السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3166. -- باب: سكنى المتوفى عنها زوجها
-- باب: بیوہ عورت کی رہائش کے احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15502
أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ حَمَّادٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، نا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، أنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ - قَالَ حَمَّادٌ: وَهُوَ مَوْضِعُ مَاءٍ - قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ مِنْ حَالِي وَذَكَرْتُ النُّقْلَةَ إِلَى إِخْوَتِي، قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَانِي فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر اپنے چند غلاموں کی تلاش میں نکلے تو انہیں «طَرَفِ الْقَدُومِ» ”طرف القدوم“ کے مقام پر قتل کر دیا گیا، حماد نے کہا کہ وہ پانی کی ایک جگہ ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے آپ سے اپنی اس حالت کا ذکر کیا اور اپنے بھائیوں کی طرف منتقل ہونے کا تذکرہ کیا، وہ کہتی ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، پھر جب میں (وہاں سے) آگے بڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا اور فرمایا: «امْکُثِی فِی بَیْتِکِ حَتَّی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ» ”تم اپنے گھر ہی میں ٹھہری رہو یہاں تک کہ لکھی ہوئی مدت (عدت) اپنے وقت کو پہنچ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15502]
حدیث نمبر: 15503
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا اثْنَيْنِ فَهَذَا أَوْلَى بِالْمُوَافَقَةِ لِسَائِرِ الرُّوَاةِ عَنْ سَعْدٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعْدٍ، فَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَمَّتِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عُجْرَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ عَنْ مَالِكٍ، وَالْحَدِيثُ مَشْهُورٌ بِسَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَدْ رَوَاهُ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو الحسن علی بن محمد المقرئ نے ہمیں خبر دی، (انہیں) الحسن بن محمد بن اسحاق نے خبر دی، (انہیں) یوسف بن یعقوب نے بتایا، (انہیں) ابو الربیع نے بتایا، (انہیں) حماد بن زید نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی، پس اگر وہ دو نہ ہوں تو یہ سعد سے روایت کرنے والے دیگر تمام راویوں کی موافقت کے حوالے سے زیادہ بہتر ہے
(ت) اور اسے امام زہری رحمہ اللہ نے سعد سے روایت کیا ہے، چنانچہ ایک روایت میں انہوں نے کہا: «عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ» ”ابن کعب بن عجرہ سے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «بَلَغَنِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَمَّتِهِ» ”مجھے سعد سے ان کی پھوپھی کے حوالے سے (روایت) پہنچی ہے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عُجْرَةَ» ”مجھ سے اہل مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا جنہیں مالک بن انس کہا جاتا ہے، انہوں نے سعد بن اسحاق بن عجرہ سے روایت کی“، پھر انہوں نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے جماعت کی روایت کے مثل ذکر کیا، اور یہ حدیث سعد بن اسحاق کے واسطے سے مشہور ہے اور ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ان سے روایت کیا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15503]
(ت) اور اسے امام زہری رحمہ اللہ نے سعد سے روایت کیا ہے، چنانچہ ایک روایت میں انہوں نے کہا: «عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ» ”ابن کعب بن عجرہ سے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «بَلَغَنِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَمَّتِهِ» ”مجھے سعد سے ان کی پھوپھی کے حوالے سے (روایت) پہنچی ہے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عُجْرَةَ» ”مجھ سے اہل مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا جنہیں مالک بن انس کہا جاتا ہے، انہوں نے سعد بن اسحاق بن عجرہ سے روایت کی“، پھر انہوں نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے جماعت کی روایت کے مثل ذکر کیا، اور یہ حدیث سعد بن اسحاق کے واسطے سے مشہور ہے اور ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ان سے روایت کیا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15503]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15504
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ ⦗٧١٥⦘ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ يَرُدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهُنَّ مِنَ الْبَيْدَاءِ يَمْنَعُهُنَّ مِنَ الْحَجِّ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مقامِ بیداء سے ان عورتوں کو واپس لوٹا دیا کرتے تھے جن کے خاوند فوت ہو چکے ہوں، وہ ان کو حج سے روکتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15504]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15505
قَالَ: وَنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا تَبِيتُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، وَلَا الْمَبْتُوتَةُ إِلَّا فِي بَيْتِهَا"، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نہ رات گزارے وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو اور نہ ہی وہ عورت جس کو طلاقِ بتہ دی گئی ہو مگر اپنے گھر میں“ اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15505]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3167. -- باب: من قال: لا سكنى للمتوفى عنها زوجها
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بیوہ کے لیے رہائش کا حق ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ مُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، نا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، نا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] " قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا أَوْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنُسِخَ مِنْهُ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ.
ابن ابی نجیح سے روایت ہے کہ عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس آیت نے اس کی عدت کو اس کے اہل کے پاس منسوخ کر دیا ہے۔ وہ عدت گزارے جہاں وہ چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ہے۔ عطاء نے کہا: اگر وہ چاہے کہ عدت اپنے اہل کے پاس گزارے یا اس جگہ جس میں رہنے کی اس کو وصیت کی گئی ہے اور اگر وہ چاہے تو نکل بھی سکتی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی بنا پر: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 240] ”اگر وہ نکلنا چاہیں تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے۔ اس میں جو وہ اپنے نفسوں کے بارے میں کرتی ہے“۔ عطاء نے کہا: پھر وراثت آئی اور اس نے رہائش کو منسوخ کر دیا، وہ عدت گزارے جہاں چاہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15506]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15507
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، نا شَبَابَةُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] قَالَ:" كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهَا" فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ:" جَعَلَ اللهُ لَهَا تِسْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ} فِي الْعِدَّةِ كَمَا هِيَ وَاجِبَةٌ عَلَيْهَا، زَعَمَ ذَلِكَ مُجَاهِدٌ وَقَالَ عَطَاءُ عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثُمَّ نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهِ تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ فِي أَهْلِهِ أَوْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا سُكْنَى لَهَا ⦗٧١٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ رَوْحٍ عَنْ شِبْلٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ وَرْقَاءَ.
ابن ابی نجیح، مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں، یعنی عدت گزاریں۔“
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ﴾ [سورة البقرة: 240]
”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، اپنی بیویوں کے لیے ایک سال کے خرچے کی وصیت (کر جائیں کہ) ان کو نہ نکالیں، اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، جو وہ اپنے نفسوں کے سلسلے میں معروف طریقے سے کریں۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے نو ماہ اور بیس راتوں کی وصیت مقرر کی ہے، اگر وہ چاہے تو اپنی وصیت کی جگہ میں رہے اور اگر چاہے تو خروج کر جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] عدت کے بارے میں ہے جو اس پر واجب ہے، یہ مجاہد رحمہ اللہ کا گمان ہے۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، پھر اس آیت «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» نے اس کی عدت کو اس کے اہل کے ہاں گزارنا منسوخ کر دیا۔ وہ جہاں چاہتی ہو عدت گزارے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر وہ چاہے عدت گزارے اپنے اہل میں یا اپنی وصیت کی جگہ میں اور اگر چاہے تو خروج کر جائے، یعنی اپنے خاوند کے اہل سے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کو دلیل بناتے ہوئے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة البقرة: 240] الیٰ آخر الآیۃ۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وراثت آئی، اس نے رہائش کو منسوخ کر دیا، وہ عدت گزارے جہاں وہ چاہے اور اس کے لیے رہائش نہیں ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15507]
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ﴾ [سورة البقرة: 240]
”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، اپنی بیویوں کے لیے ایک سال کے خرچے کی وصیت (کر جائیں کہ) ان کو نہ نکالیں، اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، جو وہ اپنے نفسوں کے سلسلے میں معروف طریقے سے کریں۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے نو ماہ اور بیس راتوں کی وصیت مقرر کی ہے، اگر وہ چاہے تو اپنی وصیت کی جگہ میں رہے اور اگر چاہے تو خروج کر جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] عدت کے بارے میں ہے جو اس پر واجب ہے، یہ مجاہد رحمہ اللہ کا گمان ہے۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، پھر اس آیت «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» نے اس کی عدت کو اس کے اہل کے ہاں گزارنا منسوخ کر دیا۔ وہ جہاں چاہتی ہو عدت گزارے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر وہ چاہے عدت گزارے اپنے اہل میں یا اپنی وصیت کی جگہ میں اور اگر چاہے تو خروج کر جائے، یعنی اپنے خاوند کے اہل سے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کو دلیل بناتے ہوئے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة البقرة: 240] الیٰ آخر الآیۃ۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وراثت آئی، اس نے رہائش کو منسوخ کر دیا، وہ عدت گزارے جہاں وہ چاہے اور اس کے لیے رہائش نہیں ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15507]
تخریج الحدیث: «صحيح۔5344»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15508
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ يَرْحَلُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا لَا يَنْتَظِرُ بِهَا" وَعَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: نَقَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بَعْدَ قَتْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِسَبْعِ لَيَالٍ" وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي جَامِعِهِ، وَقَالَ لِأَنَّهَا كَانَتْ فِي دَارِ الْإِمَارَةِ.
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اس عورت کو کوچ کروا دیتے جس کا خاوند فوت ہو جاتا، وہ اس کو مہلت نہیں دیتے تھے اور ابن مہدی سے روایت ہے، وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں، وہ فراس سے، وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کے سات راتوں بعد منتقل کر دیا تھا اور اس کو سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اپنی جامع میں روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ اس لیے تھا کہ وہ دارالحکومت میں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15508]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15509
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَحَجَّتْ أُخْتَهَا فِي عِدَّتِهَا".
عطاء سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کو اس کی عدت میں حج کروایا۔
قاسم سے روایت ہے کہ اس وقت فتنے کا خوف تھا، یعنی جس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کو حج کروایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15509]
قاسم سے روایت ہے کہ اس وقت فتنے کا خوف تھا، یعنی جس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کو حج کروایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15509]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15510
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" كَانَتْ تُخْرِجُ الْمَرْأَةَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا" قَالَ: فَأَبَى ذَلِكَ النَّاسُ إِلَّا خِلَافَهَا فَلَا نَأْخُذُ بِقَوْلِهَا وَنَدَعُ قَوْلَ النَّاسِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا عورت کو اس کی عدت میں ہی نکلوا دیا کرتی تھیں، اس کے خاوند کی وفات کی وجہ سے۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں: لوگوں نے اس کا انکار کیا اور اس کی مخالفت ہی کی، تو ہم ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا قول لے لیں اور لوگوں کا قول چھوڑ دیں اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15510]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3168. -- باب: كيفية سكنى المطلقة والمتوفى عنها
-- باب: طلاق یافتہ اور بیوہ عورت کی رہائش کی کیفیت و نوعیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَا: أنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَخَرَجَتْ تَجِدُ نَخْلًا فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" اخْرُجِي فَجُدِّي فَلَعَلَّكِ أَنْ تَصَّدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ⦗٧١٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: نَخْلُ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَالْجِدَادُ إِنَّمَا يَكُونُ نَهَارًا.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں۔ وہ نکلیں اور کھجوریں کاٹ رہی تھیں کہ انہیں ایک شخص ملا، اس نے انہیں منع کیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نکل جا اور کھجوریں کاٹ، شاید تو صدقہ کرے یا نیکی کرے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انصار کی کھجوریں ان کے گھروں کے قریب تھیں اور وہ صبح کو کھجوریں کاٹتے تھے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15511]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انصار کی کھجوریں ان کے گھروں کے قریب تھیں اور وہ صبح کو کھجوریں کاٹتے تھے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15511]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 1483»
الحكم على الحديث: صحيح