السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3165. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 15492
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ:" اتَّقِي اللهَ يَا فَاطِمَةُ فَقَدْ عَلِمْتِ فِي أِيِّ شَيْءٍ كَانَ ذَلِكَ".
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ”اے فاطمہ! اللہ سے ڈر، تو جانتی ہے کہ کس چیز کے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15492]
حدیث نمبر: 15493
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَيْنَ تَعْتَدُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا؟ قَالَ:" تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ؟ قَالَ:" تِلْكَ الْمَرْأَةُ الَّتِي فَتَنَتِ النَّاسَ إِنَّهَا اسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا بِلِسَانِهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ رَجُلًا مَكْفُوفَ الْبَصَرِ" ⦗٧١٢⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَعَائِشَةُ وَمَرْوَانُ وَابْنُ الْمُسَيِّبِ يَعْرِفُونَ أَنَّ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ كَمَا حَدَّثْتُ، وَيَذْهَبُونَ إِلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ لِلشَّرِّ وَيَزِيدُ ابْنُ الْمُسَيِّبِ تَبْيِينَ اسْتِطَالَتِهَا عَلَى أَحْمَائِهَا وَيَكْرَهُ لَهَا ابْنُ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرُهُ أَنَّهَا كَتَمَتْ فِي حَدِيثِهَا السَّبَبَ الَّذِي بِهِ أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا خَوْفًا أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ سَامِعٌ فَيَرَى أَنَّ لِلْمَبْتُوتَةِ أَنْ تَعْتَدَّ حَيْثُ شَاءَتْ.
عمرو بن میمون رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا: طلاق ثلاثہ والی عورت عدت کہاں گزارے؟ انہوں نے فرمایا: اپنے گھر میں عدت گزارے۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو حکم نہیں دیا کہ وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ عورت ہے جس نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ اپنے جیٹھ پر بدزبانی کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، مروان رحمہ اللہ اور ابن مسیب رحمہ اللہ یہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ اس پر یہ وضاحت بھی زیادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے سسرال والوں پر زبان درازی کرتی تھیں، اور ابن مسیب رحمہ اللہ اور دوسرے حضرات ان کے بارے میں یہ ناپسند کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی حدیث میں وہ سبب چھپا لیا جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، اس ڈر سے کہ کوئی سننے والا اسے سن کر یہ سمجھ لے کہ قطعی طلاق والی عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15493]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، مروان رحمہ اللہ اور ابن مسیب رحمہ اللہ یہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ اس پر یہ وضاحت بھی زیادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے سسرال والوں پر زبان درازی کرتی تھیں، اور ابن مسیب رحمہ اللہ اور دوسرے حضرات ان کے بارے میں یہ ناپسند کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی حدیث میں وہ سبب چھپا لیا جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، اس ڈر سے کہ کوئی سننے والا اسے سن کر یہ سمجھ لے کہ قطعی طلاق والی عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15493]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، نا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ قَالَ:" إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکلنے کے بارے میں فرمایا: یہ برے اخلاق میں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15494]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15495
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَالَتْ:" إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر شدید عیب لگایا اور فرمایا: فاطمہ ویران مکان میں تھی، اس کے کنارے پر خوف محسوس کیا گیا، اس لیے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی۔
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15495]
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15495]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15496
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتَحِمَ عَلَيَّ قَالَ:" فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ يَكُونُ الْعُذْرُ فِي نَقْلِهَا كِلَاهُمَا، هَذَا وَاسْتِطَالَتُهَا عَلَى أَحْمَائِهَا جَمِيعًا فَاقْتَصَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ نَاقِلِيهِمَا عَلَى نَقْلِ أَحَدِهِمَا دُونَ الْآخَرِ لِتَعَلُّقِ الْحُكْمِ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَقُلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَدِّي حَيْثُ شِئْتِ لَكِنَّهُ حَصَنَهَا حَيْثُ رَضِيَ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَكِيلٌ بِتَحْصِينِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور میں ڈرتی ہوں کہ کوئی مجھ پر (گھر میں) گھس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا پھر وہ منتقل ہو گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15496]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3166. -- باب: سكنى المتوفى عنها زوجها
-- باب: بیوہ عورت کی رہائش کے احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15497
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ ⦗٧١٣⦘ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ وَأَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَنِي فَدُعِيتُ لَهُ قَالَ: فَكَيْفَ قلت: فَرَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ اپنی پھوپھی زینب بنت کعب رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل (بنی خدرہ) کی طرف پلٹنے کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ ان کا خاوند اپنے غلاموں کی تلاش میں نکلا جو بھاگ گئے تھے، یہاں تک کہ جب وہ قدوم کی جانب تھے وہ ان کو ملا، ان لوگوں نے اس کو قتل کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”کیا میں اپنے اہل کی طرف لوٹ سکتی ہوں؟ میرے خاوند نے مجھے کسی ایسے مکان میں نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو۔“ وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تو لوٹ سکتی ہے۔“ میں مڑی، یہاں تک کہ جب میں حجرہ میں یا مسجد میں پہنچی تو مجھے بلایا گیا یا میرے لیے حکم دیا گیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کیا کہتی ہے؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ قصہ دوبارہ دہرا دیا جو میں نے اپنے خاوند کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے گھر میں ٹھہری رہ، حتی کہ تیری عدت پوری ہو جائے۔“ فرماتی ہیں: میں نے چار ماہ اور دس دن اس میں (عدت) شمار کیے۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میری طرف قاصد بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو میں نے انہیں خبر دی، انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15497]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15498
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ بِنْتَ كَعْبٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ تَذْكُرُ أَنَّ زَوْجَ فُرَيْعَةَ قُتِلَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَى أَهْلِهَا، فَذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهَا فِي النُّقْلَةِ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ نَادَاهَا فَقَالَ لَهَا:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ رحمہ اللہ نے ان کو خبر دی کہ ان کی پھوپھی زینب بنت کعب رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ میں نے فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن) سے سنا، وہ ذکر کر رہی تھیں کہ ان کا خاوند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا اور وہ چاہتی تھی کہ اپنے خاوند کے گھر سے اپنے اہل کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منتقل ہونے کی رخصت دی۔ جب وہ پلٹی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”تو اپنے گھر میں رکی رہ، یہاں تک کہ ﴿کتاب اپنی مدت کو پہنچ جائے﴾ [سورة البقرة: 235] ، یعنی عدت ختم ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15498]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15499
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، أنبأ يَحْيَى، أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَ لَهُ حَدِيثَ فُرَيْعَةَ فَبَعَثَ إِلَيْهَا حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَسَأَلَهَا عَنِ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ لَفْظَ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ثُمَّ لَقِيَ سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَهُ بِهِ.
یحییٰ سے روایت ہے کہ سعد بن اسحاق نے انہیں خبر دی کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سامنے فریعہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی گئی، انہوں نے ان کی طرف (قاصد) بھیجا حتیٰ کہ جب وہ ان کے پاس داخل ہوئیں تو انہوں نے ان سے حدیث کے بارے میں سوال کیا، چنانچہ فریعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں وہ حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15499]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15500
أَخْبَرَنَاه أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّتَهُ تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ زَوْجِهَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمَدِينَةِ فَتَبِعَ أَعْلَاجًا فَقَتَلُوهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتِ الْوَحْشَةَ فِي مَنْزِلِهَا وَذَكَرَتْ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ لَيْسَ لَهَا وَاسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَأْتِيَ مَنْزِلَ إِخْوَتِهَا بِالْمَدِينَةِ فَأَذِنَ لَهَا ثُمَّ دَعَا أَوْ دُعِيَتْ لَهُ فَقَالَ:" اسْكُنِي فِي الْبَيْتِ الَّذِي أَتَاكِ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" قَالَ: فَلَقِيتُ أَنَا سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَنِي بِهِ.
ابن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی پھوپھی سے سنا، وہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی بہن فریعہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مدینہ کی بستیوں میں سے ایک بستی میں تھیں، ان کا خاوند غلاموں کے پیچھے لگا، انہوں نے اس کو قتل کر دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے اپنے مکان کی وحشت کا ذکر کیا اور ذکر کیا کہ اس کا گھر نہیں ہے اور مدینہ میں اپنے بھائیوں کے گھر جانے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی، پھر اس کو بلایا اور فرمایا: ”تو اس گھر میں ٹھہری رہ جس میں تیرے پاس تیرے خاوند کی وفات کی خبر آئی یہاں تک کہ ﴿يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾ [سورة البقرة: 235] (کتاب اپنے مقررہ وقت کو پہنچ جائے)، یعنی عدت ختم ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15500]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15501
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ ⦗٧١٤⦘ بِبَغْدَادَ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي زَيْنَبَ بِنْتَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ زَوْجِهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَأَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ كعب بن عُجْرَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ وَقِيلَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَإِسْحَاقُ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادٍ أَشْهَرُ وَسَعْدٌ مِنْ رِوَايَةِ غَيْرِهِ أَشْهَرُ، وَزَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ فِيمَا يَرَى أَنَّهُمَا اثْنَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی زینب بنت کعب بن عجرہ سے سنا، وہ سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی تھیں کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ تھیں، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث ذکر کی۔
اور اسی طرح اسے سفیان ثوری، محمد بن اسحاق بن یسار اور ابو بحر البکراوی نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے روایت کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے اسحاق بن سعد بن کعب بن عجرہ سے، انہوں نے زینب بنت کعب سے روایت کیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماد سے، انہوں نے سعد بن اسحاق سے (روایت کیا)۔ حماد کی روایت میں اسحاق (کا نام) زیادہ مشہور ہے اور دوسروں کی روایت میں سعد (کا نام) زیادہ مشہور ہے، اور محمد بن یحییٰ الذہلی کی رائے یہ ہے کہ وہ دو (الگ الگ راوی) ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15501]
اور اسی طرح اسے سفیان ثوری، محمد بن اسحاق بن یسار اور ابو بحر البکراوی نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے روایت کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے اسحاق بن سعد بن کعب بن عجرہ سے، انہوں نے زینب بنت کعب سے روایت کیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماد سے، انہوں نے سعد بن اسحاق سے (روایت کیا)۔ حماد کی روایت میں اسحاق (کا نام) زیادہ مشہور ہے اور دوسروں کی روایت میں سعد (کا نام) زیادہ مشہور ہے، اور محمد بن یحییٰ الذہلی کی رائے یہ ہے کہ وہ دو (الگ الگ راوی) ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15501]