السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3381. -- باب: ما جاء في قتال أهل البغي والخوارج
-- باب: اہلِ بغاوت اور خوارج سے قتال کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16691
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمْعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16691]
حدیث نمبر: 16692
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّرِيرُ بِالرِّيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا عَبْيدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْأَعْمَشُ، ح قَالَ: وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا وَكِيعٌ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو،، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، أَلَا وَإِنَّ عَافِيَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَفِتَنٌ يَدْفُقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، تَجِيءُ الْفِتَنُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ"، وَقَالَ مَرَّةً:" مَا اسْتَطَاعَ"، أَظُنُّهُ قَالَ: فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرَ. فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَدْخَلْتُ رَأْسِي بَيْنَ ⦗٢٩٣⦘ رَجُلَيْنِ فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَأَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ}، قَالَ: فَوَضَعَ جَمْعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ نَكَسَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ". قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي. لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں کعبہ کے سائے میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا اور وہ لوگوں کو احادیث بیان کر رہے تھے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم ایک جگہ اترے تو ہم میں سے بعض خیمے لگانے لگے، بعض جانوروں کو چارہ دینے لگے اور بعض تیر اندازی کرنے لگے تو مؤذن نے پکارا: «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» ”نماز کھڑی ہو رہی ہے“۔ کہتے ہیں: جب میں وہاں گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے: ”اے لوگو! مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے تو ان پر حق تھا کہ وہ خیر کے کاموں پر لوگوں کی راہنمائی کریں اور برائی سے ڈرائیں، خبردار! اس امت کا اول عافیت میں ہے اور آخر آزمائش اور فتنوں میں ہے، ایک فتنہ آئے گا مومن سمجھے گا یہ تو تباہ کر دے گا، وہ ختم ہو جائے گا۔ دوسرا آئے گا وہ کہے گا: یہ، یہ۔ پھر وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ تیسرا آئے گا پھر وہ کہے گا: یہ، یہ، یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ جو یہ چاہتا ہے کہ جہنم سے دور کر دیا جائے اور جنت میں داخل ہو جائے تو اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو اپنے لیے پسند کرے وہی لوگوں کے لیے بھی پسند کرے اور جو امام سے بیعت کرے تو اس نے اپنی ہتھیلی اور اپنے دل کی خواہش اسے دے دی تو جہاں تک ہو سکے اس کی فرمان برداری کرے۔ اگر کوئی اس میں جھگڑا کرے تو اس کی گردن کاٹ دے۔“ جب میں نے ان سے یہ حدیث سنی تو دو آدمیوں کے درمیان میں سر داخل کیا اور کہا کہ آپ کے چچا کا بیٹا معاویہ ہمیں کہتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے لڑیں اور ہمارے ہی مال ہم باطل طریقے سے کھائیں، حالانکہ اللہ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] اور ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ [سورة البقرة: 188] ، تو انھوں نے اپنے ہاتھ کو اپنی پیشانی پر رکھا، پھر ہٹایا اور اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اللہ کی اطاعت میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں اس کی نافرمانی کرو۔ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو فرمایا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16692]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16693
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ:" وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ"، قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَوْمَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16693]
حدیث نمبر: 16694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَعَمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ: بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ"، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ، قَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ:" مِنْ يُطِعِ اللهَ إِذَا عَصَيْتُهُ، أَيَأْمَنُنِي اللهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟" قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهُ، أَحْسَبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَمَنَعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا، قَوْمًا يَقْرءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ عَبْدَةَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ سونا مٹی میں ملا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید خیل اور علقمہ بن علاقہ عامری کے درمیان تقسیم کر دیا۔ قریش اور انصار غصہ ہو گئے کہ اہل نجد کے شرفاء کو دے دیا گیا اور ہمیں چھوڑ دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان کی تالیفِ قلب کی ہے۔“ ایک آدمی دھنسی ہوئی آنکھوں والا، پھولے ہوئے گالوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا، گھنی داڑھی والا اور گنجا کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈریے؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو اطاعت کون کرے گا؟ اللہ نے مجھے اہل ارض پر امین بنایا ہے، تم مجھے امین نہیں بناتے۔“ تو ایک آدمی (غالباً خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: کیا اسے قتل کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک قوم ہو گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ اگر میں انہیں پاؤں تو عاد قوم کی طرح انہیں قتل کر دوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16694]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16695
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَكُونُ فُرْقَةٌ بَيْنَ طَائِفَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي، تَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ تَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے دو گروہوں کے درمیان جدائی ہو گی اور ایک نکلنے والا ان میں سے نکل جائے گا، اس سے دونوں گروہوں میں سے حق کے قریب والا لڑے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16695]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الْفِئَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16696]
حدیث نمبر: 16697
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمْ بِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سناؤں تو مجھے آسمان سے گرنا محبوب ہے اس سے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں اور جب میں آپ کے غیر سے بیان کروں تو میں ایک جنگجو ہوں اور ”جنگ دھوکا ہے“، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آخری زمانے میں ایسی قوم آئے گی جن کی عمریں کم، دماغ کے بے وقوف، اچھی بات کہیں گے لیکن ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں جائے گا، وہ جہاں بھی ملیں انھیں قتل کردینا، کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ان کے قتل کا اجر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16697]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16698
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدٍ، ثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ:" يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16698]
حدیث نمبر: 16699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، وَقَالَ حَمَّادٌ: ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ:" فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ" قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّْمِيِّ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج یا اہل نہروان کا ذکر کیا اور فرمایا: ”ان میں ایک شخص ہے جو ناقص ہاتھ والا یا بھرے ہوئے گوشت کے ہاتھ والا ہے۔ اگر تم تکبر میں نہ آؤ تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاؤں جس کا اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ان سے لڑیں گے۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! تین مرتبہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16699]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16700
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَتْ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قَضَى اللهُ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَتْ لَهُ ذِرَاعٌ، عَلَى عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ"، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللهِ"، قَالَ سَلَمَةُ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحِ، وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَا فَرَجَعْتُمْ، قَالَ: فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ، وَسَلُّوا السُّيُوفَ، وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: فَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهُمُ الْمُخْدَجَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ فَالْتَمَسَهُ فَوَجَدَهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُبَيْدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ ⦗٢٩٦⦘ الْمُؤْمِنِينَ آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِيْ وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
زید بن وہب جہنی، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج کے خلاف جنگ میں شریک تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے، تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں، تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں اور تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہوں گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی نماز ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گی۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جو لشکر ان سے لڑے گا اگر وہ جان لے کہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر ان کے لیے کیا فیصلہ فرمایا ہے تو وہ اسی پر بھروسا کر کے (دوسرے) اعمال چھوڑ بیٹھیں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک شخص ہوگا جس کا بازو ہوگا مگر کلائی نہیں ہوگی اور اس کے بازو پر عورت کے پستان جیسا گوشت کا لوتھڑا ہوگا، جس پر سفید بال ہوں گے۔““ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم معاویہ اور اہل شام کی طرف جاؤ گے اور انہیں اپنے پیچھے اپنی اولاد اور مالوں میں چھوڑ جاؤ گے؟ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں، کیونکہ انہوں نے خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر حملے کیے ہیں؛ لہٰذا اللہ کا نام لے کر چلو۔“
سلمہ کہتے ہیں: زید بن وہب نے مجھے ایک ایک منزل بیان کی یہاں تک کہ کہا: ہم ایک پل سے گزرے۔ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس دن خوارج کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا، اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا واسطہ دیں گے جیسے حروراء کے دن واسطہ دیا تھا تو تم لوٹ گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں نکال لیں، اور لوگوں نے انہیں نیزوں سے مارا، تو وہ ایک دوسرے پر گر کر قتل ہوئے، اور اس دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) لوگوں میں سے صرف 2 آدمی قتل ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں ناقص بازو والے آدمی کو تلاش کرو۔“ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود گئے تو وہ مل گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (حق) پہنچا دیا ہے۔“ اس پر عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!“ یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ قسم لی اور آپ ہر بار قسم اٹھاتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16700]
سلمہ کہتے ہیں: زید بن وہب نے مجھے ایک ایک منزل بیان کی یہاں تک کہ کہا: ہم ایک پل سے گزرے۔ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس دن خوارج کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا، اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا واسطہ دیں گے جیسے حروراء کے دن واسطہ دیا تھا تو تم لوٹ گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں نکال لیں، اور لوگوں نے انہیں نیزوں سے مارا، تو وہ ایک دوسرے پر گر کر قتل ہوئے، اور اس دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) لوگوں میں سے صرف 2 آدمی قتل ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں ناقص بازو والے آدمی کو تلاش کرو۔“ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود گئے تو وہ مل گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (حق) پہنچا دیا ہے۔“ اس پر عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!“ یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ قسم لی اور آپ ہر بار قسم اٹھاتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16700]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح