🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3338. -- باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي
-- باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16450
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ فِي قَتِيلٍ وُجِدَ بَيْنَ خَيْوَانَ وَوَادِعَةَ، أَنْ يُقَاسَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ، فَإِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ أَخْرَجَ إِلَيْهِمْ مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلًا حَتَّى يُوَافُوهُ مَكَّةَ، فَأَدْخَلَهُمُ الْحَجَرَ فَأَحْلَفَهُمْ، ثُمَّ قَضَى عَلَيْهِمْ بِالدِّيَةِ، فَقَالُوا: مَا وَقَتْ أَمْوَالُنَا أَيْمَانَنَا، وَلَا أَيْمَانُنَا أَمْوَالَنَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَذَلِكَ الْأَمْرُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ غَيْرُ سُفْيَانَ: عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَقَنْتُمْ بِأَيْمَانِكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَلَا يُطَلُّ دَمُ مُسْلِمٍ فَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْجَوَابِ عَنْهُ مَا يُخَالِفُونَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ مِنَ الْأَحْكَامِ، ثُمَّ قِيلَ لَهُ: الثَّابِتُ هُوَ عِنْدَكَ، قَالَ: لَا، إِنَّمَا رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ، عَنِ ⦗٢١٥⦘ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، وَالْحَارِثُ مَجْهُولٌ، وَنَحْنُ نَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْنَادِ الثَّابِتِ أَنَّهُ بَدَأَ بِالْمُدَّعِينَ، فَلَمَّا لَمْ يَحْلِفُوا قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا وَإِذْ قَالَ: تُبْرِئُكُمْ فَلَا يَكُونُ عَلَيْهِمْ غَرَامَةٌ، وَلَمَّا لَمْ يَقْبَلِ الْأَنْصَارِيُّونَ أَيْمَانَهُمْ وَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَى يَهُودَ الْقَتِيلَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ شَيْئًا⦗٢١٦⦘ قَالَ الرَّبِيعُ: أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَارِثٌ الْأَعْوَرُ كَانَ كَذَّابًا وَرُوِيَ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمُجَالِدٌ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَرُوِيَ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، عَنْ عُمَرَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ حَدِيثَ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، أَنَّ قَتِيلًا وُجِدَ بَيْنَ وَادِعَةٍ وَخَيْوَانَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، فَعَادَتْ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَى حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُجَالِدٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَمُجَالِدٌ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہیں ایک مقتول کے بارے میں لکھا گیا جو دو بستیوں کے درمیان میں ہوا۔ انہوں نے فرمایا: ”جس بستی کے وہ زیادہ قریب ہو اس کے 50 آدمی آئیں اور وہ قسم اٹھائیں۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت لگا دی، وہ کہنے لگے: ”ہماری قسموں نے نہ تو ہمارے مالوں کو بچایا اور نہ ہمارے مالوں نے ہماری قسموں کو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔“ [ضعیف]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان کے علاوہ نے کہا کہ عاصم احول رحمہ اللہ امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے خون کو تمہاری قسموں نے بچا لیا لیکن میں ایک مسلمان کا خون باطل نہیں ہونے دوں گا۔“ پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں وہ مسائل ذکر کیے کہ جن کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قصہ میں مخالفت کر رہے ہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا یہ قصہ آپ کے نزدیک ثابت ہے؟ فرمایا: ”نہیں۔“ امام شعبی رحمہ اللہ اسے حارث اعور سے نقل کرتے ہیں اور حارث اعور مجہول ہے۔ صحیح اور ثابت سند سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے بھی قسم کا مطالبہ کیا، لیکن انصار نہ مانے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں پر نہیں بلکہ اپنی طرف سے دیت ادا کی تھی۔
ربیع کہتے ہیں: مجھے ایک اہلِ علم نے جریر سے، انہوں نے مغیرہ سے اور انہوں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے بتایا کہ انہوں نے فرمایا: حارث اعور کذاب تھا۔ یہ روایت مجالد عن الشعبی عن مسروق عن عمر رضی اللہ عنہ کی سند سے بھی مروی ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ اور مطرف عن ابی اسحاق عن الحارث بن الازمع عن عمر کی سند سے بھی مروی ہے، اور ابو اسحاق نے حارث بن ازمع سے نہیں سنا۔ علی بن مدینی نے ابو زید سے اور انہوں نے شعبہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو اسحاق کو حارث بن ازمع کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ ایک مقتول وادعہ اور خیوان کے درمیان پایا گیا، تو میں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کو یہ کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: مجھے مجالد نے شعبی سے اور انہوں نے حارث بن ازمع سے بیان کی۔ تو ابو اسحاق کی روایت مجالد کی حدیث کی طرف لوٹ گئی، اور اس کی سند میں مجالد پر اختلاف ہے، اور مجالد قابلِ حجت نہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16450]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16451
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا حَجَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَجَّتَهُ الْأَخِيرَةَ الَّتِي لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا، غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلًا بِبَنِي وَادِعَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا قَضَى النُّسُكَ، وَقَالَ لَهُمْ: هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلًا مِنْكُمْ؟ قَالَ الْقَوْمُ: لَا فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا، فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ وَلَا عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلًا، فَحَلَفُوا بِذَلِكَ فَلَمَّا حَلَفُوا قَالَ: أَدُّوا دِيَةً مُغَلَّظَةً فِي أَسْنَانِ الْإِبِلِ أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ سِنَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَجْزِينِي يَمِينِي مِنْ مَالِي؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ فَأَخَذُوا دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ قَالَ عَلِيٌّ: عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رَفْعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْكَرٌ، وَهُوَ مَعَ انْقِطَاعِهِ فِي رِوَايَةِ مَنْ أَجْمَعُوا عَلَى تَرْكِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْمُتَّصِلُ أَوْلَى أَنْ يُؤْخَذَ بِهِ مِنَ الْمُنْقَطِعِ، وَالْأَنْصَارِيُّونَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ صَاحِبِهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ⦗٢١٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَدَأَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ، ثُمَّ رَدَّ الْأَيْمَانَ عَلَى الْمُدَّعِينَ.
ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخری حج کیا تو مسلمانوں کا ایک آدمی بنو وداعہ کے پاس قتل ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مناسک ادا کرنے کے بعد ان کی طرف آدمی بھیجا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے میں سے اس مقتول کے قاتل کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ قوم نے انکار کیا تو ان سے پچاس معتبر لوگ قسم کے لیے نکالے گئے اور حطیم میں کھڑا کر کے ان الفاظ سے قسم لی کہ اللہ کی قسم، جو اس حرمت والے گھر کا رب ہے، اس حرمت والے شہر اور حرمت والے مہینے کا رب ہے، تم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ تم اس کے قاتل کو جانتے ہو۔ انہوں نے قسم اٹھا دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر دیت مغلظہ لگا دی، اونٹوں کی مخصوص عمروں میں، یا دیناروں اور درہموں میں ایک دیت اور ثلث زائد۔ ایک شخص کہنے لگا، جس کا نام سنان تھا: اے امیر المومنین! کیا میری قسم میرے مال سے کفایت نہیں کرے گی؟ فرمایا: نہیں، میں نے تم میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ کیا ہے۔ تو انہوں نے اس کی دیت دیناروں میں، ایک دیت اور ایک تہائی دیت وصول کی۔
علی کہتے ہیں: عمر بن صبح اس کی سند میں متروک الحدیث ہے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرنا منکر ہے، اور یہ منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے راوی کی روایت میں ہے جس کے ترک پر محدثین کا اتفاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: متصل روایت منقطع کی نسبت لینے کے زیادہ لائق ہے، اور انصار اپنے آدمی کی حدیث کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے مدعی علیہم سے ابتدا کی، پھر قسمیں مدعیوں پر لوٹا دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16451]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16452
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَى إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَنَزَّى مِنْهَا فَمَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلَّذِينَ ادَّعَى عَلَيْهِمْ: أَتَحْلِفُونَ بِاللهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا؟ فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا مِنَ الْأَيْمَانِ، فَقَالَ لِلْآخَرِينَ: احْلِفُوا أَنْتُمْ، فَأَبَوْا، فَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَى السَّعْدِيِّينَ.
سلیمان بن یسار اور عراک بن مالک فرماتے ہیں کہ بنو سعد بن لیث کے ایک آدمی نے گھوڑا دوڑایا تو اس نے جہینہ قبیلہ کے ایک شخص کی انگلی کو روند دیا، اس سے خون بہتا رہا اور وہ مر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مدعی علیہ لوگوں سے کہا: ”کیا تم اللہ کی پچاس قسمیں اٹھاتے ہو کہ وہ اس (زخم) سے نہیں مرا؟“ انہوں نے انکار کر دیا اور قسمیں اٹھانے سے گھبرائے، تو انہوں نے دوسروں سے کہا: تم قسم اٹھاؤ، انہوں نے بھی انکار کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے سعدیوں پر نصف دیت مقرر کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16452]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3339. -- باب: ما روي في القتيل يوجد بين قريتين ولا يصح
-- باب: دو بستیوں کے درمیان پائے جانے والے مقتول کے بارے میں مروی روایت کا بیان، اور یہ کہ وہ صحیح نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16453
Not Found.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مقتول دو بستیوں کے درمیان ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی پیمائش کا حکم دیا تو ایک قبیلے کے ایک بالشت زیادہ قریب پایا گیا تو ان پر دیت ڈال دی گئی۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بالشت کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16453]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16454
Not Found.
سابقہ روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16454]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3340. -- باب: ما جاء في القتل بالقسامة
-- باب: قسامہ کی بنیاد پر قتل (قصاص) کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16455
Not Found.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے، سیدنا عبداللہ بن سہل اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے، پھر انہوں نے عبداللہ کے قتل کی مکمل حدیث بیان کی اور یہ بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”قسم اٹھا لو اور اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بن جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16455]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَبَشِيرُ بْنُ أَبِي كَيْسَانَ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أُصِيبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ بِخَيْبَرَ، وَكَانَ خَرَجَ إِلَيْهَا فِي أَصْحَابٍ لَهُ يَمْتَارُونَ تَمْرًا فَوُجِدَ فِي عَيْنٍ قَدْ كُسِرَتْ عُنُقُهُ ثُمَّ ضُرِحَ عَلَيْهِ، فَأَخَذُوهُ فَغَيَّبُوهُ، ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ شَأْنَهُ، فَتَقَدَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَعَهُ ابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، وَكَانَ صَاحِبَ الدَّمِ وَكَانَ ذَا قَدَمِ الْقَوْمِ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ قَبْلَ بَنِي عَمِّهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكِبَرَ الْكِبَرَ" فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ هُوَ بَعْدُ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ صَاحِبِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا فَنُسْلِمُهُ إِلَيْكُمْ؟" قَالُوا: مَا كُنَّا نَحْلِفُ عَلَى مَا لَا نَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ لَهُ قَاتِلًا، ثُمَّ يَبْرَءُونَ مِنْ دَمِهِ؟" فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ، مَا فِيهِمْ مِنَ الْكُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ فَقَالَ سَهْلٌ: فَوَاللهِ مَا أَنْسَى بَكْرَةً مِنْهَا حَمْرَاءَ ضَرَبَتْنِي بِرِجْلِهَا وَأَنَا أَحُورُهَا.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل خیبر میں قتل کر دیے گئے، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ کھجوریں لینے وہاں گئے تھے، وہ ایک چشمے میں پائے گئے، ان کی گردن توڑ دی گئی تھی، پھر ان پر مٹی ڈال دی گئی تھی۔ انہوں نے انہیں اٹھا کر دفن کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا۔ تو ان کے بھائی عبدالرحمن آگے بڑھے اور ان کے ساتھ ان کے دونوں چچا زاد، مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ تھے۔ عبدالرحمن ان میں سب سے کم عمر تھے لیکن وہی خون کے وارث تھے اور قوم میں مقام رکھتے تھے۔ جب انہوں نے اپنے چچا زادوں سے پہلے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا، بڑا۔“ تو حویصہ اور محیصہ نے بات کی، پھر اس کے بعد انہوں نے بات کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھی کے قتل کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اپنے قاتل کا نام لو گے، پھر اس پر پچاس قسمیں اٹھاؤ گے تو ہم اسے تمہارے حوالے کر دیں؟“ انہوں نے کہا: ”جو ہم نہیں جانتے اس پر ہم قسم نہیں اٹھا سکتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا وہ تمہارے لیے اللہ کی پچاس قسمیں اٹھائیں کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، پھر وہ اس کے خون سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم یہود کی قسمیں قبول نہیں کر سکتے، ان کا کفر اس سے کہیں بڑا ہے کہ وہ گناہ پر قسم اٹھانے سے رکیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹنیاں اس کی دیت ادا کی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ایک سرخ جوان اونٹنی کو نہیں بھولتا جس نے مجھے اپنی ٹانگ سے لات ماری تھی جبکہ میں انہیں ہانک رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16456]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16457
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، ح قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ⦗٢١٩⦘ أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ، بِبَحْرَةِ الرِّعَاءِ عَلَى شَطِّ لَيَّةَ، فَقَالَ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةَ، أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَمَا قَبْلَهُ مُحْتَمَلٌ لِاسْتِحْقَاقِ الدِّيَةِ، فَإِنَّهَا بِالدَّمِ تُسْتَحَقُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ،.
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کی بنیاد پر بنو نصر بن مالک کے ایک شخص کو بحرۃ الرعاء میں لیہ کے کنارے (قصاص میں) قتل کروایا اور فرمایا: ”قاتل اور مقتول انہی میں سے ہیں۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16457]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16458
وَرَوَى أَيْضًا أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَادَ بِالْقَسَامَةِ بِالطَّائِفِ وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ: أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
ابو مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کے قتل میں طائف میں قصاص لیا تھا۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16458]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16459
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، يَقُولُونَ: يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ فِي الْقَسَامَةِ الَّذِينَ يَجِيئُونَ مِنَ الشَّهَادَةِ عَلَى اللَّطْخِ، وَالشُّبْهَةِ الْخَفِيَّةِ مَا لَا يَجِيءُ خُصَمَاؤُهُمْ، وَحَيْثُ كَانَ ذَلِكَ كَانَتِ الْقَسَامَةُ لَهُمْ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَتَلَ وَهُوَ سَكْرَانُ رَجُلًا ضَرَبَهُ بِشَوْبَقٍ وَلَمْ يَكُنْ عَلَى ذَلِكَ بَيِّنَةٌ قَاطِعَةٌ، إِلَّا لَطْخٌ أَوْ شَبِيهُ ذَلِكَ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ فُقَهَاءِ النَّاسِ مَا لَا يُحْصَى، وَمَا اخْتَلَفَ اثْنَانِ مِنْهُمْ أَنْ يَحْلِفَ وُلَاةُ الْمَقْتُولِ وَيَقْتُلُوا أَوْ يَسْتَحْيُوا، فَحَلَفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا وَقَتَلُوا، وَكَانُوا يُخْبِرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْقَسَامَةِ، وَيَرَوْنَهَا لِلَّذِي يَأْتِي بِهِ مِنَ اللَّطْخِ وَالشُّبْهَةِ أَقْوَى مِمَّا يَأْتِي بِهِ خَصْمُهُ، وَرَأَوْا ذَلِكَ فِي الصُّهَيْبِيِّ حِينَ قَتَلَهُ الْحَاطِبِيُّونَ وَفِي غَيْرِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَزَادَ فِيهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، إِنْ كَانَ مَا ذَكَرْنَا لَهُ حَقًّا أَنْ يُحْلِفَنَا عَلَى الْقَاتِلِ ثُمَّ يُسَلَّمَ إِلَيْنَا.
ابوالزناد مدینہ کے کبار فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ قسامہ میں سب سے پہلے ان لوگوں سے قسم لی جائے گی جو الزام، شبہ اور گواہی لائیں، ان پر نہیں جو ان کے مدمقابل ہیں؛ کیونکہ قسامہ ہے ہی ان کے لیے۔
ابوالزناد کہتے ہیں: مجھے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک انصاری نے دوسرے کو نشے کی حالت میں قتل کر دیا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں تھی، صرف الزام اور شبہ تھا۔ لوگوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بہت سارے فقہاء بھی موجود تھے، ان میں سے کسی بھی دو کا اختلاف نہیں تھا کہ قسم مقتول کے اولیاء اٹھائیں گے۔ انہوں نے قسم اٹھائی اور ان کو قتل کر دیا اور وہ سب بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قسامہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے اور وہ الزام اور شبہ والوں کو دوسروں سے قوی سمجھتے تھے۔
اور ابوالزناد سے ایک روایت اور بھی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا جو ہم نے ذکر کیا ہے، اگر وہ سچ ہے تو ہم قاتل پر قسم اٹھوائیں گے، پھر اسے ہماری طرف بھیج دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16459]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں