🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3482. -- باب: العبد يسرق من متاع سيده
-- باب: غلام کا اپنے آقا کے سامان میں سے چوری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17302
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حقَالَ: وَثَنَا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ مُقَرِّنٍ، سَأَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: عَبْدِي سَرَقَ قَبَاءَ عَبْدِي، قَالَ:" مَالُكَ سَرَقَ بَعْضُهُ بَعْضًا، لَا قَطْعَ عَلَيْهِ"، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ.
معقل بن مقرن نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میرے غلام نے میرا جبہ چوری کر لیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: تیرے بعض مال نے بعض کو چوری کیا ہے، اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17302]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3483. -- باب: العبد يسرق من مال امرأة سيده
-- باب: غلام کا اپنے آقا کی بیوی کے مال میں سے چوری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17303
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، جَاءَ بِغُلَامٍ لَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: اقْطَعْ يَدَ هَذَا، فَإِنَّهُ سَرَقَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَاذَا سَرَقَ؟ قَالَ: سَرَقَ مِرْآةً لِامْرَأَتِي، ثَمَنُهَا سِتُّونَ دِرْهَمًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَرْسِلْهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، خَادِمُكُمْ سَرَقَ مَتَاعَكُمْ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو حضرمی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک غلام کو لائے اور کہا: اس نے چوری کی ہے، اس کا ہاتھ کاٹ دیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا چوری کی ہے؟ انہوں نے کہا: میری بیوی کا شیشہ جس کی قیمت 60 درہم تھی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا اور فرمایا: تیرے بعض مال نے تیرا بعض مال چوری کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17303]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3484. -- باب: من سرق من بيت المال شيئا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے بیت المال سے کوئی چیز چرائی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17304
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَيْسَ عَلَى مَنْ سَرَقَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ قَطْعٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو بیت المال سے چوری کرے اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17304]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، أنبأ سَعِيدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ خُمُسًا بَيْنَ النَّاسِ، فَسَرَقَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ مِغْفَرَ حَدِيدٍ مِنَ الْمَتَاعِ، فَأُتِيَ بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، هُوَ خَائِنٌ، وَلَهُ نَصِيبٌ" وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ دِثَارِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ، فَذَكَرَهُ.
ابن عبید بن ابرص کہتے ہیں کہ میں رحبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ لوگوں میں خمس تقسیم کر رہے تھے کہ حضرموت کے ایک شخص نے سامان میں سے لوہے کا ایک خود چوری کر لیا، اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا، یہ خائن ہے، اس کے لیے (اس میں) حصہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17305]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ سَرَقَ مِنَ الْخُمُسِ فَلَمْ يَقْطَعْهُ، وَقَالَ:" مَالُ اللهِ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ" قَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خمس میں سے ایک غلام نے چوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا اور فرمایا: ”بعض مال نے بعض کو چوری کیا ہے۔“
یہ روایت موصولاً بھی مروی ہے، مگر ایسی سند سے جس میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17306]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17307
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو ⦗٤٩٠⦘ يَعْلَى، ثنا جُبَارَةُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدًا، مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ سَرَقَ مِنَ الْخُمُسِ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقْطَعْهُ وَقَالَ:" مَالُ اللهِ سَرَقَ بَعْضُهُ بَعْضًا".
سابقہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17307]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3485. -- باب: قطاع الطريق
-- باب: ڈاکوؤں (راستہ لوٹنے والوں) کے احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17308
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ} [المائدة: 33] .
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ﴾ ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں (عبرت ناک طریقے سے) قتل کیا جائے، یا سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔“ [سورة المائدة: 33] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: Q17308]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17308
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ ضَرْعٍ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، فَاسْتَوْخَمْنَا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَزَادٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ،" فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا وَهُمْ كَذَلِكَ" قَالَ قَتَادَةُ: فَذُكِرَ لَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ، يَعْنِي: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا} [المائدة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ قَتَادَةُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! ہم دودھ پینے والے (مویشیوں والے) لوگ ہیں، زمین (کھیتی) والے ہم نہیں ہیں“، اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کچھ اونٹوں اور زادِ راہ کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان (اونٹوں) کے ساتھ باہر چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ وہ چلے گئے، یہاں تک کہ جب حرہ کے ایک کنارے پر پہنچے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اونٹ ہانک کر لے گئے اور اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں (آدمی) بھیجے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائیں اور انہیں حرہ کے کنارے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔
اور قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا کہ آیت: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ (اعضاء کاٹ کر صورت بگاڑنے) سے منع فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17308]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17309
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أُنَاسًا، أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوهَا وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا" فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ"، قَالَ: وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ، وَهُمُ الَّذِينَ أَخْبَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْهُمُ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کیا اور ان کو ہانک کر لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تعاقب کروایا، وہ پکڑے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ وہ کہتے ہیں: انہی کے بارے میں محاربہ والی آیت نازل ہوئی، اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو اس کے پوچھنے پر بتایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17309]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17310
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَطَعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ عَاتَبَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا} [المائدة: ٣٣] ، الْآيَةَ قَوْلُ قَتَادَةَ وَأَبِي الزِّنَادِ وَغَيْرِهِمَا: نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِمْ، مُرْسَلٌ.
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں) کاٹے جنہوں نے آپ کی دودھ والی اونٹنیاں چرائی تھیں اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھروائی تو اللہ نے آپ کو ڈانٹا اور یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا﴾ [سورة المائدة: 33] ۔
قتادہ، ابوزناد وغیرہ کا یہ قول کہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی، مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17310]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں