السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3414. -- باب: ما يستدل به على أن السبيل هو جلد الزانيين ورجم الثيب
-- باب: ان دلائل کا بیان کہ (قرآن میں مذکور) ”راستہ“ سے مراد غیر شادی شدہ زانیوں کو کوڑے مارنا اور شادی شدہ کو رجم کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 16911
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَالَ لِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" كَأَيِّنْ تَعُدُّ، أَوْ كَأَيِّنْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْأَحْزَابِ؟ قُلْتُ: ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ آيَةً، قَالَ: أَقَطُّ لَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتَعْدِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ فِيهَا: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ".
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سورہ احزاب تم کتنی پڑھتے ہو؟ اسے کتنا شمار کرتے ہو؟“ میں نے کہا: تہتر آیات۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ سورہ بقرہ کے برابر ہے اور اسی میں یہ آیت تھی: ”شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب وہ زنا کر لیں تو انہیں رجم کر دو، یہ اللہ کی طرف سے ان کی سزا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16911]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16912
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَكْتُبُونَ الْمَصَاحِفَ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَوْا عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ زَيْدٌ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ".
کثیر بن صلت کہتے ہیں کہ ہم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس مصاحف لکھ رہے تھے، جب اس آیت پر پہنچے تو زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے: ” «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» “۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16912]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16913
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نُبِّئْتُ، عَنِ ابْنِ أَخِي كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ، وَفِينَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ زَيْدٌ: كُنَّا نَقْرَأُ: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، قَالَ: فَقَالَ مَرْوَانُ: أَفَلَا نَجْعَلُهُ فِي الْمُصْحَفِ؟ قَالَ: لَا، أَلَا تَرَى الشَّابَّيْنِ الثَّيِّبَيْنِ يُرْجَمَانِ؟ قَالَ: وَقَالَ: ذَكَرُوا ذَلِكَ وَفِينَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَاكَ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ؟ قَالَ: آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا ذَكَرَ الرَّجْمَ أَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكْتِبْنِي آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: فَأتَيْتُهُ فَذَكَّرْتُهُ، قَالَ: فَذَكَرَ آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكْتِبْنِي آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ:" لَا أَسْتَطِيعُ ذَاكَ" فِي هَذَا وَمَا قَبْلَهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ آيَةَ الرَّجْمِ حُكْمُهَا ثَابِتٌ، وَتِلَاوَتُهَا مَنْسُوخَةٌ وَهَذَا مِمَّا لَا أَعْلَمُ فِيهِ خِلَافًا.
کثیر بن صلت کے بھتیجے کہتے ہیں کہ ہم مروان کے پاس تھے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے تو زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم یوں پڑھا کرتے تھے: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ» تو مروان کہنے لگا: کیا ہم اسے مصحف میں نہ لکھ دیں؟ کہا: نہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ دو نوجوان شادی شدہ بھی رجم کیے جاتے ہیں؟ اور ذکر کیا گیا ہے کہ ہم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اس کا شافی جواب دیتا ہوں۔ ہم نے کہا: کیسے؟ فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور میں اس طرح اس طرح ذکر کرتا، جب آپ رجم کا ذکر کرتے تو میں کہتا: یا رسول اللہ! مجھے آیتِ رجم لکھوا دیجیے۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یاد دلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیتِ رجم کا ذکر کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے آیتِ رجم لکھوا دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔“ یہ اور اس سے پہلی دلیل اس بات پر دال ہیں کہ آیتِ رجم کی تلاوت منسوخ ہے، حکم باقی ہے اور میں اس میں کسی کا اختلاف نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16913]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16914
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: ١٥] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا زَنَتْ حُبِسَتْ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَمُوتَ، وَفِي قَوْلِهِ: {وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا} [النساء: ١٦] ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا زَنَى أُوذِيَ بِالتَّعْيِيرِ وَضَرْبِ النِّعَالِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ هَذَا: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ}، فَإِنْ كَانَا مُحْصِنَيْنِ رُجِمَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا سَبِيلُهُمَا الَّذِي جَعَلَ اللهُ لَهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلے جب عورت زنا کرتی تو اسے گھر میں قید کر دیا جاتا اور مرد زنا کرتا تو اسے عار دی جاتی اور جوتوں سے مارا جاتا، تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیت نازل فرما دی: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] اگر شادی شدہ ہوتے تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق رجم کیا جاتا اور اللہ نے ان کی یہی سبیل مقرر فرمائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16914]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3415. -- باب: ما يستدل به على أن جلد المائة ثابت على البكرين الحرين ومنسوخ عن الثيبين، وأن الرجم ثابت على الثيبين الحرين
-- باب: ان دلائل کا بیان کہ سو کوڑے مارنا دو آزاد غیر شادی شدہ افراد پر ثابت ہے اور شادی شدہ سے منسوخ ہے، اور یہ کہ رجم کی سزا دو آزاد شادی شدہ افراد پر ثابت ہے۔
حدیث نمبر: Q16915
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا" أَوَّلُ مَا أُنْزِلَ فَنُسِخَ بِهِ الْحَبْسُ وَالْأَذَى عَنِ الزَّانِيَيْنِ، فَلَمَّا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزًا وَلَمْ يَجْلِدْهُ، وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَغْدُوَ عَلَى امْرَأَةِ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، دَلَّ عَلَى نَسْخِ الْجَلْدِ عَنِ الزَّانِيَيْنِ الْحُرَّيْنِ الثَّيِّبَيْنِ، وَثَبَّتَ الرَّجْمُ عَلَيْهِمَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”مجھ سے (یہ حکم) لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان (زانی عورتوں) کے لیے راستہ مقرر فرما دیا ہے۔“ سب سے پہلا (حکم) ہے جو نازل ہوا، جس کے ذریعے زنا کرنے والے مرد و عورت سے قید اور ایذا (کی سزا) منسوخ کی گئی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا اور انہیں کوڑے نہیں لگائے، اور سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ صبح دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، پس اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دیں، تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ شادی شدہ آزاد زانی مرد و عورت سے کوڑوں (کی سزا) منسوخ ہو گئی، اور ان دونوں پر رجم (کی سزا) ثابت رہی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q16915]
حدیث نمبر: 16915
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٍ أَشْعَرَ قَصِيرٍ ذِي عَضَلَاتٍ، فَأَقَرَّ لَهُ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَأَتَاهُ مِنْ وَجْهِهِ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ"، وَقَالَ:" كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ خَلَفَ أَحَدُهُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُمَكِّنُنِي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا عَنْهُنَّ، أَوْ نَكَّلْتُهُ عَنْهُنَّ" قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ماعز کو لایا گیا، یہ شخص گھنے بالوں اور گھٹے ہوئے جسم کا تھا۔ اس نے زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دو یا تین مرتبہ اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”جب بھی ہم کسی غزوہ میں نکلتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے، ان (عورتوں) میں سے کسی کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے؛ اللہ عزوجل ان میں سے جس کسی پر بھی مجھے قدرت عطا فرمائیں گے، میں اسے ضرور (ان عورتوں کے معاملے میں) عبرت کا نشان بنا دوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16915]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16916
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ ⦗٣٦٩⦘ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَجَمَ مَاعِزًا، وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کو رجم کیا، لیکن کوڑوں کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16916]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَقَالَ الْآخَرُ، وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ:" تَكَلَّمْ" قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، إِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ" وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً، وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ.
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر آئے اور کہنے لگے: ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کیجیے، اور دوسرے نے بھی یہی بات کہی، وہ دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا، کہنے لگا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں بات کروں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بولو“، تو کہنے لگا: میرا بیٹا اس کے ہاں کام کرتا تھا تو اس کی بیوی سے اس نے زنا کر لیا، تو مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اس کے بدلے سو بکریاں فدیے میں دے دیں اور اپنی ایک لونڈی، پھر میں نے اہل علم سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی بیوی پر رجم ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں، تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، بکریاں اور لونڈی تجھے واپس ملیں گی اور اس کی بیوی پر رجم ہے۔“ اور سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ: ”جاؤ اس عورت سے پوچھو؛ اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو۔“ اس نے اعتراف کر لیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16917]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ يُوسُفَ وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَحَدِيثُ الْغَامِدِيَّةِ وَالْجُهُنَيَّةِ دَلِيلٌ فِيهِ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
سابقہ روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16918]
حدیث نمبر: 16919
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ⦗٣٧٠⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" الرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِذَا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوِ الِاعْتِرَافُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”رجم کتاب اللہ میں ہے، ہر شادی شدہ مرد و عورت زانی پر جب وہ یا تو اعتراف کر لیں یا کوئی دلیل ہو یا حمل ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16919]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح