🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3572. جماع أبواب السير -- باب: السيرة في المشركين عبدة الأوثان
0سیر (مہمات اور جنگی احکام) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: بت پرست مشرکین کے ساتھ برتاؤ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17948
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَرَّرِ بنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي، قُلْتُ: يَا أَبِي، بِأِيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تُنَادِي؟ قَالَ:" أَمَرَنَا أَنْ نُنَادِي أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَإِنَّ اللهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْكِرِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْكَعْبَةِ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ أَوْ بَعْدَ الْيَوْمِ مُشْرِكٌ".
محرز بن ابی ہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشرکین سے براءت کے اعلان کے لیے بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا اور میں اعلان کرتا رہا حتی کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! آپ کس چیز کا اعلان کر رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم یہ اعلان کریں کہ ”جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے، اور جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے، پس جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3] ، اور کوئی مشرک اس سال کے بعد بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا“ یا کہا: ”آج کے دن کے بعد کوئی مشرک طواف نہیں کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17948]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3573. -- باب: السيرة في أهل الكتاب
-- باب: اہلِ کتاب کے ساتھ برتاؤ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17949
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ ”اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر، اور نہ اس چیز کو حرام سمجھتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، اور نہ دین حق کو اپناتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔“ [سورة التوبة: 29] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17949]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17949
Not Found.
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر پر امیر بناتے تھے تو اس کو تقویٰ کی نصیحت کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے اور پھر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اور اس کے راستے میں لڑائی کرو، جو اللہ کے انکاری ہوں ان سے لڑائی کرو، ان کو قتل کرو، دھوکا نہ دو، غداری نہ کرو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو۔ جب دشمن سے ملو تو ان کو تین شرائط میں سے کسی ایک کے قبول کرنے کی دعوت دیں، اگر وہ ان میں سے کسی ایک کو قبول کر لیں تو قبول کرو اور اپنا ہاتھ ان سے روک لو۔ ان کو اسلام کی دعوت دو، اگر قبول کریں تو تم قبول کرو اور ان سے رک جاؤ۔ پھر ان کو اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دیں اور ان کو بتائیں کہ اگر وہ اس طرح کریں گے تو ان کو وہ ملے گا جو مہاجرین کو ملے گا اور ان کی ذمہ داری وہی ہوگی جو مہاجرین کی ہے۔ اگر وہ اپنے گھروں سے مہاجرین کی طرف منتقل نہ ہونا چاہیں تو ان کو بتاؤ کہ ان کی حیثیت دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوگی، اللہ کے احکامات ان پر جاری کیے جائیں گے جو دیہاتیوں پر جاری ہوتے ہیں، ان کو مالِ فے اور مالِ غنیمت سے کچھ نہیں ملے گا، ہاں! اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد پر جائیں۔ اگر اس کا انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کریں، اگر وہ جزیہ دیں تو اپنا ہاتھ ان سے روک لیں۔ اگر اس کو بھی نہ مانیں تو اللہ سے ان کے مقابلے میں مدد طلب کریں اور ان سے قتال کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17949]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3574. -- باب: السلب للقاتل
-- باب: مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17950
وَقَدْ مَضَتِ الْأَخْبَارُ فِي كِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَحْنُ نَذْكُرُ هَهُنَا طَرَفًا مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللهُ.
اور کتاب قسم الفیء والغنیمۃ (مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے باب) میں احادیث گزر چکی ہیں، ہم یہاں ان شاء اللہ ان میں سے کچھ حصہ ذکر کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q17950]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17950
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ:" مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ فَلَهُ سَلَبُهُ". فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي. قَالَ: فَأَرْضِهِ مِنْهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا لَا يُعْطَهُ أُصَيْبِغٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: فَعَلِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدَّاهُ إِلِيَّ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا، فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ. وَقَالَ أَبُو عَمْرٍو فِي رِوَايَتِهِ:" فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلِيَّ". ⦗٨٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَلَى اللَّفْظِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ عَبْدُ اللهِ، عَنِ اللَّيْثِ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلِيَّ.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مقتول کے بارے میں دلیل دے دے کہ اس نے قتل کیا ہے تو اس سے لیا گیا مال قاتل کا ہوگا۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جن کو قتل کیا تھا ان پر گواہی تلاش کر رہا تھا، مجھے کوئی نہ ملا جو میرے حق میں گواہی دے، میں بیٹھ گیا پھر معاملہ مجھ پر کھل گیا، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو ایک آدمی نے مجلس میں سے کہا کہ اس مقتول کا اسلحہ میرے پاس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اس معاملے میں راضی کرو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہرگز نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مال قریش کے ایک کمزور سے آدمی کو نہیں دیں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب علم ہوا تو وہ مال میری طرف ادا کر دیا، تو میں نے اس سے ایک باغ خرید لیا، یہ پہلا مال تھا جو میں نے اپنے لیے جمع کیا ہے، ابو عمرو اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور مال مجھے دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17950]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3575. -- باب: الغنيمة لمن شهد الوقعة
-- باب: مالِ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: مَعْلُومٌ عِنْدَ غَيْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالرِّدَّةِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جن اہل علم سے میں ملا ہوں ان میں سے اکثر سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غنیمت اس کے لیے جو واقعہ میں حاضر ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ شافعي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17952
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ فِي خَمْسِمِائَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَدَدًا لِزِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ وَلِلْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَوَافَقَهُمُ الْجُنْدُ قَدِ افْتَتَحُوا النَّجِيرَ بِالْيَمِينِ، فَأَشْرَكَهُمْ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فِي الْغَنِيمَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنَّ زِيَادًا كَتَبَ فِيهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ". وَلَمْ يَرَ لِعِكْرِمَةَ شَيْئًا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْوَقْعَةَ، فَكَلَّمَ زِيَادٌ أَصْحَابَهُ فَطَابُوا أَنْفُسًا بِأَنْ أَشْرَكُوا عِكْرِمَةَ وَأَصْحَابَهُ مُتَطَوِّعِينَ عَلَيْهِمْ، وَهَذَا قَوْلُنَا".
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کو زیاد بن لبید اور مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہما کی مدد کے لیے پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ روانہ کیا۔ ان کو لشکر ملا، وہ یمن میں نجیر کے علاقہ کو فتح کر چکے تھے، تو زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے ان کو مالِ غنیمت میں شامل کیا، وہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیاد نے یہ معاملہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ غنیمت اس کے لیے ہے جو واقعہ میں موجود تھا۔ وہ عکرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے غنیمت سے کچھ حصہ خیال نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ واقعہ میں موجود نہیں تھے، تو زیاد نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے دل کی خوشی سے ان کو شریک کرنے کا کہا رضاکارانہ طور پر۔ اور یہی ہمارا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17952]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17953
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ غَزَوْا أَهْلَ نَهَاوَنْدَ، فَأَمَدُّوهُمْ بِأَهْلِ الْكُوفَةِ وَعَلَيْهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَدِمُوا عَلَيْهِمْ بَعْدَ مَا ظَهَرُوا عَلَى الْعَدُوِّ، فَطَلَبَ أَهْلُ الْكُوفَةِ الْغَنِيمَةَ وَأَرَادَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنْ لَا يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْكُوفَةِ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَيُّهَا الْأَجْدَعُ، تُرِيدُ أَنْ تُشَارِكَنَا فِي غَنَائِمِنَا؟ قَالَ: وَكَانَتْ أُذُنُ عَمَّارٍ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ:" إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ".
طارق بن شہاب کہتے ہیں: اہل بصرہ نے اہل نہاوند سے جنگ لڑی، ان کو اہل کوفہ کے ذریعے مدد ملی اور ان پر امیر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما تھے۔ وہ (اہل کوفہ) اہل بصرہ کے دشمن پر غلبہ پا لینے کے بعد ان کے پاس پہنچے اور اہل کوفہ نے غنیمت کا مال طلب کیا، جبکہ بصرہ والے اہل کوفہ کو مالِ غنیمت سے حصہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ بنو تمیم کے ایک آدمی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے کن کٹے! کیا تم ہمارے غنیمت کے مال میں ہمارے ساتھ شریک ہونا چاہتے ہو؟ عمار رضی اللہ عنہما کے کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کاٹ دیے گئے تھے، تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ غنیمت اس کی ہے جو واقعہ میں موجود ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17953]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17954
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
طارق بن شہاب احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ غنیمت میں اس کا حصہ ہے جو واقعہ میں شریک ہو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہی روایت صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17954]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17955
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنْ عَامِرٍ، وَزِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ:" قَدْ أَمْدَدْتُكَ بِقَوْمٍ فَمَنْ أَتَاكَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ تَتَفَقَّأَ الْقَتْلَى فَأَشْرِكْهُ فِي الْغَنِيمَةِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا غَيْرُ ثَابِتٍ عَنْ عُمَرَ، وَلَوْ ثَبَتَ عَنْهُ كُنَّا أَسْرَعَ إِلَى قَبُولِهِ مِنْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ مُخَالَفَةَ أَبِي يُوسُفَ حَدِيثَ عُمَرَ هَذَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَرِوَايَةُ مُجَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَحَدِيثُ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ يَثْبُتُ فِي مَعْنَى مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَحْضُرُنِي حِفْظُهُ". قَالَ الشَّيْخُ:" إِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ حِينَ وَقَعَ مَعَ أَصْحَابِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ بِأَسَانِيدِهِ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: آپ کی مدد کے لیے کچھ لوگ بھیج رہا ہوں۔ ان میں سے جو مقتولین کے اکھڑنے سے پہلے پہنچ جائیں ان کو غنیمت میں شریک کرو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہو جائے تو ہم جلدی قبول کریں گے۔ پھر ابو یوسف کی مخالفت ذکر کی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ساتھ ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ منقطع ہے، اس کا راوی مجالد ضعیف ہے۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس میں کچھ ثابت ہے جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت کے موافق ہے مگر مجھے اچھی طرح یاد نہیں تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: شاید ان کی مراد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں حضرت ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ خیبر کو فتح کر چکے تھے، آپ نے ان کو حصہ نہیں دیا۔ یہ پہلے «كِتَابُ الْقِسْمِ» میں گزر گیا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17955]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں