🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3119. -- باب: لا يقربها حتى يكفر
-- باب: اس بیان میں کہ جب تک وہ کفارہ ادا نہ کر دے اس (بیوی) کے قریب نہ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15260
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُرَيْثِ أنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى هَذَا وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ كُلَيْبٍ قَاضِي عَدَنَ عَنِ الْحَكَمِ مَوْصُولًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث نقل فرماتے ہیں۔
سعید بن کلیب قاضی عدن نے بھی اسے حکم سے اسی معنی کے ساتھ موصول (متصل سند سے) روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15260]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15261
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ قَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟" قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ قَالَ:" فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ عَنْكَ".
حکم بن ابان حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے ظہار کر لینے کے بعد کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس پر واقع ہو گیا۔ پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا؟“ اس نے کہا: میں نے چاندنی رات میں اس کی سفید پنڈلی کو دیکھ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کفارہ ادا کرنے تک اس سے جدا رہنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15261]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15262
قَالَ: وَنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ، نا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرِ السَّاقَ ⦗٦٣٥⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْحَكَمِ مُرْسَلًا وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا.
حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں اور عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، لیکن انہوں نے پنڈلی کا تذکرہ نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15262]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15263
أَخْبَرَنَاه أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَوَقَعْتُ بِهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ:" وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟" قَالَ: أَبْدَى لِيَ الْقَمَرُ خَلْخَالَيْهَا فَوَقَعْتُ بِهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ:" كُفَّ عَنْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ".
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے بیوی سے ظہار کے بعد کفارہ ادا کرنے سے پہلے مجامعت کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا؟“ اس نے کہا: چاندنی رات میں اس کے پازیب ظاہر ہوئے تو میں کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس پر واقع ہو گیا۔ فرمایا: ”کفارہ ادا کرنے تک بیوی سے رک جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15263]
تخریج الحدیث: «صحيح تقدم»

الحكم على الحديث: صحيح تقدم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15264
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هِشَامٍ الْوَرَّاقُ الْأَحْمَرِيُّ الْكُوفِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَرَأَيْتُ بَيَاضَ خَلْخَالِهَا فِي الْقَمَرِ فَأَعْجَبَنِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا قَالَ:" أَوَ مَا قَالَ اللهُ: {مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: ٣] ؟" قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" أَمْسِكْ عَنْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ".
طاؤس حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بیوی سے ظہار کیا تو چاندنی رات میں میں نے اس کے پازیب دیکھے اور مجھے اچھی لگی تو میں بیوی پر واقع ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ نے نہ فرمایا تھا: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ [سورة المجادلة: 3] ؟“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو ایسا کر لیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کفارہ ادا کرنے تک اس سے رک جا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15264]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15265
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ".
ابن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے بیوی سے ظہار کر کے کفارہ ادا کرنے سے پہلے طلاق دے دی، اس کے بعد پھر شادی کر لی تو کفارہ ادا کرنے سے پہلے بیوی کے قریب نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15265]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3120. -- باب: عتق المؤمنة في الظهار
-- باب: ظہار (کے کفارے) میں مومن لونڈی کو آزاد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15266
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يُجْزِيهِ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي الْقَتْلِ: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92] ، فَكَانَ شَرْطُ اللهِ تَعَالَى فِي رَقَبَةِ الْقَتْلِ إِذَا كَانَ كَفَّارَةً كَالدَّلِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ لَا تَجْزِيَ رَقَبَةٌ فِي كَفَّارَةٍ إِلَّا مُؤْمِنَةً كَمَا شَرَطَ اللهُ الْعَدْلَ فِي الشَّهَادَةِ فِي مَوْضِعَيْنِ، وَأَطْلَقَ الشُّهُودَ فِي ثَلَاثَةِ مَوَاضِعَ، فَلَمَّا كَانَتْ شَهَادَةٌ كُلُّهَا اسْتَدْلَلْنَا عَلَى أَنَّ مَا أَطْلَقَ مِنَ الشَّهَادَاتِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَى مِثْلِ مَعْنَى مَا شَرَطَ، قَالَ: وَإِنَّمَا رَدَّ اللهُ أَمْوَالَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ لَا عَلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: وَأَحَبُّ لَهُ أَنْ لَا يُعْتِقَ إِلَّا بَالِغَةً مُؤْمِنَةً وَإِنْ كَانَتْ أَعْجَمِيَّةً فَوَصَفَتِ الْإِسْلَامَ أَجْزَأَتْهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اسے (کفارۂ ظہار میں) دینِ اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر قائم گردن (غلام) کو آزاد کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ قتل (کے کفارے) کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ ”تو ایک مومن گردن (غلام) آزاد کرنا ہے۔“ [سورة النساء: 92]
تو قتل کے کفارے کی گردن میں اللہ تعالیٰ کی (ایمان کی) شرط، جبکہ وہ کفارہ ہو، گویا اس بات کی دلیل ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کہ کسی بھی کفارے میں مومن کے سوا کوئی گردن کافی نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دو مقامات پر گواہی میں عدالت کی شرط لگائی ہے اور تین مقامات پر گواہوں کو مطلق ذکر کیا ہے، تو جب یہ سب گواہیاں ہی ہیں تو ہم نے اس سے استدلال کیا کہ جن گواہیوں کو مطلق ذکر کیا گیا ہے وہ ان شاء اللہ اسی معنی پر ہیں جس کی شرط لگائی گئی ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اموال مسلمانوں ہی کو لوٹائے ہیں، مشرکین کو نہیں۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور میں اس کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ صرف بالغ مومن (لونڈی) ہی آزاد کرے، اور اگر وہ عجمی ہو اور اسلام (کے عقائد) بیان کر دے تو (اس کا آزاد کرنا) اسے کافی ہو جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: Q15266]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15266
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ اللهُ؟" فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، فَقَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ:" فَأَعْتِقْهَا" فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَشْيَاءُ كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ"، فَقَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا نَتَطَيَّرُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلَا يَضُرَّنَّكُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: اسْمُ الرَّجُلِ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ، كَذَا رَوَى الزُّهْرِيُّ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ مُجَوَّدًا فَقَالَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ:" أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
عمر بن حکم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چراتی تھی، میں اس کے پاس آیا تو ریوڑ میں سے ایک بکری گم تھی، میں نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اسے بھیڑیا کھا گیا۔ مجھے اس پر افسوس ہوا، اور میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، تو میں نے اس کے چہرے پر طمانچہ مار دیا، اور میرے ذمے ایک گردن (آزاد کرنا) ہے، کیا میں اسے آزاد کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (لونڈی) سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے آزاد کر دو۔“ عمر بن حکم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ کام ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاہنوں کے پاس نہ جاؤ۔“ عمر نے کہا: اور ہم بدشگونی لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بس ایک چیز ہے جو تم میں سے کوئی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، پس یہ تمہیں ہرگز نقصان نہ دے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس آدمی کا نام معاویہ بن حکم ہے، زہری اور یحییٰ بن ابی کثیر نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک جماعت نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک سے اسے درست طور پر روایت کرتے ہوئے کہا: معاویہ بن حکم سے، اور اس کے آخر میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15266]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15267
حَدَّثَنَاه أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، نا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَهُ ⦗٦٣٧⦘ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ فِي الْكُهَّانِ وَالطِّيَرَةِ وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ فِي الْكُهَّانِ وَالطِّيَرَةِ.
معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ اس حدیث کے آخر میں کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو آزاد کر دے یہ مومنہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15267]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3121. -- باب: إعتاق الخرساء إذا أشارت بالإيمان وصلت
-- باب: گونگی لونڈی کو آزاد کرنے کا بیان جب وہ ایمان کا اشارہ کرے اور نماز پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15268
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ لَهَا:" أَيْنَ اللهُ؟" فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا، فَقَالَ لَهَا:" فَمَنْ أَنَا؟" فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ تَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
عبداللہ بن عتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیاہ رنگ کی لونڈی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ذمہ مومن غلام کا آزاد کرنا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا، یعنی آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مومنہ ہے، اس کو آزاد کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15268]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں