السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3382. -- باب: الدليل على أن الفئة الباغية منهما لا تخرج بالبغي عن تسمية الإسلام
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ ان دونوں میں سے باغی گروہ اپنی بغاوت کی وجہ سے اسلام کے نام سے خارج نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 16720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: رَأَى عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ، وَكَانَ مِنْ أَفَاضِلِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِقِبَابٍ مَضْرُوبَةٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: لِذِي كَلَاعٍ وَحَوْشَبٍ، وَكَانَا مِمَّنْ قُتِلَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلَ عَمَّارٌ وَأَصْحَابُهُ؟ قَالُوا: أَمَامَكَ، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَقُوا اللهَ فَوَجَدُوهُ وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلَ أَهْلُ النَّهْرِ؟، قَالَ: لَقُوا بَرَحًا، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ: فَسَمِعْتُ يَزِيدَ فِي الْمَجْلِسِ بِبَغْدَادَ، وَكَانَ يُقَالُ: إِنَّ فِي الْمَجْلِسِ سَبْعِينَ أَلْفًا، قَالَ: لَا تَغْتَرُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَإِنَّ ذَا الْكَلَاعِ وَحَوْشَبًا أَعْتَقَا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ أَهْلِ بَيْتٍ، وَذَكَرَ مِنْ مَحَاسِنِهِمْ أَشْيَاءً.
ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ، جو سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے افاضل اصحاب میں سے تھے، انہوں نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں بڑے بڑے گنبد دیکھے، میں نے پوچھا: یہ کن کے لیے ہیں؟ تو جواب ملا: یہ ذو الکلاع اور ذو الحوشب کے لوگوں کے لیے ہیں۔ یہ دونوں وہ تھے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقتول ہوئے تھے۔ میں نے کہا: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا کیا بنا؟ کہا: وہ آپ کے آگے ہیں۔ میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ!“ انہوں نے تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کیا ہے، پھر اکٹھے؟ تو جواب ملا: انہوں نے اللہ کی مغفرت کو بڑا وسیع پایا۔ میں نے کہا: اہل النہر کے ساتھ کیا ہوا؟ کہا: وہ تکلیف کو پہنچے۔ یحییٰ بن ابی طالب کہتے ہیں: میں نے یزید سے ایک مجلس میں سنا، وہ بغداد میں تھے اور مجلس میں ستر ہزار لوگ تھے، وہ کہنے لگے: یہ حدیث تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، بیشک ذو الکلاع اور ذو الحوشب نے بارہ ہزار (12000) اہل بیت کو آزاد کیا تھا اور بھی ان کے محاسن بیان کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16720]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 16721
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، أَنَّ عَمَّارًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَا تَقُولُوا كَفَرَ أَهْلُ الشَّامِ، وَلَكِنْ قُولُوا فَسَقُوا أَوْ ظَلَمُوا.
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم یہ نہ کہو کہ اہل شام کافر ہو گئے بلکہ وہ فاسق اور ظالم ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16721]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّدِيرِيُّ، بخُسْرَوْجِرْدَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: مَنْ يَتَعَرَّفُ الْبُغَاةَ يَوْمَ قُتِلَ الْمُشْرِكُونَ؟ يَعْنِي أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:" مِنَ الشِّرْكِ فَرُّوا، قَالَ: فَالْمُنَافِقُونَ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُونَ لَا يَذْكُرُونَ اللهَ إِلَّا قَلِيلًا، قَالَ: فَمَا هُمْ؟ قَالَ: قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا فَنُصِرْنَا عَلَيْهِمْ.
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: کون ہے جو دغلوں کو پہچانتا ہے، اس دن جب مشرک یعنی «أَهْلُ النَّهْرِ» ”اہلِ نہر“ قتل کیے گئے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ شرک سے دور تھے۔ اس نے کہا: پھر کیا وہ منافق تھے؟ آپ نے فرمایا: منافق اللہ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں، تو اس نے پوچھا: وہ کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ایک باغی قوم جس پر ہمیں فتح ملی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16722]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3383. -- باب: من قال: لا تباعة في الجراح والدماء، وما فات من الأموال في قتال أهل البغي
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک اہلِ بغاوت سے قتال کے دوران ہونے والے زخموں، خون (جانوں کے ضیاع)، اور تلف ہونے والے اموال کا کوئی تاوان (قصاص یا دیت) لازم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16723
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:" قَدْ هَاجَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى، وَأَدْرَكَتْ، يَعْنِي الْفِتْنَةَ، رِجَالًا ذَوِي عَدَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ مَعَهُ بَدْرًا، وَبَلَغَنَا أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَ أَنْ يُهْدَرَ أَمْرُ الْفِتْنَةِ، وَلَا يُقَامُ فِيهَا عَلَى رَجُلٍ قَاتِلٍ، فِي تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، قِصَاصٌ فِيمَنْ قَتَلَ، وَلَا حَدٌّ فِي سِبَاءِ امْرَأَةٍ سُبِيَتْ وَلَا يُرَى عَلَيْهَا حَدٌّ، وَلَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا مُلَاعَنَةٌ، وَلَا يُرَى أَنْ يَقْفُوهَا أَحَدٌ إِلَّا جُلِدَ الْحَدَّ، وَيُرَى أَنْ تُرَدَّ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ بَعْدَ أَنْ تَعْتَدَّ فَتَقْضِيَ عِدَّتَهَا مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ، وَيُرَى أَنْ يَرِثَهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ.
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ بھڑکا تو اس فتنے نے بہت سارے اصحابِ بدر رضی اللہ عنہم کو بھی پالیا اور ہمیں یہ بات پہنچی کہ وہ فتنے کے معاملات کو کالعدم سمجھتے تھے اور جو اس میں تاویلِ قرآن کی وجہ سے قتل کرتا تو اس پر قصاص نہیں رکھتے تھے، اور جو عورت (فتنے میں) قید کر لی گئی ہو، اس کی قید کے معاملے میں حد نہیں، نہ اس پر حد سمجھتے تھے اور نہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان لعان کرواتے تھے، اور ان کا خیال تھا کہ جو اس پر تہمت لگائے اسے حد کے کوڑے لگائے جائیں، اور ان کا خیال تھا کہ دوسرے خاوند سے عدت مکمل کر کے اسے پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا جائے اور پہلا خاوند اس کا وارث بنے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن شهاب»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16724
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْن الرَّبِيعِ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ يَسْأَلُهُ عَنِ امْرَأَةٍ فَارَقَتْ زَوْجَهَا، وَشَهِدَتْ عَلَى قَوْمِهَا بِالشِّرْكِ، وَلَحِقَتْ بِالْحَرُورِيَّةِ فَتَزَوَّجَتْ فِيهِمْ، ثُمَّ جَاءَتْ تَائِبَةً، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ الزُّهْرِيُّ، وَأَنَا شَاهِدٌ: أَمَّا بَعْدُ،" فَإِنَّ الْفِتْنَةَ الْأُولَى ثَارَتْ وَفِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَرَأَوْا أَنْ يُهْدَمَ أَمْرُ الْفِتْنَةِ، لَا يُقَامُ فِيهَا حَدٌّ عَلَى أَحَدٍ فِي فَرْجٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا قِصَاصٌ فِي دَمٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا مَالٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ يُوجَدَ شَيْءٌ بِعَيْنِهِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَرُدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا وَتَحُدَّ مَنْ قَذَفَهَا.
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انھیں سلیمان بن ہشام نے ایک عورت کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا کہ وہ اپنے خاوند سے جدا ہوگئی اور اپنی قوم پر شرک کی گواہی دی اور حروریہ (خوارج) سے جا ملی اور ان میں شادی کرلی، پھر وہ توبہ کرتی ہوئی واپس آئی۔ تو زہری رحمہ اللہ نے ان کو لکھ کر بھیجا، اور میں موجود تھا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ بیشک جو فتنہ اولیٰ پھیلا تھا، جس وقت میں اصحابِ بدر رضی اللہ عنہم بھی تھے، تو وہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے اس پر حد نہیں لگاتے تھے کہ جس نے قرآن کی تفسیر کر کے فرج کو حلال کیا ہو اور نہ اس پر قصاص لیتے تھے جس نے قرآن سے خون کو حلال سمجھا ہو اور نہ مال جو اس نے قرآن کی تاویل سے حلال سمجھا ہو، مگر بعینہ اسی طرح مل جاتا تو مداوا کرتے اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے اس کے خاوند کے پاس واپس لوٹا دیا جائے اور جس نے اس پر تہمت لگائی اس پر حد لگا دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16724]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16725
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ فُلَانِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ، وَاضْطَرَبَ الْخَيْلُ، وَأَغَارَ النَّاسُ، قَالَ: فَجَاءَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُونَ أَشْيَاءً، فَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْهَمْ، قَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَجْمَعُ كَلَامَهُ لِي فِي خَمْسِ كَلِمَاتٍ أَوْ سِتٍّ، قَالَ: فَاحْتَفَزْتُ عَلَى إِحْدَى رِجْلَيَّ قُلْتُ: إِنْ فَهِمَ قَبْلَ كَلَامِي وَإِلَّا جَلَسْتُ مِنْ قَرِيبٍ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْكَلَامَ لَيْسَ بِخَمْسٍ وَلَا بِسِتٍّ، وَلَكِنَّهَا كَلِمَتَانِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ: هَضْمٌ أَوْ قِصَاصٌ؟ قَالَ: فَعَقَدَ ثَلَاثِينَ وَقَالَ قَالُونُ: أَرَأَيْتُمْ مَا عَدَدْتُمْ فَهُوَ تَحْتَ قَدَْمَيَّ هَاتَيْنِ.
سیف بن فلاں بن معاویہ عنزی اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے مجھے میرے نانا سے بیان کیا کہ جب جنگِ جمل کا دن تھا، گھوڑے بے قابو ہوئے اور لوگوں نے یلغار کی، تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور مختلف اشیاء کا دعویٰ کرنے لگے، جب آوازیں زیادہ ہوگئیں اور کچھ سمجھ میں نہ آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو پانچ یا چھ کلمات میں ساری بات بیان کر دے؟ کہتے ہیں: میں اپنے ایک پاؤں پر اٹھا (اور دل میں) کہا: اگر وہ میری بات سے پہلے سمجھ گئے (تو ٹھیک) ورنہ میں جلد ہی بیٹھ جاؤں گا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کلام پانچ یا چھ نہیں دو کلمات کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا: یا تو ہضم کر جاؤ یا قصاص دے دو۔ کہتے ہیں: آپ نے (انگلیوں سے) تیس کا عقد بنایا اور فرمایا: جو کچھ تم نے شمار کیا ہے، دیکھو! وہ سب میرے ان دونوں قدموں تلے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16725]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3384. -- باب: ما جاء في قتال الضرب الأول من أهل الردة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم
-- باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی پہلی قسم (منکرینِ زکوٰۃ وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q16726
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هُمْ قَوْمٌ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، مِثْلُ طُلَيْحَةَ وَمُسَيْلَمَةَ وَالْعَنْسِيِّ وَأَصْحَابِهِمْ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، جیسے طلیحہ، مسیلمہ، (اسود) عنسی اور ان کے ساتھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16726]
حدیث نمبر: 16726
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُتِيْتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوَضَعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا، صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے تو میرے ہاتھوں پر دو سونے کے کنگن رکھے گئے۔ وہ مجھ پر بھاری ہو گئے تو مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک دوں۔ میں نے پھونکا تو وہ چلے گئے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ میرے عہد میں ہی وہ کذاب ہوں گے، ایک صاحبِ صنعاء اور دوسرا صاحبِ یمامہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16726]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: أَوَّلُ رَدَّةٍ كَانَتْ فِي الْعَرَبِ مُسَيْلِمَةُ بِالْيَمَامَةِ فِي بَنِي حَنِيفَةَ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ كَعْبٍ الْعَنْسِيُّ بِالْيَمَنِ، فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ طُلَيْحَةُ بْنُ خُوَيْلِدٍ الْأَسَدِيُّ فِي بَنِي أَسَدٍ يَدَّعِي النُّبُوَّةَ يَسْجَعُ لَهُمْ.
محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے عرب میں ارتداد کا شکار یمامہ میں مسیلمہ ہوا، جو بنو حنیفہ سے تھا، اور اسود بن کعب عنسی یمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اور طلیحہ بن خویلد اسدی بنو اسد سے، جو نبوت کا دعویٰ کرتا تھا اور ان سب کے لیے سجع کلامی کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16727]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16728
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الْإِسْلَامِ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ غَازِيًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ الْبَقِيعِ خَافَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ، وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ سَيْفَ اللهِ، وَنَدَبَ مَعَهُ النَّاسَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسِيرَ فِي ضَاحِيَةِ مُضَرَ فَيُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يَسِيرَ إِلَى الْيَمَامَةِ فَيُقَاتِلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ، فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَاتَلَ طُلَيْحَةَ الْكَذَّابَ الْأَسَدِيَّ فَهَزَمَهُ اللهُ، وَكَانَ قَدِ اتَّبَعَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، فَلَمَّا رَأَى طُلَيْحَةُ كَثْرَةَ انْهِزَامِ أَصْحَابِهِ قَالَ: وَيْلَكُمْ مَا يَهْزِمُكُمْ؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: وَأَنَا أُحَدِّثُكَ مَا يَهْزِمُنَا، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ صَاحِبُهُ قَبْلَهُ، وَإِنَّا لَنَلْقَى قَوْمًا كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ، وَكَانَ طُلَيْحَةُ شَدِيدَ الْبَأْسِ فِي الْقِتَالِ، فَقَتَلَ طُلَيْحَةُ يَوْمَئِذٍ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ، فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَيْحَةَ تَرَجَّلَ، ثُمَّ أَسْلَمَ ⦗٣٠٥⦘ وَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَرَكِبَ يَسِيرُ فِي النَّاسِ آمِنًّا حَتَّى مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى عُمْرَتَهُ، وَمَضَى خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى دَنَا مِنْ حَيٍّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِيهِمْ مَالِكُ بْنُ نُوَيْرَةَ، وَكَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمُهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكَ الصَّدَقَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَرِيَّةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِ مَالِكِ بْنِ نُوَيْرَةَ قَالَ: وَمَضَى خَالِدٌ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى قَاتَلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، فَاسْتَشْهَدَ اللهُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا كَثِيرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهَزَمَ اللهُ مُسَيْلِمَةَ وَمَنْ مَعَهُ، وَقَتَلَ مُسَيْلِمَةَ يَوْمَئِذٍ مَوْلًى مِنْ مَوَالِي قُرَيْشٍ، يُقَالُ لَهُ: وَحْشِيُّ.
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا اور عرب میں سے جو مرتد ہوئے وہ اسلام سے مرتد ہو گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے خلاف جہاد کے لیے نکلے۔ جب بقیع کی جانب نقع (نامی جگہ) تک پہنچے تو مدینہ منورہ کے بارے میں خوف ہوا، وہ واپس آئے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو، جو اللہ کی تلوار تھے، امیر بنایا اور لوگوں کو ان کے ساتھ جانے کے لیے بلایا اور حکم دیا کہ مضر کے اطراف میں جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو، پھر یمامہ کی طرف جا کر مسیلمہ کذاب سے قتال کریں، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چلے اور طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اللہ نے اسے شکست دی۔ عیینہ بن حصن بن حذیفہ فزاری بھی اس کے پیچھے لگ گیا تھا۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھی کثرت سے شکست کھا رہے ہیں تو کہنے لگا: ”تمہارا ناس ہو! تمہیں کیا چیز شکست دے رہی ہے؟“ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: ”میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیں کیا چیز شکست دے رہی ہے: ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا ساتھی اس سے پہلے مرے، اور ہم ایسی قوم سے لڑ رہے ہیں جن میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے پہلے مرے۔“ طلیحہ لڑائی میں بڑا سخت تھا اور اس نے اس دن سیدنا عکاشہ بن محصن اور سیدنا ابن اقرم رضی اللہ عنہما کو شہید کیا۔ جب حق طلیحہ پر غالب آ گیا تو وہ (سواری سے) اتر گیا، پھر مسلمان ہو گیا اور عمرہ کا احرام باندھا اور امن کے ساتھ لوگوں میں سوار ہو کر چلتا رہا یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا، اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ کی طرف بڑھے یہاں تک کہ قبیلہ بنو تمیم کی ایک بستی کے قریب پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا، اس نے اپنی قوم کا صدقہ وصول کیا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس نے صدقہ روک لیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف ایک سریہ بھیجا۔ پھر مالک بن نویرہ کے قتل کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ کہا: اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھ بنو حنیفہ کے لوگوں سے لڑائی کی، تو اللہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے مہاجرین و انصار کے بہت سے لوگوں کو شہادت عطا فرمائی اور اللہ نے مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں کو شکست دی، اور اس دن مسیلمہ کو قریش کے ایک آزاد کردہ غلام نے قتل کیا جس کا نام سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16728]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن