السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3496. -- باب: ما جاء في صفة نبيذهم الذي كانوا يشربونه في حديث أنس بن مالك وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه
-- باب: انس بن مالک اور دیگر صحابہ کی احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس نبیذ (مشروب) کی صفت کا بیان جو وہ پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 17424
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو حُصَيْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ إِذَا اشْتَدَّ نَبِيذُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ فِيهِ زَبِيبًا يَلْتَقِطُ حُمُوضَتَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى مِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ كَانَ نَبِيذُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَغَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَلَا تَرَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا أَحَلَّ الطِّلَاءَ حِينَ ذَهَبَ سُكْرُهُ وَشَرُّهُ وَحَظُّ شَيْطَانِهِ؟.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نبیذ گاڑھا ہو جاتا تو میں اس میں منقہ ملا دیتی، وہ اس کے ترش ذائقے کو ختم کر دیتا تھا۔ شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کا نبیذ بھی اسی طرح ہوتا تھا۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے «الطِّلَاء» کو جائز قرار دیا جب اس کا نشہ، نقصان اور اس سے شیطان کا حصہ ختم ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17424]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17425
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ سَلَامَةَ، أَخْبَرَاهُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ فَشَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَاءَ الْأَرْضِ وَثِقَلَهَا، وَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا إِلَّا هَذَا الشَّرَابُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اشْرَبُوا الْعَسَلَ، فَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لَا يُسْكِرُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَطَبَخُوهُ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ وَبَقِيَ الثُّلُثُ، فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَدْخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ أُصْبُعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ، فَقَالَ: هَذَا الطِّلَاءُ، هَذَا مِثْلُ طِلَاءِ الْإِبِلِ، فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَشْرَبُوهُ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَحْلَلْتَهَا وَاللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ، اللهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ.
محمود بن لبید انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو اہل شام نے وہاں کی بیماریوں کی شکایت کی اور کہا کہ ہماری اصلاح صرف اس پینے سے ہو سکتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: شہد پیا کرو، تو وہ بولے: شہد سے ہم ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ایک شخص کہنے لگا کہ کیا وہ مشروب ہم آپ کے لیے بنائیں کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، تو انہوں نے اسے اتنا پکایا کہ اس کا دو تہائی ختم ہو گیا اور صرف ثلث بچا، تو وہ آپ کے پاس لایا گیا، آپ نے اپنی انگلی اس میں داخل فرمائی اور پھر اسے باہر نکالا تو وہ ربڑ کی طرح آپ کی انگلی سے بہہ رہا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو اونٹوں کے طلاء کی طرح ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ واللہ! کیا آپ نے یہ حلال کر دیا؟ فرمایا: واللہ! نہیں، جو چیز آپ نے اس کے لیے حرام کی ہے میں اس کو حلال اور جو حلال کی ہے میں اس کو حرام نہیں کر سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17425]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17426
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنِ اطْبُخُوا، شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْهُ، فَإِنَّ لِلشَّيْطَانِ اثْنَيْنِ، وَلَكُمْ وَاحِدَةً".
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اپنے مشروبات کو اتنا پکاؤ کہ اس سے شیطان کا حصہ ختم ہو جائے، شیطان کے لیے اس میں سے دو تہائی اور تمہارے لیے ایک تہائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17426]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17427
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْجُوزِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً، وَيُنْقَعُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً، وَلَا يُجْعَلُ فِيهِ دُرْدِيٌّ".
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے منقہ کی نبیذ بنائی جاتی تھی، آپ صبح کی بنائی ہوئی شام کو پیا کرتے اور شام کی (بنائی ہوئی) صبح کو، اور اس میں تلچھٹ (خمیر) نہیں ڈالی جاتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17427]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٥٢٤⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، جَارِهِمْ قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالًا الْمَازِنِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرَّةٍ فِيهَا نَبِيذٌ، فَنَهَانِي عَنْهُ فَكَسَرْتُهَا، قَالَ: وَقَالَ سُوَيْدٌ: انْتَبِذْ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَاشْرَبْهُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَانْتَبِذْ أَوَّلَ النَّهَارِ وَاشْرَبْهُ آخِرَ النَّهَارِ لَفْظُ حَدِيثِ الصَّغَانِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ قَالَ: عَنْ هِلَالٍ الْمَازِنِيِّ.
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مٹی کا گھڑا جس میں نبیذ تھی لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے روک دیا تو میں نے اسے توڑ دیا۔ سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رات کے شروع حصے میں نبیذ بناتا تو آخری حصے میں پی لیتا اور صبح کے اول حصے میں بناتا تو شام تک اسے پی لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17428]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17429
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَحَدِ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، إِلَّا يَكُنْ قَيْسَ بْنَ النُّعْمَانِ فَإِنِّي نَسِيتُ اسْمَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ وَبِيئَةٌ، وَإِنَّهُ لَا يُوَافِقُهَا إِلَّا الشَّرَابُ، فَمَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْآنِيَةِ، وَمَا الَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْنَا؟ قَالَ:" لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا النَّقِيرِ، وَلَا الْمُزَفَّتِ، وَاشْرَبُوا فِي الْجِلَالِ"، أَوْ قَالَ:" الْجِلْدِ الْمُوكَى عَلَيْهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ مَتْنُهُ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَاهِرِيقُوهُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: الرِّوَايَاتُ الثَّابِتَةُ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ خَالِيَةٌ عَنْ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ يُجْهَلُ حَالُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنْ خَشِيَ شِرَّتَهُ، أَوْ قَالَ: شِدَّتَهُ، فَلْيَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ".
ابوالقموص زید بن علی وفدِ عبدالقیس کے ایک شخص سے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، روایت کرتے ہیں (وہ کہتے ہیں: اگر وہ قیس بن نعمان نہیں تو میں ان کا نام بھول گیا ہوں) کہ ہم میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری زمین وبائی زمین ہے اور اسے مشروب کے سوا کوئی چیز موافق نہیں آتی، تو ہمارے لیے کون سے برتن حلال ہیں اور کون سے حرام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کدو کے برتن، لکڑی کے کھوکھلے برتن اور تارکول لگے ہوئے برتن میں نہ پیو، اور چمڑے کے برتنوں میں پیو۔“ یا فرمایا: ”منہ بند مشکیزے میں پیو، اگر وہ سخت ہو جائے تو پانی ملا کر اس کی سختی توڑ دو، اور اگر وہ تمہارے بس میں نہ رہے تو اسے بہا دو۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفدِ عبدالقیس کے قصے کی ثابت روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں، اور اس سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا حال معلوم نہیں، واللہ اعلم۔ اور اس قصے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17429]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفدِ عبدالقیس کے قصے کی ثابت روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں، اور اس سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا حال معلوم نہیں، واللہ اعلم۔ اور اس قصے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17429]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17430
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَابْنُ صَاعِدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ:" لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ، وَلَا مُقَيَّرٍ، وَلَا ⦗٥٢٥⦘ دُبَّاءٍ، وَلَا حَنْتَمٍ، وَلَا مَزَادَةٍ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا فِي سِقَاءِ أَحَدِكُمْ غَيْرَ مُسْكِرٍ، فَإِنْ خُشِيَ شِرَّتُهُ فَلْيَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ" لَفْظُ ابْنِ مَنِيعٍ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، فَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاةِ وَرُوِيَ فِي الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد کو فرمایا تھا: ”تم لکڑی کے کھوکھلے برتن، رال لگے برتن، کدو کے برتن، سبز مٹکے اور بڑے مشکیزے میں نہ پیو، بلکہ اپنے مشکیزے میں وہ پیو جو نشہ آور نہ ہو، اور اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“
ایک جماعت نے اسے نوح بن قیس سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے، لہٰذا لگتا ہے کہ یہ کسی راوی کا قول ہے۔ اور پانی ملا کر سختی توڑنے کی بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17430]
ایک جماعت نے اسے نوح بن قیس سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے، لہٰذا لگتا ہے کہ یہ کسی راوی کا قول ہے۔ اور پانی ملا کر سختی توڑنے کی بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17430]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17431
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ عَبْدُ الْقَيْسِ، أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضِ رِيفٍ، وَإِنَّا نُصِيبُ مِنَ الْبَقْلِ، فَأْمُرْنَا بِشَرَابٍ، فَقَالَ:" اشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الْجَرِّ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا الْمُزَفَّتِ، وَلَا النَّقِيرِ، وَإِنِّي نَهَيْتُ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ، وَهِيَ الطَّبْلُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ: فَقَالَ:" صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ" قَال: فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ:" صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ" قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ:" فَإِذَا اشْتَدَّ فَاهَرِيقُوهُ" خَالَفَهُ أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذِكْرُ الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے نبیذ کے بارے میں بنو عبدالقیس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ وہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم کھیتی باڑی والی زمین میں رہتے ہیں اور ہمیں اسی سے پھل حاصل ہوتا ہے تو ہمیں مشروبات کے بارے میں بتائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینے والے برتنوں میں پیو اور مٹی کے گھڑے، کدو کے برتن، لکڑی کے برتن اور تارکول سے بنے برتن میں نہ پیو اور مجھے شراب، جوئے اور طبلہ سے منع کیا گیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی منع ہے۔“ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ بہت زیادہ گاڑھا ہوجائے تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اس میں ملا دو۔“ پھر انھوں نے یہی سوال کیا تو آپ نے پھر یہی جواب دیا۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ جب یہی سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ بہت سخت ہوجائے تو اسے انڈیل دو۔“
ابو جمرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ پانی ملانے کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17431]
ابو جمرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ پانی ملانے کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17431]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17432
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السِّرَاجُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ تَنْتَبِذُ فِي مَزَادٍ لَهَا نَبِيذًا شَدِيدًا، قَالَ: فَإِذَا خَشِيتَ شِدَّتَهُ فَاكْسِرْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، لَيْسَ فِيهِ الْأَمْرُ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ فِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ: إِذَا خَشِيَ شِدَّتَهُ قَبْلَ بُلُوغِهِ حَدَّ الْإِسْكَارِ بِدَلِيلِ قَوْلِهِ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَالْحَرَامُ لَا يُحِلُّهُ دُخُولُ الْمَاءِ فِيهِ.
ابو حمزہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا اور حدیث بیان کی۔ میں نے کہا: کیا بنو عبدالقیس اتنی سخت نبیذ بناتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب سخت ہو جائے تو پانی ملا دو۔“ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی، لیکن اس میں پانی ملانے والا ذکر نہیں کیا اور اس میں پانی ملانے کا حکم اس میں نشہ پیدا ہونے سے پہلے ہے اور نشہ حرام ہے جو پانی ملانے سے پاک نہیں ہو جاتا ہے کیونکہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17432]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17433
وَفِيمَا بَلَغَ حَدَّ الْإِسْكَارِ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، ⦗٥٢٦⦘ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری کی تیاری کی اور کدو کے برتن میں نبیذ بنایا، پھر میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور اس میں جھاگ بنی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس دیوار کے ساتھ مار دو، یہ تو ان کا پینا ہے جن کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17433]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح