السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3156. -- باب: الحيض على الحمل
-- باب: حالتِ حمل میں حیض آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15435
فَهَكَذَا رَوَاهُ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَدْ ضَعَّفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمُطَرِّزُ نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى نا حَجَّاجٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ هَمَّامٌ: ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَأَنْكَرَهُ.
اسی طرح اس کو مطر وراق اور سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور اہلِ علمِ حدیث نے عطاء سے ان دونوں روایتوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے ذکر کی، انہوں نے اس کا انکار کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15435]
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے ذکر کی، انہوں نے اس کا انکار کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15435]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15436
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ أَبِي عِصْمَةَ، نا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" الْحَامِلُ لَا تَحِيضُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ صَلَّتْ" قَالَ: كَانَ يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ يُضَعِّفُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى وَمَطَرًا عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي كَانَ يُضَعِّفُ رِوَايَتَهُمَا عَنْ عَطَاءٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حاملہ عورت حائضہ نہیں ہوتی، جب وہ خون دیکھے تو نماز پڑھے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: یحییٰ (القطان) رحمہ اللہ ابن ابی لیلیٰ اور مطر کی عطاء سے روایت کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15436]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: یحییٰ (القطان) رحمہ اللہ ابن ابی لیلیٰ اور مطر کی عطاء سے روایت کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15436]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15437
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ بْنَ الطَّيِّبِ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ يَقُولُ: قَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ مَا: تَقُولُ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ؟ قُلْتُ:" تُصَلِّي" وَاحْتَجَجْتُ بِخَبَرِ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ: فَقَالَ لِي أَحْمَدُ: أَيْنَ أَنْتَ عَنْ خَبَرِ الْمَدَنِيِّينَ خَبَرِ أُمِّ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَإِنَّهُ أَصَحُّ قَالَ إِسْحَاقُ: فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْلِ أَحْمَدَ ⦗٦٩٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا رِوَايَةُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ رَاشِدٍ يَتَفَرَّدُ بِهَا عَنْهُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ قَالَ: هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ، وَرَوَى الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِذَا رَأَتِ الْحَامِلُ الدَّمَ فَإِنَّهَا تَتَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَلَا تَغْتَسِلُ وَهَذَا يُخَالِفُ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْغُسْلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: آپ حاملہ عورت کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو خون کو دیکھتی ہے؟ میں نے کہا: وہ نماز پڑھے گی اور میں نے اس خبر کو دلیل بنایا ہے جو عطاء رحمہ اللہ عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے آئی ہے، فرماتے ہیں: مجھے احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: تو کہاں (پھر رہا) ہے مدنیین کی خبر سے جو عن ام علقمہ عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے آئی ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے قول کی طرف رجوع کر لیا۔
رہی سلیمان بن موسیٰ کی عطاء سے روایت تو اسے ان سے صرف محمد بن راشد بیان کرتے ہیں اور محمد بن راشد ضعیف ہیں۔ ابن جریج نے عطاء سے اس حاملہ کے بارے میں جو خون دیکھے، روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔ اور حجاج نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حاملہ خون دیکھے تو وضو کرے اور نماز پڑھے اور غسل نہ کرے۔ اور یہ ان لوگوں کی روایت کے خلاف ہے جنہوں نے ان سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے غسل کے بارے میں روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15437]
رہی سلیمان بن موسیٰ کی عطاء سے روایت تو اسے ان سے صرف محمد بن راشد بیان کرتے ہیں اور محمد بن راشد ضعیف ہیں۔ ابن جریج نے عطاء سے اس حاملہ کے بارے میں جو خون دیکھے، روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔ اور حجاج نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حاملہ خون دیکھے تو وضو کرے اور نماز پڑھے اور غسل نہ کرے۔ اور یہ ان لوگوں کی روایت کے خلاف ہے جنہوں نے ان سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے غسل کے بارے میں روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15437]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3157. -- باب: الحامل باثنين لا تنقضي عدتها بوضع الأول حتى تضع الثاني
-- باب: جڑواں بچوں کی حاملہ عورت کی عدت پہلے بچے کی پیدائش سے ختم نہیں ہوتی جب تک کہ وہ دوسرے کو بھی جنم نہ دے دے۔
حدیث نمبر: 15438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَفِي بَطْنِهَا وَلَدَانِ فَتَضَعُ وَاحِدًا وَيَبْقَى الْآخَرُ قَالَ:" هُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا مَا لَمْ تَضَعِ الْآخَرَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے پیٹ میں دو بچے تھے، اس نے ایک کو جنم دیا اور دوسرا باقی رہ گیا۔ فرماتے ہیں: جب تک دوسرا بھی وضع نہ ہو جائے وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15438]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15439
قَالَ: وَنا أَحْمَدُ، نا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15439]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15440
قَالَ: وَنا أَحْمَدُ، نا حَفْصٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَهُ.
شعبی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15440]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15441
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا أَحْمَدُ، نا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، مِثْلَهُ.
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے اسی طرح۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15441]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3158. -- باب: لا عدة على التي لم يدخل بها زوجها
-- باب: غیر مدخول بہا عورت (جس سے شوہر نے خلوتِ صحیحہ نہ کی ہو) پر کوئی عدت واجب نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15442
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا} [الأحزاب: 49] .
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴾ ”جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔“ [سورة الأحزاب: 49] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15442]
حدیث نمبر: 15442
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ: {وَاللَّائِي يَئِسْنَ} [الطلاق: ٤] مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: ٢٣٧] {فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ} [الأحزاب: ٤٩] تَعْتَدُّونَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [سورة البقرة: 228] اور ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ﴾ [سورة الطلاق: 4] (کے بارے میں فرمایا:) پھر اس میں سے (کچھ حکم) منسوخ ہو گیا اور فرمایا: ﴿إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 49] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15442]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15443
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" لَيْسَ إِلَّا نِصْفَ الْمَهْرِ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ وَشُرَيْحٌ يَقُولُ ذَلِكَ فَهُوَ ظَاهِرُ الْكِتَابِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس کے لیے صرف آدھا مہر ہے اور اس پر عدت نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شریح نے کہا: یہ ظاہرِ کتاب کا حکم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15443]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شریح نے کہا: یہ ظاہرِ کتاب کا حکم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15443]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف