السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحُلْوَانِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ يَحْيَى، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَلَّاقٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17434]
حدیث نمبر: 17435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَنْبَأَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُخْبِرُ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ، فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهِ الْحَائِطَ، فَإِنَّهُ لَا يَشْرَبُ هَذَا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ كَانَ إِلَى إِحْلَالِهِ بِصَبِّ الْمَاءِ عَلَيْهِ سَبِيلٌ لَمَا أَمَرَ بِإِرَاقَتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَرْفُوعًا: لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَلَا النَّقِيرِ وَلَا الْحَنْتَمِ، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَاشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ وَثُمَامَةُ بْنُ كِلَابٍ هَذَا مَجْهُولٌ، وَالثَّابِتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْخَلِيطَيْنِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرَأَيْتُهُ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ السُّحَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَابَكَ مِنْ شَرَابِكَ رَيْبٌ فشِنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، أَمِطْ عَنْكَ حَرَامَهُ وَاشْرَبْ حَلَالَهُ وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَاءَ حِفْظُهُ، فَرَوَى مَا لَمْ ⦗٥٢٧⦘ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: وَقَوْلُهُ: إِذَا رَابَكَ، قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَذَكَرَهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی کے مٹکے میں بنا ہوا نبیذ لایا گیا جس میں جھاگ بنا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیوار پر دے مارو۔ یہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے کا مشروب نہیں ہے۔“ شیخ فرماتے ہیں کہ اگر پانی کے ملانے سے یہ حلال ہو سکتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اسے دیوار پر مارنے کا نہ کہتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، تارکول اور لکڑی جو کھجور کی جڑ سے بنا ہوا برتن، اور رنگے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور خشک اور تر کھجور اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ جو گاڑھا ہو جائے تو اس میں پانی ملا لو۔ لیکن اس کی سند میں ثمامہ بن کلاب مجہول ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن ابی قتادہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت روایت میں دو چیزیں ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت ہے، اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع روایت آئی ہے، فرمایا کہ: ”جب مشروب میں شک ہو تو اس پر پانی ڈال دے اور جو اس سے حرام ہے اسے انڈیل دے اور حلال کو پی لے۔“ لیکن یہ بھی ضعیف ہے، کیونکہ عکرمہ بن عمار آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17435]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، تارکول اور لکڑی جو کھجور کی جڑ سے بنا ہوا برتن، اور رنگے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور خشک اور تر کھجور اور منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ جو گاڑھا ہو جائے تو اس میں پانی ملا لو۔ لیکن اس کی سند میں ثمامہ بن کلاب مجہول ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن ابی قتادہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت روایت میں دو چیزیں ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت ہے، اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع روایت آئی ہے، فرمایا کہ: ”جب مشروب میں شک ہو تو اس پر پانی ڈال دے اور جو اس سے حرام ہے اسے انڈیل دے اور حلال کو پی لے۔“ لیکن یہ بھی ضعیف ہے، کیونکہ عکرمہ بن عمار آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17435]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17436
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّازُ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَاسْتَسْقَى رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَرَابٌ فَيُرْسِلَ إِلَيْهِ؟" فَأَرْسَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ نَبِيذُ زَبِيبٍ، فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تُعْرَضُ عَلَيْهِ؟"، فَلَمَّا أَدْنَاهُ مِنْهُ وَجَدَ لَهُ رَائِحَةً شَدِيدَةً، فَقَطَبَ وَرَدَّ الْإِنَاءَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ يَكُنْ حَرَامًا لَمْ نَشْرَبْهُ، فَاسْتَعَادَ الْإِنَاءَ وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَى الْإِنَاءِ وَقَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ شَرَابُهُ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن سخت گرمی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں سے پینے کے لیے کچھ مانگا تو ایک آدمی نے اپنے گھر پیغام بھیجا تو ایک لونڈی منقیٰ کا نبیذ لے آئی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، چاہے اس پر ایک لکڑی ہی آڑی رکھ دیتے؟“ جب اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ناپسندیدہ بو پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ترش روئی محسوس ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن واپس کر دیا تو ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! اگر یہ حرام ہے تو ہم اسے نہیں پئیں گے۔“ انہوں نے دوبارہ برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ویسے ہی واپس کر دیا، اس شخص نے پھر وہی بات کہی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی منگوایا اور اس میں شامل کر دیا اور فرمایا: ”جب یہ سخت ہو جائے تو اس میں اس طرح پانی ملا دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17436]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17437
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ، فَلَمَّا رَفَعَهُ إِلَى فِيهِ قَطَبَ فَتَرَكَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا شَرَابُ أَهْلِ مَكَّةَ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَطَبَ فَنَحَّاهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِذَنُوبٍ أَوْ دَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَقَى الَّذِي يَلِيهِ وَالَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا اصْنَعُوا بِهِ إِذَا غَلَبَكُمْ" فَهَذَا إِنَّمَا رَوَاهُ الْكَلْبِيُّ، وَالْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ بَاذَانُ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِمَا وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ، فَغَلِطَ فِي إِسْنَادِهِ.
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گرم دن طواف کیا اور پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ کا ایک برتن لایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منہ کی طرف اٹھایا تو منہ بنایا اور اسے چھوڑ دیا۔ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ اہل مکہ کا مشروب ہے، کیا یہ حرام ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر دوسری مرتبہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ بنایا اور اسے ہٹا دیا، اس آدمی نے پھر وہی بات کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس میں ڈال دیا، پھر اپنے ساتھ والے اور اپنی دائیں جانب والے کو پلایا اور فرمایا: ”جب یہ تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔“
اسے صرف کلبی نے روایت کیا ہے اور کلبی متروک ہے، اور ابو صالح باذان ضعیف ہے، ان دونوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن یمان نے اسے سفیان سے روایت کیا تو اس کی سند میں غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17437]
اسے صرف کلبی نے روایت کیا ہے اور کلبی متروک ہے، اور ابو صالح باذان ضعیف ہے، ان دونوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن یمان نے اسے سفیان سے روایت کیا تو اس کی سند میں غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17437]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17438
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا ابْنُ يَمَانٍ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ جَمِيعًا بِالْبَصْرَةِ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: عَطِشَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ، فَشَمَّهُ فَقَطَبَ فَقَالَ:" عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ" فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ رَجُلٌ: حَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لَا" ⦗٥٢٨⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّهِيدِيِّ وَحَدِيثُ أَبِي مَعْمَرٍ مُخْتَصَرٌ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّوَافِ: أَحَلَالٌ هُوَ أَمْ حَرَامٌ؟ قَالَ:" حَلَالٌ"، يَعْنِي النَّبِيذَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: هَذَا حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ بِيَحْيَى بْنِ يَمَانٍ، وَيُقَالُ: إِنَّهُ انْقَلَبَ عَلَيْهِ الْإِسْنَادُ، وَاخْتَلَطَ بِحَدِيثِ الْكَلْبِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَالْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَبُو صَالِحٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کعبہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بو سے منہ بنایا اور زمزم کا پانی منگوایا اور اس میں ڈالا، پھر اسے نوش فرمایا تو ایک شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یہ حلال ہے یا حرام؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال۔“
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن یمان کے واسطے سے معروف ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان پر سند الٹ گئی اور کلبی عن ابی صالح کی حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی، اور کلبی متروک ہے اور ابو صالح ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17438]
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن یمان کے واسطے سے معروف ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان پر سند الٹ گئی اور کلبی عن ابی صالح کی حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی، اور کلبی متروک ہے اور ابو صالح ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17438]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 17439
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: ابْنُ يَمَانٍ سَرِيعُ النِّسْيَانَ، وَحَدِيثُهُ خَطَأٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، إِنَّمَا هُوَ عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ.
محمد بن عبداللہ بن نمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن یمان رحمہ اللہ بہت بھولتا تھا اور «ثَوْرِي عَنْ مَنْصُورٍ» کے طریق سے اس نے خطا کھائی ہے، بلکہ یہ صحیح سند «كَلْبِي عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُطَلِّبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رضی اللہ عنہ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17439]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17440
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ، قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ: هَذَا لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، وَقَالَ الْأَشْجَعِيُّ وَغَيْرُهُ: عَنْ سُفْيَانَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ.
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یمان کی یہ حدیث (١٧٤٣٨) صحیح نہیں ہے اور اشجعی کہتے ہیں کہ یہ عن سفیان عن کلبی عن ابی صالح عن مطلب صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17440]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُوسَى، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، فِي النَّبِيذِ، قَالَ: لَا تُحَدِّثْ بِهَذَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ سَرَقَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ فَرَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ، وَسَرَقَهُ الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ مَتْرُوكٌ، وَالْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
ابو موسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کو سفیان عن منصور والی حدیث (17438) بیان کی تو انہوں نے مجھے بیان کرنے سے منع کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن ابان نے چرا کر سفیان سے روایت کیا، اور یسع بن اسماعیل نے چرا کر زید بن حباب عن سفیان سے روایت کیا، اور عبدالعزیز بن ابان متروک ہے اور یسع بن اسماعیل ضعیف الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17441]
شیخ فرماتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن ابان نے چرا کر سفیان سے روایت کیا، اور یسع بن اسماعیل نے چرا کر زید بن حباب عن سفیان سے روایت کیا، اور عبدالعزیز بن ابان متروک ہے اور یسع بن اسماعیل ضعیف الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17441]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن المهدي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17442
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُعَائِهِ بِشَرَابٍ، قَالَ: فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَصَبَّهُ فِيهِ فَشَرِبَ، ثُمَّ اشْتَدَّ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ، ثُمَّ شَرِبَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاقْتُلُوهُ بِالْمَاءِ" وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَقَدْ رَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِصَّةَ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُرْبِهِ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهَا مَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَإِنَّمَا تُعْرَفُ هَذِهِ الزِّيَادَةُ مِنْ رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ كَمَا مَضَى، ⦗٥٢٩⦘ وَزَادَ يَزِيدُ: شَرِبَهُ مِنْهُ قَبْلَ خَلْطِهِ بِالْمَاءِ، وَهُوَ بِخِلَافِ سَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَكَيْفَ يُظَنُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الْمُسْكِرَ إِنْ كَانَ مُسْكِرًا عَلَى زَعْمِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَخْلِطَهُ بِالْمَاءِ؟ فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا أَصْلَ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قصہ طواف ذکر کرتے ہیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مشروب منگایا تھا اس کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ مشروب لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، پھر پانی منگوا کر اس میں ڈالا اور پیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت محسوس ہوا تو پانی منگوا کر اس میں ڈالا، پھر دو یا تین مرتبہ پیا، پھر فرمایا: ”جب یہ تم پر سخت ہو جائے تو اس (کی سختی) کو پانی کے ساتھ قتل کرو۔“
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ خالد حذاء نے عکرمہ عن ابن عباس کے طریق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف اور مشروب پینے کا قصہ روایت کیا ہے اور اس میں وہ بات ذکر نہیں کی جو یزید نے ذکر کی ہے، یہ اضافہ تو کلبی کی روایت سے پہچانا جاتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ یزید نے یہ اضافہ بھی کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ملانے سے پہلے اس میں سے پیا، جو باقی تمام روایات کے خلاف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشہ آور چیز، اگر ان کے خیال میں وہ نشہ آور تھی، پانی ملانے سے پہلے پی لیں؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17442]
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ خالد حذاء نے عکرمہ عن ابن عباس کے طریق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف اور مشروب پینے کا قصہ روایت کیا ہے اور اس میں وہ بات ذکر نہیں کی جو یزید نے ذکر کی ہے، یہ اضافہ تو کلبی کی روایت سے پہچانا جاتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ یزید نے یہ اضافہ بھی کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ملانے سے پہلے اس میں سے پیا، جو باقی تمام روایات کے خلاف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشہ آور چیز، اگر ان کے خیال میں وہ نشہ آور تھی، پانی ملانے سے پہلے پی لیں؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17442]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17443
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السِّرَاجُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا دَارِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَنَفِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَطَاءً وَسُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أَبِي رَبَاحٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَسْقُونَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَشْرَبُ مِنْهَا فَتَلْتَزِقُ شَفَتَاهُ مِنْ حَلَاوَتِهَا، وَلَكِنَّ الْحُرِّيَّةَ ذَهَبَتْ وَوَلِيَهَا الْعَبِيدُ فَتَهَاوَنُوا بِهَا.
دارم بن عبدالحمید حنفی کہتے ہیں کہ میں عطاء رحمہ اللہ کے پاس تھا۔ ان سے نبیذ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ تو میں نے کہا: اے ابن ابی رباح! یہ لوگ تو ہمیں مسجد میں (نبیذ) پلاتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں نے وہ زمانہ پایا ہے کہ آدمی اسے پیتا تو اس کی مٹھاس کی وجہ سے اس کے ہونٹ آپس میں چپک جاتے تھے، لیکن آزاد لوگ چلے گئے اور اس کا انتظام غلاموں کے ہاتھ آ گیا تو انہوں نے اس میں لاپرواہی برتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17443]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح