السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3474. -- باب: السارق يعود فيسرق ثانيا وثالثا ورابعا
-- باب: چور کا دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے کے احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17262
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ:" أُتِيَ بِالسَّارِقِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا غُلَامٌ لِأَيْتَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَاللهِ مَا نَعْلَمُ لَهُمْ مَالًا غَيْرَهُ، فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّانِيَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ السَّادِسَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ السَّابِعَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّامِنَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَهُوَ أَصَحُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ مَسْعَدَةَ ⦗٤٧٥⦘ وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَابْنَ سَابِطٍ الْأَحْوَلَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعَبْدٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ بُلُوغَهُ فِي الْمَرَّاتِ الْأَرْبَعِ، أَوْ لَمْ يَرَ سَرِقَتَهُ بَلَغَتْ مَا يُوجِبُ الْقَطْعَ، ثُمَّ رَآهَا تُوجِبُهُ فِي الْمَرَّاتِ الْأُخَرِ، فَأَمَرَ بِالْقَطْعِ، وَهَذَا الْمُرْسَلُ يُقَوِّي الْمَوْصُولَ قَبْلَهُ، وَيُقَوِّي قَوْلَ مَنْ وَافَقَهُ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
عبداللہ بن حارث بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک چور لایا گیا، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ انصار کے کچھ یتیموں کا غلام ہے، اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ اس کے علاوہ ان کا کوئی اور مال (ہے)“، تو اسے چھوڑ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ لایا گیا، اسے چھوڑ دیا۔ پھر تیسری مرتبہ لایا گیا، پھر چھوڑ دیا۔ پھر چوتھی مرتبہ لایا گیا، پھر چھوڑ دیا۔ پھر پانچویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا، پھر چھٹی مرتبہ لایا گیا تو اس کا پاؤں کاٹا، پھر ساتویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا، پھر آٹھویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا پاؤں کاٹا۔
حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ والی روایت زیادہ صحیح ہے، اور یہ صحیح سند کے ساتھ حسن مرسل ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک غلام لایا گیا (اور اسی معنی کی روایت ذکر کی)، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی چار مرتبہ اس کی چوری کو اس حد تک پہنچا ہوا نہیں سمجھا جس پر ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، پھر بعد کی مرتبہ اسے واجب کرنے والا سمجھا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ مرسل روایت اپنے سے پہلی موصول روایت کو تقویت دیتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17262]
حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ والی روایت زیادہ صحیح ہے، اور یہ صحیح سند کے ساتھ حسن مرسل ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک غلام لایا گیا (اور اسی معنی کی روایت ذکر کی)، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی چار مرتبہ اس کی چوری کو اس حد تک پہنچا ہوا نہیں سمجھا جس پر ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، پھر بعد کی مرتبہ اسے واجب کرنے والا سمجھا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ مرسل روایت اپنے سے پہلی موصول روایت کو تقویت دیتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17262]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17263
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامَلَ الْيَمَنِ ظَلَمَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَبِيكَ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ، ثُمَّ إِنَّهُمُ افْتَقَدُوا حُلِيًّا لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ وَيَقُولُ: اللهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ، فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغً، وَإِنَّ الْأَقْطَعَ جَاءَ بِهِ، فَاعْتَرَفَ الْأَقْطَعُ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي مِنْ سَرِقَتِهِ".
حضرت عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی یمن سے تھا، اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور پاؤں بھی کٹا ہوا تھا، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور شکایت کی کہ یمن کے عامل نے اس پر ظلم کیا ہے۔ وہ رات کو نماز پڑھتا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے: ”تیرے باپ کی قسم! تیری رات چور کی رات نہیں ہے۔“ پھر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، اور وہ آدمی ان کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”اے اللہ! تو پکڑ اس کو جس نے اس نیک گھر والوں کے ہاں رات کو چوری کی۔“ ہار سنار کے پاس پایا گیا اور معلوم ہوا کہ وہی ہاتھ کٹا آدمی اسے لایا تھا، تو اس نے اعتراف کیا یا اس پر گواہی دی گئی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کی بددعائیں اپنے نفس کے خلاف میرے نزدیک چوری سے زیادہ سخت ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17263]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَقْطَعَ رِجْلًا بَعْدَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" السُّنَّةُ الْيَدُ" قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: السُّنَّةُ الْيَدُ، يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَرَفَ فِيهِ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ کسی آدمی کا ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے بعد (دوسرا) پاؤں کاٹیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاتھ کاٹنا سنت ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول کہ ہاتھ کاٹنا سنت ہے، اس سے لگتا ہے کہ انہیں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت معلوم تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17264]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17265
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَقْطُوعَةٌ يَدُهُ وَرِجْلُهُ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْطَعُ رِجْلَهُ وَيَدَعُ يَدَهُ يَسْتَطْيبُ بِهَا وَيَتَطَهَّرُ بِهَا وَيَنْتَفِعُ بِهَا، فَقَالَ عُمَرُ:" لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَقْطَعَنَّ يَدَهُ الْأُخْرَى"، فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ.
صفیہ بنت ابی عبید رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چوری کی۔ اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا اور پہلے پاؤں بھی کاٹا گیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس کا پاؤں کاٹ دیا جائے اور ہاتھ چھوڑ دیا جائے جس سے وہ پاکیزگی و فائدہ حاصل کرنے کی طاقت رکھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ ضرور اس کا دوسرا ہاتھ کاٹیں گے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17265]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، أنبأ عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَطَعَ يَدًا بَعْدَ يَدٍ وَرِجْلٍ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، آپ نے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جانے کے بعد (دوسرا) ہاتھ کاٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17266]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17267
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَطَعَ يَدًا بَعْدَ يَدٍ وَرِجْلٍ".
یہ پہلے گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17267]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 17268
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ قَدْ سَرَقَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُقْطَعَ رِجْلُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَدْ قُطِعَتْ يَدُ هَذَا وَرِجْلُهُ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَقْطَعَ رِجْلَهُ فَتَدَعَهُ لَيْسَ لَهُ قَائِمَةٌ يَمْشِي عَلَيْهَا، إِمَّا أَنْ تُعَزِّرَهُ وَإِمَّا أَنْ تَسْتَوْدِعَهُ السِّجْنَ، قَالَ: فَاسْتَوْدَعَهُ السِّجْنَ" ⦗٤٧٧⦘ الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ صَحِيحَةً، وَكَيْفَ تَصِحُّ هَذِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَنْكَرَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى قَطْعَ الرِّجْلِ بَعْدَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ وَأَشَارَ بِالْيَدِ؟ وَرِوَايَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولَةٌ تَشْهَدُ لِلرِّوَايَةِ الْأُولَى بِالصِّحَّةِ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فِيهَا مَا فِي رِوَايَةِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَمَّا مَا رُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا عبدالرحمن بن عائذ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، اس کا ہاتھ اور پاؤں کاٹا ہوا تھا۔ اس نے چوری کی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿ان لوگوں کا بدلہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں﴾ [سورة المائدة: 33] اس کا ہاتھ اور پاؤں تو کاٹا جا چکا ہے، اب مناسب نہیں ہے کہ اس کا پاؤں کاٹا جائے پھر وہ نہ کھڑا ہو سکے اور نہ چل سکے۔ اسے تعزیراً کوئی سزا دی جائے یا اس کو جیل میں قید کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے اسے قید کر دیا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت کا صحیح ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ پہلی روایت میں انہوں نے ہاتھ اور پاؤں کے بعد پاؤں کاٹنے کا انکار کیا اور ہاتھ کی طرف اشارہ کیا؟ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی موصول روایت پہلی روایت کے صحیح ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17268]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت کا صحیح ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ پہلی روایت میں انہوں نے ہاتھ اور پاؤں کے بعد پاؤں کاٹنے کا انکار کیا اور ہاتھ کی طرف اشارہ کیا؟ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی موصول روایت پہلی روایت کے صحیح ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17268]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17269
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَقَالَ: أَقْطَعُ يَدَهُ، بِأِيِّ شَيْءٍ يَتَمَسَّحُ، وَبِأِيِّ شَيْءٍ يَأْكُلُ؟ ثُمَّ قَالَ: أَقْطَعُ رِجْلَهُ، عَلَى أِيِّ شَيْءٍ يَمْشِي؟ إِنِّي لَأَسْتَحْيِي اللهَ، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَهُ وَخَلَّدَهُ السِّجْنَ" وَأَمَّا الْقَتْلُ فِي الْخَامِسَةِ الْمَنْقُولُ فِي الْخَبَرِ الْمَرْفُوعِ، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْقَتْلُ فِيمَنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ فِي شَيْءٍ أَرْبَعًا فَأَتَى بِهِ الْخَامِسَةَ مَنْسُوخٌ، وَاسْتَدَلَّ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ مَنْقُولٌ فِي أَبْوَابِ حَدِّ الشَّارِبِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لایا گیا، اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر لایا گیا تو پاؤں کاٹا گیا، پھر لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں اس کا ہاتھ کاٹوں کہ وہ کوئی چیز نہ چھو سکے؟ پھر فرمایا: یا اس کا پاؤں کاٹوں جس پر وہ چلتا ہے؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ سے شرماتا ہوں، پھر اس کو مارا پھر جیل میں ڈال دیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس شخص کو قتل کرنا جس پر حد قائم ہو منسوخ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17269]
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس شخص کو قتل کرنا جس پر حد قائم ہو منسوخ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17269]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3475. -- باب: ما جاء في تعليق اليد في عنق السارق
-- باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17270
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ يَدِ السَّارِقِ فِي الْعُنُقِ أَمِنَ السُّنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَطَعَ سَارِقًا، ثُمَّ أَمَرَ بِيَدِهِ فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ".
ابن محیریز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ چور کا ہاتھ گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ فرمایا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے چور کا ہاتھ کاٹا پھر حکم دیا کہ ”اس کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17270]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17271
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ الْحَسَنُ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17271]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف