🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3618. -- باب: الغلول قليله وكثيره حرام
-- باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنا، تھوڑا ہو یا زیادہ، حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18204
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِي بْنِ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ أَبُو عَمْرٍو الْغُدَانِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي نَاسًا، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، وَفُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا أَوْ بُرْدَةٍ غَلَّهَا". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ". فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین کے دن بعض صحابہ شہید ہوئے تو لوگوں نے کہا: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے، انہوں نے کہا: یہ شہید ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، بلکہ میں نے اس کو جہنم میں دیکھا ہے، ایک عباء یا چادر کی خیانت کی وجہ سے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! جاؤ لوگوں میں اعلان کر دو کہ صرف مومن جنت میں داخل ہوں گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ صرف مومن جنت میں داخل ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18204]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١١٤»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18205
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ ⦗١٧٢⦘ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ". فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص خیبر کے دن فوت ہو گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کرو۔“ اس کی وجہ سے لوگوں کے رنگ تبدیل ہو گئے۔ راوی کا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں خیانت کی ہے۔“ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہود کے موتیوں میں سے کچھ موتی پائے جو دو درہم کے برابر بھی نہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18205]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18206
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَذَكَرَ الْغُلُولَ، فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ فَقَالَ:" لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے مال میں خیانت کا تذکرہ فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا اور اس خیانت کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے تو اس کی گردن پر ایسا اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو اور وہ کہے: اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیں۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری ممیا رہی ہو، وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجیے، میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تمہیں بتادیا تھا۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو، وہ شخص کہے: اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر سوار انسان چلا رہا ہو، وہ شخص کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر سونا چاندی لدا ہوا ہو اور وہ التجا کررہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑے پھڑ پھڑا رہے ہوں اور وہ التجا کررہا ہو کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے اور میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18206]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18207
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ إِمْلَاءً، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗١٧٣⦘ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ ثُمَّ قَالَ:" لِيَحْذَرْ أَحَدُكُمْ أَنْ يَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ عَلَى عُنُقِهِ، فَيَقُولَ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: إِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا، إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ، وَيَجِيءُ رَجُلٌ عَلَى عُنُقِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: إِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ عَلَى عُنُقِهِ رِقَاعٌ فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ". قَالَ حَمَّادٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَجَاءَ بِهِ نَحْوًا مِنْ هَذَا، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا، پھر فرمایا: ”تمہیں ڈرنا چاہیے کہ کوئی کل قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو اور وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے۔ میں جواب دوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے بات تجھے پہنچا دی تھی اور کوئی شخص آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو، وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے، میں کہوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے بات پہنچا دی تھی اور کوئی شخص قیامت کے دن میدانِ حشر میں آئے کہ اس کی گردن پر کپڑے ہوں، وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے، میں کہوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تجھے بات پہنچا دی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18208
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ". قَالَ أَبُو عِيسَى: ورَوَاهُ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ، وَقَالَ الْكَنْزَ بَدَلَ الْكِبْرِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس حالت میں موت آئی کہ وہ تین چیزوں سے محفوظ تھا: تکبر سے، مالِ غنیمت میں خیانت سے اور قرض سے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ ابوعیسیٰ کہتے ہیں کہ سعید، قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے «الْكِبْرِ» کی جگہ «الْكَنْزِ» کے الفاظ بولے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18208]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3619. -- باب: لا يقطع من غل في الغنيمة ولا يحرق متاعه، ومن قال يحرق
-- باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کا سامان جلایا جائے گا، اور اس شخص کے بیان میں جس نے کہا کہ سامان جلایا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَابْنُ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ رَهِقَهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، فَحَاصَتْ بِهِ النَّاقَةُ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ شَجَرَةٌ، فَقَالَ:" رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ؟ وَاللهِ لَوْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ نَعَمًا مِثْلَ سَمُرِ تِهَامَةَ لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونَنِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا". ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ وَبَرِ سَنَامِ الْبَعِيرِ فَرَفَعَهَا وَقَالَ:" مَا لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ وَلَا مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ". فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ قَسْمِ الْخُمُسِ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَحِلُّهُ خِيَاطًا أَوْ مِخْيَطًا فَقَالَ:" رُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"..
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین سے واپس آئے تو لوگوں نے آپ کو گھیر لیا اور مال مانگ رہے تھے، جس کی وجہ سے اونٹنی بدکی اور آپ کی چادر مبارک درخت پر اٹک گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری چادر واپس کرو، کیا تمہیں مجھ سے بخل کا خطرہ ہے؟ اگر اللہ مجھے تہامہ کے درختوں جتنے جانور عطا کر دے تو میں سارے کے سارے تمہارے درمیان تقسیم کر دوں، پھر تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاؤ گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی کوہان کے بال پکڑ کر بلند فرمائے اور فرمایا: ”اللہ کے عطا کردہ مال سے میرا حصہ اتنا بھی نہیں سوائے پانچویں حصے کے اور خمس بھی تمہیں واپس کر دیا جاتا ہے۔“ خمس کی تقسیم کے وقت ایک شخص آیا، جو اپنے لیے اس مال سے سوئی یا دھاگا بھی حلال خیال کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھاگا اور سوئی واپس کر دو، کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت قیامت کے دن عیب، آگ اور رسوائی ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18209]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيَخْمُسُهَا وَيَقْسِمُهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ قَالَ:" أَسَمِعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟" قَالَ: فَاعْتَذَرَ قَالَ:" كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ" وَقَدْ مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فِي كِرْكِرَةَ، وَلَمْ يُذْكَرْ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِتَحْرِيقِ مَتَاعِ الْغَالِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب مالِ غنیمت حاصل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرماتے کہ: ”لوگوں میں اعلان کرو کہ غنیمت کا مال لے آؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچواں حصہ نکال کر باقی تقسیم فرما دیتے۔ اس کے بعد ایک شخص بالوں کی ایک لٹ لے کر آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مالِ غنیمت میں سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے بلال کا تین مرتبہ اعلان سنا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر تو اسے لے کر کیوں نہ آیا؟“ اس نے عذر پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ، کل قیامت کے دن اسے لے کر آنا، میں تجھ سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کرکرہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جگہ بھی مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان نہیں جلایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18210]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم برقم ٦/١٢٧١٩»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18211
وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى ضَعْفِ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَحْرَقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ وَضَرَبُوهُ. هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ مُرْسَلًا.
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کے مال کو جلایا اور مالِ غنیمت سے اس کا حصہ بھی روک دیا اور پٹائی بھی کی۔
پچھلی روایات اس روایت کے ضعیف ہونے کی دلیل ہیں۔ کئی راویوں نے اسے ولید بن مسلم سے اسی طرح بیان کیا ہے، اور ان سے یہ مرسل بھی بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18211]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَوْلَهُ لَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَهَّابِ مَنْعَ سَهْمِهِ، وَيُقَالُ: إِنَّ زُهَيْرًا هَذَا مَجْهُولٌ وَلَيْسَ بِالْمَكِّيِّ.
یہ روایت عمرو بن شعیب سے ان کے اپنے قول کے طور پر بھی مروی ہے، عبدالوہاب نے اس کا حصہ روکنے کا ذکر نہیں کیا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ زہیر مجہول ہے اور وہ مکی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18212]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18213
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٧٥⦘ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ، فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ". قَالَ: فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفًا، فَسُئِلَ سَالِمٌ عَنْهُ فَقَالَ: بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ. لَفْظُ حَدِيثِ سَعِيدٍ، فَهَذَا ضَعِيفٌ.
صالح بن محمد بن زائدہ فرماتے ہیں: میں روم کی سرزمین پر مسلم بن عبدالملک کے ساتھ تھا۔ ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی۔ اس نے سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسے شخص کو پاؤ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اس کو مارو۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس کے سامان میں قرآن مجید پایا تو سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں: قرآن مجید بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18213]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں