🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3224. جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن
قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15832
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبُشَيْرِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:" كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لَا تَوْبَةَ لَهُ. وَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ قَالُوا لَهُ: تُبْ".
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اہل علم سے اس بارے میں سوال پوچھو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس کی کوئی توبہ نہیں، اور جب کسی شخص سے قتل ہو جاتا ہے تو پھر اسے کہتے ہیں کہ توبہ کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15832]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15833
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كَرْدَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَلَأْتُ ⦗٣١⦘ حَوْضِي أنْتَظِرُ بَهِيمَتِي تَرِدُ عَلَيَّ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَهُ، وَثَلَمَ الْحَوْضَ وَسَالَ الْمَاءُ، فَقُمْتُ فَزِعًا فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا مِثْلَ الَّذِي. قَالَ: فَأَمَرَهُ بِالتَّوْبَةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنا حوض اپنے جانوروں کے لیے بھرا کہ انہیں پانی پلاؤں گا، ایک شخص کی اونٹنی آئی اور اس نے میرے حوض میں شگاف ڈال دیا اور سارا پانی بہہ گیا۔ میں جلدی سے اٹھا اور غصے میں اونٹنی کے مالک کو تلوار سے قتل کر دیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ جان بوجھ کر قتل کرنا نہیں ہے اور اسے توبہ کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15833]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15834
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَجْشَرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَعْنِي إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي قَتَلْتُ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَرَأَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ {حم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ} [غافر: ٢] ثُمَّ قَالَ لَهُ: اعْمَلْ وَلَا تَيْأَسْ". وَقَدْ رُوِّينَا فِي سَنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُؤَكِدُ تَأْوِيلَ أَبِي مِجْلَزٍ رَحِمَهُ اللهُ.
ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! مجھ سے قتل ہو گیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سورہ غافر کی ابتدائی تین آیات ﴿حٰمٓ ۝ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ﴾ «إِلَى قَوْلِهِ» ”اپنے اس قول تک کہ“ ﴿شَدِیْدِ الْعِقَابِ﴾ [سورة غافر: 1-3] پڑھیں، پھر فرمایا: نیک عمل کرتا رہ اور توبہ کرتا رہ، ناامید مت ہو۔
سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی احادیث ہم نے روایت کی ہیں جو ابو مجلز کے قول کی تاکید کرتی ہیں جو (15829) اور (15830) میں گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15834]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15835
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنَعَةٍ، قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَتَى ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللهُ لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ مَعَهُ الطُّفَيْلُ وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ فَمَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ فِي مَنَامِهِ فِي هَيْئَةٍ حَسَنَةٍ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَهُ فَقَالَ لَهُ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ. فَقَصَّ الطُّفَيْلُ رُؤْيَاهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”کیا آپ ایک مضبوط قلعہ اور حفاظت کی جگہ پسند فرمائیں گے؟“ (جاہلیت میں دوس کا ایک قلعہ تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، اس لیے کہ اللہ نے یہ (شرف) انصار کے لیے رکھ چھوڑا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو طفیل رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کے ایک اور شخص نے آپ کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ مدینہ پہنچ کر انہیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی، وہ شخص بیمار ہو گیا تو شدتِ تکلیف کی وجہ سے اس نے تیر کے پھلوں سے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے، جس سے اس کے ہاتھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور وہ مر گیا، تو طفیل رضی اللہ عنہ نے خواب میں اسے اچھی حالت میں دیکھا اور یہ دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ ڈھانپا ہوا ہے تو طفیل رضی اللہ عنہ ان سے پوچھنے لگے: ”تم نے اپنا ہاتھ کیوں ڈھانپا ہوا ہے؟“ تو وہ شخص کہنے لگا: ”مجھے کہا گیا کہ جس کو تو نے خود خراب کیا ہے ہم اسے ٹھیک نہیں کریں گے“، تو طفیل رضی اللہ عنہ نے سارا خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ» ”اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی معاف فرما دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15835]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15836
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ وَقَالَ الْآخَرَانِ: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. فَقَتَلَهُ فَكَمَّلَ بِهَ مِائَةً، ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ عَالِمٍ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: قَتَلَ مِائَةَ ⦗٣٢⦘ نَفْسٍ، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ، انْطَلِقْ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللهَ، فَاعْبُدْ مَعَهُمْ، وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ، فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا أَتَى نِصْفَ الطَّرِيقِ أَتَاهُ الْمَوْتُ، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ: جَاءَ تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ: إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ. فَأَتَاهُمْ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ، فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: قِيسُوا مَا بَيْنَ الْأَرَضِينَ، فَإِلَى أَيِّهَا كَانَ أَدْنَى فَهُوَ لَهُ، فَقَاسُوا، فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ، فَقَبَضَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ". قَالَ قَتَادَةُ: فَقَالَ الْحَسَنُ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَاءَ بِصَدْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے 99 ننانوے قتل کیے تھے۔ وہ لوگوں سے پوچھ کر ایک راہب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے 99 قتل کیے ہیں۔ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور سو قتل پورے کر دیے۔ پھر اس نے لوگوں سے کسی اچھے عالم کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتا دیا۔ وہ شخص اس عالم کے پاس آیا اور پوچھا کہ میں نے 100 سو قتل کیے ہیں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ تو اس نے جواب دیا: ہاں، تم ایسا کرو فلاں علاقہ میں چلے جاؤ وہاں نیک لوگ رہتے ہیں ان کے ساتھ مل کر عبادت کرو، یہاں واپس نہ آنا؛ کیونکہ یہ فتنوں کی سر زمین ہے۔ وہ شخص روانہ ہوا اور ابھی نصف راستہ ہی طے کیا تھا کہ موت نے آ لیا تو رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اختلاف ہو گیا۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے: یہ دل سے اللہ کے حضور توبہ کرنے نکلا تھا۔ عذاب کے فرشتے کہنے لگے: اس نے کبھی کوئی نیک عمل کیا ہی نہیں۔ ایک فرشتہ آدمی کی شکل میں آیا اور وہ کہنے لگا: زمین ناپ لو جس طرف فاصلہ کم ہو وہ لے جائیں، زمین ناپی گئی تو رحمت والے فرشتوں کے حق میں فیصلہ ہو گیا اور وہ اسے لے گئے۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں بتایا گیا کہ جب اس کو موت آئی تو اس نے اپنا سینہ (اس بستی کی طرف) آگے بڑھا دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15836]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15837
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، فَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی دعا ضرور قبول ہونے والی ہوتی ہے، میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے جس کے ساتھ میں سفارش کروں گا اور یہ میری امت کے ہر فرد کو حاصل ہو گی، سوائے مشرک کے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15837]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15838
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لیے خصوصاً ہوگی جن سے کبیرہ گناہ سرزد ہوئے ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15838]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3225. -- باب: قتل الولدان
-- باب: بچوں کو قتل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15839
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ} [الأنعام: 151] وَقَالَ: {وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأِيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ} وَقَالَ: {قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عَلِمٍ} [الأنعام: 140] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ﴾ ”اور مفلسی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم ہی تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی۔“ [سورة الأنعام: 151]
اور فرمایا: ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأِيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ﴾ ”اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟“ [سورة التكوير: 8-9]
اور فرمایا: ﴿قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عَلِمٍ﴾ ”یقیناً وہ لوگ خسارے میں پڑ گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بے وقوفی سے، بغیر علم کے قتل کیا۔“ [سورة الأنعام: 140] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: Q15839]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٣⦘ قُلْتُ: أِيُّ الْكَبَائِرِ أَكْبَرُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تُقْتَلَ وَلَدِكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے ساتھ شرک کرو، حالانکہ وہ تمہارا خالق ہے۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اپنی اولاد کو رزق کے خوف سے قتل کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15839]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15840
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ: ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، وَوَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ". قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ". وَفِي رِوَايَةِ الذُّهْلِيِّ:" أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ". حَدِيثُ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ مَوْصُولٌ، وَحَدِيثُ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا۔“
منصور اور اعمش کی روایت موصول ہے، جبکہ واصل عن ابی وائل عن عبداللہ والی روایت میں عمرو بن شرحبیل کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15840]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں