السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17444
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ بو کیسی؟“ اس نے کہا: نبیذ کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ وہ نبیذ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو وہ بہت سخت تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پانی ملا لیا اور فرمایا: ”جب تمہارا مشروب سخت ہو جائے تو اس طرح اس میں پانی ملا لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17444]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17445
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ ابْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحًا فَقَالَ:" مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟" فَقَالَ: نَبِيذٌ، قَالَ:" فَأَرْسِلْ إِلِيَّ مِنْهُ"، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا اغْتَلَمَتْ أَشْرِبَتُكُمْ فَاكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ" وَرَوَاهُ أَيْضًا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قُرَّةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَقَالَ:" فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ".
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17445]
حدیث نمبر: 17446
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ كَزَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ الْعِجْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ شَرَابٌ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْهُ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" رُدُّوهُ" فَأَخَذَ مِنْهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" انْظُرُوا هَذِهِ الْأَسْقِيَةَ، إِذَا اغْتَلَمَتْ فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ" ⦗٥٣٠⦘ حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ هَذَا، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ اخْتَلَفُوا فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ، فَقِيلَ هَكَذَا، وَقِيلَ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: ابْنُ أَبِي الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشروب کا پیالہ لایا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے قریب کیا تو اس سے ناگوار بو محسوس کی تو کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حرام ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دو“ اور پھر لے کر اس میں پانی ملایا اور فرمایا: ”جب تم اپنے مشروب کو اس طرح سخت دیکھو تو اس کی سختی کو پانی سے توڑ دو۔“
یہ حدیث اسی عبدالملک بن نافع کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس کے اور اس کے والد کے نام میں اختلاف ہے: کہا گیا ہے کہ یہی نام ہے، اور کہا گیا ہے: عبدالملک بن قعقاع، اور کہا گیا ہے: ابن ابی قعقاع، اور کہا گیا ہے: مالک بن قعقاع۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17446]
یہ حدیث اسی عبدالملک بن نافع کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس کے اور اس کے والد کے نام میں اختلاف ہے: کہا گیا ہے کہ یہی نام ہے، اور کہا گیا ہے: عبدالملک بن قعقاع، اور کہا گیا ہے: ابن ابی قعقاع، اور کہا گیا ہے: مالک بن قعقاع۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17446]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17447
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ فِي النَّبِيذِ؟ قَالَ: هُمْ يُضَعِّفُونَهُ قَالَ: وَأَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّبِيذِ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِمَشْهُورٍ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ.
ابن ابی مریم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ نبیذ کے بارے میں عبدالملک بن نافع کی جو روایت اسماعیل بن ابی خالد بیان کرتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ محدثین اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع، قعقاع بن شور کا بھتیجا، نبیذ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہے اور اس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور بات اس کے بیان کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17447]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع، قعقاع بن شور کا بھتیجا، نبیذ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہے اور اس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور بات اس کے بیان کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17447]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن معين»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17448
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَبِيذٍ،" فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثقیف والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نبیذ لائے، وہ سخت تھی تو آپ نے اس میں دو یا تین مرتبہ پانی ملا کر اسے پتلا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17448]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17449
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، ثنا جَدِّي، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: صَاحَبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَأَهْدَى لَهُ رَكْبٌ مِنْ ثَقِيفٍ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ نَبِيذٍ، وَالسَّطِيحَةُ فَوْقَ الْإِدَاوَةِ وَدُونَ الْمَزَادَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ: فَشَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِحْدَاهُمَا، قَالَ حَجَّاجٌ: طَيِّبَةٌ، ثُمَّ أُهْدِيَ لَهُ لَبَنٌ فَعَدَلَهُ عَنْ شُرْبِ الْأُخْرَى حَتَّى اشْتَدَّ مَا فِيهَا، فَذَهَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَشْرَبَ مِنْهَا فَوَجَدَهُ قَدِ اشْتَدَّ، فَقَالَ:" اكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ" فَإِنَّمَا كَانَ اشْتِدَادُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، بِالْحُمُوضَةِ أَوْ بِالْحَلَاوَةِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ⦗٥٣١⦘ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِيَرْفَأَ: اذْهَبْ إِلَى إِخْوَانِنَا فَالْتَمِسْ لَنَا عِنْدَهُمْ شَرَابًا، فَأَتَاهُمْ فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا هَذِهِ الْإِدَاوَةَ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ، فَدَعَا بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَاقَهَا، فَقَبَضَ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ قَالَ نَافِعٌ: وَاللهِ مَا قَبَضَ وَجْهَهُ إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ.
عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفرِ مکہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ثقیف کے سوار نے دو مشکیزے نبیذ کے دیے۔ آپ نے ان میں سے ایک کو پیا۔ پھر آپ کے لیے دودھ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے دودھ پیا اور نبیذ چھوڑ دی۔ پھر کچھ دیر کے بعد نبیذ پینے کے لیے آئے تو دیکھا وہ گاڑھا ہو چکا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے پانی سے توڑ دو۔“ اس کا گاڑھا ہونا، واللہ اعلم، ترشی یا مٹھاس کی وجہ سے تھا۔ اسی طرح نافع رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یرفا سے فرمایا: ہمارے بھائیوں کے پاس جاؤ اور ان کے ہاں ہمارے لیے کوئی مشروب تلاش کرو۔ وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس صرف یہی چھاگل ہے اور وہ بدل چکی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے منگوایا، چکھا تو چہرہ سکیڑ لیا، پھر پانی منگوا کر اس پر ڈالا اور پی لیا۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے صرف اس لیے چہرہ سکیڑا تھا کہ وہ سرکہ بن چکی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17449]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17450
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: وَاللهِ" مَا قَبَضَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجْهَهُ عَنِ الْإِدَاوَةِ حِينَ ذَاقَهَا إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ" وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ نَافِعٍ. وَيُذْكَرُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي شَرِبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ تَخَلَّلَ، وَيُذْكَرُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا حَمُضَ عَلَيْهِمُ النَّبِيذُ كَسَرُوهُ بِالْمَاءِ.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چھاگل کو چکھتے وقت صرف اس لیے چہرہ سکیڑا تھا کہ وہ سرکہ بن چکی تھی، اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے بھی ایسی ہی روایت آتی ہے، اور عتبہ بن فرقد سے منقول ہے کہ جو نبیذ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پی تھی وہ سرکہ بن چکی تھی، اور زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نبیذ جب کھٹی ہو جاتی تو وہ اس کی سختی کو پانی سے توڑتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17450]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17451
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ مَعِينٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَنْتَ حَدَّثْتَنِي عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" إِنَّمَا كَسَرَ عُمَرُ النَّبِيذَ مِنْ شِدَّةِ حَلَاوَتِهِ".
عبیداللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانی کے ساتھ نبیذ کی سختی کو توڑا اور وہ اپنی مٹھاس کی وجہ سے سخت ہو گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17451]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ السُّكَّرِيِّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيٌّ الْبَاشَانِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِي حَنِيفَةَ فِي النَّبِيذِ، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: أَخَذْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَبِيكَ، قَالَ: وَأَبِي مَنْ هُوَ قَالَ:" إِذَا رَابَكُمْ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ" قَالَ عُبَيْدُ اللهِ الْعُمَرِيُّ: إِذَا تَيَقَّنْتَ بِهِ وَلَمْ تَرْتَبْ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ.
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے نبیذ کے بارے میں گفتگو کی تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہنے لگے: یہ تو ہم نے آپ کے والد کی طرف سے لیا ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب شک ہو تو اس میں پانی ملا دو، تو عبید اللہ رحمہ اللہ کہنے لگے: جب یقین ہو اور شک نہ ہو تو کیا کرو گے؟ تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ خاموش ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17452]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17453
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْجُوزِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ، يَقُولُ:" مَا فِي شَرْبَةٍ مِنْ نَبِيذٍ مَا يُخَاطِرُ رَجُلٌ بِدِينِهِ".
سلیمان تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبیذ کے ایک گھونٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کی خاطر آدمی اپنے دین کو خطرے میں ڈالے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17453]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح