیماری کا بھی تذکرہ کیا اور کہنے لگیں کہ میں آپ کے پاس آئی ہوں تاکہ اس پر شفقت کی جائے۔ کیونکہ اس کو مجھ سے بہت سارے فائدے ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن نازل فرما دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کہو کہ وہ ایک گردن آزاد کر دے۔“ اس نے کہا: نہ تو اس کے پاس غلام ہے اور نہ ہی وہ کسی کا مالک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کا کہہ دو۔“ وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! اگر آپ اسے تین ایام کا مکلف ٹھہرائیں تو وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا اور گرمی کا موسم تھا۔ فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا کہہ دو۔“ اس نے کہا: وہ اس پر بھی قادر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں بن فلاں کے پاس جا کر صدقہ والی کھجوروں کا ایک ٹوکرا وصول کر کے ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اپنے سے پہلے والی موصول روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15276]
یہ روایت مرسل ہے اور اپنے سے پہلے والی موصول روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15276]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3127. -- باب: لا يجزي أن يطعم أقل من ستين مسكينا كل مسكين مدا من طعام بلده
-- باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
حدیث نمبر: 15277
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الرِّيَاحِيُّ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، وَأَبِي سَلَمَةَ أَنَّ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمُنَتِ الْمَرْأَةُ وَتَرَبَّعَتْ فَأَعْجَبَتْهُ فَغَشِيَهَا لَيْلًا ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" فَقَالَ: لَا أَجِدُ فَقَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: لَا أَجِدُ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان اور ابو سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کر لیا، جب نصف رمضان گزر گیا اور عورت موٹی تازی اور خوش حال ہو گئی تو سلمہ رضی اللہ عنہ کو اچھی لگی اور وہ رات کے وقت اس پر واقع ہو گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کرو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ لو۔“ کہتے ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں ١٥ یا ١٦ صاع کھجور تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15277]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره