السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3204. -- باب: نفقة الأبوين
-- باب: والدین کے نفقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 15745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْحَافِظُ بِمَرْوَ، نا حَمَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةُ اللهِ لَكُمْ {يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ} [الشورى: ٤٩] فَهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اولادیں تمہارے لیے اللہ کا عطیہ ہیں، ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ [سورة الشورى: 49] ”اللہ جس کو وہ چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے“، وہ تمہاری اولاد ہیں اور ان کے مال تمہارے لیے ہیں جب تم اس کی طرف محتاج ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15745]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 15746
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ، نا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، نا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" فَهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا" فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ حَمَّادٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ سُفْيَانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَحْفَظُوا قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ لَيْسَ فِيهِ الْأَسْوَدُ وَلَيْسَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَهُوَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ”وہ اور ان کے مال تمہارے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہو“ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: مجھے یہ حدیث سفیان نے حماد عن ابراہیم عن اسود عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے بیان کی، سفیان نے کہا: یہ حماد کا وہم ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان کے شاگردوں سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اسے یاد نہیں رکھا تھا۔ عبداللہ کہتے ہیں: اس کی حدیث عمارہ بن عمیر سے ہے، اس میں اسود نہیں ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی نہیں ہیں کہ جب تم محتاج ہو۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں، یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15746]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں، یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15746]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15747
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَزْمَوَيْهِ، نا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ⦗٧٨٨⦘ أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ عَنْ مَطَرٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شُرَيْحٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ اس کی کمائی ہے اور اس کی اولاد اس کی کمائی ہے۔“ اسی طرح اس کو یعلیٰ بن عبید نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
یہ مطر عن الحکم عن ابراہیم عن شریح عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15747]
یہ مطر عن الحکم عن ابراہیم عن شریح عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15747]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15748
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِيِّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي قَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ فَكُلُوهُ هَنِيئًا".
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میرا باپ میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے اور زیادہ پاک جو تم کھاتے ہو تمہاری کمائی ہے، تم اس کو آسانی کے ساتھ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15748]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میرا مال بھی ہے اور میری اولاد بھی ہے اور میرا والد میرا مال لینا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15749]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15750
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَجْتَاحُ مَالِي قَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ".
یزید بن زریع نے اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا ہے اور میرا مال بھی ہے اور میرا والد میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔ فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔ تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15750]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي مَالًا وَعِيَالًا وَإِنَّ لِأَبِي مَالًا وَعِيَالًا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي فُيُطْعِمَهُ عِيَالَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ" هَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ وَلَا يَثْبُتُ مِثْلُهَا ⦗٧٨٩⦘.
محمد بن منکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا مال ہے اور میرے اہل و عیال ہیں اور میرے والد کا بھی مال ہے اور اس کے اہل و عیال بھی ہیں، وہ میرا مال لینا چاہتا ہے کہ وہ اس کو اپنے اہل و عیال کو کھلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔“ یہ منقطع ہے اور دوسری سند سے یہ موصول بھی روایت کی گئی ہے اور اس کی مثل ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15751]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَالَ الْوَلَدِ لِأَبِيهِ احْتَجَّ بِظَاهِرِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ لَهُ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيهِ إِذَا احْتَاجَ إِلَيْهِ فَإِذَا اسْتَغْنَى عَنْهُ لَمْ يَكُنْ لِلْأَبِ مِنْ مَالِهِ شَيْءٌ، احْتَجَّ بِالْأَخْبَارِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي تَحْرِيمِ مَالِ الْغَيْرِ، وَأَنَّهُ لَوْ مَاتَ وَلَهُ ابْنٌ لَمْ يَكُنْ لِلْأَبِ مِنْ مَالِهِ إِلَّا السُّدُسُ، وَلَوْ كَانَ أَبُوهُ يَمْلِكُ مَالَ ابْنِهِ لَحَازَهُ كُلَّهُ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !۔۔۔ اس کو ذکر کیا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کا خیال ہے کہ بیٹے کا مال اس کے والد کا ہے، اس نے حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے اور جس کا خیال ہے کہ اس کا اتنا مال لینا جائز ہے جو اسے کافی ہو جائے، جب وہ اس کا محتاج ہو اور جب وہ غنی (مال دار) ہو جائے تو باپ کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔ دلیل وہ احادیث و اخبار ہیں جو غیر کا مال لینے کی حرمت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر وہ (یعنی بیٹا) فوت ہو جائے اور اس کا بیٹا بھی ہو تو والد کو اس کے مال سے چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس کا باپ بیٹے کے مال کا مالک ہو تو وہ تمام کے تمام مال کا وارث ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15752]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کا خیال ہے کہ بیٹے کا مال اس کے والد کا ہے، اس نے حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے اور جس کا خیال ہے کہ اس کا اتنا مال لینا جائز ہے جو اسے کافی ہو جائے، جب وہ اس کا محتاج ہو اور جب وہ غنی (مال دار) ہو جائے تو باپ کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔ دلیل وہ احادیث و اخبار ہیں جو غیر کا مال لینے کی حرمت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر وہ (یعنی بیٹا) فوت ہو جائے اور اس کا بیٹا بھی ہو تو والد کو اس کے مال سے چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس کا باپ بیٹے کے مال کا مالک ہو تو وہ تمام کے تمام مال کا وارث ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15752]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15753
وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" كُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى، عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک اپنے مال کا اپنے والد اور بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15753]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15754
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِيَادٍ الطَّائِيِّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي كُلَّهُ وَيَجْتَاحَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيكَ"، فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" ارْضَ بِمَا رَضِيَ اللهُ بِهِ" وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِيَادٍ، وَقَالَ فِيهِ: إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ النَّفَقَةَ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ ضَعِيفٌ.
قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! یہ ارادہ کرتا ہے کہ میرا سارا مال لے لے، اور اس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے مال سے تیرے لیے اتنا ہے جو تجھے کافی ہو جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے“؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اس کے ساتھ راضی ہو جا جو اللہ نے تیرے لیے پسند کیا ہے۔
دوسرے راویوں نے اسے منذر بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں کہا: اس سے مراد صرف نفقہ (خرچہ) ہے۔ اور منذر بن زیاد ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15754]
دوسرے راویوں نے اسے منذر بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں کہا: اس سے مراد صرف نفقہ (خرچہ) ہے۔ اور منذر بن زیاد ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15754]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً