🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3391. -- باب: القوم يظهرون رأي الخوارج لم يحل به قتالهم
-- باب: محض خوارج کی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے اس قوم سے قتال حلال نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16765
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِيمَنْ يَسُبُّ الْخُلَفَاءَ، أَتَرَى أَنْ يُقْتَلَ؟ قَالَ: فَسَكَتُّ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: مَا لَكَ لَا تَكَلَّمُ؟ فَسَكَتُّ، فَعَادَ لِمِثْلِهَا، فَقُلْتُ: أَقَتَلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ سَبَّ الْخُلَفَاءَ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَإِنِّي أَرَى أَنْ يُنْكَلَ فِيمَا انْتَهَكَ مِنْ حُرْمَةِ الْخُلَفَاءِ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ جو خلفاء کو گالیاں دے کیا اسے قتل کیا جائے گا؟ میں خاموش رہا، پھر پوچھا، میں پھر خاموش رہا، پھر پوچھا کہ بات کیوں نہیں کرتے ہو؟ تو میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا اس نے (کسی کو) قتل کیا ہے؟ کہا: نہیں، گالی دی ہے۔ میں نے کہا: پھر اسے عبرت ناک سزا دی جائے جو اس نے خلفاء کی عزت پامال کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16765]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16766
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَهْرِيُّ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، كَانَ عَلَى الْكُوفَةِ فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ: إِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا بِالْكُنَاسَةِ، سُوقٌ مِنْ أَسْوَاقِ الْكُوفَةِ، يَسُبُّكَ، وَقَدْ قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ، فَهَمَمْتُ بِقَتْلِهِ، أَوْ بِقَطْعِ يَدِهِ أَوْ لِسَانِهِ أَوْ جَلْدِهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُرَاجِعَكَ فِيهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ ⦗٣٢٠⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ: سَلَّامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قَتَلْتَهُ لَقَتَلْتُكَ بِهِ، وَلَوْ قَطَعْتَهُ لَقَطَعْتُكَ بِهِ، وَلَوْ جَلَدْتَهُ لَأَقَدْتُهُ مِنْكَ، فَإِذَا جَاءَ كِتَابِي هَذَا فَاخْرُجْ بِهِ إِلَى الْكُنَاسَةِ، فَسُبَّ الَّذِي سَبَّنِي، أَوِ اعْفُ عَنْهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ، فَإِنَّه لَا يَحِلُّ قَتْلُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِسَبِّ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، إِلَّا رَجُلٌ سَبَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سَبَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.
عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب رحمہ اللہ عہدِ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ میں کوفہ پر مقرر تھے، تو انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ کوفہ کے ایک کناسہ نامی بازار میں ایک شخص آپ کو گالیاں دے رہا تھا اور اس پر جرم ثابت بھی ہو گیا، تو میں نے سمجھا کہ یا تو اسے قتل کر دوں یا زبان کاٹ دوں یا کوڑے ماروں، لیکن پھر سوچا کہ آپ سے رجوع کر لوں۔ آپ نے جواب میں لکھا: ”اگر تو اسے قتل کرتا یا زبان کاٹتا یا کوڑے مارتا تو میں تجھے بھی یہی سزا دیتا، لہٰذا کناسہ کی طرف جاؤ اور جا کر اسے بھی گالی دے دو یا معاف کر دو اور یہی مجھے محبوب ہے، اور مسلمانوں میں سے کسی کو گالی دینے کی وجہ سے کسی کا خون حلال نہیں ہو جاتا، مگر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اس کا خون حلال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3392. -- باب: الخوارج يعتزلون جماعة الناس، ويقتلون واليهم من جهة الإمام العادل قبل أن ينصبوا إماما، ويعتقدوا ويظهروا حكما مخالفا لحكمه، كان في ذلك عليهم القصاص
-- باب: خوارج جب لوگوں کی جماعت سے الگ ہو جائیں اور عادل حکمران کی طرف سے مقرر کردہ اپنے حاکم کو اپنا امام مقرر کرنے سے پہلے، اور حکمران کے حکم کے خلاف کوئی عقیدہ یا حکم ظاہر کرنے سے پہلے ہی قتل کر دیں، تو اس صورت میں ان پر قصاص لازم ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16767
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ ابْنُ مُبَشِّرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَبَسَّطُوا عَلَى الْخَوَارِجِ حَتَّى يُحْدِثُوا حَدَثًا، فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ فَأَخَذُوهُ فَانْطَلَقُوا بِه، فَمَرُّوا عَلَى تَمْرَةٍ سَاقِطَةٍ مِنْ نَخْلَةِ فَأَخَذَهَا بَعْضُهُمْ فَأَلْقَاهَا فِي فَمِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ: تَمْرَةُ مُعَاهَدٍ فَبِمَ اسْتَحْلَلْتَهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ خَبَّابٍ: أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعْظَمُ حُرْمَةً عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنَا، فَقَتَلُوهُ. فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَنْ أَقِيدُونَا بِعَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالُوا: كَيْفَ نُقِيدُكَ بِهِ وَكُلُّنَا قَتَلَهُ؟ قَالَ: وَكُلُّكُمْ قَتَلَهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يَبْسُطُوا عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: وَاللهِ لَا يُقْتَلُ مِنْكُمْ عَشْرَةٌ، وَلَا يَفْلِتُ مِنْهُمْ عَشْرَةٌ، قَالَ: فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ: فَقَالَ: اطْلُبُوا فِيهِمْ ذَا الثُّدَيَّةِ قَالَ: وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو منع کر دیا تھا کہ خوارج پر اس وقت تک حملہ نہ کرنا جب تک کہ ان کی طرف سے کوئی (کارروائی) نہ ہو، پھر وہ (خوارجی) سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، ان کو پکڑا اور لے کر چلے یہاں تک کہ وہ گری ہوئی کھجوروں کے پاس سے گزرے؛ ان میں سے بعض نے (کھجوریں) اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیں تو بعض کہنے لگے: یہ تو ذمیوں کی کھجوریں ہیں، یہ کیسے حلال ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا میں اس سے بھی بڑی حرمت کی طرف تمہاری توجہ نہ دلاؤں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو (جب انہوں نے اپنی جان کی حرمت کا ذکر کیا) تو انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ان لوگوں سے کہا: عبداللہ کا قصاص دو۔ وہ کہنے لگے: ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے، ہم قصاص کیسے دیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم سب نے انہیں قتل کیا ہے؟ تو وہ بولے: ہاں! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور حملے کا حکم دے دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے دس آدمی بھی قتل نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس بھی نہیں بچیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے ان کو قتل کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں سے اس پستان والے (مخدج) کو تلاش کرو، پھر مکمل حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16767]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3393. -- باب: أهل البغي إذا غلبوا على بلد، وأخذوا صدقات أهلها، وأقاموا عليهم الحدود، لم تعد عليهم
-- باب: باغی جب کسی شہر پر غالب آ جائیں، اور وہاں کے لوگوں سے صدقات (زکوٰۃ) وصول کر لیں، اور ان پر حدود نافذ کر دیں، تو (حکمران کے غلبے کے بعد) ان احکامات کو نہیں دہرایا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16768
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَلَوْ لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعِ الْأَطْرَافِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”میں سنوں اور اطاعت کروں، اگرچہ مجھ پر حبشی غیر مناسب اعضاء والا غلام ہی امیر کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16768]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16769
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رَزِينٍ الْعَطَّارُ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ ⦗٣٢١⦘ الزُّبَيْدِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ، أَطِعْ كُلَّ أَمِيرٍ، وَصَلِّ خَلْفَ كُلِّ إِمَامٍ، وَلَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي" وَهَذَا مُنْقَطِعٌ بَيْنَ مَكْحُولٍ وَمُعَاذٍ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! ہر امیر کی اطاعت کرنا اور ہر امام کے پیچھے نماز پڑھنا اور میرے اصحاب میں سے کسی کو برا نہ کہنا۔“
یہ روایت مکحول اور معاذ کے درمیان منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16769]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3394. -- باب: المقتول من أهل البغي يغسل ويصلي عليه
-- باب: اہلِ بغاوت میں سے مقتول کو غسل دیا جائے گا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16770
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امیر کے ساتھ تم پر جہاد فرض ہے، وہ نیک ہو یا بد اور اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو اور ہر مسلمان پر جنازہ فرض ہے، چاہے وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16770]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3395. -- باب: المقتول من أهل العدل بسيف أهل البغي في المعترك شهيد لا يغسل ولا يصلى عليه في أحد القولين
-- باب: میدانِ جنگ میں باغیوں کی تلوار سے قتل ہونے والا اہلِ عدل (مسلم لشکر) کا فرد شہید ہے، دو اقوال میں سے ایک کے مطابق اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16771
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي، فَإِنِّي مُخَاصِمٌ.
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے میرے کپڑوں ہی میں دفن کرنا، میں قیامت کے دن ان سے جھگڑا کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16771]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16772
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي شَيْخِ مُهَاجِرٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ صُوحَانَ الْعَبْدِيَّ، كَانَ يَوْمَ الْجَمَلِ يَحْمِلُ رَايَةَ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَارْتُثَّ جَرِيحًا فَقَالَ: لَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَشُدُّوا عَلَيَّ ثِيَابِي، فَإِنِّي مُخَاصِمٌ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ حَنْبَل: إِمَّا مُخَاصِمٌ أَوْ مُخَاصَمٌ.
ابو شیخ مہاجر کہتے ہیں کہ جنگِ جمل میں زید بن صوحان رضی اللہ عنہ نے بنو عبدالقیس کا جھنڈا اٹھایا ہوا تھا، وہ زخمی ہو کر گر پڑے تو فرمایا: میرا خون مجھ سے نہ دھونا اور انہی کپڑوں کو مجھ پر مضبوطی سے لپیٹ دینا، میں قیامت کے روز جھگڑا کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16772]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16773
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرُّزَازُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ⦗٣٢٢⦘ لَيْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنَّا مُسْتَشْهِدُونَ غَدًا، فَلَا تَغْسِلُوا عَنَّا الثِّيَابَ، وَلَا تُكَفِّنُونَا إِلَّا فِي ثَوْبٍ كَانَ عَلَيْنَا. كَذَا قَالَ هَؤُلَاءِ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْجَنَائِزِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَهَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ.
سعید بن عبید رحمہ اللہ نے ایک خطبہ دیا اور فرمایا: کل اگر ہم شہید ہو جائیں تو نہ ہمیں غسل دینا، نہ کپڑے اتارنا اور نہ کفن دینا مگر انہی کپڑوں میں جو ہم پر ہیں۔
کتاب الجنائز میں ہم یہ روایت بیان کر آئے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہما پر نماز جنازہ پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16773]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3396. -- باب: ما يكره لأهل العدل من أن يعمد قتل ذي رحمة من أهل البغي
-- باب: اہلِ عدل کے لیے اپنے کسی قریبی رشتہ دار باغی کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16774
اسْتِدْلَالًا بِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ عَنْ قَتْلِ أَبِيهِ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ قَتْلِ ابْنِهِ.
اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو ان کے والد کو قتل کرنے سے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے کو قتل کرنے سے روک دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16774]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں