🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3160. -- باب: عدة الأمة
-- باب: لونڈی کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15454
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أَجْعَلَ عِدَّةَ الْأَمَةِ حَيْضَةً وَنِصْفًا لَفَعَلْتُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاجْعَلْهَا شَهْرًا وَنِصْفًا، قَالَ: فَسَكَتَ.
عمرو بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کاش! میں طاقت رکھتا کہ میں لونڈی کی عدت کو ڈیڑھ حیض مقرر کر دوں تو میں کر دیتا۔ ایک شخص نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ اس کو ڈیڑھ ماہ مقرر کر دیں تو عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15454]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15455
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" عِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلَاثُ حِيَضٍ وَعِدَّةُ الْأَمَةِ حَيْضَتَانِ" قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَفَعَهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے غیر نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوع بیان کیا ہے اور یہ درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15455]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15456
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا حَاتِمُ بْنُ يُونُسَ الْجُرْجَانِيُّ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى الْكُوفِيُّ، نا الْمُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُطَلَّقُ الْأَمَةُ تَطْلِيقَتَيْنِ وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لونڈی کو دو طلاقیں دی جائیں اور وہ دو حیض عدت شمار کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15456]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15457
قَالَ: وَنا حَاتِمٌ، نا مُوسَى بْنُ السِّنْدِيِّ، نا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ، نا الْمُظَاهِرُ، نا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ الضَّحَّاكُ: فَلَقِيتُ الْمُظَاهِرَ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٧٠٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ يُعْرَفُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَالصَّحِيحُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ عِدَّةِ الْأَمَةِ فَقَالَ: النَّاسُ يَقُولُونَ حَيْضَتَانِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث نقل فرماتی ہیں۔
یہ حدیث صرف مظاہر بن اسلم نے روایت کی ہے اور وہ مجہول آدمی ہے جو اسی حدیث سے پہچانا جاتا ہے، اور قاسم بن محمد سے صحیح یہ ہے کہ ان سے لونڈی کی عدت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں دو حیض۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15457]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15458
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ كَانَا يَقُولَانِ:" عِدَّةُ الْأَمَةِ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَانِ وَخَمْسُ لَيَالٍ".
مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ فرماتے ہیں: لونڈی کی عدت جب اس کا خاوند فوت ہو جائے تو دو ماہ اور پانچ راتیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15458]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15459
قَالَ: وَنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَيْضًا مِثْلَ ذَلِكَ وَرُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ، وَالشَّعْبِيِّ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور وہ حدیث ہمیں ایک دوسری سند سے بھی بیان کی گئی ہے؛ سعید بن مسیب، حسن اور شعبی رحمہم اللہ سے، اور اللہ بہتر جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15459]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3161. -- باب: عدة الوفاة
-- باب: وفات کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15460
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ الشَّافِعِيُّ: حَفِظْتُ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ قَبْلَ نُزُولِ آيِ الْمَوَارِيثِ وَأَنَّهَا مَنْسُوخَةٌ وَأَنَّ اللهَ أَثْبَتَ عَلَيْهَا عِدَّةَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا لَيْسَ لَهَا الْخِيَارُ فِي الْخُرُوجِ مِنْهَا وَلَا النِّكَاحُ قَبْلَهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک (گھر سے) نکالے بغیر سامانِ زندگی دینے کی وصیت کر جائیں، پھر اگر وہ (خود) نکل جائیں تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں (دستور کے مطابق) کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سورة البقرة: 240] “
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے قرآن کا علم رکھنے والے کئی اہلِ علم سے یہ بات محفوظ کی ہے کہ یہ آیت میراث کی آیات کے نزول سے پہلے نازل ہوئی تھی اور یہ منسوخ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیوہ) پر چار مہینے دس دن کی عدت لازم کر دی ہے، اس میں نہ اسے عدت سے نکلنے کا اختیار ہے اور نہ اس سے پہلے نکاح کرنے کا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15460]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، نا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قُلْتُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: ٢٣٤] قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى فَلَمْ تَكْتُبْهَا أَوْ تَدَعْهَا قَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ" وَفِي رِوَايَةِ عَلِيٍّ لَمْ تَكْتُبْهَا وَقَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ بِسْطَامٍ.
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [سورة البقرة: 240] اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے تو آپ اسے کس لیے لکھ رہے ہیں یا اسے کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں کسی چیز کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کر سکتا۔ اور علی (بن المدینی) کی روایت میں ہے کہ آپ اسے کیوں لکھ رہے ہیں حالانکہ اسے دوسری آیت ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور وہ تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں یعنی عدت گزاریں۔“ نے منسوخ کر دیا ہے۔
اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امیہ بن بسطام سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15460]
تخریج الحدیث: «صحيح4530»

الحكم على الحديث: صحيح4530
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمَوَارِيثِ مَا فَرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنَسَخَ أَجَلَ الْحَوْلِ بِأَنْ جَعَلَ أَجَلَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] یہ آیت وراثت کی آیات سے منسوخ ہو چکی ہے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے «الرُّبُعُ» اور «الثُّمُنُ»، یعنی ”چوتھا حصہ“ اور ”آٹھواں حصہ“ اور سال کی عدت کو منسوخ کر دیا گیا ہے اس کے ساتھ کہ اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15461]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ وَتَرَكَ امْرَأَتَهُ اعْتَدَّتِ السَّنَةَ فِي بَيْتِهِ يُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ مَالِهِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ بَعْدَ ذَلِكَ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] فَهَذِهِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا فَعِدَّتُهَا أَنْ تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، وَقَالَ فِي مِيرَاثِهَا {وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ} [النساء: ١٢] فَبَيَّنَ اللهُ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ وَتَرَكَ الْوَصِيَّةَ وَالنَّفَقَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: جب آدمی فوت ہوجاتا ہے اور اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا ہے تو وہ ایک سال اسی کے گھر میں عدت گزارتی، وہ اس پر خرچ کرتے ہیں اسی کے مال سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: ﴿وَالَّذِيْنُ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] نازل فرمائی: ”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں۔“
یہ عدت اس عورت کی مقرر ہوئی جس کا خاوند فوت ہوجائے، مگر حاملہ عورت کی عدت وہ ہے کہ جو اس کے پیٹ میں ہے اس کو جن دے۔
اس کی وراثت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ﴾ [سورة النساء: 12] ”اور ان کے لیے چوتھائی حصہ ہے، اگر تمہاری کوئی اولاد نہیں اور اگر تمہاری اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کی وراثت کو بیان کر دیا اور وصیت اور نفقے کو چھوڑ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15462]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں