السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3567. -- باب: ما على الوالي من أمر الجيش
-- باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: لَمَّا كَانَتِ الرَّمَادَةُ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَابَّةً لَهُ، فَرَأَى فِي رَوْثِهَا شَعِيرًا فَقَالَ:" وَاللهِ لَا أَرْكَبُهَا حَتَّى يَحْسُنَ حَالُ النَّاسِ".
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قحط کے سال مسلمانوں کو سخت فاقے لاحق ہوئے۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار تھے تو انہوں نے اس کی لید میں جَو کا ایک دانہ دیکھا تو کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر سوار نہیں ہوں گا حتیٰ کہ لوگوں کی حالت بہتر ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17911]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17912
وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَذْرَبِيجَانَ بِخَبِيصٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي رِحَالِهِمْ مِنْ هَذَا؟". فَقَالَ الرَّسُولُ: اللهُمَّ لَا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا أُرِيدُهُ". وَكَتَبَ إِلَى عُتْبَةَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ، فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٧٤⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، فَذَكَرَهُ.
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے کچھ حلوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آذربائیجان سے بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد سے پوچھا: ”کیا مسلمان اس سے سیر ہو گئے ہیں؟“ تو اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے یہ نہیں چاہیے۔“ اور عتبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ”یہ تیری کوشش و محنت سے نہیں ہے نہ تیرے ماں باپ کی کوشش سے ہے۔ پہلے ان مسلمانوں کو سیر کر جو تیرے پاس ہیں، اپنے گھر اتنا دے جتنا تو نے اپنے گھر کے لیے رکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17912]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17913
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟". قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ مِصْرَ. قَالَتْ:" كَيْفَ وَجَدْتُمُ ابْنَ حُدَيْجٍ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ؟". قُلْتُ: خَيْرَ أَمِيرٍ، مَا يَنْفُقُ لِرَجُلٍ مِنَّا فَرَسٌ وَلَا بَعِيرٌ إِلَّا أَبْدَلَ لَهُ مَكَانَهُ بَعِيرًا، وَلَا غُلَامٌ إِلَّا أَبْدَلَ لَهُ مَكَانَهُ غُلَامًا، فَقَالَتْ:" إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي قَتْلُهُ أَخِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَسَّانَ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: مصری ہوں، تو انہوں نے پوچھا: تم نے اپنی لڑائیوں میں ابن حُدیج کو کیسا پایا؟ میں نے کہا: وہ اچھا امیر ہے، جنگ میں جس کا گھوڑا یا اونٹ کام آیا، وہ اس کا بدلہ اونٹ سے دیتا ہے اور اگر کسی کا غلام کام آیا (مارا گیا) تو وہ بدلہ میں اس کو غلام دیتا ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کا میرے بھائی کو قتل کرنا مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے نہیں روکتا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» ”اے اللہ! جو شخص مسلمانوں کے معاملات کا وارث ہو، کسی طرح بھی ممکن ہو ان پر نرمی کرے، تو اے اللہ! اس پر نرمی کر، اور جو ان پر مشقت کا ذریعہ بن جائے، اے اللہ! تو اس پر مشقت ڈال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17913]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17914
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي حِينَ حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا -:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: كَيْفَ نَذْهَبُ وَلَمْ نَفْتَحْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاغْدُوا لِلْقِتَالِ". فَغَدَوْا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا". فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس وقت طائف والوں کا محاصرہ کیا گیا اور نتیجتاً کچھ حاصل نہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ان شاء اللہ کل واپس جائیں گے“ تو مسلمانوں نے کہا: کیسے واپس جائیں ہم کامیاب تو ہوئے نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح لڑائی کے لیے تیار رہو“ صبح انہوں نے ان پر حملہ کیا تو ان کو زخم لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کل واپس جائیں گے“ تو لوگوں نے اس کو پسند کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17914]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3568. -- باب: من تبرع بالتعرض للقتل رجاء إحدى الحسنيين
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے دو بھلائیوں یعنی غازی یا شہید میں سے کسی ایک کی امید پر رضاکارانہ طور پر خود کو موت کے سامنے پیش کر دیا۔
حدیث نمبر: Q17915
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" قَدْ بُورِزَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَاسِرًا عَلَى جَمَاعَةٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ بَعْدَ إِعْلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ بِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ الْخَيْرِ فَقُتِلَ" قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَاءَ فِيمَا ذَكَرَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَذَلِكَ مَعَ ذِكْرِ مَنْ بَارَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ، يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں (دشمن سے) انفرادی مقابلہ (مبارزت) کیا گیا، اور غزوہ بدر کے دن انصار میں سے ایک شخص نے بغیر زرہ کے مشرکین کی ایک جماعت پر حملہ کیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس (عمل) میں موجود خیر (اور اجر) کی خبر دے چکے تھے، پس وہ شہید ہو گئے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ سیدنا عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ذکر کیا ہے، اور یہ (واقعہ) ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مبارزت کی، ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17915]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ سیدنا عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ذکر کیا ہے، اور یہ (واقعہ) ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مبارزت کی، ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17915]
حدیث نمبر: 17915
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ قِصَّةِ بَدْرٍ، قَالَ: فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ". قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: بَخٍ بَخٍ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ: بَخٍ بَخٍ؟". قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ:" فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا". قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ:" لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ مِنْ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ". قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کی طرف بڑھو، ﴿وہ جنت جس کی چوڑائی (عرض) زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے﴾ [سورة آل عمران: 133] ۔“ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا عرض (چوڑائی) آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ تو عمیر نے کہا: «بَخٍ بَخٍ» ”واہ واہ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے «بَخٍ بَخٍ» (واہ واہ) کیوں کہا؟“ تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“ اس نے اپنی پوٹلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔ پھر کہا: اگر ان کھجوروں کو کھانے تک میں مزید رکا تو یہ لمبی زندگی ہو گی، اسی وقت کھجوروں کو پھینکا اور دشمن سے لڑا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17916
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ أَنَا؟ قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ". فَأَلْقَى تُمَيْرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگر آج میں قتل کر دیا جاؤں تو کہاں ہوں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اس نے اپنے پاس سے کھجوریں پھینکیں اور دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17917
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ عَمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنْ أَشْهَدَنِي اللهُ قِتَالًا لَيَرَيَنَّ اللهُ مَا ⦗٧٦⦘ أَصْنَعُ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - وَأَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُسْلِمِينَ - ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ، فَلَقِيَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ أَيْ سَعْدٌ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجِنَّةِ دُونَ أُحُدٍ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ. قَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا صَنَعَ، فَوَجَدْنَاهُ بَيْنَ الْقَتْلَى وَبِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَةً مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ، وَقَدْ مَثَّلُوا بِهِ حَتَّى عَرَفَتْهُ أُخْتُهُ بِبَنَانِهِ. قَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ. كَذَا فِي كِتَابِي، وَالصَّوَابُ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ حُمَيْدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے۔ جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے لڑی ہے۔ اگر اللہ نے مجھے کسی لڑائی میں حاضر کیا تو اللہ ضرور دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔
جب احد کا دن آیا اور مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تو اس نے کہا: اے اللہ! میں تیرے سامنے اس سے بری ہوں جو یہ لوگ (یعنی مشرکین) لے کر آئے ہیں، اور تجھ سے اس کی معذرت کرتا ہوں جو ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) نے کیا۔ پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے تو ان سے کہا: ”اے سعد! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے احد سے آگے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔ جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا۔ ہم نے اس کو مقتولین میں پایا۔ ان کو اسی سے اوپر زخم آئے تھے جس میں تلوار، نیزہ اور تیر سب کے زخم تھے۔ ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم کہا کرتے تھے کہ آیت ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے عہد کیا تھا۔“ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: میری کتاب میں اسی طرح ہے مگر صحیح نضر بن انس کی بجائے انس بن نضر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17917]
جب احد کا دن آیا اور مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تو اس نے کہا: اے اللہ! میں تیرے سامنے اس سے بری ہوں جو یہ لوگ (یعنی مشرکین) لے کر آئے ہیں، اور تجھ سے اس کی معذرت کرتا ہوں جو ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) نے کیا۔ پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے تو ان سے کہا: ”اے سعد! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے احد سے آگے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔ جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا۔ ہم نے اس کو مقتولین میں پایا۔ ان کو اسی سے اوپر زخم آئے تھے جس میں تلوار، نیزہ اور تیر سب کے زخم تھے۔ ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم کہا کرتے تھے کہ آیت ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے عہد کیا تھا۔“ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: میری کتاب میں اسی طرح ہے مگر صحیح نضر بن انس کی بجائے انس بن نضر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ إِمْلَاءً، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ:" مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ، أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟". فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا، فَقَالَ:" مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ، أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟". فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ:" مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد کے میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سات انصار اور دو قریشی اکیلے رہ گئے۔ جب کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو ان کو روکے؟ اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔“ انصار میں سے ایک آگے آیا، دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔ انہوں نے پھر گھیرا تنگ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان کو روکے گا، اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا۔“ دوسرا انصاری آگے بڑھا اور لڑ کر شہید ہو گیا۔ اس طرح ساتوں انصاری شہید ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17918]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17919
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَازِعِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ بَعْضِ بَنِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عُبَيْدُ اللهِ أَرَاهُ ثُمَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَرْتُ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَهُوَ يَتَحَنَّطُ، فَقُلْتُ:" يَا عَمِّ، أَمَا تَرَى مَا يَلْقَى الْمُسْلِمُونَ؟ أَيْ وَأَنْتَ هَهُنَا. قَالَ: فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ: الْآنَ يَا ابْنَ أَخِي. فَلَبِسَ سِلَاحَهُ، وَرَكِبَ فَرَسَهُ حَتَّى أَتَى الصَّفَّ، فَقَالَ: أُفٍّ لِهَؤُلَاءِ وَلِمَا يَصْنَعُونَ. وَقَالَ لِلْعَدُوِّ: أُفٍّ لِهَؤُلَاءِ وَلِمَا يَعْبُدُونَ، خَلُّوا عَنْ سَبِيلِهِ، أَوْ قَالَ: سَنَنِهِ - يَعْنِي فَرَسَهُ - حَتَّى أَصْلَى بِحَرِّهَا. فَحَمَلَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں یمامہ کی لڑائی کے دن ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ (میت والی خوشبو) حنوط لگا رہے تھے۔ میں نے کہا: چچا جان! آپ دیکھ نہیں رہے کہ مسلمانوں کو کس صورت حال کا سامنا ہے اور آپ یہاں ہیں؟ وہ مسکرائے اور کہا: بھتیجے! ابھی چلتے ہیں۔ انہوں نے ہتھیار پہنے اور گھوڑے پر سوار ہوئے، صفوں تک پہنچ گئے اور کہا: افسوس ہے ان پر اور اس پر جو یہ کر رہے ہیں، اور دشمن سے کہا: افسوس ہے ان پر اور جس کی یہ عبادت کرتے ہیں۔ (پھر کہا:) اس کا راستہ چھوڑ دو، یا کہا: اس کی راہ چھوڑ دو، یعنی اپنے گھوڑے کی، تاکہ میں اس (جنگ) کی تپش میں داخل ہو جاؤں۔ پھر انہوں نے حملہ کیا، لڑائی کی اور شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17919]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره