السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3508. -- باب: الإمام فيما يؤدب إن رأى تركه تركه
-- باب: امام (حکمران) تادیب (تعزیر) کے معاملات میں اگر چھوڑ دینا مناسب سمجھے تو اسے ترک کر دے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17553
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَظُمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَظُمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي أَعَظُمَ عَلَيْهِ أَمْ لَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: ١١٤] ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِي هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" هِيَ لِمَنْ أَخَذَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ التَّيْمِيِّ.
(١٧٥٥٣) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے ملامست کرلی دخول نہیں کیا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے اسے بہت بڑا گناہ جانا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے بھی یہی کیا۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو یہ آیت اتری ”دن کے اطراف میں اور رات کے اندھیرے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں“ [ہود ١١٤] تو اس آدمی نے کہا: کیا یہ صرف میرے لیے ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا: نہیں یہ میری تمام امت کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17553]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17554
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَا:" تَشَاتَمَ رَجُلَانِ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمَا شَيْئًا، وَتَشَاتَمَا عِنْدَ عُمَرَ فَأَدَّبَهُمَا".
(١٧٥٥٤) ابن جریج اور ابن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں تو آپ نے کچھ نہ کہا: حضرت عمر کے پاس دیں تو آپ نے انھیں ادب سکھانے کے لیے سزا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17554]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3509. -- باب: السلطان يكره رجلا على أن يدخل نهرا أو ينزل بئرا، أو يرقى نخلة
-- باب: حکمران کسی شخص کو نہر میں داخل ہونے، کنویں میں اترنے، یا کھجور کے درخت پر چڑھنے پر مجبور کرے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 17555
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ⦗٥٦٠⦘ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَيَدَاهُ فِي أُذُنَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا لَبَّيْكَاهُ، يَا لَبَّيْكَاهُ، قَالَ النَّاسُ: مَا لَهُ؟ قَالَ: جَاءَهُ بَرِيدٌ مِنْ بَعْضِ أُمَرَائِهِ أَنَّ نَهْرًا حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعُبُورِ، وَلَمْ يَجِدُوا سُفَنًا، فَقَالَ أَمِيرُهُمُ: اطْلُبُوا لَنَا رَجُلًا يَعْلَمُ غَوْرَ الْمَاءِ، فَأُتِيَ بِشَيْخٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ الْبَرْدَ وَذَاكَ فِي الْبَرْدِ، فَأَكْرَهَهُ فَأَدْخَلَهُ، فَلَمْ يُلْبِثْهُ الْبَرْدُ، فَجَعَلَ يُنَادِي: يَا عُمَرَاهُ يَا عُمَرَاهُ فَغَرِقَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ فَمَكَثَ أَيَّامًا مُعْرِضًا عَنْهُ، وَكَانَ إِذَا وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ فَعَلَ بِهِ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَعَمَّدْتُ قَتْلَهُ، لَمْ نَجِدْ شَيْئًا يُعْبَرُ فِيهِ، وَأَرَدْنَا أَنْ نَعْلَمَ غَوْرَ الْمَاءِ، فَفَتَحْنَا كَذَا وَكَذَا، وَأَصَبْنَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:: لَرَجُلٌ مُسْلِمٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ جِئْتَ بِهِ، لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ، اذْهَبْ فَأَعْطِ أَهْلَهُ دِيَتَهُ، وَاخْرُجْ فَلَا أَرَاكَ.
(١٧٥٥٥) زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور ان کے دونوں ہاتھ ان کے کانوں میں تھے اور وہ کہہ رہے تھے: یا لبیکاہ یا لبیکاہ تو لوگوں نے کہا: انھیں کیا ہوا؟ تو کہنے لگے: میرے بعض امراء کی طرف سے خط آیا ہے کہ ایک نہر ان کے درمیان حائل ہے اور وہ اسے پار کرنے کے لیے کشتی بھی نہیں پاتے۔ تو ان کے امیر نے کہا: کوئی ایسا شخص دیکھو جو پانی کی گہرائی معلوم کرسکے تو ایک بوڑھا شخص لایا گیا لیکن اس نے کہا: مجھے سردی کا خوف ہے اور ان دنوں سردی بھی تھی۔ میں نے اسے زبردستی پانی میں داخل کردیا۔ اس سے سردی برداشت نہ ہوئی اور اے عمر! اے عمر! کہتے ہوئے غرق ہوگیا تو حضرت عمر نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ کہا: اے عمر! نہ تو ہم اس کو مارنا چاہتے تھے اور نہ اور کوئی سبب تھا ہم تو صرف پانی کی گہرائی جاننا چاہتے تھے تو حضرت عمر نے فرمایا: ایک مسلمان آدمی مجھے تمام سے محبوب ہے۔ اگر تو جان بوجھ کر ایسا کرتا تو تیری گردن اتار دیتا جا اور جا کے اس کے اہل کو دیت دے اور چلا جا، کوئی حرج نہیں۔ [صحیح ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17555]
3510. -- باب: السلطان يكره على الاختتان أو الصبي وسيد المملوك يأمران به، وما ورد في الختان
-- باب: حکمران کا ختنہ کرنے پر مجبور کرنا، یا نابالغ بچے (کا ولی) اور غلام کا آقا اس (ختنہ) کا حکم دیں، اور ختنے کے متعلق وارد شدہ دیگر روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الِاخْتِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ" ⦗٥٦١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(١٧٥٥٦) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف بال کاٹنا، مونچھوں کو کاٹنا، ناخن کاٹنا اور بغلوں کے بال اکھاڑنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17556]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17557
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْغَزِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ، وَاخْتَتِنْ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيَبٍ، إِنَّمَا حَدَّثَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، فَكَنَّى عَنِ اسْمِهِ.
(١٧٥٥٧) عتیم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ اپنے سے کفر کے بال اتار دے اور ختنہ کرا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17557]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 17558
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارٍ الْقَزْوِينِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ سَهْلُ بْنُ أَحْمَدَ الدِّيبَاجِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الصُّوفِيُّ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي عَلِيٍّ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ الْكُوفِيِّ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَجَدْنَا فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّحِيفَةِ:" إِنَّ الْأَقْلَفَ لَا يُتْرَكُ فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى يُخْتَتَنُ وَلَوْ بَلَغَ ثَمَانِينَ سَنَةً" وَهَذَا حَدِيثٌ يَنْفَرِدُ بِهِ أَهْلُ الْبَيْتِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
(١٧٥٥٨) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار میں ایک صحیفہ ملا جس میں تھا کہ جو بھی بغیر ختنہ کے مسلمان ہو اس کو نہ چھوڑا جائے جب تک کہ وہ ختنہ نہ کر الے چاہے وہ ٨٠ برس کا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17558]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ موضوع»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17559
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ ⦗٥٦٢⦘ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ خَاتِنَةً تَخْتِنُ فَقَالَ:" إِذَا خَتَنْتِ فَلَا تَنْهِكِي، فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ، وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ".
(١٧٥٥٩) ام عطیہ انصاریہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ختنہ کرنے والی عورت کو کہا کہ جب تو عورتوں کا ختنہ کرے تو حد سے نہ بڑھ کیونکہ یہ عورت کا حصہ ہے اور خاوند کے لیے باعثِ لذت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17559]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17560
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: عَبْدُ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنْهِكِي فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ، وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ مَجْهُولٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ.
(١٧٥٦٠) تقدم قبلہ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17560]
حدیث نمبر: 17561
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا زَكَرِيَّا عَنْ حَدِيثٍ حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَطِيَّةَ تَخْفِضُ الْجَوَارِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ عَطِيَّةَ اخْفِضِي وَلَا تَنْهِكِي، فَإِنَّهُ أَسْرَى لِلْوَجْهِ، وَأَحْظَى عِنْدَ الزَّوَاجِ" قَالَ الْغَلَابِيُّ: فَقَالَ أَبُو زَكَرِيَّا وَهُوَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا لَيْسَ بِالْفِهْرِيِّ.
(١٧٥٦١) تقدم قبلہ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17561]
حدیث نمبر: 17562
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَفَضْتِ فَأَشِمِّي وَلَا تَنْهِكِي، فَإِنَّهُ أَسْرَى لِلْوَجْهِ، وَأَحْظَى عِنْدَ الزَّوْجِ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا يَرْوِيهِ عَنْ ثَابِتٍ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ، لَا أَعْلَمُ يَرْوِيهِ عَنْهُ غَيْرُهُ.
(١٧٥٦٢) تقدم قبلہ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17562]