السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15726
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِهَا فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَبْتُوتَةِ، فَقَالَ: تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا فَقُلْتُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَ: هَاهْ وَوَصَفَ أَنَّهُ تَغَيَّظَ وَقَالَ: فَتَنَتْ فَاطِمَةُ النَّاسَ كَانَتْ بِلِسَانِهَا ذَرَّابَةً فَاسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ.
(١٥٧٢٦) عمرو بن میمون بن مہران اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا، میں نے اس کے اہل میں سے زیادہ جاننے والے سے سوال کیا، مجھے سعید بن مسیب کی طرف بھیج دیا گیا، میں نے اس سے طلاق مبتوتہ والی کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ میں نے کہا: فاطمہ بنت قیس کی حدیث کہاں گئی؟ کہا: اس پر افسوس کیا۔ اور بیان کیا۔ وہ غصے میں تھے اور کہا فاطمہ نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا۔ اس کی زبان میں تیزی تھی (یعنی وہ زبان دراز تھی) وہ اپنے دیوروں پر زبان درازی کرتی۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارے۔ اسی طرح اس کو ابو معاویہ ضریر نے عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15726]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو عُتْبَةَ، نا بَقِيَّةُ، نا حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٨٠⦘ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ هَلْ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا نَفَقَةٌ؟ فَقُلْتُ:" لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ" فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَصَبْتَ يَا ابْنَ أَخِي أَنَا مَعَكَ".
(١٥٧٢٧) حبیب بن صالح فرماتے ہیں کہ مجھے محمد بن عباد مکی نے حدیث بیان کی کہ میں ابن عباس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ جب اس سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا تین طلاق والی کے لیے خرچہ ہے؟ میں نے کہا: اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ ابن عباس نے کہا اے بھتیجے! تو نے درست کہا اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15727]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15728
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" نَفَقَةُ الْمُطَلَّقَةِ مَا لَمْ تُحَرَّمْ فَإِذَا حُرِّمَتْ فَمَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ".
(١٥٧٢٨) جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ طلاق شدہ کا خرچہ اس وقت تک ہے جب تک وہ حرام نہ ہو اور جب وہ حرام ہوجائے تو اچھے انداز میں عرف کے مطابق فائدہ دینا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15728]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15729
وَقَالَ أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ:" لَيْسَتِ الْمَبْتُوتَةُ الْحُبْلَى مِنْهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنَّهُ يُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ الْحَبَلِ فَإِذَا كَانَتْ غَيْرَ حُبْلَى فَلَا نَفَقَةَ لَهَا" وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٥٧٢٩) عطاء نے کہا: مطلقہ مبتوتہ نہیں ہے، اس کے لیے کچھ بھی نہیں سوائے حاملہ کے، وہ اس پر خرچ کرے گا، اس کے حمل کی وجہ سے اور اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15729]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3201. -- باب: من قال: لها النفقة
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک اس (مطلقہ) کے لیے نفقہ ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 15730
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، نا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَلَمْ يَرَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" السُّكْنَى وَلَا النَّفَقَةَ" قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ حَدِيثُ الشَّعْبِيِّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مَوْقُوفًا.
(١٥٧٣٠) سلمہ بن کہیل نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی، وہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دیں تو اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رہائش اور خرچہ نہیں مقرر کیا۔ میں نے یہ ابراہیم سے ذکر کیا۔ ابراہیم کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو کسی عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے ہے رہائش بھی ہے اور خرچہ بھی۔ شعبی کی حدیث کو مسلم نے سفیان اور ابراہیم کی حدیث عمر رضی اللہ عنہ سے منقطع روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15730]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15731
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ:" لَا نَدَعُ كِتَابَ اللهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَعَلَّهَا نَسِيَتْ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ أَشْعَثُ عَنِ الْحَكَمِ وَحَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِيهِ:" وَسُنَّةُ نَبِيِّنَا" وَأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْصُولًا مُسْنَدًا.
(١٥٧٣١) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کا قول پہنچا۔ کہتے ہیں: ہم اللہ کی کتاب کو عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ شایدوہ بھول گئی ہو۔ اور اسی طرح اس کو اسباط بن محمد نے اعمش سے موقوف روایت کیا ہے اور اس کو اشعث نے حکم اور حماد سے ابراہیم سے اسود سے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انھوں نے اس بارے میں فرمایا: ہمارے نبی کی سنت ہے۔ اشعث بن سوار ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15731]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15732
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٧٨١⦘ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" فَأَخَذَ الْأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا نَتْرُكُ كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ زُرَيْقٍ فِي النُّقْلَةِ دُونَ النَّفَقَةِ وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ وَسُنَّةُ نَبِيِّنَا وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الْعِدَدِ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: هَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ لِأَنَّ هَذَا الْكَلَامَ لَا يَثْبُتُ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ وَأَثْبَتُ مِنْهُ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ تَابَعَهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، فَرَوَاهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ مِثْلَ قَوْلِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ سَوَاءً، وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْخَلِيلِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِيهِ: وَسُنَّةُ نَبِيِّنَا وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ وَالْأَشْبَهُ بِمَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَغَيْرِهَا فِي الْإِنْكَارِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا إِنَّمَا أَنْكَرَتْ عَلَيْهَا النُّقْلَةَ مِنْ غَيْرِ سَبَبٍ دُونَ النَّفَقَةِ وَهُوَ الْأَشْبَهُ بِمَا احْتُجَّ بِهِ مِنَ الْآيَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا نَعْلَمُ فِي كِتَابِ اللهِ ذِكْرَ نَفَقَةٍ إِنَّمَا فِي كِتَابِ اللهِ ذِكْرُ السُّكْنَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٥٧٣٢) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ میں اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبی تھے۔ شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا۔ اس نے ایک مٹھی کنکریوں کی پکڑی، اس کو کنکریاں ماریں۔ پھر کہا: تو ہلاک ہوجائے۔ تو اس کی مثل حدیث بیان کرتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے۔ ہم نہیں جانتے اسے یاد رہا یا وہ بھول گئی۔ اس کے لیے رہائش بھی ہے اور خرچہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ”تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ واضح فحاشی کو کریں۔“
امام شافعی نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ اللہ کی کتاب میں خرچہ کا ذکر ہے لیکن اللہ کی کتاب میں رہائش کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15732]
امام شافعی نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ اللہ کی کتاب میں خرچہ کا ذکر ہے لیکن اللہ کی کتاب میں رہائش کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15732]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3202. جماع أبواب النفقة على الأقارب -- باب: النفقة على الأولاد
قریبی رشتہ داروں پر نفقہ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اولاد پر خرچ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15733
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 233] وَقَالَ: {فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [الطلاق: 6] .
0 [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15733]
حدیث نمبر: 15733
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا؟ قَالَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
(١٥٧٣٣) عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہند نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ابو سفیان کنجوس آدمی ہے، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اس کے مال میں سے کچھ لے لوں۔ فرمایا: تو لے لے جو تجھے اور تیرے بچے کو کافی ہوجائے معروف انداز میں۔ اس کو بخاری نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں نکالا ہے اور اس کو مسلم نے دوسری سندوں سے ہشام بن عروہ سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15734
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ⦗٧٨٤⦘ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى زَوْجَتِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْتَ أَبْصَرُ".
(١٥٧٣٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ پر ابھارا۔ ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنے بچے پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنی بیوی پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15734]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن