السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3384. -- باب: ما جاء في قتال الضرب الأول من أهل الردة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم
-- باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی پہلی قسم (منکرینِ زکوٰۃ وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16729
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، وَعِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بُزْرُجٍ، قَالَ: خَرَجَ أَسْوَدٌ الْكَذَّابُ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَنْسٍ، وَكَانَ مَعَهُ شَيْطَانَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: سَحِيقٌ، وَالْآخَرُ: شَقِيقٌ، وَكَانَا يُخْبِرَانِهِ بِكُلِّ شَيْءٍ يَحْدُثُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، فَسَار الْأَسْوَدُ حَتَّى أَخَذَ ذَمَارَ. فَذَكَرَ قِصَّةً فِي شَأْنِهِ، وَتَزَوُّجِهِ بِالْمِرْزِبَانَةِ امْرَأَةِ بَاذَانَ، وَأَنَّهَا سَقَتْهُ خَمْرًا صَرْفًا حَتَّى سَكِرَ فَدَخَلَ فِي فِرَاشِ بَاذَانَ، كَانَ مِنْ رِيشٍ، فَانْقَلَبَ عَلَيْهِ الْفِرَاشُ، وَدَخَلَ فَيْرُوزٌ وَخُرَّزَاذُ بْنُ بُزْرُجٍ، فَأَشَارَتْ إِلَيْهِمَا الْمَرْأَةُ أَنَّهُ فِي الْفِرَاشِ، وَتَنَاوَلَ فَيْرُوزٌ بِرَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَعَصَرَ عُنُقَهُ فَدَقَّهَا، وَطَعَنَهُ ابْنُ ُبُزْرُجٍ بِالْخَنْجَرِ فَشَقَّهُ مِنْ تَرْقُوَتِهِ إِلَى عَانَتِهِ، ثُمَّ احْتَزَّ رَأْسَهُ، وَخَرَجُوا وَأَخْرَجُوا الْمَرْأَةَ مَعَهُمْ، وَمَا أَحَبُّوا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً أُخْرَى، وَفِيهَا قَدُْومُ فَيْرُوزٍ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنَّهُ قَالَ لِفَيْرُوزٍ: كَيْفَ قَتَلْتَ الْكَذَّابَ؟ قَالَ: اللهُ قَتَلَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَرَجَعَ فَيْرُوزٌ إِلَى الْيَمَنِ.
نعمان بن بزرج کہتے ہیں کہ اسود کذاب نکلا، یہ بنو عنس کا ایک شخص تھا۔ اس کے ساتھ 2 شیطان تھے۔ ایک کا نام سحیق اور دوسرے کا شقیق تھا۔ یہ دونوں اسے لوگوں کے معاملات میں جو کچھ ہوتا اس سب کی خبر دیا کرتے تھے۔ اسود چلا یہاں تک کہ اس نے ذمار پر قبضہ کر لیا۔ پھر مکمل قصہ بیان کیا کہ اس نے باذان کی بیوی مرزبانہ کے ساتھ کس طرح شادی کی، اور اس نے اسے خالص شراب اتنی پلائی کہ یہ نشے سے مدہوش ہو گیا اور باذان کے بستر میں داخل ہو گیا جو پروں کا تھا، تو بستر اس پر الٹ گیا، فیروز اور خرزاذ بن بزرج داخل ہوئے اور اس عورت نے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بستر میں ہے تو فیروز نے اسے سر اور داڑھی سے پکڑا اور اس کی گردن مروڑ کر توڑ دی، اور ابن بزرج نے اسے خنجر مارا اور ہنسلی سے زیرِ ناف تک چیر دیا، پھر اس کا سر کاٹ لیا، اور وہ نکلے اور عورت کو ساتھ لے کر چلے گئے اور ساتھ میں گھر سے پسند کا سامان بھی اٹھا لیا۔ پھر ایک اور قصہ بیان کیا کہ جس میں یہ تھا کہ فیروز امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: فیروز! اس کذاب کو کیسے قتل کیا تھا؟ تو جواب دیا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے اسے قتل کیا تھا۔ کہا: ہاں! لیکن مجھے وہ واقعہ سناؤ، تو فیروز نے پورا واقعہ سنایا اور پھر یمن چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16729]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3385. -- باب: ما جاء في قتال الضرب الثاني من أهل الردة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم
-- باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی دوسری قسم (مدعیانِ نبوت وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q16730
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهُمْ قَوْمٌ تَمَسَّكُوا بِالْإِسْلَامِ، وَمَنَعُوا الصَّدَقَاتِ، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِقِصَّةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام پر قائم رہے لیکن انہوں نے زکوٰۃ (ادا کرنے) سے انکار کر دیا۔“
اور انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے واقعے سے استدلال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16730]
اور انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے واقعے سے استدلال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16730]
حدیث نمبر: 16730
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَنْبَأَ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ⦗٣٠٦⦘ الْقَاضِي، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ نُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو عرب کے کچھ قبیلوں نے کفر کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ ان سے کیسے لڑیں گے؟ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: ”لوگوں کے کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھنے تک مجھے ان سے لڑنے کا حکم ہے، جب وہ کلمہ کا اقرار کر لیں تو اپنا مال اور خون انہوں نے مجھ سے بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں ان سے ضرور لڑوں گا، زکوٰۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رسی «عِقَالًا» ”اونٹ باندھنے کی رسی“ بھی زکوٰۃ میں دیتے تھے اور اب اس کا انکار کیا تو میں ضرور لڑوں گا“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! بات صرف یہ تھی کہ میں نے دیکھا کہ اللہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ قتال کے لیے کھول دیا ہے، تو میں جان گیا کہ یہی حق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16730]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16731
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذَا مِنْ حَقِّهَا، لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللهُ، لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا أَعْطُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ سَقَطَ مِنْهُ قَوْلُهُ: لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللهُ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ: وَاحْتَجَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَحَدُهُمَا أَنْ قَالَ: قد قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَّا بِحَقِّهَا"، وَهَذَا مِنْ حَقِّهَا، وَالْآخَرُ أَنْ قَالَ: لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي فِيمَا أَرَى وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّهُ مُجَاهِدُهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ، وَإِنَّ الزَّكَاةَ مِثْلَهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَعَلَّ مَذْهَبَهُ فِيهِ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: {وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَذَلِكَ دَيْنُ الْقِيمَةِ} [البينة: ٥] ، وَأَنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ شَهَادَةَ الْحَقِّ وَالصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ، وَأَنَّهُ مَتَى مَنَعَ فَرْضًا قَدْ لَزِمَهُ، لَمْ يُتْرَكْ وَمَنْعِهِ حَتَّى يُؤَدِّيَهُ أَوْ يُقْتَلَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، يُرِيدُ أَنَّهُ انْشَرَحَ صَدْرُهُ بِالْحُجَّةِ الَّتِي أَدْلَى بِهَا، ⦗٣٠٧⦘ وَالْبُرْهَانِ الَّذِي أَقَامَهُ. وَقَالَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَهُمُ اللهُ: قَدْ وَقَعَ اخْتِصَارٌ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، أَنَّهُ أَمَرَ بِالْقِتَالِ عَلَى الشَّهَادَتَيْنِ، وَعَلَى إِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، فَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا قَاتَلَ مَانِعِي الزَّكَاةِ بِالنَّصِّ مَعَ مَا ذُكِرَ مِنَ الدَّلَالَةِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا سَلَّمَ ذَلِكَ لَهُ حِينَ قَامَتْ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ بِمَا رَوَى فِيهِ مِنَ النَّصِّ، وَذَكَرَ فِيهِ مِنَ الدَّلَالَةِ، لَا أَنَّهُ قَلَّدَهُ فِيهِ.
تقدم قبلہ
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں جو دلیل پکڑی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے لی ہے: «إِلَّا بِحَقِّهَا» ”مگر اس کے حق کے ساتھ“ اور دوسری اس چیز سے بھی کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا ہے یہ اس میں فرق کیوں کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نماز پر جہاد کرتے تھے اور زکوۃ بھی اسی جیسی ہے اور شاید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾ [سورة البينة: 5] سے انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ حق کی گواہی، نماز اور زکوۃ کو فرض کیا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر لازم کسی فرض کو روک لے تو اسے اس کے روکنے پر چھوڑا نہیں جائے گا یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرے یا قتل کر دیا جائے اور شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو اپنے انشراحِ صدر کی بات کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو دلائل پیش کیے تھے وہ میرے دل میں گھر کر گئے۔
ہمارے بعض ائمہ رحمہم اللہ نے فرمایا: اس حدیث کی روایت میں اختصار ہوا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی سندوں سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے دونوں شہادتوں، نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے پر قتال کا حکم دیا، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوۃ روکنے والوں سے نص کی بنیاد پر مذکورہ استدلال کے ساتھ قتال کیا، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان کی اس وقت تسلیم کی جب ان پر اس نص سے جو انہوں نے روایت کی اور اس استدلال سے جو انہوں نے ذکر کیا، حجت قائم ہو گئی، نہ یہ کہ انہوں نے اس میں ان کی تقلید کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16731]
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں جو دلیل پکڑی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے لی ہے: «إِلَّا بِحَقِّهَا» ”مگر اس کے حق کے ساتھ“ اور دوسری اس چیز سے بھی کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا ہے یہ اس میں فرق کیوں کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نماز پر جہاد کرتے تھے اور زکوۃ بھی اسی جیسی ہے اور شاید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾ [سورة البينة: 5] سے انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ حق کی گواہی، نماز اور زکوۃ کو فرض کیا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر لازم کسی فرض کو روک لے تو اسے اس کے روکنے پر چھوڑا نہیں جائے گا یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرے یا قتل کر دیا جائے اور شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو اپنے انشراحِ صدر کی بات کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو دلائل پیش کیے تھے وہ میرے دل میں گھر کر گئے۔
ہمارے بعض ائمہ رحمہم اللہ نے فرمایا: اس حدیث کی روایت میں اختصار ہوا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی سندوں سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے دونوں شہادتوں، نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے پر قتال کا حکم دیا، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوۃ روکنے والوں سے نص کی بنیاد پر مذکورہ استدلال کے ساتھ قتال کیا، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان کی اس وقت تسلیم کی جب ان پر اس نص سے جو انہوں نے روایت کی اور اس استدلال سے جو انہوں نے ذکر کیا، حجت قائم ہو گئی، نہ یہ کہ انہوں نے اس میں ان کی تقلید کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16731]
حدیث نمبر: 16732
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ"، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلَيْهِ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ۱۶۷۳۰ نمبر والی حدیث۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16732]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16733
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ تَعَالَى".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ کلمہ کا اقرار نہ کر لیں، نماز قائم نہ کر لیں اور زکوٰۃ ادا نہ کریں۔ جب وہ یہ کر لیں گے تو انہوں نے اپنے نفس اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16733]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16734
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سابقہ روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16734]
حدیث نمبر: 16735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، ثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، ⦗٣٠٨⦘ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْمُسْنَدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سابقہ روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16735]
حدیث نمبر: 16736
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا آَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} الْآيَةِ كُلِّهَا، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَقَدْ عَلِمَ اللهُ أَنَّهُ سَيَرْتَدُّ مُرْتَدُّونَ مِنَ النَّاسِ، فَلَمَّا قَبَضَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّ النَّاسُ عَنِ الْإِسْلَامِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَسَاجِدَ، أَهْلَ الْمَدِينَةِ، وَأَهْلَ مَكَّةَ، وَأَهْلَ جَوَاثَا مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، وَقَالَتِ الْعَرَبُ: أَمَا الصَّلَاةُ فَنُصَلِّي، وَأَمَّا الزَّكَاةُ فَوَاللهِ لَا نُغْصَبُ أَمْوَالَنَا، فَكُلِّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنْهُمْ، وَتُخْلَى عَنْهُمْ، وَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَوْ قَدْ فَقِهُوَا لَأَعْطُوا الزَّكَاةَ طَائِعِينَ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ شَيْءٍ جَمَعَ اللهُ بَيْنَهُ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللهُ وَرَسُولُهُ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ، فَبَعَثَ اللهُ عَلَيْهِمْ عَصَائِبَ فَقَاتَلُوا عَلَى مَا قَاتَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَقَرُّوا بِالْمَاعُونِ، وَهِيَ الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ، ثُمَّ إِنَّ وَفْدَ الْعَرَبِ قَدِمُوا عَلَيْهِ فَخَيَّرَهُمْ بَيْنَ خُطَّةٍ مُخْزِيَةٍ أَوْ حَرْبٍ مُجْلِيَةٍ، فَاخْتَارُوا الْخُطَّةَ، وَكَانَتْ أَهْوَنَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَشْهَدُوا أَنَّ قَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ وَقَتْلَى الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ، وَمَا أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا أَصَابُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَدُّوهُ عَلَيْهِمْ.
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 54] نازل ہوا تو پتا چل گیا کہ کچھ لوگ مرتد بھی ہوں گے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو لوگ مرتد ہو گئے، علاوہ تین جگہوں ”مسجدوں“ کے اہل، مدینہ، اہل مکہ، اہل جواثا بنو عبدالقیس اہل بحرین سے، عرب کہنے لگے: نماز تو ہم پڑھیں گے، لیکن زکاۃ کے معاملے میں اللہ کی قسم! ہم اپنے مال زبردستی نہیں لینے دیں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کی گئی کہ ان سے درگزر کریں اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور ان سے کہا گیا: اگر انہیں سمجھ آ گئی تو یہ خوشی سے زکاۃ دیں گے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! جس چیز کو اللہ نے جمع کیا ہے میں اس میں فرق نہیں کروں گا اور اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی روکا جو اللہ اور اس کے رسول نے فرض کیا ہے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر (مسلمانوں کی) جماعتیں بھیجیں جنہوں نے اس چیز پر لڑائی کی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کی تھی، یہاں تک کہ یہ لوگ «الْمَاعُونَ» یعنی فرض زکاۃ کا اقرار کر گئے۔ پھر عرب کے وفود آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان کو رسوا کن صلح یا جلاوطن کر دینے والی جنگ میں سے ایک کا اختیار دیا تو انہوں نے صلح کو پسند کر لیا، اور یہ ان پر آسان تھا کہ وہ گواہی دیں کہ ان کے مقتول جہنم میں ہیں اور مسلمانوں کے مقتول جنت میں، اور مسلمانوں نے ان کا جو مال لیا وہ حلال ہے اور انہوں نے مسلمانوں کا جو مال لیا وہ انہیں واپس کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16736]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 16737
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ جَهَّزَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُيُوشًا عَلَى بَعْضِهَا شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَسَارُوا حَتَّى نَزَلُوا الشَّامَ، فَجَمَعَتْ لَهُمُ الرُّومُ جُمُوعًا عَظِيمَةً، فَحُدِّثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَهُوَ بِالْعِرَاقِ، أَوْ كَتَبَ أَنِ: انْصَرِفْ بِثَلَاثَةِ آلَافِ فَارِسٍ فَأَمِدَّ إِخْوَانَكَ بِالشَّامِ، وَالْعَجَلَ الْعَجَلَ، فَأَقْبَلَ خَالِدٌ مُغِذًّا جَوَادًا، فَاشْتَقَّ الْأَرْضَ بِمَنْ مَعَهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَى ضمير فَوَجَدَ الْمُسْلِمِينَ مُعَسْكِرِينَ بِالْجَابِيَةِ، وَتَسَامَعَ الْأَعْرَابُ الَّذِينَ كَانُوا فِي مَمْلَكَةِ الرُّومِ بِخَالِدٍ فَفَزِعُوا لَهُ، فَفِي ذَلِكَ يَقُولُ قَائِلُهُمْ:.
عبدالرحمن بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کچھ لشکر تیار کیے: کسی پر سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ، کسی پر سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور کسی پر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا۔ یہ چلے گئے، یہاں تک کہ شام میں اترے تو رومیوں نے ان کے مقابلے میں بہت بڑی فوج جمع کرلی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو عراق میں تھے کو لکھا کہ تین ہزار سواروں کے ساتھ شام پہنچو اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور جلدی کرو، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ متوجہ ہوئے، زمین پر ان کے ساتھ مشقت ہوگئی جو ان کے ساتھ تھے، آپ ضمیر کی طرف نکلے جہاں انہوں نے مسلمانوں کو جابیہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے پایا اور جو رومی اعراب تھے۔ انھوں نے جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں سنا تو گھبرا گئے۔ اس کے بارے میں کسی کہنے والے نے کہا ہے: ”ہائے کاش! ہم گزر جائیں، ابوبکر کے شہسوار سے پہلے ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں“ اور مبسوط میں امام شافعی رحمہ اللہ سے اس طرح منقول ہے۔
ہائے ہم نے صبح کی فجر کے پھوٹنے سے پہلے
شاید ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ہم ان کے درمیان نہیں تھے
کتنی عجیب بات ہے کہ کیا ہوگیا ہے ابوبکر کی بادشاہت کو
وہ جو انھوں نے تم سے مانگا ہے اور تم نے روک دیا
وہ کھجور کی طرح یا کھجور سے بھی میٹھا ہے ان کے نزدیک
ہم بھی ان کو روکیں گے جب تک ہم میں بقاء ہے
تنگی کی گھڑی میں عزت دار کے یہی لائق ہے
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم نے کفر نہیں کیا، لیکن اپنے مال کے لحاظ سے ہم بخیل ہو گئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16737]
ہائے ہم نے صبح کی فجر کے پھوٹنے سے پہلے
شاید ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ہم ان کے درمیان نہیں تھے
کتنی عجیب بات ہے کہ کیا ہوگیا ہے ابوبکر کی بادشاہت کو
وہ جو انھوں نے تم سے مانگا ہے اور تم نے روک دیا
وہ کھجور کی طرح یا کھجور سے بھی میٹھا ہے ان کے نزدیک
ہم بھی ان کو روکیں گے جب تک ہم میں بقاء ہے
تنگی کی گھڑی میں عزت دار کے یہی لائق ہے
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم نے کفر نہیں کیا، لیکن اپنے مال کے لحاظ سے ہم بخیل ہو گئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16737]