السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3387. -- باب: أهل البغي إذا فاءوا لم يتبع مدبرهم، ولم يقتل أسيرهم، ولم يجهز على جريحهم، ولم يستمتع بشيء من أموالهم
-- باب: اہلِ بغاوت جب لوٹ آئیں (یا شکست کھا جائیں) تو ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، ان کے زخمیوں کو ختم نہ کیا جائے، اور ان کے اموال میں سے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
حدیث نمبر: 16758
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَتَادَةَ، رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْخَيْلِ يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ مِنْهُمْ وَقَتَلَهُمْ، لَمْ يَقْطَعْ رَأْسًا، وَلَمْ يَكْشِفْ عَوْرَةً.
عبداللہ بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں یوم النہروان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھڑ سواروں میں تھا۔ جب جنگ سے فارغ ہو گئے تو آپ نے نہ کوئی سر کاٹا اور نہ کسی کا ستر کھولا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16758]
3388. -- باب: الرجل يقتل واحدا من المسلمين على التأويل، أو جماعة غير ممتنعين يقتلون واحدا كان عليهم القصاص
-- باب: اس شخص کا بیان جو کسی مسلمان کو کسی تاویل کی بنا پر قتل کر دے، یا کوئی ایسا گروہ جس کے پاس کوئی بچاؤ (شوکت) نہ ہو وہ کسی ایک کو قتل کر دے تو ان پر قصاص واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q16759
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا} [الإسراء: 33] ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِيمَا يَحِلُّ دَمُ الْمُسْلِمِ، وَقَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ". وَرُوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اعْتَبَطَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ قَتْلٍ فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا﴾ ”اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے تو یقیناً ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔“ [سورة الإسراء: 33]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے بارے میں فرمایا جن سے مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے: ”اور کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ”جس نے کسی مسلمان کو بلا وجہ (ناحق) قتل کیا تو اس کے ہاتھ (کے کیے) کا قصاص (لیا جائے گا)۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16759]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے بارے میں فرمایا جن سے مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے: ”اور کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ”جس نے کسی مسلمان کو بلا وجہ (ناحق) قتل کیا تو اس کے ہاتھ (کے کیے) کا قصاص (لیا جائے گا)۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16759]
حدیث نمبر: 16759
وَاحْتُجَّ أَيْضًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ مُلْجَمٍ بَعْدَمَا ضَرَبَهُ: أَطْعِمُوهُ، وَاسْقُوهُ، أَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي، أَعْفُو إِنْ شِئْتُ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ، وَإِنْ مُتُّ فَقَتَلْتُمُوهُ فَلَا تُمَثِّلُوا.
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کے متعلق (جب اس نے آپ پر حملہ کیا تھا) فرمایا: اس کو کھلاؤ پلاؤ اور اچھے قیدی کی طرح رکھو، اگر میں بچ گیا تو میں اپنا خود ولی ہوں، چاہوں معاف کروں یا چاہوں قتل کر دوں، اور اگر میں نہ بچا اور تم نے اسے قتل کیا تو اس کا «مُثْلَة» ”مثلہ“ نہ کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16759]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3389. -- باب: من قال في المرتدين يقتلون مسلما في القتال وهم ممتنعون، ثم تابوا لم يتبعوا بدم
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک اگر مرتدین قتال کے دوران کسی مسلمان کو قتل کر دیں اور وہ صاحبِ شوکت (طاقتور) ہوں، پھر وہ توبہ کر لیں تو ان سے خون کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: Q16760
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ قَتَلَ طُلَيْحَةُ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَثَابِتَ بْنَ أَقْرَمَ، ثُمَّ أَسْلَمَ فَلَمْ يَضْمَنْ عَقْلًا وَلَا قَوَدًا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلیحہ نے سیدنا عکاشہ بن محصن اور سیدنا ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تھا، پھر وہ اسلام لے آیا تو اس پر نہ دیت کی ضمانت ڈالی گئی اور نہ قصاص کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16760]
حدیث نمبر: 16760
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا ⦗٣١٨⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الْإِسْلَامِ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي بَعْثِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَقِتَالِهِ قَالَ: وَكَانَ طُلَيْحَةُ شَدِيدَ الْبَأْسِ فِي الْقِتَالِ، فَقَتَلَ طُلَيْحَةُ يَوْمَئِذٍ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ، فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَيْحَةَ تَرَجَّلَ ثُمَّ أَسْلَمَ وَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَرَكِبَ يَسِيرُ فِي النَّاسِ آمِنًّا، حَتَّى مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى عُمْرَتَهُ. وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ أَسْقَطَ عَنْهُ الْقِصَاصَ.
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اہل عرب مرتد ہو گئے، تو انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ان سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا اور طلیحہ لڑائی میں بڑا سخت تھا، اس نے سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابنِ اقرم رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ بعد میں یہ مسلمان ہو گیا اور مدینہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر مکہ جا کر عمرہ کیا اور عطاء بن ابی رباح سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے قصاص ساقط قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16760]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3390. -- باب: من قال: يتبعون بالدم
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ان (مرتدین) سے خون کا قصاص لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا قَبِيصَةُ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: فَجَاءَ وَفْدُ بُزَاخَةَ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُونَهُ الصُّلْحَ، فَخَيَّرَهُمْ بَيْنَ الْحَرْبِ الْمُجْلِيَةِ أَوِ السَّلْمِ الْمُخْزِيَةِ.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسد اور غطفان کا ایک وفد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ صلح چاہتے تھے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ یا تو لڑائی ہے یا پھر رسوا ہو کر صلح کرو (اور دیت دو)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16761]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16762
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ: ارْتَدَّ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَنْ يَجْنَحَ لِلسَّلْمِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا نُقَبِّلُ مِنْكَ إِلَّا بِسَلْمٍ مُخْزِيَةٍ أَوْ حَرْبٍ محْلِيَةٍ، فَقَالَ: مَا سَلْمٌ مُخْزِيَةٌ؟ قَالَ: تَشْهَدُونَ عَلَى قَتْلَانَا أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَأَنَّ قَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ، وَتَدُونَ قَتْلَانَا وَلَا نَدِي قَتْلَاكُمْ، فَاخْتَارُوا سَلْمًا مُخْزِيَةً وَقَدْ رَوَيْنَا فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى أَنْ لَا يَدُوا قَتْلَانَا، وَقَالَ: قَتْلَانَا قُتِلُوا عَلَى أَمْرِ اللهِ، فَلَا دِيَاتَ لَهُمْ. وَذَلِكَ يَرِدُ فِي بَابِ قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ، إِنْ شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علقمہ بن علاثہ مرتد ہو گئے تو انہوں نے انکار کر دیا کہ وہ شکست خوردہ جھکیں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تو ذلیل ہو کر جھک جاؤ یا جنگ ہے۔ انہوں نے پوچھا: ذلیل ہو کر جھکنا کیا ہے؟ تو فرمایا: تم گواہی دو کہ ہمارے شہداء جنت میں اور تمہارے جہنم میں، تم ہمارے مقتولین کی دیت دو، ہم تمہارے مقتولین کی دیت نہیں دیں گے، تو انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16762]
3391. -- باب: القوم يظهرون رأي الخوارج لم يحل به قتالهم
-- باب: محض خوارج کی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے اس قوم سے قتال حلال نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q16763
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَلَغَنَا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ سَمِعَ تَحْكِيمًا مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، لَكُمْ عَلَيْنَا ثَلَاثٌ: لَا نَمْنَعُكُمْ مَسَاجِدَ اللهِ أَنْ تَذْكُرُوا فِيهَا ⦗319⦘ اسْمَ اللهِ، وَلَا نَمْنَعُكُمُ الْفَيْءَ مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نَبْدَؤُكُمْ بِقِتَالٍ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے مسجد کے ایک کونے سے تحکیم (کا نعرہ) سنا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔““
تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، (یہ) کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے، تمہارے ہم پر تین حقوق ہیں: ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے نہیں روکیں گے کہ تم ان میں اللہ کا نام لو، اور جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ ہیں ہم تمہیں مالِ فے سے محروم نہیں کریں گے، اور ہم تم سے لڑائی کی ابتدا نہیں کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16763]
تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، (یہ) کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے، تمہارے ہم پر تین حقوق ہیں: ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے نہیں روکیں گے کہ تم ان میں اللہ کا نام لو، اور جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ ہیں ہم تمہیں مالِ فے سے محروم نہیں کریں گے، اور ہم تم سے لڑائی کی ابتدا نہیں کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16763]
حدیث نمبر: 16763
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي الْجُمُعَةِ، وَعَلِيُّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، ثُمَّ قَامُوا مِنْ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِهِ اجْلِسُوا: نَعَمْ، لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، كَلِمَةٌ يُبْتَغَى بِهَا بَاطِلٌ، حُكْمُ اللهِ نَنْظُرُ فِيكُمْ، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عِنْدِي ثَلَاثَ خِصَالٍ: مَا كُنْتُمْ مَعَنَا لَا نَمْنَعُكُمْ مَسَاجِدَ اللهِ أَنْ تَذْكُرُوا فِيهَا اسْمَ اللهِ، وَلَا نَمْنَعُكُمْ فَيْئًا مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نُقَاتِلُكُمْ حَتَّى تُقَاتِلُوا، ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ وَرُوِي بَعْضُ مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
کثیر بن نمیر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں“، پھر دوسرا کھڑا ہوا اور بہت سے لوگ مسجد کے کونوں سے کھڑے ہو گئے، سب یہی کہہ رہے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں“ کلمہ حق ہے اور مراد باطل لی گئی ہے۔
آگے اوپر والی امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16763]
آگے اوپر والی امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16763]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعَ عَلِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَوْمًا يَقُولُونَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، وَلَكِنْ لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ، بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، يَعْمَلُ فِيهِ الْمُؤْمِنُ، وَيَسْتَمْتِعُ فِيهِ الْكَافِرُ، وَيُبَلِّغُ اللهُ فِيهَا الْأَجَلَ.
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”حکم صرف اللہ ہی کا ہے“، فرمایا: ہاں ایسے ہی ہے، لیکن لوگوں کے لیے نیک یا بد ایک امیر ضروری ہے، جس میں مومن عمل کریں اور کافر فائدہ اٹھائیں اور اسی میں اللہ اپنا فیصلہ بھیجے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16764]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح