السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3402. -- باب: قتل من ارتد عن الإسلام
-- باب: اسلام سے پھرنے والے (مرتد) کو قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَا: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَكُنَّا إِذَا دَخَلْنَا نَدْخُلُ مَكَانًا نَسْمَعُ كَلَامَ مَنْ بِالْبَلَاطِ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا مُتَغَيِّرًا لَوْنُهُ، قُلْنَا: مَا لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَيُوَاعِدُونِي بِالْقَتْلِ، فَقُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حَقٍّ"، فَوَاللهِ مَا زَنَيْتُ بِجَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَلَا تَمَنَّيْتُ بِدِينِي بَدَلًا مُذْ هَدَانِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْإِسْلَامِ، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟.
(١٦٨١٧) ابو امامہ بن سہل بن حنیف اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان کے ساتھ گھر میں تھے، جب وہ قید تھے۔ ہم گھر میں وہاں سے داخل ہوئے کہ ہم باہر کھڑے لوگوں کی باتیں سن سکتے تھے تو حضرت عثمان ایک دن نکلے، آپ کا رنگ تبدیل تھا۔ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین! خیریت ہے؟ فرمایا: وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا: اللہ آپ کو ان سے کافی ہے۔ کہا: وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ کسی بھی مسلمان کا خون صرف ٣ وجوہات کی بنا پر جائز ہے: 1 مرتد عن الاسلام 2 شادی شدہ زانی 3 ناحق قتل کرنے والا۔ نہ تو میں نے نہ جاہلیت میں نہ اسلام میں زنا کیا، نہ کسی کو ناحق قتل کیا، جب سے اللہ نے مجھے ہدایت دی ہے۔ میں نے کبھی اسلام کو چھوڑنے کا سوچا بھی نہیں، پھر کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16817]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16818
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ: عَبْدُ اللهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَّا أَحَدُ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
(١٦٨١٨) عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی مسلمان کا خون جائز نہیں مگر تین وجوہات سے: قصاصاً قتل کیا جائے، یا شادی شدہ زانی یا مرتد جو دین اور جماعت کو چھوڑ دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16818]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16819
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، ⦗٣٣٨⦘ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: التَّارِكُ الْإِسْلَامَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ، أَوِ الْجَمَاعَةَ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ" قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمِثْلِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
(١٦٨١٩) تقدم قبلہ سابقہ روایت [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16819]
حدیث نمبر: 16820
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَرَّقَ الْمُرْتَدِّينَ أَوِ الزَّنَادِقَةِ قَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" وَلَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
(١٦٨٢٠) عکرمہ کہتے ہیں کہ جب ابن عباس کو پتہ چلا کہ حضرت علی نے مرتدین اور زنادقہ کو جلایا ہے تو فرمایا: میں ہوتا انھیں جلاتا نہ بلکہ قتل کرتا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو دین کو بدل دے اور مرتد ہوجائے اسے قتل کر دو اور میں جلاتا اس لیے نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے یہ لائق نہیں کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16820]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16821
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ".
(١٦٨٢١) زید بن اسلم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16821]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16822
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ: ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي، وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، وَكِلَاهُمَا سَأَلَ ⦗٣٣٩⦘ الْعَمَلَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ، فَقَالَ:" مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ؟" قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، قَالَ: وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ، قَالَ:" لَنْ أَسْتَعْمِلَ، أَوْ لَا أَسْتَعْمِلُ، عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ"، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ مُعَاذٌ قَالَ: انْزِلْ، وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ، قَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السُّوءِ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَضَاءَ اللهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ قَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، أَوْ أَقُومُ وَأَنَامُ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي قُدَامَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى.
(١٦٨٢٢) ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ میرے ساتھ دو اشعری آدمی اور بھی تھے۔ وہ دونوں میرے دائیں بائیں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر رہے تھے، انھوں نے عامل بنانے کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا۔ آپ خاموش رہے پھر فرمایا: اے ابو موسیٰ! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ دونوں کس لیے آئے ہیں اور ان کا کیا ارادہ ہے۔ فرماتے ہیں: میں مسواک کو آپ کے ہونٹ کی طرف سکڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خود مانگ کر عامل بنے اسے ہم عامل نہیں بناتے، لیکن اے ابو موسیٰ! تو یمن جا، پھر یہ حضرت معاذ کے پیچھے گئے، جب معاذ آئے تو فرمایا: آئیے اور ان کے لیے تکیہ رکھا تو ایک آدمی کو دیکھا جو بندھا ہوا تھا۔ پوچھا: یہ کہا ہے؟ جواب دیا: یہ یہودی تھا مسلمان ہوا لیکن پھر یہودی ہوگیا تو فرمایا: میں تو اسے قتل کرنے تک نہیں بیٹھوں گا ؛کیونکہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے، اسے قتل کردیا گیا۔ پھر بیٹھے اور قیام اللیل کے بارے میں مذاکرہ کیا تو حضرت معاذ نے فرمایا: میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنی نیند سے اللہ سے اسی کی امید رکھتا ہوں جو قیام میں امید رکھتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16822]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3403. -- باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره
-- باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ بِمَرْوَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ إِحْدَى يَدِيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقْتُلْهُ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدِيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَمَا قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
(١٦٨٢٣) مقداد بن عمرو کندی بدری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میں کسی آدمی سے جنگ میں مدمقابل ہوتا ہوں، وہ میرا ہاتھ کاٹ دے اور پھر درخت کی آڑ لے کر اسلام قبول کرلے تو کیا میں اسے قتل کروں؟ فرمایا: نہیں میں نے پھر کہا: اے اللہ کے نبی! اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے، کیا میں اسے قتل کروں؟ فرمایا: نہیں اگر تو نے قتل کردیا تو قتل کرنے سے پہلے جس مقام پر تو تھا، وہ مقام اسے مل جائے گا اور اس کی جگہ تو ہوجائے گا جہاں وہ کلمہ حق کہنے سے پہلے تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16823]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16824
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٣٤٠⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ فَنَذِرُوا فَهَرَبُوا، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ، فَعَرَضَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ، قَالَ:" أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ قَالَهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَوْ لَا؟ مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟"، قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، قَالَ أَبُو ظَبْيَانَ: قَالَ سَعْدٌ: وَأَنَّا وَاللهِ لَا أَقْتُلُهُ حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ، يَعْنِي أُسَامَةَ، قَالَ رَجُلٌ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: ١٩٣] ، قَالَ سَعْدٌ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْمٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ.
(١٦٨٢٤) تقدم برقم ١٦٨٠٤ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16824]
حدیث نمبر: 16825
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ رَجُلًا سَارَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَدْرِ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْمِرُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟" قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟" قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللهُ عَنْهُمْ".
(١٦٨٢٥) عبیداللہ بن عدی بن خیار کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشی کررہا تھا۔ یہ نہیں پتہ کیا کہہ رہا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ظاہر کیا کہ وہ منافقین کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو آپ نے فرمایا: کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتے؟ کہا: کیوں نہیں! پوچھا: نماز نہیں پڑھتے؟ کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کا انھیں کوئی فائدہ تو نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو قتل کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16825]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16826
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ،" ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي أَنْ يُسَارَّهُ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟" قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ قَالَ:" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟" قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَا صَلَاةَ لَهُ، قَالَ:" أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْهُمْ" ⦗٣٤١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْتَأْذِنَ فِي قَتْلِ الْمُنَافِقِ إِذْ أَظْهَرَ الْإِسْلَامَ أَنَّ اللهَ نَهَاهُ عَنْ قَتْلِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقِ اللهَ فِي الْقِسْمَةِ الَّتِي قَسَمَهَا، وَاسْتِئْذَانِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فِي قَتْلِهِ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، لَعَلَّهُ يَكُونُ يُصَلِّي"، قَالَ خَالِدٌ: وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أُؤْمَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ.
(١٦٨٢٦) سابقہ روایت
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ منافقین جن کا اسلام ظاہر ہو ان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا جو قصہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مال تقسیم کر رہے تھے تو ایک شخص نے کہا تھا: انصاف کر اس کے بارے میں خالد بن ولید نے اجازت مانگی تھی کہ میں قتل کر دوں؟ تو آپ نے فرمایا تھا: نہیں شاید یہ نماز پڑھتا ہے اور کتنے ہی نمازی ایسے ہیں جو زبان سے کچھ کہتے ہیں، دل میں کچھ ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل کھول کر دیکھوں یا ان کے پیٹ پھاڑوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16826]
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ منافقین جن کا اسلام ظاہر ہو ان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا جو قصہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مال تقسیم کر رہے تھے تو ایک شخص نے کہا تھا: انصاف کر اس کے بارے میں خالد بن ولید نے اجازت مانگی تھی کہ میں قتل کر دوں؟ تو آپ نے فرمایا تھا: نہیں شاید یہ نماز پڑھتا ہے اور کتنے ہی نمازی ایسے ہیں جو زبان سے کچھ کہتے ہیں، دل میں کچھ ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل کھول کر دیکھوں یا ان کے پیٹ پھاڑوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16826]