السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3205. -- باب: من أحق منهما بحسن الصحبة
-- باب: والدین میں سے حسنِ سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15755
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ:" أُمُّكَ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَبُوكَ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ شُبْرُمَةَ.
(١٥٧٥٥) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے حسن سلوک کا لوگوں میں سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: تیری والدہ۔ پوچھا پھر کون؟ فرمایا پھر تیری والدہ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تیری والدہ۔ ان دونوں نے اس کو صحیح میں ابن شبرمہ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَجِّيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبِرُّ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ ⦗٤⦘ أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمَّكَ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ".
(١٥٧٥٦) بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں کس کے ساتھ زیادہ نیکی کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی والدہ سے۔ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا تیری والدہ۔ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا تیری والدہ۔ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: تیرا والد۔ پھر ترتیب کے ساتھ قریب والا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15756]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
3206. -- باب: الأبوين إذا افترقا وهما في قرية واحدة، فالأم أحق بولدها ما لم تتزوج، وكانوا صغارا، فإذا بلغ أحدهم سبع أو ثمان سنين وهو يعقل خير بين أبيه وأمه، وكان عند أيهما اختار
-- باب: جب والدین الگ ہو جائیں اور وہ ایک ہی بستی میں ہوں، تو ماں اپنے بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ آگے نکاح نہ کرے اور بچے چھوٹے ہوں، پھر جب ان میں سے کوئی بچہ سات یا آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ سمجھدار ہو تو اسے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا، اور وہ جسے چنے گا اسی کے پاس رہے گا۔
حدیث نمبر: 15757
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: أَظُنُّهُ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَأنا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.
(١٥٧٥٧) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لڑکے کو اس کی والدہ اور والد کے درمیان اختیار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15757]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15758
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ح وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُوعَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ سُلَيْمًا مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ رَجُلَ صِدْقٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَادَّعَيَاهُ وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَطَنَتْ بِالْفَارِسِيَّةِ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ وَرَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ فَجَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا قَاعِدٌ ⦗٥⦘ عِنْدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ سَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، وَقَدْ نَفَعَنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَهِمَا عَلَيْهِ" فَقَالَ زَوْجُهَا: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا أَبُوكَ، وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ" فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ. لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَحَدِيثُ ابْنِ بِشْرَانَ أَقْصَرُ مِنْهُ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ.
(١٥٧٥٨) ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے ہلال بن اسامہ نے بیان کیا کہ ابو میمونہ سلیم جو اہل مدینہ کے مولیٰ ہیں اور ایک سچے انسان ہیں، فرماتے ہیں: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک فارسی عورت آئی۔ اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا اور وہ مطلقہ تھی۔ وہ فارسی زبان میں کہنے لگی: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! میرا خاوند مجھ سے میرا بچہ چھیننا چاہتا ہے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: قرعہ اندازی کرلو۔ اتنے میں اس کا خاوند بھی آگیا اور کہنے لگا: کون میرے بچے کو روکنا چاہتا ہے؟ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا خاوند مجھ سے میرا بچہ واپس لینا چاہتا ہے، اس نے مجھے نفع بھی پہنچایا ہے تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ کا فیصلہ فرمایا تو اس کا والد کہنے لگا: میرے بچے کو کون روکے گا؟ تو آپ نے بچے کو مخاطب کر کے فرمایا: یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں، جس کے ساتھ مرضی چلا جا تو بچے نے ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے لے گئی۔
یہ روذ باری کے الفاظ ہیں اور جو ابن بشران کی حدیث ہے اس کے الفاظ کم ہیں لیکن معنیٰ یہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15758]
یہ روذ باری کے الفاظ ہیں اور جو ابن بشران کی حدیث ہے اس کے الفاظ کم ہیں لیکن معنیٰ یہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15758]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15759
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَهِمَا" فَقَالَ الرَّجُلُ: مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلِابْنِ:" اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ" فَاخْتَارَ أُمَّهُ، فَذَهَبَتْ بِهِ.
(١٥٧٥٩) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائی جو مطلقہ تھی اور اس کا خاوند اس سے بچہ لینا چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا: قرعہ ڈال لو تو اس کا خاوند کہنے لگا: میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہونا چاہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو اختیار دیا تو وہ ماں کے ساتھ چلا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15759]
حدیث نمبر: 15760
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتِ: ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ. وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَافِعٍ:" اقْعُدْ نَاحِيَةً" وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ:" اقْعُدِي نَاحِيَةً" قَالَ: وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُوَاهَا" فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ اهْدِهَا". فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا، فَأَخَذَهَا رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ، جَدُّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
(١٥٧٦٠) رافع بن سنان فرماتے ہیں کہ جب یہ مسلمان ہوگئے تو ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ان کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یہ میرا بچہ جس کی مدت رضاعت ابھی پوری ہوئی ہے اور رافع کہنے لگے: یہ میرا بچہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک طرف رافع رضی اللہ عنہ کو بٹھایا اور دوسری طرف ان کی بیوی کو اور بچے کو درمیان میں بٹھا دیا اور فرمایا: اب اسے اپنی طرف بلاؤ تو بچہ ماں کی طرف جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اسے ہدایت دے“ تو وہ باپ کی طرف چلا گیا اور رافع اسے لے گئے۔
رافع بن سنان عبدالحمید بن جعفر کے دادا ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15760]
رافع بن سنان عبدالحمید بن جعفر کے دادا ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15761
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: خَيَّرَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ أُمِّي، وَعَمِّي، ثُمَّ قَالَ لِأَخٍ لِي أَصْغَرَ مِنِّي: وَهَذَا أَيْضًا لَوْ قَدْ بَلَغَ مَبْلَغَ هَذَا لَخَيَّرْتُهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَكُنْتُ ابْنَ سَبْعٍ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ،.
(١٥٧٦١) عمارۃ جرمی فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ اور چچا کے درمیان حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اختیار دیا تھا اور پھر میرے چھوٹے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر اس کی بھی عمر ایسی ہوتی تو میں اسے بھی اختیار دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15761]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15762
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي مَسْمُوعِنَا، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ⦗٧⦘ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.
(١٥٧٦٢) امامشافعی (رح) فرماتے ہیں: ابراہیم نے فرمایا کہ یونس نے عمارہ سے اور وہ حضرت علی سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی ایک بچے کو اختیار دیا تھا کہ وہ ماں یا باپ میں سے جس کو مرضی چن لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15762]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
3207. -- باب: الأم تتزوج فيسقط حقها من حضانة الولد وينتقل إلى جدته
-- باب: ماں کے نکاح کر لینے سے بچے کی پرورش (حضانت) کا حق ساقط ہو کر اس کی نانی کی طرف منتقل ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي، وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي".
(١٥٧٦٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، میرا سینہ اس کے لیے پینا تھا اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ ہے۔ اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے لینا چاہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک تو دوسرا نکاح نہ کرلے تب تک تو اس کی زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15763]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: قَضَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لِجَدَّةِ ابْنِهِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بِحَضَانَتِهِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَأُمُّ عَاصِمٍ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ مُتَزَوِّجَةٌ.
(١٥٧٦٤) عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے اولی الأمر فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عاصم کی نانی کے درمیان فیصلہ فرمایا اور نانی کے حق میں فیصلہ دیا کہ جب تک عاصم بالغ نہ ہوجائیں اور ام عاصم اس وقت زندہ تھیں اور وہ شادی شدہ تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15764]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف