🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3399. -- باب: الخلاف في قتال أهل البغي
-- باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16783
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ بِالشَّامِ، فَبَعَثَ الْمُهَلَّبُ سِتِّينَ رَأْسًا مِنَ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبُوا عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، وَكُنْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لِي إِذْ مَرَّ أَبُو أُمَامَةَ، فَنَزَلْتُ فَاتَّبَعْتُهُ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِمْ دَمَعَتْ عَيْنَاهُ وَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَصْنَعُ الشَّيْطَانُ بِبَنِي آدَمَ، ثَلَاثًا، كِلَابُ جَهَنَّمَ، كِلَابُ جَهَنَّمَ، شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ أَوْ قَتَلُوهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا أَبَا غَالِبٍ أَعَاذَكَ اللهُ مِنْهُمْ، قُلْتُ: رَأَيْتُكَ بَكَيْتَ حِينَ رَأَيْتَهُمْ؟ قَالَ: بَكَيْتُ رَحْمَةً، رَأَيْتُهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَرَأَ: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ} [آل عمران: ٧] ، حَتَّى بَلَغَ {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ} [آل عمران: ٧] ، وَإِنَّ هَؤُلَاءِ كَانَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ، وَزِيغَ بِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا} [آل عمران: ١٠٥] إِلَى قَوْلِهِ: {فَفِي رَحْمَةِ اللهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [آل عمران: ١٠٧] ، قُلْتُ: هُمْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ قِبَلِكَ تَقُولُ، أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، بَل سَمِعْتُهُ لَا مَرَّةً، وَلَا مَرَّتَيْنِ، حَتَّى عَدَّ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تَزِيدُ عَلَيْهِمْ ⦗٣٢٦⦘ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ أَلَا تَرَى مَا يَفْعَلُونَ؟ قَالَ: عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ.
ابو غالب کہتے ہیں کہ میں شام میں تھا کہ مہلب نے خوارج کے ساٹھ سر بھیجے جو دمشق کی سیڑھیوں پر نصب کر دیے گئے۔ میں اپنے ایک گھر کی چھت پر تھا کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، تو میں اتر کر ان کے پیچھے ہو لیا۔ جب وہ ان (سروں) کے پاس کھڑے ہوئے تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور فرمایا: سبحان اللہ! شیطان آدم کی اولاد کے ساتھ کیا کرتا ہے! تین مرتبہ (فرمایا)۔ جہنم کے کتے، جہنم کے کتے، آسمان کے سائے تلے بدترین مقتول، تین مرتبہ (فرمایا)، بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا، خوشخبری ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا وہ اسے قتل کریں۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے ابو غالب! اللہ تمہیں ان سے پناہ میں رکھے۔ میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ انہیں دیکھ کر رو پڑے؟ فرمایا: میں رحم کھا کر رویا، میں نے دیکھا کہ یہ اہلِ اسلام میں سے تھے۔ کیا تم سورۂ آل عمران پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے پڑھا: ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ ”وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی، اس میں سے کچھ آیات محکم ہیں جو کتاب کی اصل ہیں“ [سورة آل عمران: 7] یہاں تک کہ ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ﴾ ”اور اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا“ [سورة آل عمران: 7] تک پہنچے، اور (فرمایا:) ان لوگوں کے دلوں میں کجی تھی تو انہیں ٹیڑھا کر دیا گیا۔ پھر پڑھا: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا﴾ ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو فرقوں میں بٹ گئے اور اختلاف کیا“ [سورة آل عمران: 105] یہاں تک کہ ﴿فَفِي رَحْمَةِ اللهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ ”تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے“ [سورة آل عمران: 107] ۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! کیا یہ وہی لوگ ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: یہ آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: تب تو میں بڑا جری ہوں گا! بلکہ میں نے یہ نہ ایک مرتبہ سنا نہ دو مرتبہ، یہاں تک کہ انہوں نے سات (مرتبہ) گنوایا۔ پھر فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور یہ امت ان سے ایک فرقہ زیادہ ہوگی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے سوادِ اعظم (بڑی جماعت) کے۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ فرمایا: ان پر وہ ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16783]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16784
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِأَهْلِ النَّهْرِ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ مَا قَضَى الله عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ، قَالَ عُبَيْدَةُ: فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، ثَلَاثًا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِْيمِ: وَأَنْكَرَ قَوْمٌ قِتَالَ أَهْلِ الْبَغْيِ، وَقَالُوا: أَهْلُ الْبَغْيِ هُمْ أَهْلُ الْكُفْرِ، وَلَيْسُوا بِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَلَا يَحِلُّ قِتَالُ الْمُسْلِمِينَ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ: الْمُرْتَدُّ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، وَالزَّانِي بَعْدَ الْإِحْصَانِ، وَالْقَاتِلُ فَيُقْتَلُ"، فَقَالُوا: حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّمَاءَ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْجِهَةِ، فَلَا يَحِلُّ الدَّمُ إِلَّا بِهَا، وَقِتَالُ الْمُسْلِمِ كَقَتْلِهِ؛ لِأَنَّ الْقِتَالَ يَصِيرُ إِلَى الْقَتْلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُقَالُ لَهُمْ: أَمَرَ اللهُ بِقِتَالِ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ، وَأَمَر بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ الْقِتَالُ مِنَ الْقَتْلِ بِسَبِيلٍ، قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَحِلَّ قِتَالُ الْمُسْلِمِ وَلَا يَحِلَّ قَتْلُه، ُ كَمَا يَحِلُّ جَرْحُهُ وَضَرْبُهُ وَلَا يَحِلُّ قَتْلُهُ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنْكِرُوا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِتَالَهُ الْخَوَارِجَ، وَأَنْكَرُوا قِتَالَهُ أَهْلَ الْبَصْرَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ وَكَرِهُوَا، وَلَمْ يَكْرَهُوا صَنِيعَهُ بِالْخَوَارِجِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الصَّحَابَةِ لِمَا كَانُوا يَكْرَهُونَ مِنَ الْقِتَالِ فِي الْفُرْقَةِ، فَأَمَّا الْخَوَارِجُ فَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْهُمْ كَرِهَ قَوْلَهُ إِيَّاهُمْ.
عبیدہ رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اہل النہر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ان میں ایک آدمی ہوگا ناقص ہاتھ والا اور اس کے ہاتھ پر پستان کی طرح گوشت لٹکا ہوگا۔ اگر مجھے تمہارے آپے سے باہر (پھولے نہ سمانے) کا ڈر نہ ہوتا تو میں تمہیں بیان کرتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لڑنے والوں کا کیا مقام بتایا ہے۔ عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ آپ نے تین مرتبہ «وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”رب کعبہ کی قسم“ اٹھا کر فرمایا: ہاں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے باغیوں سے قتال کا انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: باغی اہل کفر ہوتے ہیں اور مسلمان نہیں اور مسلمانوں سے قتال جائز نہیں؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تین وجوہات سے: مرتد، شادی شدہ زانی اور قاتل۔“ ان کے علاوہ باقی تمام طریقوں سے مسلمان کا قتل حرام ہے؛ لہٰذا ان سے جنگ بھی جائز نہیں؛ کیونکہ یہ ان کے قتل کا سبب بنے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے باغی گروہ سے لڑنے کا حکم دیا ہے اور قتال، قتل کی طرح نہیں ہے؛ کبھی مسلمان سے لڑنا جائز ہوتا ہے لیکن اسے قتل کرنا جائز نہیں ہوتا، جیسے اسے زخمی کرنا اور مارنا جائز ہوتا ہے لیکن قتل کرنا جائز نہیں ہوتا۔
پھر انہوں نے کلام جاری رکھا یہاں تک کہ فرمایا: اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خوارج سے لڑنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، البتہ اہل بصرہ اور اہل شام سے ان کی لڑائی پر اعتراض کیا اور اسے ناپسند کیا، لیکن خوارج کے ساتھ ان کے طرزِ عمل کو ناپسند نہیں کیا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو عبدالرحمن بغدادی نے امام شافعی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس سے ان کی مراد بعض صحابہ ہیں، کیونکہ وہ تفرقہ کے زمانے میں لڑائی کو ناپسند کرتے تھے، رہے خوارج تو ہم ان (صحابہ) میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے ان کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کو ناپسند کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16784]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَا عَلِمْتُ أَحَدًا كَرِهَ قِتَالَ اللُّصُوصِ وَالْحَرُورِيَّةِ تَأَثُّمًا، إِلَّا أَنْ يَجْبُنَ رَجُلٌ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ كَرِهُوَا قِتَالَهُ، وَلَمْ يَمْضُوا مَعَهُ فِي حَرْبِ صِفِّينَ، أَنَّهُمُ اعْتَذَرُوا لِبَعْضِ الْمَعَاذِ، يَرَوْهُمْ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، ⦗٣٢٧⦘ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، وَغَيْرَهَمْ، فَبَعْضُهُمْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَخْطَأَ رَأْيِي، وَبَعْضُهُمْ كَانَ قَدْ قَتَلَ مُسْلِمًا حَسِبَهُ بِإِسْلَامِهِ مُتَعَوِّذًا، فَعَاهَدَ اللهَ تَعَالَى أَنْ لَا يَقْتُلَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَبَعْضُهُمْ كَانَ سَمِعَ تَعْظِيمَ الْقِتَالِ فِي الْفُرْقَةِ فَحَسِبَهُ قِتَالًا فِي الْفُرْقَةِ، وَبَعْضُهُمْ أَحَبَّ أَنْ يَتَوَلَّاهُ غَيْرُهُ، وَقَدْ ذَهَبَ أَكْثَرُهُمْ إِلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ مُحِقًّا فِي قِتَالِهِ حَامِلًا لِمَنْ خَالَفَهُ عَلَى طَاعَتِهِ، يَقْصِدُ بِقِتَالِهِ أَهْلَ الشَّامِ حَمْلَ أَهْلِ الِامْتِنَاعِ عَلَى تَرْكِ الطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ، وَبِقِتَالِهِ أَهْلَ الْبَصْرَةِ دَفْعَ مَا كَانُوا يَظُنُّونَ عَلَيْهِ مِنْ قَتْلِهِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَوْ مُشَارَكَتِهِ قَاتِلَهُ فِي دَمِهِ، أَوْ مَا يَقْدَحُ فِي إِمَامَتِهِ، واسْتَدَلُّوا عَلَى بَغْيِ مَنْ خَالَفَهُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِمَا كَانَ سَبَقَ لَهُ مِنْ شُورَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبَيْعَةِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الشُّورَى إِيَّاهُ قَبْلَ وُقُوعِ الْفُرْقَةِ، وَأَنَّهُ كَانَ فِي وَقْتِهِ أَحَقَّهُمْ بِالْإِمَامَةِ بِخَصَائِصِهِ، وَأَنَّهُمْ وَجَدُوا عَلَامَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ فِيمَنْ خَالَفَهُ، وَهِيَ فِي مَا.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی نے چوروں اور حروریوں سے لڑائی کرنا ناپسند کیا ہو مگر بزدل آدمی ہی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے اس جنگ کو ناپسند کیا ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جنگ صفین سے بہت سے صحابہ نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ ان میں سعد بن ابی وقاص، اسامہ بن زید اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ بعض سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میری رائے غلط تھی۔“ بعض نے کہا: ”اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ اپنے اسلام کے ذریعے پناہ حاصل کر رہا ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرے گا جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہو۔ بعض نے فرقت میں قتال کو بڑا سمجھا اور اسے «قِتَالٌ فِي الْفُرْقَةِ» ”تفرقہ میں لڑائی“ گمان کیا اور بعض نے چاہا کہ اس کا غیر اس کا والی بن جائے۔ ان میں سے اکثر اس طرف گئے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس لڑائی میں حق پر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی لڑائی ان لوگوں کے لیے تھی جنہوں نے آپ کی فرمانبرداری سے اعراض کیا، یعنی اہل شام جو امام کی اطاعت سے رک گئے اور اہل بصرہ سے اس لیے قتال کیا کہ وہ گمان کرتے تھے انہوں نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یا کم از کم قتل میں شریک ہوئے۔ وہ اسی وجہ سے آپ سے لڑے یا وہ آپ کی امانت میں عیب لگاتے تھے۔ ان لوگوں نے اہل شام کی بغاوت اور مخالفت پر امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بنائی ہوئی شوریٰ سے دلیل پکڑی اور یہ بھی کہ اصحابِ شوریٰ میں سے باقیوں نے فرقت سے پہلے ان کی بیعت کرلی تھی اور وہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے امامت کے زیادہ حق دار تھے اور لوگوں نے ان کے مخالفین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی علامت پہچان لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16785]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّبْعِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ:" تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16786]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16787
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
(یہ حدیث) پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16787]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16788
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِمَا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16788]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، أَبُو قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" بُؤْسًا لَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِمَا.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”اے ابن سمیہ! افسوس ہے تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16789]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16790
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ،، قَالَ: لَا أَدْرِي أَكَانَ مَعَ أَبِيهِ، أَوْ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ فَدَخَلَ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ"، فَقَامَ عَمْرٌو مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ فَدَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ"، قَالَ: فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: دَحَضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا، أَوْ قَالَ: سُيُوفِنَا. لَفْظُ حَدِيثِ السُّكَّرِيِّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرَانَ قَالَ: فَقَامَ عَمْرٌو فَزِعًا يَرْتَجِعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، ثُمَّ ذَكَرَهُ.
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔“ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، ان کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیوں؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اپنے ہی پیشاب میں دھنس گیا۔ کیا ہم نے اسے مارا ہے؟ اسے علی رضی اللہ عنہ اور اس کے اصحاب نے قتل کیا ہے اور ہماری طرف ان کو پھینک دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16790]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3400. -- باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة
-- باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16791
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ قُرَّةَ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد گمراہی میں نہ لوٹ جانا کہ بعض، بعض کی گردن کو مارے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16791]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16792
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، وَالْمُعَلَّى، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان تلوار اٹھاتے ہیں اور ایک ان میں سے دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16792]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں