السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3504. -- باب: من وجد منه ريح شراب أو لقي سكران
-- باب: جس شخص سے شراب کی بو آئے یا وہ نشے کی حالت میں پایا جائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17514
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَتَجْلِدُ فِي رِيحِ الشَّرَابِ؟ فَقَالَ عَطَاءٌ:" إِنَّ الرِّيحَ لَتَكُونُ مِنَ الشَّرَابِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، فَإِذَا اجْتَمَعُوا جَمِيعًا عَلَى شَرَابٍ وَاحِدٍ فَسَكِرَ أَحَدُهُمْ، جُلِدُوا جَمِيعًا الْحَدَّ تَامًّا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَوْلُ عَطَاءٍ مِثْلُ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(١٧٥١٤) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ اگر کسی سے شراب کی بو آئے تو کیا آپ اسے کوڑے ماریں گے؟ فرمایا: شراب کی بو کوئی بات نہیں، ہاں سب نے مل کر کچھ پیا اور ایک کو بھی اس سے نشہ ہوگیا تو سب کو مکمل حد ماروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17514]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 17515
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ جَالِسًا بِحِمْصَ فَقَالُوا لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللهِ مَا هَكَذَا أَنْزَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: فَقُلْتُ: وَيْحَكَ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَحْسَنْتَ" وَأَنْتَ تَقُولُ لِي مَا تَقُولُ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: تُكَذِّبُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَشْرَبُ الْخَمْرَ، أَمَا وَاللهِ لَا تَرْجِعُ إِلَى أَهْلِكَ حَتَّى أَجْلِدَكَ الْحَدَّ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ لَمْ يَجْلِدْهُ حَتَّى ثَبَتَ عِنْدَهُ شُرْبُهُ مَا يُسْكِرُ بِبَيِّنَةٍ أَوِ اعْتِرَافٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٧٥١٥) حضرت عبداللہ کہتے ہیں: میں حمص میں بیٹھا تھا تو لوگوں نے کہا: قرآن سنائیے۔ میں نے سورة یوسف پڑھی تو ایک شخص کہنے لگا: واللہ یہ ایسے نہیں نازل ہوئی تھی۔ میں نے کہا: تو برباد ہو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی تھی تو آپ نے فرمایا تھا: بہت اچھا اور تو یہ بات کہتا ہے۔ ابھی میں یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اس سے شراب کی بو محسوس کی تو میں نے کہا کہ تو شراب پی کر اللہ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے۔ واللہ! جب تک تجھے حد نہ مار دوں گھر نہیں جانے دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17515]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17516
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ أَبُوهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ قُدَامَةَ بْنَ مَظْعُونٍ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، وَهُوَ خَالُ حَفْصَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَدِمَ الْجَارُودُ سَيِّدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ قُدَامَةَ شَرِبَ فَسَكِرَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللهِ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَرْفَعَهُ إِلَيْكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ شَهِدَ ⦗٥٤٨⦘ مَعَكَ؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ، فَدَعَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: بِمَ تَشْهَدُ؟ فَقَالَ: لَمْ أَرَهُ شَرِبَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُهُ سَكْرَانَ يَقِيءُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَقَدْ تَنَطَّعْتَ فِي الشَّهَادَةِ، قَالَ: ثُمَّ كَتَبَ إِلَى قُدَامَةَ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَدِمَ فَقَامَ إِلَيْهِ الْجَارُودُ فَقَالَ: أَقِمْ عَلَى هَذَا كِتَابَ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخَصْمٌ أَنْتَ أَمْ شَهِيدٌ؟ قَالَ: بَلْ شَهِيدٌ، قَالَ: فَقَدْ أَدَّيْتَ الشَّهَادَةَ، فَصَمَتَ الْجَارُودُ حَتَّى غَدَا عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: أَقِمْ عَلَى هَذَا حَدَّ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا خَصْمًا، وَمَا شَهِدَ مَعَكَ إِلَّا رَجُلٌ، فَقَالَ الْجَارُودُ: إِنِّي أَنْشُدُكَ اللهَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَتُمْسِكَنَّ لِسَانَكَ أَوْ لَأَسُوءَنَّكَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنْ كُنْتَ تَشُكُّ فِي شَهَادَتِنَا فَأَرْسِلْ إِلَى ابْنَةِ الْوَلِيدِ فَاسْأَلْهَا، وَهِيَ امْرَأَةُ قُدَامَةَ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى هِنْدَ بِنْتِ الْوَلِيدِ يَنْشُدُهَا، فَأَقَامَتِ الشَّهَادَةَ عَلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ عُمَرُ لِقُدَامَةَ: إِنِّي حَادُّكَ، فَقَالَ: لَوْ شَرِبْتُ كَمَا يَقُولُونَ مَا كَانَ لَكُمْ تَجْلِدُونِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِمَ؟ قَالَ قُدَامَةُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: ٩٣] ، الْآيَةَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخْطَأْتَ التَّأْوِيلَ، إِنِ اتَّقَيْتَ اللهَ اجْتَنَبْتَ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: مَاذَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ قُدَامَةَ، قَالُوا: لَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ مَا كَانَ مَرِيضًا، فَسَكَتَ عَنْ ذَلِكَ أَيَّامًا ثُمَّ أَصْبَحَ يَوْمًا وَقَدْ عَزَمَ عَلَى جَلْدِهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: مَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ قُدَامَةَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ مَا دَامَ وَجِعًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَأَنْ يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ تَحْتَ السِّيَاطِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ وَهُوَ فِي عُنُقِي، ائْتُونِي بِسَوْطٍ تَامٍّ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِقُدَامَةَ فَجُلِدَ فَغَاضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُدَامَةَ فَهَجَرَهُ، فَحَجَّ وَحَجَّ قُدَامَةُ مَعَهُ مُغَاضِبًا لَهُ، فَلَمَّا قَفَلَا مِنْ حَجِّهِمَا وَنَزَلَ عُمَرُ بِالسُّقْيَا وَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ مِنْ نَوْمِهِ فَقَالَ: عَجِّلُوا عَلَيَّ بِقُدَامَةَ فَأْتُونِي بِهِ، فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَى أَنَّ آتِيًا أَتَانِي فَقَالَ: سَالِمْ قُدَامَةَ فَإِنِّي أَخُوكَ، فَعَجِّلُوا إِلِيَّ بِهِ، فَلَمَّا أَتَوْهُ أَبَى أَنْ يَأْتِيَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنْ أَبَى أَنْ يُجَرَّ إِلَيْهِ، حَتَّى كَلَّمَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ صُلْحِهِمَا فِي ابْتِدَاءِ هَذِهِ الْقِصَّةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَقَّفَ فِي قَبُولِ شَهَادَتِهِمَا حَيْثُ لَمْ يَجْتَمِعَا عَلَى شُرْبِهِ، وَحِينَ حَدَّهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ثَبَتَ عِنْدَهُ شُرْبُهُ بِإِقْرَارِهِ أَوْ شَهَادَةِ آخَرَ عَلَى شُرْبِهِ مَعَ الْجَارُودِ.
(١٧٥١٦) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے قدامہ بن مظعون کو بحرین پر عامل بنایا۔ وہ حضرت حفصہ اور عبداللہ بن عمر کے ماموں تھے۔ عبدالقیس کا سردار جارود آگیا اور کہنے لگا: اے امیر المومنین عمر! قدامہ نے شراب پی اور نشہ میں دھت ہوگیا تو میں نے اسے اللہ کی حدوں میں سے ایک حد پائی تو آپ کو بتادیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اور کوئی گواہ ہے؟ کہا: ابوہریرہ۔ تو ان سے پوچھا تو فرمایا: میں نے شراب پیتے نہیں دیکھا تھا، بلکہ وہ نشے کی حالت میں الٹیاں کررہا تھا تو حضرت عمر نے فرمایا: تو نے آدھی گواہی دی ہے۔ پھر عمر نے قدامہ کو بحرین سے بلا لیا تو وہ آگئے۔ جارود ان کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی کتاب پر قائم رہنا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو گواہ ہے یا مدعی؟ اس نے کہا: گواہ تو آپ نے فرمایا: پھر تو نے اپنی گواہی دے دی۔ اگلے دن پھر جارود نے یہی کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو گواہ نہیں مدعی ہے۔ جارود کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اپنی زبان کو قابو میں رکھ ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر ہماری گواہی قبول نہیں تو ولید کی بیٹی قدامہ کی بیوی سے معلوم کرلو۔ جب اس سے پوچھا تو اس نے بھی گواہی دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قدامہ کو کہا: میں تجھے حد لگاؤں گا تو قدامہ کہنے لگے: آپ مجھے حد نہیں لگا سکتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیوں؟ تو کہنے لگے: کیونکہ اللہ کا فرمان ہے ”مومنون اور عمل صالح کرنے والوں پر ان کے کھانے میں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے“ (المائدۃ: ٩٣) تو حضرت عمر نے فرمایا: تم اس کی غلط تفسیر کر رہے ہو، اگر تو اللہ سے ڈرتا تو کبھی حرام کام نہ کرتا۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں سے قدامہ کے کوڑوں کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگوں نے منع کردیا۔ پھر پوچھا، پھر منع کردیا کہ وہ مریض ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اللہ کی بارگاہ میں کوڑے مارنے والے کی حاضری منظور ہے، لیکن یہ حد میرے گلے میں ہو۔ یہ مجھے منظور نہیں اور کوڑا منگوایا اور قدامہ کو حد لگائی۔ قدامہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئے۔ اسی حالت میں ان دونوں نے حج کیا۔ جب حج سے واپس لوٹے اور سقیا مقام پر رکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سو گئے جب بیدار ہوئے تو فرمایا: قدامہ کو یہاں لاؤ، اسے بلایا گیا۔ اس نے انکار کردیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: زبردستی بلاؤ، اسے زبردستی لایا گیا۔ آپ نے اس سے بات کی، اس کے لیے استغفار کی اور یہ ان کی آپس میں پہلی صلح تھی۔
تو اس قصہ کے شروع میں ہے کہ محض بو اور ایک گواہی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حد نہ ماری جب تک ثابت نہ ہوگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17516]
تو اس قصہ کے شروع میں ہے کہ محض بو اور ایک گواہی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حد نہ ماری جب تک ثابت نہ ہوگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17516]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17517
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْبَغْدَادِيُّ الْإِمَامُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ ⦗٥٤٩⦘ سِيرِينَ، أَنَّ الْجَارُودَ، لَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اسْتَعْمَلْتَ عَلَيْنَا مَنْ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، قَالَ: وَمَنْ شُهُودُكَ؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَتَنُكَ خَتَنُكَ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: وَكَانَتْ أُخْتُ الْجَارُودِ تَحْتَ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَمَا وَاللهِ لَأُوجِعَنَّ مَتْنَهُ بِالسَّوْطِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: مَا ذَاكَ فِي الْحَقِّ أَنْ يَشْرَبَ خَتَنُكَ وَتَجْلِدَ خَتَنِي، قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ: عَلْقَمَةُ، فَشَهِدُوا عِنْدَهُ فَأَمَرَ بِجِلْدِهِ، وَقَالَ: مَا حَابَيْتُ فِي إِمَارَتِي أَحَدًا مُنْذُ وُلِّيتُ غَيْرَهُ، فَمَا بُورِكَ لِي فِيهِ، اذْهَبُوا فَاجْلِدُوهُ.
(١٧٥١٧) ابن سیرین کہتے ہیں کہ جارود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر عامل کی شراب نوشی کی شکایت کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گواہ مانگا تو کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو تیرا داماد ہے، داماد ہے، داماد ہے اور کہا کہ میں ضرور اسے کوڑے ماروں گا تو وہ کہنے لگا: یہ کیا حق ہے کہ شراب آپ کا داماد پپے اور کوڑے میرے داماد کو مارو۔ پوچھا: کون ہے؟ کہا: علقمہ تو گواہی ملنے پر اسے کوڑے مارنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: واللہ! مجھے یہ بات پسند ہے کہ جس کو عامل بناؤں اس کی وجہ سے میری امارت میں برکت ہو، جاؤ اور اسے کوڑے لگاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17517]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ شَرِبَهَا، يَعْنِي الْخَمْرَ، وَشَهِدَ الْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّؤُهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْهَا حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، قَالَ: فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَعُدُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ: حَسْبُكَ،" جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلِيَّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهَذَا لَا أَعْلَمُ لَهُ تَأْوِيلًا يَصِحُّ غَيْرَ أَنَّهُ قَبِلَ الشَّهَادَةَ عَلَيْهِ هَكَذَا، وَمَنْ يُخَالِفُهُ يَقُولُ: لَمْ تَجْتَمِعْ شَهَادَتُهُمَا عَلَى شُرْبِهِ، وَقَدْ يُكْرَهُ عَلَى الشُّرْبِ فَيَتَقَيَّأُهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي نَظِيرِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَمَغِيبِ الْمَعْنَى لَا يُحَدُّ فِيهِ أَحَدٌ وَلَا يُعَاقَبُ، إِنَّمَا يُعَاقَبُ النَّاسُ عَلَى الْيَقِينِ.
(١٧٥١٨) ابو ساسان کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا۔ اس پر حمران اور ایک شخص نے گواہی دی تھی کہ اس نے شراب پی ہے۔ دوسرے شخص نے یہ گواہی دی تھی کہ اسے قے کرتے دیکھا تھا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بغیر پئے تو قے آتی ہی نہیں ہے۔ لہٰذا علی اسے حد لگاؤ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حسن کو کہا تو حسن نے فرمایا: ”جو والی بنا ہے زمی کا سختی میں بھی وہی ہے۔“ پھر علی نے جعفر کو کہا تو انھوں نے حد قائم کردی۔ جب چالیس کوڑے پورے ہوگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے روک دیا اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ٤٠ کوڑے لگائے ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے ٨٠۔ مارے سنت ہیں لیکن یہ مجھے زیادہ محبوب ہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: جب تک یقین نہ ہو اس وقت تک حد قائم نہ کی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17518]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17519
وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ، قَالَ: رَكِبَ نَفَرٌ مِنْهُمْ فَأَتَوْا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرُوهُ بِمَا صَنَعَ الْوَلِيدُ، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دُونَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَاجْلِدْهُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ، فَذَكَرَهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدٍ.
(١٧٥١٩) تقدم قبلہ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17519]
3505. -- باب: ما جاء في إقامة الحد في حال السكر أو حتى يذهب سكره
-- باب: نشے کی حالت میں حد قائم کرنے، یا نشہ اتر جانے تک مؤخر کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17520
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ وَهُوَ سَكْرَانُ،" فَشَقَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةً شَدِيدَةً، ثُمَّ أَمَرَ مَنْ كَانَ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ"، قَالَ: فَضَرَبُوهُ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ يَضْرِبُهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، كَذَا رَوَاهُ وُهَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ.
(١٧٥٢٠) تقدم برقم ١٧٤٩٣ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17520]
حدیث نمبر: 17521
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، فَقَالَ: جِيءَ بِالنُّعَيْمَانِ، أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ، شَارِبًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ:" اضْرِبُوهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا بُنْدَارٌ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ أَيُّوبَ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
(١٧٥٢١) ایوب کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو نشہ کی حالت میں لایا گیا تو آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17521]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17522
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَكِرَ، قَالَ:" فَأَمَرَ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا فَجَلَدُوهُ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ رُفِعَ إِلَيْهِ بَعْدَمَا ذَهَبَ سُكْرُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٧٥٢٢) انس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے نشہ کیا تھا۔ آپ نے قریباً ٢٠ آدمیوں کو حکم دیا کہ اسے جوتیوں اور چھڑی سے مارو۔
اس حدیث میں احتمال ہے کہ اسے نشہ اترنے کے بعد لایا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17522]
اس حدیث میں احتمال ہے کہ اسے نشہ اترنے کے بعد لایا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17522]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17523
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذَ الْجَرِّ بَعْدَ إِذْ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَشْوَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَرِبْتُ خَمْرًا، إِنَّمَا شَرِبْتُ نَبِيذَ زَبِيبٍ وَتَمْرٍ فِي دُبَّاءَةٍ، قَالَ:" فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ، قَالَ: وَنَهَى عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنِ الدُّبَّاءِ".
(١٧٥٢٣) ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ جب سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا میں مٹی کے گھڑے کی نبیذ نہیں پیتا۔ وہ بنشوان نامی آدمی تھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے شراب نہیں منقی اور کھجور کا الدباء برتن میں نبیذ بنا کر پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے ہاتھوں اور جوتیوں سے مارا جائے اور پھر اس طرح نبیذ بنانے سے منع کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17523]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن