🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3478. -- باب: غرم السارق
-- باب: چور پر تاوان (جرمانہ) عائد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17282
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17282]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17283
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمَذَانَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الطِّيبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَخِي الْمِسْوَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْخَلَّالُ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ قَاضِي مِصْرَ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَغْرَمُ السَّارِقُ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ:" لَا يَغْرَمُ صَاحِبُ السَّرِقَةِ" فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَنِ الْمُفَضَّلِ، فَرُوِيَ عَنْهُ هَكَذَا، وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعْدٍ وَرُوِيَ عَنْهُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَخِيهِ الْمِسْوَرِ، فَإِنْ كَانَ سَعْدٌ هَذَا ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَلَا نَعْرِفُ بِالتَّوِارِيخِ لَهُ أَخًا مَعْرُوفًا بِالرِّوَايَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِسْوَرُ، وَلَا ⦗٤٨٢⦘ يَثْبُتُ لِلْمِسْوَرِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ سَمَاعٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَا رُؤْيَةٌ، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَثْبُتْ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا يُقَالُ: إِنَّهُ رَآهُ، وَمَاتَ أَبُوهُ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنَّمَا أَدْرَكَ أَوْلَادُهُ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمْ يَثْبُتْ لَهُمْ عَنْهُ رِوَايَةٌ وَلَا رُؤْيَةٌ، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَا نَعْرِفُهُ وَلَا نَعْرِفُ أَخَاهُ، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ.
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور سے تاوان نہ لیا جائے، جب اس پر حد قائم کی جائے۔“ ایک روایت ابو عبداللہ سے ہے کہ ”چور سے تاوان نہ لیا جائے“۔
اس حدیث میں مفضل سے اختلاف کیا گیا ہے: ان سے اسی طرح روایت کی گئی، اور ان سے یونس کے واسطے سے زہری سے، انہوں نے سعد سے روایت کی گئی، اور ان سے یونس کے واسطے سے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے بھائی مسور سے روایت کی گئی۔ اگر یہ سعد، ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کے بیٹے ہیں تو تاریخوں سے ہمیں ان کا کوئی ایسا بھائی معلوم نہیں جو روایت میں معروف ہو اور اسے مسور کہا جاتا ہو، اور اس مسور کا، جس کی طرف سعد بن محمد بن مسور بن ابراہیم منسوب ہیں، اپنے دادا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نہ سماع ثابت ہے اور نہ دیکھنا، لہٰذا یہ منقطع ہے۔ اور ابراہیم بن عبدالرحمن کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، صرف یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انہیں دیکھا ہے، اور ان کے والد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فوت ہوئے، تو ان کی اولاد نے ان کے والد عبدالرحمن کی وفات کے بعد ہی زمانہ پایا، لہٰذا ان کے لیے ان سے نہ روایت ثابت ہے نہ دیکھنا، پس یہ منقطع ہے۔ اور اگر یہ کوئی اور ہیں تو ہم نہ انہیں جانتے ہیں اور نہ ان کے بھائی کو۔ اور کسی کے لیے اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ حلال نہیں سوائے اس کے جو وہ خوش دلی سے دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17283]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17284
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" هُوَ ضَامِنٌ لِلسَّرِقَةِ مَعَ قَطْعِ يَدِهِ".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چور کا تاوان کے ساتھ ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17284]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17285
قَالَ: وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" يَضْمَنُ الِسَرِقَةَ اسْتَهْلَكَهَا أَوْ لَمْ يَسْتَهْلِكْهَا، وَعَلَيْهِ الْقَطْعُ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چور چوری کے مال کا ضامن ہے، چاہے وہ مال اس کے پاس موجود ہو یا موجود نہ ہو، اور اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17285]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3479. -- باب: ما جاء في تضعيف الغرامة
-- باب: جرمانہ دوگنا کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17286
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلًا، مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ:" هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ:" هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی مزینہ قبیلے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی رائے پہاڑ کی چراگاہ سے چرائی گئی بکریوں کے متعلق کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اور اس کے مثل (تاوان) اور عبرت والی سزا ہے، اور چرنے والے جانوروں میں سے کسی میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس کے جسے باڑے نے پناہ دی ہو اور اس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے، تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے تو اس میں دوگنی چٹی ہے اور عبرت کے لیے کوڑے مارے جائیں گے۔“ پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق کیا خیال ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اور اس کے ساتھ اس کے مثل (تاوان) اور عبرت والی سزا ہے، اور لٹکے ہوئے پھلوں میں سے کسی میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس کے جسے کھلیان نے پناہ دی ہو، تو جو کھلیان سے لیا جائے اور اس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جس کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے تو اس میں دوگنی چٹی ہے اور عبرت کے لیے کوڑے مارے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17286]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17287
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: أَصَابَ غِلْمَانٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ بِالْعَالِيَةِ نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ أَعْبُدُكَ قَدْ سَرَقُوا وَانْتَحَرُوا نَاقَةَ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَمَرَ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ أَرْسَلَ بَعْدَمَا ذَهَبَ فَدَعَاهُ وَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي أَظُنُّ أَنَّكُمْ تُجِيعُونَهُمْ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ أَتَى مَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَقَطَعْتُ أَيْدِيَهُمْ، وَلَكِنْ وَاللهِ لَئِنْ تَرَكْتُهُمْ لَأُغَرِّمَنَّكَ فِيهِمْ غَرَامَةً تُوجِعُكَ، فَقَالَ: كَمْ ثَمَنُهَا؟ لِلْمُزَنِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِمِائَةٍ، قَالَ: فَأَعْطِهْ ثَمَانَمِائَةٍ".
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے عالیہ میں مزینہ قبیلے کے ایک آدمی کی اونٹنی پکڑ لی، اسے ذبح کیا اور اس کا اعتراف کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب کی طرف (آدمی) بھیجا اور ان سے یہ ذکر کیا اور فرمایا: تیرے ان غلاموں نے مزینہ کے ایک آدمی کی اونٹنی چوری کر کے ذبح کی ہے اور اس کا اعتراف کیا ہے، اور کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ وہ ان کے ہاتھ کاٹے، پھر ان کے جانے کے بعد انہیں بلوا بھیجا اور (حاطب سے) فرمایا: اگر مجھے یہ گمان نہ ہوتا کہ تم انہیں بھوکا رکھتے ہو یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اللہ کی حرام کردہ چیز کا ارتکاب کر بیٹھا تو میں ضرور ان کے ہاتھ کاٹ دیتا، لیکن اللہ کی قسم! جب میں نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو میں ان کی وجہ سے تم پر ایسی چٹی ڈالوں گا جو تمہیں تکلیف دے گی، پھر مزنی سے پوچھا: اس اونٹنی کی قیمت کتنی تھی؟ اس نے کہا: میں اسے چار سو میں بھی نہیں دیتا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس کو آٹھ سو دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17287]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3480. -- باب: ما يستدل به على ترك تضعيف الغرامة
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے جرمانہ دوگنا نہ کرنے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17288
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: لَا تُضَعَّفُ الْغَرَامَةُ عَلَى أَحَدٍ فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا الْعُقُوبَةُ فِي الْأَبْدَانِ لَا فِي الْأَمْوَالِ، وَإِنَّمَا تَرَكْنَا تَضْعِيفَ الْغَرَامَةِ مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيمَا أَفْسَدَتْ نَاقَةُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا، قَالَ: فَإِنَّمَا يَضْمَنُونَهُ بِالْقِيمَةِ لَا بِقِيمَتَيْنِ، قَالَ: وَلَا يُقْبَلُ قَوْلُ الْمُدَّعِي، يَعْنِي فِي مِقْدَارِ الْقِيمَةِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چٹی کو کسی چیز میں بھی کسی پر دوگنا نہیں کیا جائے گا، سزا جسموں میں ہے مال میں نہیں، اور ہم نے چٹی دوگنا کرنا اس لیے چھوڑا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نقصان کے بارے میں جو براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے کیا تھا، فیصلہ کیا کہ ”دن کی حفاظت مال والوں پر ہے اور جو چوپائے رات کو خراب کریں تو اس کے ضامن ان کے مالک ہیں“۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس وہ اس کی ضمانت ایک قیمت سے دیں گے، دو قیمتوں سے نہیں، اور دعویٰ کرنے والے کی بات قیمت کی مقدار میں قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ دلیل دے اور جس پر دعویٰ کیا جا رہا ہے اس پر قسم ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17288]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17289
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا"، وَقَدْ ذَكَرْنَا شَوَاهِدَهُ فِي مَوْضِعِهِ.
حرام بن سعد بن محیصہ سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی تھی، وہ کسی آدمی کے باغ میں داخل ہوئی اور باغ میں نقصان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ”دن میں اس باغ کی حفاظت اس کے مالک پر ہے اور رات کو اگر جانور باغ خراب کرے تو اس کا ضامن اس جانور کا مالک ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17289]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3481. جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن
ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17290
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٤٨٥⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ، وَلَا عَلَى الْمُنْتَهِبِ، وَلَا عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھیننے پر، ڈاکے پر اور خیانت پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17290]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17291
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا سَمِعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَدْ رَوَاهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو ابن جریج نے یاسین زیات سے سنا۔
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17291]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں